یومِ یکجہتی کشمیر

(Sarwar, Lahore)

 پاکستانی قوم چند دہائیوں سے کشمیریوں سے یوم یکجہتی مناتی آرہی ہے۔ یہ دن ہر سال ۵ فروری کو منایا جاتا ہے گویا کہ ہم کشمیریوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ ان کو بھارت کی غلامی سے آزادی د لانے کے لئے پاکستان اخلاقی، سیاسی اور سفارتی امداد جاری رکھے گا۔کشمیر میں جاری حالیہ تشددکی لہر نے سب پاکستانیوں کو غمگین کر دیا ہے۔ اسی لئے ۸ اپریل کو یومِ یک جہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔ میں اصل مضمون کی طرف آنے سے پہلے قارئین کو تھوڑی دیر کے لئے ماضی میں لے جانا چاہوں گا:
گاہے گاہے باز خواں ایں قصۂ پارینہ را
اس قصۂ پارینہ کو پڑھنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ بعض اوقات: لمحوں نے خطا کی تھی، صدیوں نے رلایا ہے۔
یہ بات کسی کے وہم و گماں میں بھی نہیں تھی کہ شاہِ ہندسے تجارتی رعائت حاصل کرنے وا لے افر نگی چند دہائیوں بعد دھیرے دھیرے سارے برِصغیر پاک و ہند کو غلام بنا لیں گے اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ کئی ہزار میل دور سے آئی ہوئی انگریز قوم نے ساھل سمندر پر قائم کردہ اپنی تجارتی کوٹھیوں کو وسعت دینے کے لئے اپنی چالاکی، عیاری، مکاری کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے مقامی افراد سے ساز باز کے ذریعے حفاظتی اقدامات کا بہانہ بنا کر افرادی قوت میں اضافہ کیا اور اس قوت کویورپ سے لائے ہوئے ہتھیاروں سے مسلح کرنا شروع کیا۔ دوسرے الفاظ میں انگریزوں نے اپنی فوجی قوت کو منظم کرنا شروع کر دیا۔ اور پھر ایک موقعہ پر انہوں نے حکومت وقت یعنی نواب سراج الدولہ حاکم بنگال کی حاکمیت کو چیلنج کر دیا۔ نواب سراج الدولہ نے ان کے خلاف فوج کشی کی مگر اپنے غدار وزیر اعظم میر جعفر کی وجہ سے میدانِ جنگ میں شہادت کے رتبے پر فائز ہوا۔ اس کی فوج کو شکست ہوئی۔ میر جعفر کو انعام میں بنگال کی گورنری مل گئی مگر جلد ہی معزول کر دیا گیا۔ پورے بنگال پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا۔انگریزوں کے حوصلے بڑھ گئے اور انہوں نے دوسروں علاقوں کو زیر تسلط لانے کی منصوبہ بند ی شروع کی۔
انگریز کے خیال میں سارے ہندوستان پر قبضہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سمندر کے ساتھ ساتھ والی ریاستوں کو پہلے فتح کیا جائے۔بنگال کے بعد دوسری بڑی اور خوشحال ریاست دکن کی ریاست میسور تھی۔ ٹیپو سلطان ایک خدا ترس مگر پکا مسلمان حکمران تھا۔ مگر افسوس ہمسایہ ریاستیں اس کے خلاف تھیں۔ لارڈ ولزلی جوڑ توڑ میں ماہر تھا۔ اس نے سلطان ٹیپو جو کہ بقول شاعرِ مشرق علامہ اقبال: درمیانِ کارزارِ کفر و دین ۔ ترکش ما را خدنگِ آخریں، تھا، کے خلاف سازشوں کا جال بچھا دیا۔یہاں تک کہ ٹیپو سلطان کے وزیرِ اعظم میر صادق کو در پردہ اپنے ساتھ ملا لیا۔انگریزوں نے فوج کشی کر دی۔ سرنگا پٹم کی آخری لڑائی میں ٹیپو سلطان بنفسِ نفیس شامل تھے۔قلعہ سے باہر گھمسان کی لڑائی ہو رہی تھی۔ مصلحت کے تحت قلعہ میں آنا پڑا مگر غدار وزیر اعظم میر صادق نے قلعہ کا دروازہ بند کرا دیا تھا۔ ٹیپو سلطان کا رزار میں شہید ہو گیا۔ سلطنت میسور پر قبضہ ہو گیا۔ اب اگلے علاقوں پر قبضہ کی راہ ہموار ہو گئی۔ ایک کے بعد دوسرا علاقہ فتح ہوتا گیا۔ ان ہی غدارانِ وطن کے بارے حکیم الامت علامہ اقبال نے فرمایا:
