دلوں کے رشتے

(Hukhan, karachi)
کسی نے خوب کہا ہے،‘‘رشتوں کے لیے زمان و مکاں کی نہیں دل کی ضرورت ہوتی
ہے‘‘،،،!

دل سچ بولتا،،،سچ محسوس کرتا،،سچ کی بولی ہی بولتا ہے،،،! ہر بڑا بڑا نہیں ہوتاجسے
دل نہ مانے اسے سلام نہ کر،،،!!

ہماری قوم آج رنگ،،،نسل،،،ذات،،،برادری،،،زبان اور جانے کس کس رشتے میں اپنی
بقا ڈھونڈ رہی ہے،،،صرف دلوں کے رشتوں کی کمی نظر آتی ہے،،،،اس رشتے میں
کوئی بھی اپنے آپ کو باندھنے کیلئے تیار ہی نہیں،،،!!

اے پی ایس کے معصوم بچوں پر کیسا قہر ڈھایا گیا تھا،،،،وہ معصوم ہو کر بھی اس
مٹی پر ہم پر جان دے بیٹھے،،،مگر ہم نے کا سیکھا اس قربانی سے،،،؟
آج بھی قوم کی وہی حالت ہے،،کوئی بھی اپنے آپ کو سچ اور حق کے ترازو میں تولنے
کو تیار ہی نہیں،،،!! ہر طرف وہی ظلم اور ظالمانہ نظام ہے،،،،کہیں بھی کوئی بہتری
نظر نہیں آتی،،،!!
بس ہر اک کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے بیٹھا ہے کہ یہ تاریخ رات اس پر نہیں آئے
گی۔

کوئی بھی دوسرے کے دکھ کو اپنا بنانے کو تیار ہی نہیں،،،!!

ہر طرف افرا تفری ہے
آج نہیں تو کل کسی کی تباہی پکی ہے

نیور پیپر دیکھو،،نیوز چینل دیکھو اک ہی خبر ہے،،،ڈاکو،،،قاتل،،،لٹیرے دندناتے نظر آتے
ہیں،،،پولیس کہاں ہے،،،ایجنسیز کہاں ہیں،،،کہاں سزا ہے،،،کہاں جزا ہے،،کہاں انصاف
ہے،،،؟ کوئی بھی بتانے کو تیار نہیں!!

بس بلڈنگز بہت سے ملازم مگر کام کہاں،،،سزا کہاں کچھ پتا نہیں،،،!!
اک لڑکی روات شہر میں مار دی جاتی ہے،،،لوگ اس کو مورد الزام دے کر خاموش ہو گئے
سب قصور اس لڑکی کا،،،! اس کے بیک گراؤنڈ میں کون کون تھا،،،کیا تھا،،،کیسا تھا،،،!!!
شاید سب فائلز میں بند،،،درندا آذاد ہو جائے گا پھر اک لڑکی قصور وار ہو گی،،،! لوگ توبہ
توبہ کر کے گھروں کے دروازے بند کرکے سو جائیں گے،،،!!

کیا اے پی ایس کا سانحہ دوبارہ تو نہیں ہوگا،،! کیا پھرکوئی لڑکی عزت جیسےموتی چھین
لینے کے بعد مار دی جائے گی،،،!!

ہمارے شام کے اندھیرے کب ہوں گے کم
کیا کوئی چمکیلی صبح بھی ہماری ہو گی یا نہیں

سب کچھ کھونے کے بعد ہی ہم ہوش میں کیوں آتے ہیں،،،؟ پہلے سے کوئی دوا ہم کیوں
نہیں کر لیتے،،،! کب تک یوں مائیں بہنیں بے آبرو ہو کر جان دیتی رہیں گے،،،کب تک ہم
سسٹم کو برا بھلا کہتے رہیں گے،،،!!

کرائم کرنے والے جن تونہیں ہماری طرح کے انسان ہیں،،،اس سوچ کو کیوں ختم نہیں کیا جا
سکتا،،،ایسا نظام کیوں نہیں لایا جاسکتا کہ جب بھی قبریں کھودی جائیں تو وہ اک نہ ہو،،،
اس میں اگر اک مظلوم کی کھودی جائے،،،تو دوسری میں ظالم کو بھی دفن کر دیا جائے،،،!!!

انصاف اور سزا کی یہ سپیڈ کیوں نہیں ہوسکتی،،صرف جرم اور مجرم ہی اتنے تیز کیوں ہیں،؟
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 879347 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Mar, 2018 Views: 1095

Comments

آپ کی رائے
so thought full so realistic
By: khalid, karachi on Mar, 17 2018
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Mar, 17 2018
0 Like