برق گرتی ہے تو……

(عابد محمود عزام, Lahore)

 دنیا کے حالات پر ایک نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ تمام غموں، دکھوں، آفات، قتل و غارتگری و خونریزی نے مسلمانوں کے گھروں میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ ہر پریشانی و مصیبت مسلم امہ کے کمزور و ناتواں لوگوں پر ہی اتر رہی ہے۔ مشرق سے لے کر مغرب تک اور شمال سے لے کر جنوب تک ہر جانب مسلمانوں کے ہی خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے۔ ابھی ایک درد کم نہیں ہوتا کہ دوسرا اس شدت سے اٹھتا ہے کہ پہلے کی تکلیف بھول ہی جاتی ہے۔ ہر چڑھتا سورج کسی نئی آفت کی خبر دے رہا ہوتا ہے۔ ہر نئی صبح کوئی نئی قیامت کو لیے طلوع ہوتی ہے۔ قدم قدم پر اتنے مصائب ہیں۔ بقول شاعر
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں

دنیا بھر میں مسلمان ہی نت نئے مصائب کا شکار ہیں۔ فلسطین، افغانستان، عراق، شام، برما، کشمیر سمیت ساری دنیا میں روز مسلمانوں کو ہی اپنے لاشے اٹھانا پڑتے ہیں۔ خون مسلم مچھر اور مکھی کی جان سے بھی ارزاں ہوگیااور مسلمانوں کی جانیں ساحل سمندر پر پڑے ریت کے ذرات اور جنگلات میں درختوں سے گرے خشک پتوں سے بھی بے وقعت ہوگئی ہیں۔شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے آج کے حالات کو بیان کرتے ہوئے کہا تھا ’’برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر‘‘

شام کے شہر غوطہ میں ایک نئی قیامت ڈھائی گئی ہے۔ بشارالاسد اور روسی فوج کے طیاروں نے غوطہ کو کھنڈر میں بدل دیا اور صرف ایک ہفتے میں بمباری کر کے 540 سے زاید افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے، جن میں 121 بچے اور سیکڑوں خواتین بھی شامل ہیں۔ بچے تو پھولوں کی مانند ہوتے ہیں، جن پر دشمنوں کو بھی پیار آجاتا ہے، مگر دشمنوں سے مسلمانوں کے بچے بھی محفوظ نہیں۔ شام میں دشمن تو اپنے سینوں میں شاید بھیڑیے کا دل رکھتے ہیں، جنہوں نے بچوں کو موت کے گھاٹ اتار کر ان کی لاشوں کو بھی جلا ڈالا۔ سوشل میڈیا پر ان سوختہ لاشوں کی تصاویر دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے اور پتھر دل آدمی بھی آنسو روک نہ پائے۔ شامی فورسز نے بچوں کے ہسپتال سمیت مختلف ہسپتالوں پر بم برسا کر انہیں ملبے کا ڈھیربنا دیا۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے شام میں بمباری کے باعث بچوں کی مسلسل ہلاکتوں پر کہا تھا کہ کسی لغت میں وہ الفاظ نہیں جو اس دکھ کے اظہار کرنے کی طاقت رکھتے ہوں، اس لیے احتجاجاً ’’ خالی اعلامیہ ‘‘ جاری کرتے ہیں۔ یونیسیف کے ریجنل ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ نے کہا کہ جنگ کے دوران بچوں کی ہلاکتیں ہمارے مستقبل کا قتل ہیں، جس سے دنیا آنے والی نسل کے بہترین ذہنوں سے محروم ہو جائے گی اور ان معصوم جانوں کے ضیاع پر والدین کو تسلی دینے اور انصاف کے حصول کی یقین دہانی کے لیے الفاظ نہیں مل رہے ہیں۔ شیر خوار بچوں کی لاشیں اور ماؤں کی آہ و بکا بھی عالمی ضمیر کو نہ جھنجوڑ سکی۔ خون میں نہائے پھول سے بچے عالمی برادری سے اپنا قصورپوچھ رہے ہیں، لیکن انسانی حقوق کے چیمپئن ممالک خاموش ہیں۔
اقوام متحدہ نے ایک بار پھر عارضی جنگ بندی پر زور دیا ہے، جبکہ روس اور شام پہلے ہی اقوام متحدہ کی تیس روزہ جنگ بندی کا مطالبہ مسترد کر چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق سیکڑوں شہری ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ انسانی حقوق گروپ آبزرویٹری کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2013 میں اسی علاقے میں مبینہ کیمیائی حملے میں شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد یہ اب تک کا دوسرا بڑاحملہ ہے، جس میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ شامی علاقے مشرقی غوطہ میں جاری دمشق حکومت کی کارروائی پر عالمی برداری نے شدید احتجاج کیا ہے۔ ترک حکومت نے مطالبہ کیا ہے کہ باغیوں کے زیر قبضہ اس علاقے میں قتل عام کا سلسلہ بند کیا جائے اور وہاں موجود افراد کو فوری طور پر امداد فراہم کی جائے۔ غوطہ پر 2013 میں باغیوں نے قبضہ کیا تھا اور اس وقت سے حکومتی فورسز فضائی بمباریاں کرتی رہتی ہے، تاہم بمباری کا حالیہ سلسلہ انتہائی خطرناک تھا۔ ممکنہ طور پر شامی فوج غوطہ کو باغیوں سے آزاد کرانے کے لیے زمینی آپریشن کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، اس لیے پہلے فضائی کارروائی کے ذریعے راہ ہموار کی جارہی ہے۔

