جوہری طاقت بنّا عالمِ اسلام کیلئے سود مند یا نقصان دہ۰۰۰؟

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

سعودی عرب نیو کلیئر طاقت بننے کے لئے سرگرم عمل ہونے کی کوشش میں ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق گذشتہ دنوں مملکت سعودی عرب کے ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب نیو کلیئر بم حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن اگر ایران جوہری بم بناتا ہے تو ہم بھی جلد از جلد ایسا ہی کریں گے۔شہزادہ محمد بن سلمان کے اس بیان کے بعد عالمی سطح پر خصوصاً امریکہ میں ہلچل سی پیدا ہوگئی ہے۔ امریکی کانگریس کے ارکان نے پارٹی بنیاد پر ملا جلا ردعمل دیا ہے ڈیموکریٹک سینیٹر نیلس نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ ایران کی جانب سے بم تشکیل دینا خطے میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا باعث بنے گا۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے اس خیال کا اظہار کیا کہ خلیج کے کئی ممالک اپنی دولت استعمال کرتے ہوئے جوہری ہتھیار تیار کریں گے ، یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ ایران کو نیو کلیئر طاقت بننے سے روکنے کے لئے عالمی برادری خصوصاً امریکہ، اسرائیل کی جانب سے دباؤمیں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ سعودی عرب بھی چاہتا ہے کہ ایران نیو کلیئر بم تشکیل نہ دے اور اسی بناء سعودی عرب و دیگر ممالک کا کہنا ہے کہ ایران کیلئے جوہری سمجھوتا موجود رہنا چاہئیے، چونکہ یہ ضمانت دیتا ہے کہ جب تک ایران معاہدے کو نہیں توڑتا،آئندہ دس تا بارہ برس تک ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوگا، شہزادہ محمد بن سلمان کا مزید کہنا ہے کہ جیسے ہی مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک جوہری ہتھیار حاصل کرلیتے ہیں ، یہ معاملہ انتہائی خطرناک ہوجائے گا اور صورتحال انتہائی عدم استحکام کی شکار ہوجائے گی۔ ایران کے جوہری توانائی کے پروگرام کو محدود کرنے کے عوض 2015میں امریکہ اور پانچ دیگر عالمی طاقتوں نے ایران کے خلاف سخت گیر اقتصادی پابندیاں ہٹائی تھیں جب کہ عالمی طاقتوں کویہ ڈر بھی تھا کہ اگر سمجھوتا طے نہ کیا گیا تو ایران جوہری ہتھیار تشکیل دے گا۔ جس طرح شمالی کوریا نے پابندیوں کے باوجود جوہری ہتھیار بنانے میں کامیاب ہی نہیں ہوا بلکہ اس نے سب سے پہلے اپنے دشمن ملک امریکہ کو انتباہ بھی دیدیا اور اس سے نظروں میں نظریں ملاکر بات کرنے کی ہمت پیدا کی۔ شمالی کوریا نے وہ کردکھایا جو ایران کے سلسلہ میں ان ممالک کے شکوک و شبہات تھے۔ سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق سعودی عرب کی کابینہ نے 13؍ مارچ کو ایٹمی توانائی کے پروگرام سے متعلق قومی پالیسی کی منظوری دی ہے ۔ اس پالیسی کے تحت بیان کیا گیا ہے کہ تمام جوہری سرگرمیاں پرامن مقاصد کے دائرے میں رہینگی ، جن حدود کا تعین بین الاقوامی معاہدوں کے تحت کیا گیا ہے۔سعودی عرب چاہتا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ سولین جوہری تعاون معاہدہ کرے ، مملکت کی جانب سے پہلے ایٹمی توانائی کے پروگرام کو تشکیل دینے میں مدد کے لئے امریکی اداروں کو دعوت دی گئی ہے۔ سعودی دنیا میں تیل برآمد کرنے والے ممالک میں اہم حیثیت رکھتا ہے وہ تیل کی رسد کو مختلف النوع بنانے کی کوشش کررہا ہے جب کہ جوہری توانائی کو ضرورت کے لحاظ سے استعمال کرنے کا خواہاں ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالم اسلام کو واقعی جوہری طاقت بننا سود مند ثابت ہوگا ؟
سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک اگر واقعی جوہری طاقت کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہوئے ابھرتے ہیں تو کیا مغربی و یوروپی طاقتیں خاموش تماشائی بن کر بیٹھیں رہینگے۔ ماضی میں جب کبھی اسلامی ممالک کے حکمراں طاقتور حیثیت اختیار کئے دشمنانِ اسلام متحدہ طور پر ان حکمرانوں کے خلاف مختلف سازشیں کرتے ہوئے انہیں ختم کرنے کی ناپاک کوششیں کرچکے ہیں اور یہی حربہ آج بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ آج ایٹمی ہتھیار کروڑہا ڈالرس میں عالمِ اسلام کو بیچے جارہے ہیں اور ان ہی ہتھیاروں سے مسلمانوں کا قتل عام بھی ہورہا ہے ۔ اس کے باوجود عالمِ اسلام کے حکمراں ان سازشوں سے کو سمجھنے سے قاصر ہیں یا پھر وہ اپنے اقتدار پر براجمان رہنے کے لئے ہر جائز و نا جائز طریقہ کار اپنانے کو بُرا نہیں سمجھتے ۔ اب دیکھنا ہے کہ سعودی عرب کو جوہری طاقت بننے میں امریکہ اور دیگر مغربی و یوروپی ممالک کس حد تک تعاون کرتے ہیں یا پھر اسے بھی ایک حد تک ساتھ دینے کے بعد اسکے خلاف بھی وہی خطرناک چال چلتے ہوئے مملکت کو تباہ و تاراج کرنے کی کوشش نہ ہو۔ یوں تو امریکہ سعودی عرب کے ساتھ فوجی تعاون بڑے بہترین انداز میں نبھانے کی سعی کررہا ہے۔ دونوں ممالک کی مشترکہ فوجی مشقیں ہورہی ہیں ، سعودی عرب سے امریکہ کو کروڑہا ڈالرس کی آمدنی ہورہی ہے اور جب تک یہ آمدنی کا سلسلہ جاری رہے گا امریکہ سعودی عرب کو اپنا تعاون فراہم کرتا رہے گا اور جب سعودی عرب کنگال ہوجائے گا یا یہاں کے حالات کسی نہ کسی وجہ سے خراب ہوجائینگے تو امریکہ یہی دوست ملک کو تباہ و تاراج کرسکتا ہے جس کی مثال عراق اور افغانستان وغیرہ سے دی جاسکتی ہے۔

