WASH ۔۔۔۔۔وہ بنیادی انسانی حق جس کے لئے بہت کم آواز اٹھائی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔

(Dr. Muhammad Javed, Karachi)
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2010میں پینے کے صاف پانی اور گندے پانی کی نکاسی کے مناسب انتظام کو انسانی حقوق میں شامل کیا ہے،اس انسانی حق کو بحال کرنے کے لئے ایک مناسب نظام یعنی ضروری،وسائل اور باصلاحیت ادارے موجود ہوں جو کہ یہ خدمات سر انجام دیں اور مناسب طریقوں کو بروئے کار لاکرلوگوں کی عادات اور مزاج کو اس حوالے سے تبدیل کریں۔

آج دنیا بھر میں2.1بلین لوگ پینے کے صاف پانی کے ذرائع تک رسائی سے محروم ہیں اور4.5بلین لوگ مناسب سینی ٹیشن یعنی گندے پانی کی نکاسی کے نظام سے محروم ہیں۔ بڑے پیمانے پہ غیر محفوط حفظان صحت کے طریقوں کے پھیلاؤ نے انسانی صحت کا گھیراؤکیا ہوا ہے۔

اسی وجہ سے بچوں میں اموات کی شرح تباہ کن حد تک بڑھ چکی ہے، ہر سال پانچ سال سے کم عمر کے340,000 لاکھ بچے ہیضہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں جس کی واحد وجہ حفظان صحت کے اصولوں پہ عمل نہ کرنا اور گندے پانی کی غیرمناسب نکاسی یا پینے کے لئے آلودہ پانی کا ستعمال ہے۔یعنی1000بچے ہر دن موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔

پینے کے قابل صاف پانی کے فوائد اس وقت ہی اٹھائے جا سکتے ہیں جب گندے پانی کی نکاسی اور صفائی کا بھی خیال رکھا جائے۔جلد اور یقینی صحت اورپانی کی دستیابی جسے Water And Sanitation, Hygieneیعنی WASHکہا جاتا ہے کے وسیع پیمانے پہ سماجی معاشی اثرات مرتب ہوتے ہیں خاص طور پہ ان خواتین اور بچیوں پہ جو دور دراز علاقوں میں رہاش پذیر ہوتی ہیں۔

پینے کا صاف پانی
صاف پانی کے حصول کے لئے باقاعدہ محفوظ پائپ لائن یا بورنگ کی بجائے لوگوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ سطح زمین پہ جمع شدہ آلودہ پانی،یا غیر محفوظ اور آلودہ کنوئیں یا پانی بیچنے والے جو کہ غیر محفوظ ذرائع سے پانی مہیا کرتے ہیں پہ انحصار کریں ۔عام طور پہ صاف پینے کے پانی کے ذرائع بہت ساری آبادیوں سے دور واقع ہوتے ہیں اور وہاں سے پانی لانے کی ذمہ دارخو اتین اور نوعمر بچیوں کے سپرد کر دی جاتی ہے۔ جو اپنا بہت سارا وقت اور توانائی اس کے حصول میں لگاتی ہیں۔اس ذمہ داری کی بجا آوری کے دوران انہیں اکثر اوقات یا تو مردوں کی ہراسانی کا شکار بننا پڑتا ہے یا جنگلی جانوروں کے حملوں کا۔

گندے پانی کی نکاسی
غیر مناسب رفع حاجت کی سہولت یا گندے پانی کی غیر مناسب نکاسی کے ماحول میں زندگی گزارنے والے افراد کے پاس کوئی اور چارہ کار نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ وہ غیر مناسب لیٹرینیں استعمال کریں یا کھلی جگہ میں رفع حاجت کے لئے جائیں۔ اور خاص طور پہ خواتین اور بچیوں کے لئے بہت مشکل ہوتی ہے کہ انہیں اکثر باہر رفع حاجت کے لئے جانے کے لئے اندھیرا ہونے کا انتظار کرنا پڑتا ہے، اور انہیں جنسی ہراساں کرنے کے حوالے سے بھی خطرہ موجود ہوتا ہے۔اس طرح کھلی فضا میں رفع حاجت کرنے کا نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ گندگی کے جراثیم مکھیوں کے ذریعے کھانے میں شامل ہو جاتے ہیں اور انسانی فضلہ صاف پانی کے ذرائع میں بھی شامل ہو جاتا ہے۔اور اس طرح انتہائی خطرناک مرض یرقان کے پھیلنے کا باعث بنتا ہے۔ ناقص سیوریج اور گندگی کو مناسب طریقے سے ٹھکانے نہ لگانے کی وجہ سے ماحولیات کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ اکثر اوقات وبائی امراج بھی پھوٹ پڑتے ہیں۔

حفظان صحت
معاشرے کے اندر بہت سی آبادیاں ایسی موجود ہیں جہاں حفظان صحت کے اصولوں کا شعور موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے وہاں بیماریاں پھیل رہی ہیں۔اگر لوگوں کی اس حوالے سے تربیت کی جائے،کہ کس طرح ٹائلٹ سے فارغ ہونے کے بعد ہاتھ صابن سے ہاتھ دھونے ضروری ہیں، اور اپنے گھر، گردو پیش اور اپنے جسم کی صفائی رکھنا کس قدر ضروری ہے۔اس طرح لوگوں کے مزاج اور عادات کو بدلنے سے انہیں صحت مند زندگی کی طرف لایا جا سکتا ہے۔