جعفر از بنگال، صادق از دکن ننگِ دیں، ننگِ قوم، ننگ از وطن
کاروباری ذہنیت رکھنے والے ان قابض حکمرانوں نے اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لئے مسلمانوں کو اپنا پکا دشمن سمجھا۔ ان پر جبر و استبداد، ظلم و زیادتی،بے رحمی و سنگدلی کی انتہا کر دی۔ مسلمانوں پر ظلم و ستم کے نئے نئے ریکارڈ قائم کیے جن کا بیان دلوں کو سوگوار کر دیتا ہے۔ میں اس کی تفصیل میں نہیں جاوٗں گا۔ تاہم یہ ضرور کہوں گا کہ اس تاجر قوم نے دورِ حکومت میں تاریخِ انسانی کا ایک منفرد سودا کیا گیا۔ بیعنامہ امرتسر ۶۴۸۱ ء جس کی نظیر تاریخ انسانی میں نہیں ملتی، جس خطۂ ارضی جس کے بارے کہا جاتا ہے: اگر فردوس بر روئے زمیں است ہمی است، ہمی است، ہمی است، کو چند لاکھ ٹکوں کے عوض بیچ دیا گیا۔ اس بے مثل خرید و فروخت کے بارے علامہ اقبال نے فرمایا:
دہقاں و کشت و جوئے و خیاباں فروختند قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند
یعنی ایک ملک، ایک خطۂ ارضی کی ہر چیز بیچ دی گئی، ایک قوم کے بچوں، جوانوں،بوڑھوں، مردوں اور عورتوں اور اس کی آنے والی نسلوں تک کو بیچ دیا گیا۔ہر سال ۵ فروری کو سارے پاکستانی بد قسمت کشمیری قوم کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
کشمیری مسلمان بہادری اور ایمان کی حرارت سے سرشار قوم ہے۔ اس قوم نے صعوبتیں برداشت کرنے اور قربانیاں دینے کی ایک طویل داستان رقم کی ہے۔ آزاد کشمیر میں قصبہ منگ میں آج بھی موجود درخت اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ راجہ کی غلامی کے خلاف جہدوجہد کرنے پر ۷۲ قبا ئلی سرداروں کو ا س درخت کے ساتھ الٹا لٹکا کر کھالیں اتاری گئی تھیں۔ اور پھر کشمیریوں نے ۱۳۹۱ میں سرینگر سنٹرل جیل سے باہر ایک اذان کو مکمل کرنے کے لئے یکے بعد دیگرے ۲۲ شہادتیں کرکے اسلام کی خاطر جانیں پیش کرنے کی ایک بہترین مثال قائم کی۔ ۷۴۹۱ میں ہم آزاد ہو گئے۔مگر ماؤنٹ بیٹن، نہرو اور ڈوگرہ راجہ کی چالبازیوں سے جنّت نظیر علاقہ اور پاکستان کی شاہ رگ پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہو گیا۔ پاکستان لیجانے کے بہانہ سے جموں کے جنگلوں میں ڈوگرہ فوج اور بھارتی آر۔ ایس۔ ایس۔نے مل کر اڑھائی لاکھ کشمیری مسلمانوں کو شہید کیا تھا۔اس قبیح کاروائی کو مہاراجہ کشمیر کی اشیر باد حاصل تھی۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے بارے نہرو اور سلامتی کونسل کی یقین دہانیاں بے سود۔ آج تک یو این اور آزاد ی دلانے کے دعویدار خاموش ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاونی، بھارتی ظلم و استبداد کے نیچے کراہ رہی ہے۔ کوئی گھرانہ ایسا نہیں جہاں سے شہید کا جنازہ نہ اٹھا ہو یا بوڑھے والدین کو ٹارچر سیل میں سے نہ گزارا گیا ہو۔ عورتوں پر ناقابلِ بیان ستم توڑے گئے۔ معیشت کے سامان یا تو جلا دیئے گئے یا برباد کر دیئے گئے۔
۹۸۹۱ سے اب تک:
