ہم بھی ہیں یار جوتے کے

(Mukhtar Hussain, )

برائیوں سے اچھائیوں تک کی مسافتیں طے کرتی تہذیب انسانی کا مطالعہ بغور کیا جائے تو ماضی کی لغزشیں دور حاضر کی مایہ ناز خوبیوں کا پیرہن زیب تن کر چکی ہیں، زمانہ گذشتہ کے لوگ جن سرگرمیوں کو خطا کے پلڑے میں ڈال کر ان سے اظہار بیزاری کیا کرتے تھے ان اخلاقیات کو دور حالیہ کا انسان صرف نظر انداز ہی نہیں کر رہا بلکہ اس نظر اندازی پہ نازاں دکھائی دیتا ہے۔ کردار پہ اٹھتی انگلیاں سماجی بائیکاٹ پہ منتج ہوتی تھیں، چال چلن میں شفافیت تہذیب کو سنبھال سنبھال کر اٹھائے چلتی اچانک سے ایسی تیز رفتارپٹڑی پہ گامزن ہوئی کہ کل کے گناہ آج کے ثواب ٹھہرے۔ مثال کے طور پر کسی گناہ کی پاداش میں جیل جانا اس قدر قابل نفرت گردانا جاتا تھا کہ نہ صرف معاشرہ اس سے منہ پھیر لیتا تھا بلکہ کنوارے ہونے کی صورت میں خود اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں اس کے اہل و عیال بھی رشتوں کے بندھنوں میں بندھنے سے محروم قرار دیے جاتے۔ ثروت کی بجائے سیرت معیار تھی۔ بڑے چھوٹے کی تمیز کے غریب و امیر قائل تھے۔ پی ٹی وی کے ڈرامے فیملیز کے ہمراہ دیکھنے میں کوئی قباحت نہیں تھی معزز کے لئے پیمانہ عزت جبکہ پیسہ آنی جانی چیز تھا۔ ترقی کے نام پہ زمانے نے پینترا بدلا ، طرز حیات نے قدامت پسندی کو پسماندگی کا درجہ دیا اور اقدار کا تایا پانچا ایک کر دیا لیکن ہم لمبی تان کر چْپ رہے۔ تہذیب سر سے اتر کر کندھوں پہ آ پہنچی ہم سمجھے ہم جدید ہو گئے، ملاوٹ کو گناہ کبیرہ کا درجہ دینے والے ملاوٹ شدہ غذا کے ایسے عادی ہوئے کہ اب اصل پہ نقل کا گمان ہوتا ہے۔ معماران قوم کو سڑکوں پہ لا کر ہم سمجھے ہم جمہوری ہو گئے ہیں۔ دولت کے پجاری بن کر کلام اﷲ کو شیلفوں میں سجا کر ہم نے سمجھا ہم جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔ قوم کی رہبریت کا بیڑا اٹھانے والوں نے معاشرے کو ایسا پست کر دیا کہ آج اخلاقیات سے گری ہوئی پستیوں میں لتھڑی قوم کے منجھے ہوئے سیاس کے لئے جیل نہ جانا ایک طعنہ ٹھہرا۔ اور اب جوتا زنی نے جو رفتار پکڑی ہے تو عنقریب سیاسی مہارت بلا تردد اس کسوٹی پر ضرور پرکھی جائیگی کہ سیاست کے داؤ پیچ جاننے کے لئے عوام سے جوتے کھانا بھی خصائص میں شامل ہو گا۔ اس سے بڑی پستی کیا ہو گی کہ تہذیب و تمدن کے گہوارے میں ملک کے سابق وزیر اعظم اور ایک اکثریتی جماعت کے سربراہ کی توہین کرنے کا اختیار اس جامعہ کے طالبعلمم موجودہ یا سابق کو کس نے دیا۔ کیا قانون کو ہاتھ میں لینا قانون کی اہانت نہیں، سابق وزیر اعظم پہ بھلے کتنے ہی گھناؤنے الزامات کیوں نہ ہوں عدالتوں میں وہ سامنا تو کر رہے ہیں۔ اور کیا یہ عدالت کی اہانت کے زمرے میں نہیں آتا۔ مفرور ملزمان سے تو بہتر ہیں۔ ہماری ریت رسمیں تو کسی خاندان کے بزرگ کی اہانت کی بھی روادار نہیں اور یہ تو کروڑوں ووٹرز کا مینڈیٹ بھی رکھتے ہیں ،

حضرت علی علیہ السلام کے دور خلافت میں ایک خاتون نے ارتکاب زنا کا اعتراف کیا اور عرض گذار ہوئی کہ مجھ پہ حد جاری کی جائے ، آپ نے فرمایا ابھی آپ حاملہ ہو، عمل زچگی کی تکمیل کے بعد وہ پھر آئی تو آپ نے فرمایا کہ نومولود کی شیر خوارگی کا تم پہ ابھی حق ہے۔ دودھ پلانے کے فرض سے سبکدوش تیسری بار حاضر خدمت ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ اس نچے کی پرورش کا تم پہ ابھی حق ہے تو محفل میں بیٹھے ایک شیخ نے مذکورہ بچے کی کفالت کا اعلان کر دیا تو آپ نے اس خاتون کی سزا کے لئے جمعہ کا دن مقرر کیا۔ لیکن اس کے جانے کے بعد اس شیخ سے مخاطب ہوئے کہ جب وہ اقرار جرم کر بیٹھی تھی تو اس کا حق کی طرف راغب ہونا اور اپنے کئے پہ نادم ہونا ثابت تھا۔ کیا کفالت کی ذمہ داری میں خود نہیں لے سکتا تھا یہ تو ایک حجت تھی۔ المختصر مقررہ دن آ پہنچا تو اینٹیں اور پتھروں سے لدے مجمعے کو مخاطب کر کے آپ نے فرمایا کہ اس پہ پتھر وہ پھینکے جس نے کبھی ایسا کوئی گناہ نہیں کیا ہو بصورت دیگر میں دعا کروں گا کہ وہ پتھر اسی پہ بار بار برسیں۔ لمحون بعد مجمع چھٹ گیا اور صرف جناب حسنین کریمین اور آپ کے علاوہ میدان میں کوئی نہ رک پایا۔
 
