کشمیرمیں خاندان مالوہ کی حکومت کا چوتھا دور ۔۔۔۔۔ ایک نظر میں

(Amir Jahangir, )

والئی اوجین راجہ بکرم کے نمائندہ راجہ ماتر گپت نے راجہ بکرم کی وفات اور پرورسین کے ارادوں کی خبر ہوئی تو خوشی سے کشمیر کی حکومت چھوڑ کر کانشی جی کے ارادے سے ہندوستان کی طرف روانہ ہوگیا۔ لاہور میں اس کی ملاقات پرورسین سے ہوئی تو پرورسین نے اس برہمن راجہ ماتر گپت کو بدستور حکومت چلانے کی درخواست کی اور بھرپور تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔راجہ ماتر گپت دلی طور پر بے زار ہو چکا تھا اس لیے اس نے صاف انکار کر دیا۔راجہ ماتر گپت کے انکار کے باعث پرورسین نے102ء میں کشمیر کی حکومت سنبھالی۔کمال فیاضی اور عدل سے حکومت کا آغاز کرتے ہوئے ماتر گپت کی آخری زندگی تک اس برہمن کو وظیفہ دیتا راہا لیکن ماترگپت اس کی پروا کیے بغیر مساکین میں تقسیم کر دیتا تھا۔عدل و انصاف اور امن امان قائم کرنے کے بعد ملک گیری کا شوق دامن گیر ہوا۔لشکر جرار تیار کر کے ہندوستان پر چڑھائی کرتے ہوئے دریائے شور سے ہوتا ہوا اوجین کے قریب جا پہنچا۔اوجین کے حکمران راجہ شیلادت جو پرتاب شل کے نام سے مشہور تھا۔اور مخالفوں کی وجہ سے سخت پریشانی کے عالم میں تھا۔راجہ پرورسین کو اس کی حالت پر رحم آیااور مخالفوں کی سرکوبی کرتے ہوئے مکمل طور پراوجین کا علاقہ اس کے سپرد کر تے ہوئے تخت سنگہاس واپس لے کر آ گیا۔راجہ پرورسین جس علاقہ کو بھی فتح کرتا تھا تھواڑا سا خراج مقرر کرتے ہوئے وہ علاقہ اصلہ ورثا ء کے سپرد کردیتا۔ فتوحات ملکی سے فارغ ہو کر واپس کشمیر لوٹااور شہر سرینگر کو تعمیر کرواتے ہوئے اس کو دارالسلطنت قرار دیا۔سرینگر اور کوہ ماران کے درمیان رابطے کے لیے پل نادہ پور تعمیر کروایا۔پرگنہ بھاگ میں سودہ بھون تعمیر کروایا۔سری نگر سے شمال کی طرف سوکرم(ہارون) آباد کروایا۔60سال تک حکومت کرنے کے بعد 162ء میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔

راجہ پرورسین کی وفات کے بعد رانی رتنا کے بطن سے پیدا ہونے والا بیٹا جد ہشڑ 162ء میں کشمیر کا حکمران بنا۔عدل وانصاف کا دلدادہ تھا۔اس کے دور میں وزیروں اور مشیروں نے دیہات تعمیر کرؤاے جو اس دور کی حسین یادگاریں ہیں۔راجہ جد ہشڑ عدل و انصاف سے 39 سال حکومت کر کے201ء میں داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔

راجہ جد ہشڑ کے بعد اس کا بیٹانرندرادت201ء میں تخت نشین ہوا۔راجہ نرندرادت ملکی ترقی ی طرف متوجہ ہوا اور محکمہ اسناد جاری کیا۔عمر نے وفا نہ کی اور 13سال کی حکومت کر کے214ء میں دنیا سے چل بسا۔