پاکستانی حکومت ملک میں اندرونی و بیرونی حالات سے نبرد آزما ہے۔ ملک میں سیاسی جماعتوں کے درمیان الزامات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور بیرونی سطح پر پاکستان دہشت گردی کے حوالے سے بدنام ہوچکا ہے ان حالات میں پاکستانی حکومت نے آخر کار فیصلہ کیا ہیکہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حافظ سعید کی تنظیم جماعت الدعوۃ اور اسی تنظیم کے زیر انتظام امدادی ادارے فلاح انسانیت کے دفاتر کومقامی انتظامیہ نے تالے لگادیئے گئے ، جبکہ اس تنظیم کے زیر انتظام تین مدرسے اور دو مساجد محکمۂ اوقاف کی تحویل میں دے دی گئی ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ کی جانب سے پاکستان پر کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی کے لئے دباؤ مسلسل بڑھتاجارہا تھاامریکہ نے پاکستان کو ملنے والی امداد کو حقانی نیٹ ورک اور جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی سے مشروط کیا ہے۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ پاکستان کا نام دہشت گردی کی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست میں ڈالنے کے حوالے سے پاکستان پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہورہا تھا۔ خیر پشاور مقامی انتظامیہ نے وزارتِ داخلہ کے احکامات پر کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت کے دفاتر بند کردیئے گئے ہیں۔ اب دیکھنا ہیکہ پاکستانی حکومت معاشی استحکام کے لئے کس حد تک امریکہ کے آگے سرِ تسلیم خم کرتی ہے ۔ اور امریکہ پاکستان کے اس اقدام سے کس حد تک خوش ہوگا۔جماعت الدعوۃ اور حافظ سعید کے خلاف کارروائی امریکہ ہی نہیں بلکہ پڑوسی ملک ہندوستان کے لئے ضروری ہے کیونکہ ہندوستانی حکومت ممبئی حملوں کا ذمہ دار یا ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کو ہی مانتی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ پاکستان کی اس کارروائی سے اندرون و بیرون ملک کس طرح کا ردّعمل پیش آتا ہے۔

