سینیٹ میں حکومتی اتحاد کو شکست…… عام انتخابات میں اثر انداز ہوسکتا ہے؟

(عابد محمود عزام, Lahore)

سینیٹ میں خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہونے والے انتخاب میں اپوزیشن اتحاد کے امیدوار میر محمد صادق سنجرانی 57ووٹ لے کر چیئرمین سینیٹ منتخب ہو گئے، ان کے مد مقابل حکومتی اتحاد کے امیدوار راجہ ظفرالحق نے 46ووٹ حاصل کیے۔چیئرمین سینیٹ صدر مملکت کے بعد دْوسرا بڑا عہدہ ہے۔ ابتداء میں ایوان بالا کے ارکان کی تعداد 45 تھی، جو 1977ء میں بڑھا کر 63 کر دی گئی۔ 1985ء میں تعداد 87 اور 2002ء میں 100 ہوئی۔ اب ایوان بالا 104 ارکان پر مشتمل ہے۔ اسی طرح اپوزیشن اتحاد کے امیدوار سلیم مانڈوی والا 54ووٹ لے کر ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوئے،ان کے مدمقابل حکومتی اتحاد کے عثمان کاکڑ نے 44ووٹ حاصل کیے۔اس طرح سینیٹ کی دونوں اہم نشستوں پر حکومتی اتحاد کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہونے والے انتخاب میں 103سینیٹرز نے اپنے ووٹ کاسٹ کیے۔اسحاق ڈار ملک سے باہر ہونے کے باعث انتخاب میں شریک نہیں ہو سکے۔ایم کیو ایم کے پانچ ارکان ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے عمل میں شریک نہیں ہوئے۔ یعقوب ناصر نے صادق سنجرانی سے عہدے کا حلف لیا اور انہیں چیئرمین سینیٹ کا گاؤن پہنایا گیا اور صادق سنجرانی نے نومنتخب ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے عہدے کا حلف لیا۔ قبل ازیں سینیٹ اجلاس میں پریزائیڈنگ افسر یعقوب ناصر نے نومنتخب ارکان سے حلف لیا، جس کے بعد سینیٹ کی تمام قائمہ اور خصوصی کمیٹیوں کو تحلیل کردیا گیا، جبکہ نومنتخب سینیٹرز نے سینیٹ کی دستاویزات پر دستخط بھی کیے۔

بلوچستان سے پاکستان سینیٹ کے منتخب آٹھویں چیئرمین میر صادق خان سنجرانی ایوان بالا کے بننے والے کم عمر ترین چیئرمین ہیں۔ وہ 3 مارچ 2018ء کو بلوچستان سے آزاد سینیٹر منتخب ہوئے۔ وہ سنجرانی قبیلے کے خان بہادر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ کے لیے میر صادق خان سنجرانی کی پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، ایم کیو ایم پاکستان، بلوچستان اور فاٹا کے آزاد اْمیدواروں نے حمایت کی۔ صادق سنجرانی، سنجرانی مائننگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو، نیشنل انڈسٹریل پارکس ڈیولپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی اور حبکو کے ڈائریکٹر/چیئرمین بھی ہیں۔ اب تک اس عہدے کے لیے منتخب ہونے والے وہ سینیٹ کے آٹھویں، جبکہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پہلے سینیٹر ہیں۔ اس سے قبل چار کا تعلق سندھ، دو کا خیبرپختونخوا اور ایک چیئرمین سینیٹ کا تعلق پنجاب سے تھا۔ نومنتخب ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا ملک کی سیاست اور معیشت کے حوالے سے وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔خان محمد آصف سنجرانی کے سب بڑے بیٹے صادق سنجرانی نے سیاسی کیریئر کا آغاز پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے کیا اور 1998 میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے معاون کے طور پر کام کیا اور 1999 میں جنرل مشرف کے مارشل لا تک اسی عہدے میں رہے۔ بعد ازاں وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے قریب آئے اور پارٹی کے شکایات سیل کے انچارج مقرر ہوئے جہاں وہ پانچ سال تک عہدے میں رہے۔ صادق سنجرانی نے بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نواب ثنااﷲ زہری کے ساتھ خصوصی اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتے رہے۔ بلوچستان میں صوبائی حکومت کے خاتمے کے بعد سامنے آنے والے نئے اتحاد نے انھیں سینیٹر منتخب کیا جس کے بعد پی ٹی آئی اور پی پی پی سے مشاورت کے بعد چیئرمین سینیٹ کا امیدوار نامزد کیا اور ڈرامائی انداز میں پہلی مرتبہ ایوان میں آنے والے امیدوار چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے۔ اگرچہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب سے عام انتخابات کے نتائج پر براہ راست اثر نہیں پڑے گا، تاہم اپوزیشن اتحاد کا مورال بلند ہوا ہے۔ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف نے اس جیت کو بلوچستان کی جیت قرار دیا ہے۔ یقینا اس سے بلوچستان میں احساس محرومی کو ختم کرنے میں مدد ملے گی اور صوبے کے پسماندہ عوام کو مثبت پیغام ملے گا۔ امید کی جاتی ہے کہ صادق سنجرانی سابق چیئر مین سینیٹ رضا ربانی کی طرح سینیٹ کے وقار کو بڑھانے کی روایت کو برقرار رکھیں گے۔