ا۔ ایک لاکھ پچیس ہزار سے زیادہ شہادتیں جس میں ہر عمر کے مرد اور عورتیں اور نوجوان شامل ہیں۔
۲۔ ایک لاکھ انچاس ہزار سے زیادہ کشمیری مسلمان قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے۔
۳۔ دو لاکھ سے زیادہ ہرعمر کے لوگ زخی ہوئے۔ تاہم زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے۔
۴۔ انیس ہزار کشمیری مسلمان پاگل اور اپاہج ہوگئے جس کی سب سے بڑی وجہ حراست کے دوران ان پر بدترین تشدد اور ناقص غذا۔
۵۔ دو ہزار سے زیادہ افراد پیلٹ فائرنگ سے بینائی سے محروم ۔
۶۔ لگاتار۶ ماہ سے زائد عرصہ پر محیط کرفیو اور اسی طرح لوگوں کو ان کے گھروں تک محدود کر دینا روز کا معمول بن چکا ہے۔۔وہ کونسا ظلم ہے جو نہ ڈھایا نہ گیا ہو؟
۷۔ لائن آف کنترول اور ورکنگ باؤنڈری پر نہتے سویلین پر فائرنگ کی وجہ سے ہر روز لاشے اٹھانے پڑ رہے ہیں اور بے شمار بے گناہ زخمی ہو رہے ہیں۔
۸۔ ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر آئے روز فائرنگ کرکے جانی اور مالی نقصان پہنچایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے سویلین آبادی لگا تار خوف و ہراس کی
فضا میں زندگی گزاررہی ہے۔
تمدنی، مذہبی، سیاسی، اخلاقی، جغرافیائی اور اصولی بنیادوں پر اور میری اپنی اور آئندہ نسلوں کی بقاء کے لحاظ سے کشمیر بہت ہی اہم ہے۔ اس سے بہنے والے دریا پاکستان کی صنعتی ترقی، شہروں کی چہل پہل اور زرعی پیداوار کے لئے آبِ حیات ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے پانیوں میں کشمیری شہیدوں کا خون اور مظلوم کشمیری عورتوں کے آنسو ملے ہیں۔دنیا کا سب سے بڑا پاگل انسان اور چوٹی کے دس دہشت گردوں میں شمار بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی (کسی زمانہ میں امریکہ میں اس دہشت گرد شخص کا داخلہ بند تھا) ان دریاؤں کے پانی کو روک کر سارے پاکستان کو پیاسا، بھوکا اور پھر سیلابی ریلا کے ذریعہ ڈبو کرمارنا چاہتا ہے۔ آج کل دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں خطرناک حد تک کمی میں بھارت کے مذموم ارادوں کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔
ہم کشمیریوں سے یومِ یک جہتی بھی مناتے ہیں۔ مگر افسوس! اپنے ازلی دشمن اور کشمیریوں پر پنجہٗ استبداد بر قرار رکھے ہوئے بھارت کی سبزیاں اور پھل بھی شوق سے کھاتے ہیں حالانکہ اس تجارت سے ایک طرف ہماری زراعت کا بہت نقصان ہو رہا ہے اور دوسری طرف بھارتی زراعت اور معیشت مضبوط ہو رہی ہے۔ ہم بھارتی گانے سننے اور ڈرامے اور فلمیں دیکھنے کے بہت زیادہ عادی ہیں۔ ہم بھارتی کھانوں، زیورات، ملبوسات، رسم و رواج کے انتہائی دلدادہ ہیں۔
ہم کشمیر میں بھارتی کاروائیوں سے ہونے والی ہلاکتوں کی خبریں بھی دیکھتے اور سنتے ہیں اور میڈیا پر بھارتی پروگراموں سے دل بھی بہلا رہے ہوتے ہیں۔ یقینا
پاکستانیوں کی اسی نفسیاتی کیفیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا تھا:
اب ہمیں پاکستان پر حملہ کرنے کی ضرورت نہیں، ہم ثقافتی یلغار کے ذریعہ پاکستان کو فتح کر لیں گے۔
سوچئے ! ہم کدھر جا رہے ہیں؟ ہمیں جاگنا ہوگا اور سب کو متحرک کرنا ہوگا!!