WASH کی عدم رسائی کے اثرات
صاف پانی، مناسب سینی ٹیشن اور حفظان صحت کے اصولوں پہ عمل در آمد نہ ہونے کی وجہ سے بہت سارے لوگ زندہ رہنے کے لئے کمانے کے حوالے سے اپنی پیشہ و ارانہ زندگی میں آگے بڑھنے سے قاصر رہتے ہیں،خاص طور پہ خواتین کی زندگی اس سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔اگر WASHکا انتظام اور اس کی دیکھ بھال کا نظام قائم کریں گے تو اس سے کئی لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔

WASH تک رسائی یا دستیابی کے نتیجے میں غربت سے نجات اور معاشی ترقی کے لئے قوت محرکہ پیدا ہوتی ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ خصوصاً جنسی مساوات کے قیام میں بھی مدد ملتی ہے۔کیونکہ خواتین ہی پینے کے پانی کو جمع کرنے کا پر مشقت کام کرتی ہیں اور حفظان صحت کے اصولوں پہ عمل در آمد نہ کرنے کی وجہ سے بیمار رشتہ داروں کی دیکھ بھال بھی خواتین کرتی ہیں۔اور اکثر اوقات گھریلو مصروفیات جو ان کو تفویض کی جاتی ہیں کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے کے لئے سکول نہیں جا سکتیں۔ WASHتک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے وسیع پیمانے پہ قومی سطح کے معاشی و سماجی اثرات کے ساتھ ساتھ خواتین کو مزید پسماندگی سے دوچار کرتا ہے اور انہیں غربت اور پر مشقت زندگی کے دائرے میں قید کر دیتا ہے۔

WASH اور تعلیم
بہت ساری غریب بستیوں میں جہاں پینے کے صاف پانی سے محرومی، سینی ٹیشن کے نظام کی عدم دستیابی یا ناقص ہونے اور حفظان صحت کے اصولوں پہ عمل نہ کرنے کے نتیجے میں بہت سارے سکول جانے والے بچے مختلف قسم کی مہلک اور متعدی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں، جن کی وجہ سے وہ کلاس میں شریک ہو کر دوسرے بچوں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے۔ بہت سارے مضافاتی علاقے ایسے ہیں جہاں بچیاں اس وجہ سے سکول نہیں جا سکتیں کہ انہیں ہر روز اپنے خاندان کے لئے پینے کا پانی جمع کرنے کی ذمہ داری دی جاتی ہے۔ بچے اگر سکول میں ہیں تو وہاں کی صورتحال بھی اتنی اچھی نہیں ہو سکتی، کیونکہ پوری دنیا میں تقریباً ایک تہائی سکولوں میں صاف پینے کے پانی کی سہولت موجود نہیں یا مناسب سینی ٹیشن کا نظام موجود نہیں۔بچے پانی کی کمی کا شکار ہوتے ہیں اور دوسری طرف انہیں غیر مناسب لیٹرین استعمال کرنے پہ مجبور کیا جاتا ہے یا انہیں رفع حاجت کے لئے کھلی جگہوں پہ بھیجا جاتا ہے۔خاص طور پہ نو عمر بچیوں کے لئے صاف پینے کا پانی اور مناسب سینی ٹیشن کا نظام مہیا کرنا یا اس کی عدم دستیابی انہیں تعلیم سے نکالنے اور تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنے کا باعث بنتا ہے۔اور اس کے علاوہ بچوں کو حفظان صحت کے اصولوں کے حوالے سے مناسب تربیت کی فراہمی سے ان کی عمر بھر بہتر صحت کی شروعات کی جا سکتی ہیں۔

WASH اور صحت
عالمی سطح پہWASH تک رسائی کے اثرات انتہائی گہرے ہوں گے۔اس کے ذریعے سے 840,000افراد کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں جو ہر سال آلودہ پانی پینے، غیر مناسب سینی ٹیشن کے نظام یا اس کی عدم دستیابی اور حفظان صحت کے اصولوں پہ عملدر آمد نہ کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔اور اس کے علاوہ بچوں کی غذائی کمی کا تیزی سے تدارک اور ان کی ذہنی و جسمانی نشوونما کو بہترکیا جا سکتا ہے۔آج پچاس فیصد بچوں کی غذائی کمی کا تعلق آلودہ پانی ، غیر مناسب سینی ٹیشن اور حفظان صحت کے اصولوں پہ عمل نہ کرنے سے جڑا ہوا ہے۔خواتین اور بچیوں کی حیض و نفاس کے حوالے سے مناسب معلومات اور اس حالت میں حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق مناسب سہولت اور ان کے وقار کا خیال رکھنا، اسی طرح حمل کے دوران، بچے کی پیدائش کے وقت اور بعدمیں حفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھنے سے بچے کو ایک صحت مند زندگی کا آغاز کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 68725 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
03 Apr, 2018 Views: 472

Comments

آپ کی رائے