افسوس ! ہماری تہذیب کس سمت کو چل پڑی ہے۔پاؤں میں رہنے والے جوتے ہاتھوں اور سروں تک پہنچ گئے ہیں۔چھوٹے بڑے کا فرق نظر انداز ہو گیا۔

کبھی خبر آتی ہے کہ سیاسی رہنما کو جوتے پڑ گئے تو کبھی کسی پہ سیاہی پھینکنا ہمارہ طرہ امتیاز بن گیا ہے۔ جہالت کے دہانے پہ لڑکھڑاتی تہذیب کے علمبردار سینیٹ سینیٹ کھیل رہے ہیں۔ گلی محلے کے تھڑوں سے لے کر ایوانوں تک ایک صدا گونج رہی ہے کہ بالا ایوان میں چناؤ میں زر اور زور نے کردار ادا کیا۔ روٹی کپڑا مکان کا نعرہ اک زرداری سب پہ بھاری میں تبدیل ہو گیا۔ جئے بھٹو ، زندہ ہے بی بی ، دکھاوے کا ایک چڑھاوا ہی رہ گئے ہیں۔ تبدیلی کا نعرہ لگانے والی جماعت تبدیلی تو لا سکی یا نہیں لیکن خود ضرور تبدیل ہو گئی ہے۔ جس انتخاب کو زن و مرد، خاص و عام، بڑا چھوٹا بد عنوانی کا نتیجہ کہہ رہا ہے اس پہ تو ایوان عدل کا گھنٹا بج جانا چاہئے تھا لیکن شاید اسی زور آور مصلحت کے تحت خاموشی اختیار کر رکھی ہے جس کو بڑے قد آور صحافی یہ کہہ کے ہوا میں اڑا رہے ہیں کہ گر زور کا نتیجہ ہے تو کل اسی زور کے بل بوتے پہ مقتدر جماعت بھی تو ایوان اقتدار میں جا براجمان ہوئی تھی۔ لگتا ہے بویا ہؤا کاٹنے کا وقت آ گیا ہے۔ یہ تشدد کبھی عدالت پر حملے کی صورت میں کاشت ہؤا تو کبھی پارلیمینٹ پر چڑھائی کی صورت میں۔کبھی پولیس گردی کی صورت میں نمودار ہؤا تو کبھی رینجر نے سر عام گولیوں سے بھون ڈالا۔ پاکستان میں اعلانیہ اتحاد کی تاریخ داغدار ہی ہے سمجھیں ایک داغ اور سہی۔ لیکن غیر اعلانیہ اتحاد نے جو نام کمایا ہے اب یہ دھبہ ہے یا ستارہ۔ اس کا فیصلہ کون کرے۔ خیر کوئی کر بھی لے تو کسی خفیہ یا اعلانیہ ہاتھ کو کونسا فرق پڑتا ہے، ویسے بھی حبیب جالب کی موت پہ پچیسویں مْہر لگ چکی ہے۔

بات چلی تھی جوتے کاری کی ، اس جوتا دور میں جوتا بھی پریشان ہے۔گویا وہ کھیت کھلیان میں مشقت سے سود خور کے لئے گزرتا ہے۔ کہاں گئیں وہ محبتیں جو جْوتا چھپائی کی رسموں میں کھلکھلایا کرتی تھیں۔ بزرگوں کی جوتیاں سیدھی کرتی روایات پہ کھڑی ہوتی تہذیب اب جوتی کی نوک پہ کھڑی جْوتے چٹخا رہی ہے۔ جمہوریت کی دال جوتیوں میں بٹ چْکی ہے جوتیوں سے لگی جمہوریت جوتیوں سمیت آنکھوں میں بیٹھی بر ملا کہہ رہی ہے کہ زر یا زور کی جوتیوں کے صدقے میں گر بڑے ایوان کی بڑی نشست ہمارے نام ہو گئی ہیے تو تمہیں کیا؟؟ ماضی میں جوتا گری کے خلاف ہماری صدا تو رقابت کی تکلیف کا اظہار تھا۔ در حقیقت تو ہم بھی ہیں یار جوتے کے۔ جوتم جوتا کا کھیل زور پکڑ گیا ہے تو قلم بھی بول اٹھے ہیں وگرنہ مخفی ہاتھوں کا کسی کو غائب کر کے جوتیوں سے مرمت کرنے کا رواج تو پرانا ہو چکا ہے۔ اب تو اعلانیہ جوتی پہ جوتی۔ کبھی یہ سفر کا شگون ہؤا کرتا تھا گر ایسا ہے تو دیکھنا یہ ہے کہ جوتیاں بغل میں دبائے جمہوریت نے کہاں کا رخت سفر باندھا ہے پہلے آمریت یہ کام کر کے دیار غیر میں ناچتی بھی پائی گئی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mukhtar Hussain

Read More Articles by Mukhtar Hussain: 6 Articles with 3000 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Mar, 2018 Views: 503

Comments

آپ کی رائے