ہر 3 سال بعد سینیٹ کے 104 ارکان میں سے نصف 52 ریٹائرڈ ہو جاتے، جن کا قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ذریعے انتخاب کیا جاتا ہے۔ سینیٹ کی کل نشستوں کی تعداد 104 ہے، جن میں سے چیئرمین سینیٹ کی کامیابی کے لیے 53 ارکان کے ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ 3 مارچ کو سینیٹ کی 52 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے سب سے زیادہ 15 نشستیں حاصل کی تھیں جبکہ پیپلز پارٹی نے 12 اور تحریک انصاف کے 6 سینیٹرز کامیاب ہوئے تھے، اس کے ساتھ 10 آزاد امیدوار بھی سینیٹ کی نشت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس انتخاب کے بعد سینیٹ میں سیاسی جماعتوں کی پوزیشن کی بات کی جائے تو پاکستان مسلم لیگ (ن) 33 نشستوں کے ساتھ اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے ہے۔ پی پی پی کے سینیٹرز کی تعداد 20 اور پی ٹی آئی کے 12 سینیٹرز ہیں، جبکہ 17 آزاد سینیٹرز بھی ایوان میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ایم کیو ایم پاکستان کے 5، نیشنل پارٹی کے بھی 5، جمعیت علماء اسلام (ف) کے 4، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے 5، جماعت اسلامی 2، اے این پی 1، پاکستان مسلم لیگ (ف) 1 اور بی این پی مینگل کا بھی ایک سینیٹر ہے۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی نشست پر اپنے امیدوار کی کامیابی کے لیے حکمران جماعت سمیت اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مطلوبہ تعداد حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھی گئی۔ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد چیئرمین سینیٹ کے دونوں ہی اْمیدواروں کی جانب سے اکثریت کی حمایت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