یہ صرف ایک شام میں ہی خون مسلم نہیں بہایا جارہا، بلکہ چاروں طرف مسلمانوں پر ہی قیامت ڈھائی جارہی ہے۔ صرف اسلامی دنیا میں بیسیوں آتش فشاں ہیں جو خون اگل رہے ہیں۔ عالمی ضمیر خاموش ہے اور اقوام متحدہ سمیت کسی عالمی فورم پراس مسئلے کے حل کے لیے کچھ نہیں کیا جارہا۔ مغرب کو تو چھوڑیے خود ہماری بے حسی کا یہ عالم ہے کہ یوں لگتا ہے کہ ہم نے مظلوم مسلمانوں کو جانوروں سے بھی کسی نچلی سطح پر سمجھ لیا ہے۔ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، ایک عضو کو تکلیف ہو تو سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے، مگر مسلم ممالک کو اس خونریزی کو ختم کروانے کی رتی برابر بھی فکر نہیں ہے۔میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر تاریخ انسانی کے بدترین مظالم ڈھائے گئے۔ روہنگیا مسلمانوں کو نشانے لے کر فائرنگ سے قتل کیا گیا، ان کے گھر جلا دیے گئے، تیز دھار آلات کی مدد سے اور تشدد کر کے مسلمانوں کو قتل کیا گیا اور لوگوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ اگست 2017ء سے پہلے ہی قریباً تین لاکھ روہنگیا مسلمان بنگلا دیش کے جنوب مشرق میں واقع کیمپوں میں رہ رہے تھے اور اب ان تمام مہاجرین کی تعداد دس لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔ میانمار اور بنگلا دیش کے درمیان ان لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کی مہاجر کیمپوں سے وطن واپسی کے لیے چند ہفتے قبل ایک سمجھوتا طے پا یا تھا۔ بنگلا دیش میں مہاجر کیمپوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ تعداد میں روہنگیا مسلمانوں رہ رہے ہیں، لیکن اس طرح کسمپرسی کی حالت میں رہنے کے باوجود بہت سے مہاجرین میانمار میں اپنی آبائی ریاست راکھین کی جانب لوٹنے کو تیار نہیں، کیونکہ انھیں یہ خدشہ لاحق ہے کہ واپسی کی صورت میں انھیں ایک مرتبہ پھر برمی سیکورٹی فورسز اور بدھ مت انتہا پسندوں کے مظالم اور تشدد آمیز کارروائیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔ یہ بات تو واضح ہے کہ بنگلا دیش کے مہاجر کیمپ روہنگیا مسلمانوں کا مستقل ٹھکانہ نہیں ہیں، بلکہ ان کی اصل جگہ وہی ہے، جہاں سے انہیں زبردستی نکالا گیا ہے، لیکن روہنگیا مسلمانوں کو اس وقت تک میانمار واپس نہیں بھیجنا چاہیے، جب تک وہاں مستقل بنیادوں پر انسانی حقوق کی صورت حال ٹھیک نہیں ہو جاتی اور واپسی کی صورت میں دوبارہ روہنگیا مسلمانوں پر ظلم نہ کرنے کی ضمانت نہیں دی جاتی۔ حال ہی میں میانمار کی حکومت اور بنگلا دیش کے درمیان روہنگیا مہاجرین کی واپسی کے لیے طے پانے والے سمجھوتے میں ان کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی، اس لیے ان کے لیے گھروں کو واپسی بھی اتنی ہی خطرناک ہوگی، جتنا وہاں سے فرار پْرخطر تھا۔ دراصل روہنگیا مہاجرین کی واپسی کا منصوبہ میانمار حکومت کے جرائم کو دھونے کی مہم کا ایک حصہ ہے اور یہ ایک طرح سے اس بحران کو مزید طول دینے کے بھی مترادف ہوگا۔ میانمار کی مقہور مسلم اقلیت کو ایک طویل عرصے سے جن نا انصافیوں اور مصائب کا سامنا ہے،وہ ہم سے ہمدردی اور بامقصد اقدام کا تقاضا کرتے ہیں۔ اگرچہ حالیہ مہینوں کے دوران روہنگیا کی نسل کشی نے میڈیا میں بڑی توجہ حاصل کی ہے،مگر اس کے باوجودعالمی برادری ان کے مصائب کو کم کرنے کے لیے کوئی بامقصد اقدام کرنے کو تیار نہیں ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 429760 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Mar, 2018 Views: 373

Comments

آپ کی رائے