کانوکارپس (پودے) کے متعلق انٹرویو

(Hafeez khattak, Karachi)
کارنوکارپس اک پودہ ہے کہ جس کے مثبت سے زیادہ منفی اثرات ماحول پہ اثر انداز ہورہے ہیں۔ اسی حوالے کو مدنظر رکھتے ہوئے تجربہ کار سید ویسم الرحمن کا خصوصی انٹرویو کیا گیا۔

سوال : سید وسیم الرحمن صاحب، کانوکارپس کے متعلق گفتگو سے قبل آپ اپنے متعلق بتائیں؟
سیدوسیم الرحمن: 1983سے شہر قائد کی جامعہ کراچی میں خدمات سرانجام دے رہاہوں۔ ابتداءمیں شعبہ باٹنی اور باغات کے بعد اس وقت ڈاکٹر قدیر کے نام سے موسوم انسٹی ٹیوٹ آف بائیو ٹیکنالوجی اینڈ انجینئرنگ میں ذمہ داریاں نبھا رہوں۔

سوال : طویل عرصہ آپ نے جامعہ کراچی میں گذارا ، ماضی کی نسبت اس وقت جامعہ کو کیسے دیکھتے ہیں ؟
سید وسیم الرحمن: جامعہ کراچی جس طرح سے آج نظر آتی ہے ماضی میں یہ درس گا ہ قطعی ایسے نہ تھی۔اس وقت جامعہ کو جدید طرز کی تمام تر سہولتوں سے مزین کر دیا گیا ہے۔ ماضی کی بنسبت آج جامعہ کراچی میں بہت ساری تبدیلیاں جدیدیت کے ساتھ رونما ہوچکی ہیں۔ طلبہ کی تعداد شعبہ جات کی تعداد کے ساتھ ہی بڑھ چکی ہے۔ اس وقت بھی سینکڑوں غیر ملکی طلبہ کے ساتھ ہزاروں طلبہ و طالبات جامعہ میں زیور تعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں۔

سوال : آپ نے اب تلک متعدد وی سیز کے ساتھ کام کیا، آپ کی نظر میں جامعہ کے کس وائس چانسلر کے دور میں زیادہ تعمیراتی کام ہوئے؟
سید وسیم الرحمن: جامعہ کراچی کے سبھی وائس چانسلرز نے اپنے دور میں بہترین انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔ تاہم پھولوں اور پودوں میں اضافے سمیت سابق وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالوہاب کے دور میں شعبہ باغات میں بقدر اضافہ ہوا۔ جامعہ کو سرسبز بنانے میں ڈاکٹر عبدالوہاب کا کردار قابل تعریف ہے۔
کراچی اپڈیٹس: کانوکارپس پودے کے متعلق آپ کیا جانتے ہیں؟
سید وسیم الرحمن: کانوکرپس اک پودا ہے اور اس کی پانچ اقسام ہیں۔ شہر قائد میں سب سے زیادہ جڑے اور چوڑے پتی والا پودا کامیاب ہے۔ 1995میں، پراناائر پورٹ جاتے ہوئے اسٹار گیٹ کے قریب اس پودے کو دیکھا تھا ۔ جامعہ میں یہ پودااس صدی کے آغاز پر لگایاگیا۔

سوال : کانوکارپس کے متعلق مزید تفصیلات بتائیں؟
سید وسیم الرحمن: یہ پودا تیزی سے بڑھتا ، پھیلتا اور پھولتا ہے ۔ اس کو اگانے کیلئے بیج کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ اس کی کسی بھی شاخ کو کاٹ کر زمین میں لگایا جاسکتا ہے ۔ کم پانی سے بھی اس کی افزائش ہوتی ہے۔ ہوا میں موجود نمی کے ذریعے یہ اپنی پانی کی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔
سوال : کیا یہ درست ہے کہ اس پودے کو جانور نہیں کھاتے اور اس پر پرندے بھی کم بیٹھتے ہیں؟
سید وسیم الرحمن: اس پودے کوبکریاں کھاتی ہیں،جامعہ کے اس شعبہ میں کچھ بکریاں ہیں جنہیں یہ اس پودے کی پتیاں دی جاتی ہیں لہذا یہ درست نہیں کہ کانوکارپس کو جانور نہیںکھاتے۔ بڑے جانور گائے و بھینس اس پودے کو کھاتی ہیں یا نہیں کھاتیں، اس متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ جہاں تک چڑیوں و پرندوں کا تعلق ہے تو وہ اس پودے پر آتے ہیں اور اسی شعبہ کے اک درخت میں پرندوں نے گونسلہ تک بنا کرکھا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آپ کو یہ بھی بتاتا ہوں کہ شہد کی مکھیوں نے بھی اسی کانوکارپس میں اپنا چھتا بھی بنا رکھا ہے۔

سوال :کیا اس پودے کے نقصانات ہیں؟
سید وسیم الرحمن: اس پودے کی لکڑی کمزور ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کا استعمال کم ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ اس کا پھول (کولن) انسانی صحت کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے۔ اس کی ہی وجہ سے سانس کی متعددبیماریوں لگ جاتی ہیں ۔ میری نظر اس پودے کے بجائے نیم کو زیادہ سے زیادہ لگایا جانا چاہئے کیونکہ اس کے فوائد اس سے کہیںزیادہ ہوتے ہیں۔

سوال :جامعہ کراچی میں یہ پودا کس طرح لگایا گیا، اور جامعہ میں اس کی مقدار زیادہ کیوں ہے؟
سید وسیم الرحمن: شعبہ باٹنی میںدیگر پودوں کو ہوا کی تیز رفتار سے بچانے کیلئے اس پودے کو لگایا گیا ۔ جس سے مفید اثرات مترب ہوئے اس کے بعد اس پودے کی افزائش کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔ جامعہ میں ہی نہیں یہ پودا پورے شہر میں ہی زیادہ لگایا گیا ہے اور اسی وجہ سے دیگر پودوں کی نسبت یہ پودا آپ کو ہر جگہ ہی نظر آئیگا۔ میری نظر اب پودے کی مقدار کو بڑھانے کے بجائے کم کیا جانا چاہئے اور شجر کاری کی مہمات میں اس پودے سے کی مزید افزائش و نسل سے پرہیز کرنا چاہئے۔

سوال : طویل مدت جامعہ کراچی میں گذارے کے بعد کیسا محسوس ہوتاہے، اس کے ساتھ ہی کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
سیدوسیم الرحمن: 35برس اک طویل مدت ہوتی ہے اب تو جامعہ میں داخل ہونے سے لے کر دفتر تک اور پوری جامعہ میں ہی کہیں بھی جاﺅں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ پودے مجھ سے محاطب ہوتے ہیں۔ مجھ سے گفتگو کرتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔
پیغام یہی دونگا کہ اپنی زندگی میں پودے لگائیں اور ایسے پودے لگائیں کہ جس سے انسانی زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہوں۔ پودے لگائیں گے تو ماحول سرسبز و شاداب ہوگا۔ اس وقت شہر قائد میں سرسبز و شاداب ماحول کی ہی ضرورت ہے۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafeez khattak

Read More Articles by Hafeez khattak: 190 Articles with 99740 views »
came to the journalism through an accident, now trying to become a journalist from last 12 years,
write to express and share me feeling as well taug
.. View More
04 Apr, 2018 Views: 799

Comments

آپ کی رائے