حکومتی شخصیات نے سینیٹ میں اپنی شکست کو سٹیبلشمنٹ کے کھاتے میں ڈالتے ہوئے غیرجمہوری قوتوں کی فتح قرار دیا ہے۔ اگرچہ چیئرمین سینیٹ کے لیے دونوں امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوا، تاہم اس کا نتیجہ حکومت کے لیے بڑا اپ سیٹ ثابت ہوا ہے، کیونکہ انتخاب سے قبل حکومتی اتحاد کا دعویٰ تھا کہ اسے آٹھ جماعتوں کے کل 53 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن کی جانب سے جو نمبر سامنے آئے ان میں پانچ جماعتوں کے 51 ارکان کی حمایت کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ نومنتخب امیدوار ایک یا دو ووٹوں کے فرق سے فتح کا تاج پہنے گا۔ تاہم چیئرمین کے لیے 11اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے 10ووٹوں کے فرق نے بہت سوں کو حیرت زدہ کر دیا۔ چونکہ یہ انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے عمل میں آیا، اس لیے یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ وہ کون سے ارکان تھے، جنہوں نے حکومتی اتحاد کے مخالف امیدوار کو ووٹ دیا۔ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کو شبہہ ہے کہ ان کی پارٹی کے 2 سینیٹرز سمیت تقریباً 7 سینیٹرز نے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں ان کی جماعت کو دھوکا دیا۔ حکمران جماعت کے امیدوار راجا ظفرالحق نے سینیٹ چیئرمین کی نشست پر 46 ووٹ حاصل کیے، یہ تعداد چار جماعتوں کے سینیٹ اراکین پر مشتمل ہے، جو حکمران جماعت کے اتحادی رہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سیاسی اتحادیوں کے علاوہ راجا ظفرالحق کو باہر سے ووٹ نہیں ملا یا اسی سیاسی اتحاد میں سے ہی کسی ممبر نے پارٹی کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپوزیشن جماعت کوووٹ ڈالا۔ اس سے قبل مسلم لیگ (ن) رہنماؤں نے بھرپور اعتماد سے کہا تھا کہ پارٹی نے تمام اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت مکمل کرلی ہے اور حکمران جماعت 57 ووٹ لے کر کامیاب ہوگی۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ہمارے حساب میں 57 ووٹ پارٹی کے تھے، جبکہ اپوزیشن کو 46 ملنے تھے، تاہم صورتحال یکسر بدل گئی ہے جو بہت مایوس کن ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) میں موجود ایک گروپ نے پارٹی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں دھوکا دینے والے سینیٹرز کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے انکوائری کرائی جائے جس کے باعث حکمراں جماعت کو انتہائی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ اپوزیشن کے اتحاد کے نتیجے میں سینیٹ الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کی شکست کے بعد عام انتخابات میں مسلم لیگ کی پوزیشن کمزور ہوتی نظر آرہی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کے غیراعلانیہ اتحاد کی مخلوط حکومت تشکیل پانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ جس طرح سینیٹ الیکشن میں مسلم لیگ کے حامیوں نے بغاوت کرتے ہوئے نواز شریف کے بیانیے کو ٹھکرایا ہے، تجزیہ کار اسی طرح عام انتخابات میں بھی مسلم لیگ کو بھاری نقصان کی پیش گوئی کررہے ہیں۔ سینیٹ الیکشن کے نتائج کے بعد آنے والے دنوں میں اپوزیشن مزید طاقتور اور ن لیگ مزید کمزور ہوسکتی ہے۔ مسلم لیگ میں ایک بڑی تعداد میں ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے عام انتخابات سے قبل بغاوت کرنے کی اطلاعات بھی ہیں، جو یقینا اپنا سیاسی ٹھکانہ تبدیل کرکے کسی دوسری پارٹی کا رخ کرسکتے ہیں۔ بہرحال سیاسی کشمکش اور کشیدگی کے موجودہ سیاق وسباق میں دیکھا جائے تو سینیٹ انتخابات کے میکنزم میں جس جمہوری جذبہ اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا گیا، وہ اس امر کا غماز تھا کہ قوم کے سیاسی شعور میں اب یہ بات رچ بس گئی ہے کہ سیاسی اور جمہوری عمل کا سفر کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہنا چاہیے، کیونکہ اسی میں ملک و قوم کی بقا ہے۔سیاسی اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں، آج کل اپوزیشن پارٹیاں کل کی حکمران بھی بن سکتی ہیں اور اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے، اس لیے کسی بھی سیاسی جماعت کو سیاسی مخالفت کی وجہ سے اس نظام کو ملامیٹ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ یہ نظام چلتا رہنا چاہیے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 417080 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Apr, 2018 Views: 511

Comments

آپ کی رائے