بھوک کا عفریت

(Mona Shehzad, Calgary)

کچھ دن پہلے ایک جوان سالہ بیوھ اور اس کے دو معصوم بچوں کی تصاویر دیکھیں. انہوں نے بھوک سے تنگ آکر موت کو گلے لگا لیا تھا. لوگوں کے comments پڑھے ان کی حرام موت کو ان کے لیے جہنم کی آگ قرار دیا گیا.

قرآن پاک کی ایک آیت کا متن یاد آیا جس میں تاکید ہے کہ سفید پوش ضرورت مندوں کو ان کے چہروں سے پہچانو کیونکہ یہ اپنی ضرورت کے لئے مدد مانگتے ہوئے شرم محسوس کرتے ہیں. اگر ہم ایسے لوگوں کی مدد ان کی زندگی میں کر دیں تو شاید ان حرام موتوں کا سلسلہ رک جائے. یہ ایک فرد کی موت نہیں یہ پورے معاشرے کی موت ہے جہاں بھوک کے ھاتھوں تنگ آکر کوئی موت کو گلے لگاتا ہے.

" بھوک کا عفریت "
فائیو سٹار ہوٹل میں بوفے عروج پر تھا. نک سک سے تیار خواتین نزاکت سے پلیٹ میں کھانا ڈالتے ہوئے کیلوریز ان ٹیک اور ہیلدی ایٹنگ پر ایک دوسرے کو بھاشن دیتے ہوئے مصروف تھیں. مرد حضرات ان سے قطع نظر اپنی پلیٹیں بھرے ہوئے ایک دوسرے سے بزنس اور سیاست پر گفتگو کرنے میں مصروف تھے. بچے ماں باپ کی توجہ نہ پا کر مختلف کھانے پلیٹوں میں ڈال ڈال کر ضائع کرنے میں مصروف تھے. ہلکے ہلکے میوزک، کھانے کی انواع و اقسام کی خوشبوؤں ،باوردی بیروں کی چہل پہل، عورتوں کے مترنم قہقہے، مردوں کی خوش گپیاں غرض یہ دنیا ہی علیحدہ تھی. باوردی بیرے مستعدی سے پلیٹوں میں بچا ہوا کھانا ٹرالیوں میں ڈال کر ہوٹل کے پیچھے بنے ہوئے کوڑے دان میں ڈال دیتے.

اس فائیو اسٹار ہوٹل سے تھوڑی دور آج پھر سکینہ اور اس کے دو معصوم بچوں کے فاقے کا تیسرا دن تھا. اپنی بھوک تو سکینہ برداشت کرلیتی مگر اس کے جگر گوشوں کا سسکنا اس سے برداشت نہیں ہورہا تھا. ابھی پانچ مہینے پہلے ہی اس کا گھر والا ایک ٹریفک حادثے میں مارا گیا تھا. اس کی لاش تین گھنٹے سڑک پر بے یارو مددگار پڑی رہی تھی. پھر ایدھی والوں کی مہربانی سے اس کو کفن دفن نصیب ہوا تھا. سکینہ کی جوانی اور خوبصورتی اس کے لیے عذاب بن گئی تھی. جدھر بھی نوکری کے لئے گئی وہاں اس کے کام سے زیادہ اس کے جسم کے خریدار نظر آئے. وہ اپنی عزت بچاتے بچاتے تھک سی گئی تھی.

آج بچوں کی بھوک سے تنگ آکر کونے کی دکان پر گئی. دکان کا مالک اس کے مرحوم میاں کا عزیز دوست تھا. اس نے سوچا
"وھ ضرور مجھے کچھ راشن ادھار دے دیگا "
وھ منہ پھٹی ہوئی چادر میں چھپائے اس کی دوکان پر پہنچی اور بڑی مشکل سے دست سوال دراز کیا.
اجمل نے مسکرا کر بڑے لوفرانہ انداز میں اسے آنکھ ماری اور کہا
"چل میرے ساتھ پچھلے گودام میں آجا. تو میری بھوک مٹا میں تیری اور تیرے بچوں کی بھوک مٹا دونگا. "

سکینہ کے کانوں میں شائیں شائیں کی آواز آنے لگی. اس کے پورے جسم نے پسینہ اگل دیا. اس نے کوشش کی کہ وہ گودام کی طرف پیر بڑھائے مگر اس کے پاؤں سو من وزنی ہوگئے. اچانک اس کو ہوش آیا اور وہ زور سے چلائی
"میں طوائف نہیں ہوں ،بیوھ ہوں."
یہ کہہ کر وہ واپس پلٹ گئی.

صبح اہل محلہ کو پتہ چلا کہ رات زینت اور اس کے بچوں نے چوہے مار دوائی پی کر خودکشی کر لی ہے. لوگ کانوں کو ہاتھ لگا لگا کر حرام موت کے باعث ان کے جہنم واصل ہونے کی وعید دیتے رہے. زینت اور اس کے بچوں کی بے نور آنکھوں میں ایک ہی سوال تھا :

ہماری زندگی حرام کی نہ ہو اس لئے ہم نے موت کو گلے لگایا مگر درحقیقت ھماری موت کا ذمہ دار کون ہے؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 175001 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
26 Mar, 2018 Views: 2333

Comments

آپ کی رائے