فلسطینیوں کا مفاد اولین ترجیح ہے، سعودی ولی عہد
فلسطینیوں کے لئے عالمِ اسلام نے ہمیشہ بھرپور امداد فراہم کرنے کی سعی کی ہے اور مستقبل میں بھی اس میں کمی نہیں ہوگی۔ سعودی عرب کے ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے دورۂ امریکہ کے دوران باورکرایا ہے کہ سعودی عرب فلسطینیوں کے مفادات کی حمایت پر توجہ مرکوزکئے ہوئے ہے۔محمد بن سلمان امریکی دورہ کے دوران ایک ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ سعودی عرب اور امریکہ کے تاریخی تعلقات80سال پر محیط ہیں۔ سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا پراناحلیف ہے۔’سی بی ایس‘ ٹی وی کے پروگرام’’60منٹ‘‘ میں بات کرتے ہوئے سعودی ولی عہد نے کہا کہ ان کا ملک مشرق وسطیٰ میں امن کا عمل آگے بڑھانے کے لیے ہرممکن کوششیں جاری رکھے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جارڈ کوشنر کی زیرنگرانی امن مساعی کو سعودی عرب کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور سعودی عرب تمام فریقین کیلئے امن و سلامتی چاہتا ہے۔سعودی ولیعہد کا کہنا ہے کہ وہ فطری طور پر امن کی بات کرتے ہیں ، اور کشیدگی سے گریز کرتے ہیں اور اسی قسم کا مشورہ دوسروں کو دیتے ہیں۔انہو ں نے فلسطینیوں کے حقوق اور مفادات پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ سب کے مفاد کی بات پر زورد یا۔

غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی ظلم و زیادتی
عالمی سطح پر فلسطین کو امداد کے باوجود غزہ کی پٹی کے لوگ اسرائیل کی ظلم و زیادتی کا شکار ہوتے رہے ہیں ۔اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ محاصرے کے نتیجے میں اہلیان غزہ غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق اوچا کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ گیارہ برس سے غزہ کی پٹی کے عوام غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ آج یہ شرح بڑھ کر 72 فی صد تک پہنچ چکی ہے۔رپورٹ کے مطابق غزہ کے عوام کو عالمی معیارکے مطابق خوراک دستیاب نہیں۔اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی بار بار جنگوں، مسلسل معاشی ناکہ بندی اور زرعی بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے غزہ کی پٹی میں خوراک کے تحفظ پر گہرے منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ غزہ کی پٹی میں زرعی اجناس کی پیداوار میں 50 فی صد کمی آئی ہے۔ بے روزگاری کی شرح 45 فی صد ہے جو کہ دنیا بھر میں ایک ریکارڈ ہے۔غزہ کی پٹی میں آبی وسائل اور فشریز میں بھی 54 فی صد کمی آئی ہے۔ اسرائیلی بمباری سے غزہ میں 800زرعی چشمے اور 30فی صد زرعی اراضی تباہ کردی ہے۔عالمی سطح پر اسرائیل پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ غزہ کی پٹی میں مقیم فلسطینیوں کو جینے کے لئے آزادانہ ماحول فراہم کریں اور عالمی سطح پر دی جانے والی امداد ان مظلوم افراد تک بھی پہنچ پائے۔

