کشمیر میں شہزا د گا ن تر کی اور خاندان گودھر کی حکومت کا دو ر ۔۔۔۔۔۔ ایک نظر میں

(Amir Jahangir, )

حضرت سیلما ن کے حکم پر شہزا د گا ن تر کی نے را جہ نراندر کے تا رک الدینا ہو نے کے بعد 1282ق م کو عنا ن حکو مت سنبھا لا ۔ تر کی کے تین شہزادے ( ہشک،کنشک اور زشک) تر کستان سے حضر ت سیلما ن ؑ کے ہمرا ہ کشمیر آئے تھے ۔ را جہ نرا ندر کی حضرت سیلما ن ؑ کے قا فلے میں شمو لیت کی خوا ہش اوردرخوا ست کے بعد حضرت سیلمان ؑ کی اجا زت دے دی ۔اوران تین ترکی شہزاد و ں کو کشمیر کی حکومت عنایت کر دی۔ ترک شہزادوں نے با ہمی اتفا ق سے کشمیر کو حکومت کر نے لگے۔ یہ غیر ملکی شہزادے اپنی ہر دلعزیزی اور خو ش اخلا قی کے باعث کشمیر کے رہنے وا لے لو گو ں کے دلو ں میں ایک خا ص مقا م حا صل کر لیا ۔

ان شہزادوں نے کشمیر میں اپنے اپنے نا م سے گا ؤ ں اور قصبے آباد کر کے کشمیر میں اپنی یا د کی شا ندار مثا لیں چھو ڑیں ۔ ہشک نے پر گنہ تردہن میں قصبہ ہشک تعمیر کروا یا جس کو اب شکورہ کہا جاتا ہے۔ کنشک نے پرگنہ دیلومیں کا نپور آباد کروا یا۔ زیشک نے پرگنہ بھاگ میں زشکپور تعمیر کروایاجوا ب زوکر کہلا تا ہے ۔زشک نے اس کے علاوہ دریا ئے سندھ سے ایک مصنوعی نہرنکا ل کر مو ضع ذکر کو سیرا ب کروا یا۔ جس کو زہا ب پوربھی کہاجا تا ہے ۔

را جہ اشو ک کے دورمیں بدھ مت کی خا ص ترویج ہو ئی۔ شہزاد گا ن ترکی کے دور میں ناگ سین ( ناگ ارجن ) بدھ مت کی تبلیغ اور اشا عت کے لئے مو ضع ہا رو ن میں مسلسل کا م کرتا رہا۔ نا گ سین نے شہزادو ں کی شرافت اور امن پسندی کا نا جائزفا ئدہ اٹھا تے ہو ئے لوگو ں کو تنگ کر نا شروع کر دیا ۔تر کی شہزادے جوشیومت سے بہت متا ثر تھے ۔بدھ مت ،شیومت اور اپنے مذہب کی تعلیما ت کو یکسا ں کر کے ایک ملت کے قیام کے خوا ہش مند تھے ۔اہل کشمیر ترک شہزا دو ں کے مذہبی خیا لا ت کے خلا ف نہ تھے اوربدھ مت کے بھی چا ہنے وا لے نہ تھے ۔ نا گ سین نے اس دور میں بدھ مت کی چو تھی کا نفرنس منعقد کروا ئی جو بدھ مت کی تر قی و ترویج کا سنگ میل تھی۔ برہمن مکمل طور پر بدھ مت کے خلا ف تھے جس وجہ سے انہوں نے طبل جنگ بجا دیا ۔ شہزادگا ن نے معا ملات کو افہا م و تفہیم سے حل کر نا چا ہالیکن با ت بہت آگے تک نکل چکی تھی۔ جنگ و جدل اور سخت خونریو ں کے بعد بر ہمنو ں نے غلبہ حا صل کر لیا برہمنو ں نے کشمیر پر غلبہ پا نے کے بعد تر ک شہزاد گا ن کی 41سا ل کی پرامن حکو مت کومعزو ل کرتے ہو ئے خاندان گو دھر کے ابھی مینو کو 1241ق م کو تخت پر بٹھا یا۔ اس طر ح شہزادگا ن تر کی کی 41سا لہ پرامن حکو مت کا خا تمہ ہو گیا ۔

برہمنوں کی بغاوت کے بعدترک شہزادوں کی حکومت کمزور ہوتی گئیاور بالآخر برہمنوں نے غلبہ حاصل کر لیا۔اور 1241ق م خاندان گودھر کے راجہ بھگونت کے بیٹے ابھی مینوکو حمران بنا دیا گیا۔راجہ ابھی مینو نے پرانے جھگڑوں کا خاتمہ کرتے ہوئے۔امن و امان قائم کیا۔بدھ مت کا خاتمہ کرتے ہوئے شیومت کو خوب پروان چڑھایا۔اس کے دور میں ہندو برہمن عالم ـ’چندرا راج‘ کشمیر میں آیا۔ چندرا راج نے برہمن کی کتاب مہا بھاش کی تعلیم عام کی اوراس کی تبلیغ سے لوگوں کے ساتھ ساتھ راجہ ابھی مینو بھی متاثر ہوا۔ابھی مینو نے موضع ابھی پور تعمیر کر کے برہمنوں کو بطور تحفہ دیا۔یہ موضع اب ابھ پور کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس کے علاوہ اس نے موضع کنڈور بھی پرہمنوں کو عطاکیا۔بدھ مت کے پیروکاروں کو سخت عبرت کا نشانہ بنایا۔شدید بارشوں کی وجی سے ملک کا خوب نقصان ہو اور اس کو عذاب الہی جاناگیا۔راجہ ابھی مینو اور چندرا راج اس عذاب سے بھاگ کر پونچھ اور بھمبر میں جا کر پناہ گزین ہو ئے۔ان دونوں کی کوششوں سے بدھ مت کا مکمل خاتمہ ہوا۔مجموعی طور پر اس دور میں امن رہا لیکن بدھ مت کے عالموں او پیروکاروں کا سخت ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیاجس کی مثال نہیں ملتی۔بالآخر 32سال کی حکومت کے بعد یہ راجہ 1218ق م کو داعی اجل کو لبیک کہ گیا۔اس کے ساتھ ہی گودھر خاندان کے تیسرے دور کا خاتمہ ہوا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: AMAR JAHANGIR

Read More Articles by AMAR JAHANGIR: 33 Articles with 15746 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Mar, 2018 Views: 424

Comments

آپ کی رائے