راجہ نرندرادت کی وفات کے بعد اس کے بھائی تونجین نے214ء میں اعنان مملکت سنبھالا۔راجہ تونجین نے حکومت سنبھالتے ہی راجہ نرندرادت کے بیٹے شیردل کو حکومتی وزیر مقرر کیا۔حاسدوں اور خوشامدیوں نے چچا اور بھتیجے کے درمیان اختلاف پیدا کیا اور نو بت خون خرابے تک پہنچ گئی جس میں شیر دل مارا گیا۔شیر دل کی موت سے خوف زادہ ہو کر اس کا سات سالہ بیٹاسرب سین نگر کوٹ کی طرف بھاگ گیا۔راجہ نگر کوٹ نے اس کو اپنی بیٹی عقد میں دے کر اپنی فرزندی میں قبول کر لیا۔جب مکمل طور پر جوان ہوا تو باپ کے قتل کے انتقام کی چنگاری دل میں سلگ گئی۔ادھر ادھر اور خاص طور پر جموں سے مددطلب کرتے ہوئے کشمیر پر چڑھائی کر دی۔راجہ تونجین اور سرب سین کے درمیان خون خوار معرکہ ہوا جس میں راجہ توجین جان بحق ہو گیا۔یوں راجہ تونجین کی 43سالہ حکومے کا خاتمہ257ء میں ہوا۔

راجہ تونجین کی وفات کے بعد سرب سین فاتحانہ انداز میں کشمیر میں داخل ہوا اور 257ء میں مسند حکومت سنبھالا۔سرکشوں کی سرکوبی کی اور عدل اونصاف سے حکومت کرنے لگا۔گرد ونواح کے علاقوں کو سلطنت کشمیر میں شامل کیا۔راجہ سرب سین نے ہندوستان پر دو مرتبہ حملہ کیا۔راجہ قنوج کی لڑکی سے شادی کرتے ہوئے واپس کشمیر لوٹا۔بچار ناگ پر مندر بھوئی شور آباد کیا۔48سال کی حکومت کے بعد 305ء میں طبعی موت مرا۔

راجہ سرب سین کی وفات کے بعد اس کا بیٹا گندھرپ سین 305ء میں کشمیر کاحکمران بنا۔راجہ گندھرپ بڑا عیاش حکمران تھا۔کشمیر کے متصل علاقے اس کے ہاتھ سے نکل گئے۔اور ملک میں افراتفری کی فضا پھیل گئی۔راجہ گندھرپ کی عیاشیوں سے کشمیر کی رعایا بہت تنگ تھی۔ ادھر راج تونجین کا بیٹالچھمن نے محل کا محاصرہ کیاتو لوگوں نے اس کا بھرپور ساتھ دیا۔342ء میں راجہ گندھرپ سین کی 37سالہ حکومت کا خاتمہ کرتے ہوئے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔

راجہ گندھرپ سین کی گرفتار کے بعد جچھمن نے 342ء میں کشمیر پر اپنی حکومت کا اعلان کیا۔راجہ لچھمن نے حکومت سنبھالتے ہی پرانا آئین بحال کرتے ہوئے عدل وانصاف اور امن وامان سے حکومت قائم کی۔گندھرپ سین کے دور میں جو علاقے سلطنت کشمیر سے نکل گئے تھے ان کو واپس سلطنت میں شامل کیا۔راجہ لچھمن کے دور میں راجہ ملتان نے علم بغاوت بلند کیا۔راجہ ملتان کی سرکوبی کے لیے ملتان کا رخ کیا اور راستے میں آرام کی خاطر ایک درخت کے نیچے اپنے منہ پر سرخ رومال رکھ کر سو گیا۔ایک چیل اس کو گوشت کا ٹٹکڑا خیال کرتے ہوئے اس پر جھپٹی جس کے نتیجے میں راجہ لچھمن کی دونوں آنکھیں نکل گئی۔راجہ لطھمن کچھ دن درد وسوز اور بے چینی کے عالم میں مبتلا رہا۔باآخر 32سال6ماہ کی حکومت کے بعد 375ء میں جان جہان آفرین کے سپرد کر دی۔
(جاری ہے)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: AMAR JAHANGIR

Read More Articles by AMAR JAHANGIR: 33 Articles with 15120 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Apr, 2018 Views: 449

Comments

آپ کی رائے