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری
غزہ کی پٹی پرقابض اسرائیلی فوج نے17؍ مارچ کی شام اور دوسرے دن یعنی18؍ مارچ، صبح سویرے شدید بم باری کی ، جس کے نتیجے میں متعدد شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی فوج کے جنگی طیاروں نے 13مقامات پر بمباری کی۔ اسرائیلی طیاروں نے اتوار کی صبح جنوبی غزہ میں صلاح الدین روڈ پر نساریم چوک، مشرقی الزیتون کالونی میں تیونس، اور مشرقی غزہ میں زرعی اراضی پر بمباری کی۔ اسرائیلی فوج کے جنگی طیاروں نے غزہ میں نچلی پروازوں کا سلسلہ بڑھا دیا جس کے باعث مقامی شہری سخت خوف کا شکار ہیں۔ غزہ کی پٹی کے شمال سے جنوب کی طرف اسرائیلی جنگی طیاروں کو اڑانیں بھرتے دیکھا گیا ہے۔ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی طیاروں کی بمباری کے دوران توپ خانے سے جوابی کارروائی کی گئی۔قبل ازیں وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ہفتے کی شام اسرائیلی بمباری سے متعدد شہری زخمی ہوگئے تھے تاہم تازہ بمباری کے نتیجے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اسرائیلی فوج غزہ کی زرعی اراضی کو کسی نہ کسی بمباری کے ذریعہ ناکاری بنانے کی کوشش کرتی ہے تاکہ غزہ کے مقامی لوگ غذائی اجناس کے لئے تڑپتے رہے۔

اقوام متحدہ کی روہنگیا مسلمانوں کیلئے 951ملین ڈالر کی اپیل
عالمی سطح پر مسلمانوں پر ظلم و ستم بھی کیا جاتا ہے اور پھر ان مظلوم مسلمانوں کو پیش کرکے ان کیلئے اہل خیر اور صاحب ثروت مسلمانوں سے کروڑہا ڈالرس امداد کے نام پر وصول کئے جاتے ہیں۔ مسلمان جس طرح ان مظلوموں کی مدد کرتے ہیں یہ تمام کی تمام امداد ان مظلوموں تک پہنچ پاتی بھی ہے یا نہیں اس کا کوئی مصدقہ جواب نہیں۔ان دنوں اقوام متحدہ نے روہنگیا مسلمانوں کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کیلئے951ملین ڈالر کی اپیل کی ہے۔اقوام متحدہ کے اداروں اورشراکت دار این جی اوز نے مشترکہ منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کیلئے 951ملین ڈالر کی اپیل کی گئی ہے تاکہ 9لاکھ روہنگیا بے گھر افراد کی ضروریات فوری طور پر پوری کی جاسکیں۔جنیوا میں اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کی جانے والی اپیل میں کہا گیا ہے کہ 3لاکھ 30ہزار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں موجود ہیں۔ یہ مہم ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلپوکرانڈی کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔اپیل کے موقع پر انھوں نے کہا ہم یہ اپیل اس لیے کر رہے ہیں کہ میانمار کے بے گھر مسلمانوں کیلئے ان کے گھروں کے دروازے کھولے جا سکیں اور وہ اس بحران سے نکل کر اپنے گھروں کو واپس جا سکیں ۔یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ روہنگیا کے مسلمان آج بھی اپنے گھروں کو لوٹنے سے ڈرتے ہیں انہیں ڈر ہے کہ میانمار کی فوج اور وہاں کے درندہ صفت بدھسٹ پھر وہی ظلم و بربریت کے پہاڑ نہ توڑیں جو اس سے قبل انہوں نے کیا تھا۔ اقوام متحدہ پہلے میانمار کی حکومت پر دباؤ ڈالے اور ان مظلوموں کی حفاظت کے لئے زور دیں ۰۰۰
***

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 260 Articles with 100237 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Mar, 2018 Views: 463

Comments

آپ کی رائے