شاہی ہاتھی

(مقصود حسنی, قصور)

شاہی ہاتھی لوکانہ
راوی: گلی گلی کوچہ کوچہ
تحریر: مقصود حسنی


اوئی اوئی لینڈ کا شاہی ہاتھی جنگل میں گم ہو گیا۔ ملکی تلاش کار اور تفتیش کار ادارے تلاشتے تلاشتے تھک ہار گئے لیکن ہاتھی نہ ڈھونڈا جا سکا۔ ناچار فرانس سے اس ذیل میں مدد لی گئی۔ وہاں کے اس شعبہ سے متعلق ادارے بھی منہ لٹکا کر رہ گئے۔ اس کے بعد جرمن‘ اٹلی اور چین سے مدد حاصل کی گئی لیکن ان کے ہاتھ بھی مایوسی کے سوا کچھ نہ لگا۔ بھارت کے معروف تلاش کار پریدی مان اپنے ساتھیوں سمیت بڑے اعتماد کے ساتھ مصروف تلاش رہا لیکن وہ اور اس ساتھی بھی اپنی ناکامی پر سر پکڑ کر رہ گئے۔ دینا کے چوھوری کے بانٹکا ادارے بڑے کروفر سے میدان میں اترے لیکن تلاش کے حوالہ سے ان کے منہ پر بھی بارہ بج گئے۔

ناامیدی کے بادل گہرے ہوتے گئے۔ ان نازک اور حساس لمحوں میں پاکستان کے تلاش کار اور تفتیش کار ادارے اس مایوس اور اداس اداس ٍفضا میں امید کی کرن بن کر حرکت میں آ گئے۔ سب یہ ہی کہہ رہے تھے دنیا کے ترقی یافتہ ادارے کچھ نہیں کر پائے‘ بھلا یہ کیا کر پائیں گے۔ ایک گھنٹہ بھی نہ گزر پایا ہو گا کہ مثبت رزلٹ سامنے آ گیا۔ شاہی دربار میں جملہ ملکوں کے اعلی عہدےدار تشریف فرما تھے کہ شاہی ہاتھی دربار میں حاضر کر دیا گیا۔ سب ہنس پڑے کہ وہ ہاتھی نہیں گدھا تھا۔ ان کے ہنستے پر کون جاتا‘ جسے وہ گدھا قرار دے رہے تھے‘ وہ باآواز بلند اقرار کیے جاتا تھا:
میں ہی گم شدہ شاہی ہاتھی ہوں۔۔۔۔۔میں ہی گم شدہ شاہی ہاتھی ہوں۔ اس کی اقراری آواز اور پراعتماد بیان و لہجے کو جھٹلانے کا کسی کے پاس جواز ہی باقی نہ رہا تھا۔

کانا پھوسی کا دور شروع ہو گیا۔ ہر کسی نے کہنا شروع کر دیا کہ گدھا ہی شاہی سواری کا جانور‘ شاہی ہاتھی قرار پایا ہو گا۔ یہ کانا پھوسی بلند آوازوں میں بدل گئی۔ ہر کوئی اسے گم شدہ شاہی ہاتھی قرار دے رہا تھا۔ اوئی اوئی لینڈ کے شاہ نے جب یہ صورت حال دیکھی تو اس کے انکار نے بھی ہاں کا لبادہ اوڑھ لیا۔ شاہی اعلان جاری ہوا کہ یہ ہی شاہی ہاتھی تھا۔

مبارک باد کی صدائیں بلند ہوئیں۔ بڑی شاندار دعوت اڑائی گئی۔ شاہی ہاتھی کو ہاتھی بان کے حوالے کر دیا گیا۔ وہ بھی کہے جا رہا تھا‘ یہ ہی شاہی ہاتھی تھا اور میں اسی کی خدمت کیا کرتا تھا۔ ملکوں ملکوں کے عہدےدار اپنے اپنے وطن ٹر گئے۔

پاکستانی تلاش کار اور تفتیش کاروں کو انعام و اکرام اور شاہی میڈلوں سے نوازا گیا۔ بلا شبہ انہوں نے بڑی محنت‘ لگن اور مشقت سے یہ فریضہ انجام دیا تھا۔ انعام و اکرام اور شاہی میڈلوں کے وہ جائز حق دار تھے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: مقصود حسنی

Read More Articles by مقصود حسنی: 184 Articles with 113571 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Apr, 2018 Views: 508

Comments

آپ کی رائے