ْ






































































































































































ٓ
یومِ یکجہتی کشمیر

ٓٓ پاکستانی قوم چند دہائیوں سے کشمیریوں سے یوم یکجہتی مناتی آرہی ہے۔ یہ دن ہر سال ۵ فروری کو منایا جاتا ہے گویا کہ ہم کشمیریوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ ان کو بھارت کی غلامی سے آزادی د لانے کے لئے پاکستان اخلاقی، سیاسی اور سفارتی امداد جاری رکھے گا۔کشمیر میں جاری حالیہ تشددکی لہر نے سب پاکستانیوں کو غمگین کر دیا ہے۔ اسی لئے ۸ اپریل کو یومِ یک جہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔ میں اصل مضمون کی طرف آنے سے پہلے قارئین کو تھوڑی دیر کے لئے ماضی میں لے جانا چاہوں گا:
گاہے گاہے باز خواں ایں قصۂ پارینہ را
اس قصۂ پارینہ کو پڑھنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ بعض اوقات: لمحوں نے خطا کی تھی، صدیوں نے رلایا ہے۔
یہ بات کسی کے وہم و گماں میں بھی نہیں تھی کہ شاہِ ہندسے تجارتی رعائت حاصل کرنے وا لے افر نگی چند دہائیوں بعد دھیرے دھیرے سارے برِصغیر پاک و ہند کو غلام بنا لیں گے اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ کئی ہزار میل دور سے آئی ہوئی انگریز قوم نے ساھل سمندر پر قائم کردہ اپنی تجارتی کوٹھیوں کو وسعت دینے کے لئے اپنی چالاکی، عیاری، مکاری کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے مقامی افراد سے ساز باز کے ذریعے حفاظتی اقدامات کا بہانہ بنا کر افرادی قوت میں اضافہ کیا اور اس قوت کویورپ سے لائے ہوئے ہتھیاروں سے مسلح کرنا شروع کیا۔ دوسرے الفاظ میں انگریزوں نے اپنی فوجی قوت کو منظم کرنا شروع کر دیا۔ اور پھر ایک موقعہ پر انہوں نے حکومت وقت یعنی نواب سراج الدولہ حاکم بنگال کی حاکمیت کو چیلنج کر دیا۔ نواب سراج الدولہ نے ان کے خلاف فوج کشی کی مگر اپنے غدار وزیر اعظم میر جعفر کی وجہ سے میدانِ جنگ میں شہادت کے رتبے پر فائز ہوا۔ اس کی فوج کو شکست ہوئی۔ میر جعفر کو انعام میں بنگال کی گورنری مل گئی مگر جلد ہی معزول کر دیا گیا۔ پورے بنگال پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا۔انگریزوں کے حوصلے بڑھ گئے اور انہوں نے دوسروں علاقوں کو زیر تسلط لانے کی منصوبہ بند ی شروع کی۔
انگریز کے خیال میں سارے ہندوستان پر قبضہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سمندر کے ساتھ ساتھ والی ریاستوں کو پہلے فتح کیا جائے۔بنگال کے بعد دوسری بڑی اور خوشحال ریاست دکن کی ریاست میسور تھی۔ ٹیپو سلطان ایک خدا ترس مگر پکا مسلمان حکمران تھا۔ مگر افسوس ہمسایہ ریاستیں اس کے خلاف تھیں۔ لارڈ ولزلی جوڑ توڑ میں ماہر تھا۔ اس نے سلطان ٹیپو جو کہ بقول شاعرِ مشرق علامہ اقبال: درمیانِ کارزارِ کفر و دین ۔ ترکش ما را خدنگِ آخریں، تھا، کے خلاف سازشوں کا جال بچھا دیا۔یہاں تک کہ ٹیپو سلطان کے وزیرِ اعظم میر صادق کو در پردہ اپنے ساتھ ملا لیا۔انگریزوں نے فوج کشی کر دی۔ سرنگا پٹم کی آخری لڑائی میں ٹیپو سلطان بنفسِ نفیس شامل تھے۔قلعہ سے باہر گھمسان کی لڑائی ہو رہی تھی۔ مصلحت کے تحت قلعہ میں آنا پڑا مگر غدار وزیر اعظم میر صادق نے قلعہ کا دروازہ بند کرا دیا تھا۔ ٹیپو سلطان کا رزار میں شہید ہو گیا۔ سلطنت میسور پر قبضہ ہو گیا۔ اب اگلے علاقوں پر قبضہ کی راہ ہموار ہو گئی۔ ایک کے بعد دوسرا علاقہ فتح ہوتا گیا۔ ان ہی غدارانِ وطن کے بارے حکیم الامت علامہ اقبال نے فرمایا:
جعفر از بنگال، صادق از دکن ننگِ دیں، ننگِ قوم، ننگ از وطن
کاروباری ذہنیت رکھنے والے ان قابض حکمرانوں نے اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لئے مسلمانوں کو اپنا پکا دشمن سمجھا۔ ان پر جبر و استبداد، ظلم و زیادتی،بے رحمی و سنگدلی کی انتہا کر دی۔ مسلمانوں پر ظلم و ستم کے نئے نئے ریکارڈ قائم کیے جن کا بیان دلوں کو سوگوار کر دیتا ہے۔ میں اس کی تفصیل میں نہیں جاوٗں گا۔ تاہم یہ ضرور کہوں گا کہ اس تاجر قوم نے دورِ حکومت میں تاریخِ انسانی کا ایک منفرد سودا کیا گیا۔ بیعنامہ امرتسر ۶۴۸۱ ء جس کی نظیر تاریخ انسانی میں نہیں ملتی، جس خطۂ ارضی جس کے بارے کہا جاتا ہے: اگر فردوس بر روئے زمیں است ہمی است، ہمی است، ہمی است، کو چند لاکھ ٹکوں کے عوض بیچ دیا گیا۔ اس بے مثل خرید و فروخت کے بارے علامہ اقبال نے فرمایا:
دہقاں و کشت و جوئے و خیاباں فروختند قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند
یعنی ایک ملک، ایک خطۂ ارضی کی ہر چیز بیچ دی گئی، ایک قوم کے بچوں، جوانوں،بوڑھوں، مردوں اور عورتوں اور اس کی آنے والی نسلوں تک کو بیچ دیا گیا۔ہر سال ۵ فروری کو سارے پاکستانی بد قسمت کشمیری قوم کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
کشمیری مسلمان بہادری اور ایمان کی حرارت سے سرشار قوم ہے۔ اس قوم نے صعوبتیں برداشت کرنے اور قربانیاں دینے کی ایک طویل داستان رقم کی ہے۔ آزاد کشمیر میں قصبہ منگ میں آج بھی موجود درخت اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ راجہ کی غلامی کے خلاف جہدوجہد کرنے پر ۷۲ قبا ئلی سرداروں کو ا س درخت کے ساتھ الٹا لٹکا کر کھالیں اتاری گئی تھیں۔ اور پھر کشمیریوں نے ۱۳۹۱ میں سرینگر سنٹرل جیل سے باہر ایک اذان کو مکمل کرنے کے لئے یکے بعد دیگرے ۲۲ شہادتیں کرکے اسلام کی خاطر جانیں پیش کرنے کی ایک بہترین مثال قائم کی۔ ۷۴۹۱ میں ہم آزاد ہو گئے۔مگر ماؤنٹ بیٹن، نہرو اور ڈوگرہ راجہ کی چالبازیوں سے جنّت نظیر علاقہ اور پاکستان کی شاہ رگ پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہو گیا۔ پاکستان لیجانے کے بہانہ سے جموں کے جنگلوں میں ڈوگرہ فوج اور بھارتی آر۔ ایس۔ ایس۔نے مل کر اڑھائی لاکھ کشمیری مسلمانوں کو شہید کیا تھا۔اس قبیح کاروائی کو مہاراجہ کشمیر کی اشیر باد حاصل تھی۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے بارے نہرو اور سلامتی کونسل کی یقین دہانیاں بے سود۔ آج تک یو این اور آزاد ی دلانے کے دعویدار خاموش ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاونی، بھارتی ظلم و استبداد کے نیچے کراہ رہی ہے۔ کوئی گھرانہ ایسا نہیں جہاں سے شہید کا جنازہ نہ اٹھا ہو یا بوڑھے والدین کو ٹارچر سیل میں سے نہ گزارا گیا ہو۔ عورتوں پر ناقابلِ بیان ستم توڑے گئے۔ معیشت کے سامان یا تو جلا دیئے گئے یا برباد کر دیئے گئے۔
۹۸۹۱ سے اب تک:
ا۔ ایک لاکھ پچیس ہزار سے زیادہ شہادتیں جس میں ہر عمر کے مرد اور عورتیں اور نوجوان شامل ہیں۔
۲۔ ایک لاکھ انچاس ہزار سے زیادہ کشمیری مسلمان قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے۔
۳۔ دو لاکھ سے زیادہ ہرعمر کے لوگ زخی ہوئے۔ تاہم زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے۔
۴۔ انیس ہزار کشمیری مسلمان پاگل اور اپاہج ہوگئے جس کی سب سے بڑی وجہ حراست کے دوران ان پر بدترین تشدد اور ناقص غذا۔
۵۔ دو ہزار سے زیادہ افراد پیلٹ فائرنگ سے بینائی سے محروم ۔
۶۔ لگاتار۶ ماہ سے زائد عرصہ پر محیط کرفیو اور اسی طرح لوگوں کو ان کے گھروں تک محدود کر دینا روز کا معمول بن چکا ہے۔۔وہ کونسا ظلم ہے جو نہ ڈھایا نہ گیا ہو؟
۷۔ لائن آف کنترول اور ورکنگ باؤنڈری پر نہتے سویلین پر فائرنگ کی وجہ سے ہر روز لاشے اٹھانے پڑ رہے ہیں اور بے شمار بے گناہ زخمی ہو رہے ہیں۔
۸۔ ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر آئے روز فائرنگ کرکے جانی اور مالی نقصان پہنچایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے سویلین آبادی لگا تار خوف و ہراس کی
فضا میں زندگی گزاررہی ہے۔
تمدنی، مذہبی، سیاسی، اخلاقی، جغرافیائی اور اصولی بنیادوں پر اور میری اپنی اور آئندہ نسلوں کی بقاء کے لحاظ سے کشمیر بہت ہی اہم ہے۔ اس سے بہنے والے دریا پاکستان کی صنعتی ترقی، شہروں کی چہل پہل اور زرعی پیداوار کے لئے آبِ حیات ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے پانیوں میں کشمیری شہیدوں کا خون اور مظلوم کشمیری عورتوں کے آنسو ملے ہیں۔دنیا کا سب سے بڑا پاگل انسان اور چوٹی کے دس دہشت گردوں میں شمار بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی (کسی زمانہ میں امریکہ میں اس دہشت گرد شخص کا داخلہ بند تھا) ان دریاؤں کے پانی کو روک کر سارے پاکستان کو پیاسا، بھوکا اور پھر سیلابی ریلا کے ذریعہ ڈبو کرمارنا چاہتا ہے۔ آج کل دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں خطرناک حد تک کمی میں بھارت کے مذموم ارادوں کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔
ہم کشمیریوں سے یومِ یک جہتی بھی مناتے ہیں۔ مگر افسوس! اپنے ازلی دشمن اور کشمیریوں پر پنجہٗ استبداد بر قرار رکھے ہوئے بھارت کی سبزیاں اور پھل بھی شوق سے کھاتے ہیں حالانکہ اس تجارت سے ایک طرف ہماری زراعت کا بہت نقصان ہو رہا ہے اور دوسری طرف بھارتی زراعت اور معیشت مضبوط ہو رہی ہے۔ ہم بھارتی گانے سننے اور ڈرامے اور فلمیں دیکھنے کے بہت زیادہ عادی ہیں۔ ہم بھارتی کھانوں، زیورات، ملبوسات، رسم و رواج کے انتہائی دلدادہ ہیں۔
ہم کشمیر میں بھارتی کاروائیوں سے ہونے والی ہلاکتوں کی خبریں بھی دیکھتے اور سنتے ہیں اور میڈیا پر بھارتی پروگراموں سے دل بھی بہلا رہے ہوتے ہیں۔ یقینا
پاکستانیوں کی اسی نفسیاتی کیفیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا تھا:
اب ہمیں پاکستان پر حملہ کرنے کی ضرورت نہیں، ہم ثقافتی یلغار کے ذریعہ پاکستان کو فتح کر لیں گے۔
سوچئے ! ہم کدھر جا رہے ہیں؟ ہمیں جاگنا ہوگا اور سب کو متحرک کرنا ہوگا!!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sarwar

Read More Articles by Sarwar: 66 Articles with 39059 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Apr, 2018 Views: 397

Comments

آپ کی رائے