وہ آدھی دنیا کا حکمراں تھا

(Tariq Noman, )

تحریر:عائشہ صدیقی نوشہرہ کینٹ
یہ ماہ رجب المرجب وہ مبارک مہینہ ہیجس میں نبی پاک ﷺ کو ایک عظیم سفر کرنا پڑا جسے سفر معراج کہا جاتاہے ۔اس کے علاوہ اس ماہ رجب کو جلیل القدر صحابی رسول حضرت امیرمعاویہ رضی اﷲ عنہ اس دنیا سے رحلت فرما گئے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ نبی اکرم ﷺکے نورنظر، مشیر خاص ، بے شمار خوبیوں ،محاسن اور کمالات کے مالک تھے۔رسول ﷲ کے سارے صحابہؓ افضل واعلی ہیں ۔ صحابی رسول کی عظمت و رفعت کو جاننے کے لیے کسی تاریخ اور روایت کی ضرورت نہیں بلکہ ان کے کردار کو جانچنے کے لیے اﷲ کا قرآن اور رسول ا ﷲ کا فرمان کا فی ہے۔
جناب رسول اﷲ کا فرمان ہے
ترجمہ: "کہ جس نے ایمان کی حالت میں مجھے دیکھ لیا میرا صحابی بن گیا جہنم کی آگ اس کو نہیں مس (چھو )سکتی (الترمذی شریف )
اور یہ بھی دیکھئے کہ جب آقا کا دیدار ایمانی حالت میں کیا تو حق تعالیٰ نے فرمایا کہ رضی اﷲ عنھم ورضو عنہ ۔صحابہؓ مجھ سے راضی ہیں اور میں ان (صحابہؓ)سے راضی ہوں۔(پارہ ۳۰سورۃ البینہ)
جب اﷲ اور اسکے رسول اصحابِ محمد سے راضی ہیں تو کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اصحاب کی شان میں گستاخی کرے۔ یا اپنے دل میں اصحاب کابغض رکھے ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کا بھی وہی مرتبہ و مقام ہے جو اﷲ اور اسکے رسول ﷺنے صحابہ کرام کے بارے میں بیان کیا ہے۔ آئیے حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کی طرز زندگی اور فضائل ومناقب پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ عرب کے مشہور قبیلے قریش کے نامور خاندان بنو امیہ سے تعلق رکھتے تھے۔آپ کے والد محترم ابو سفیان جو اسلام لانے سے قبل ہی اپنے خاندان میں امتیازی حیثیت کے حامل تھے۔ آپ کی ولادت بعث نبوی سے پانچ سال پہلے ہوئی۔ آپ سیرت اور صورت،اعمال و کردار میں حسن جمال کا پیکر تھے۔ عاجزی و انکساری اور خوش اخلاقی رچی بسی تھی ۔ بچپن ہی سے آپ دوسرے بچوں سے مختلف اور ممتاز دیکھائی دیتے تھے۔
قیافہ شناس کی نظرحضرت امیر معاویہؓ پر
ایک مرتبہ عرب کے مشہور قیافہ شناس کی جب آپ پر نظر پڑھی تو بے اختیار بول پڑا یہ بچہ عرب کے رؤوسا میں نظر آتا ہے۔ نوعمری میں ہونہاری اور ذہانت دیکھ کر والد نے کہا میرا بیٹا قوم کا سردار بنے گا تووالدہ کہنے لگی کہ یہ قوم کا نہیں بلکہ پورے عرب کا سردار بنے گا۔ قدرت ایک طرف کھڑی اس بحث پر مسکرارہی ہے۔ ایک قوم کا سردار بنا رہا ہے اور ایک پورے عرب کا ۔حالانکہ تقدیر نے معاویہ ؓ کو عرب وعجم کا سردار آدھی دنیا کا حکمراں اور بحروبر کا فاتح لکھ دیا ہے۔
اے معاویہ! تجھے بادشاہت وحکمرانی ملے گی
آپ صلح حدیبیہ کے بعد دولت ایمان سے فیضیاب ہوئے ۔لیکن کچھ مجبوریوں کی بنا پر اسلام کو پوشیدہ رکھا اور فتح مکہ کے موقع پر اسلام لانے کا اعلان کردیا اور نبی کی خدمت کا بھرپور فائدہ حاصل کیا۔آپ نبی کریم ﷺکے خادم خاص رہے۔
سیدنا امیر معاویہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے مجھ سے فرمایا اے معاویہ! تجھے بادشاہت اور حکمرانی ملے گی تو تم اﷲ سے ڈرتے رہنا۔
حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ ۲۰سال سرزمین شام کے امیر رہے اور ۲۰ سال خلافت کا دورانیہ رہا ۔
نبی کریم ﷺ سے لیکر آج تک جتنے بھی مسلمان حکمران گزرے ان میں سب سے بڑا خلافتی دورانیہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کا تھا۔ جس میں ۶۴لاکھ ۶۵ہزار مربع میل پر اسلامی پرچم لہرایا اور شریعت محمدیہ کو نافذ کیا۔
؂ وہ آدھی دنیا کا حکمران تھا وہ حکمران بھی مگر کہاں تھا
بپھرتی موجوں پہ حق پرستی کی سادہ کشتی کا بادباں تھا
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ بے شمار فضائل ومناقب کے حامل ہیں ۔
حضور ﷺ کی دعائیں امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے حق میں
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو جب کاتب وحی مقرر کیا تو ان کے حق میں آپﷺ نے یوں دعا فرمائی "اللھم اجعلہ ھادیا مھدیا"
اے اﷲ !معاویہ کو ہادی مھدی بنا دیجیے۔(ترمذی شریف)
اور یہ دعا بھی فرمائی ۔ترجمہ: اے اﷲ !معاویہ کو کتاب اور حساب کا علم عطا کیجیے اور عذاب سے بچا لیجیے
کاتبین وحی میں شمار
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ وہ جلیل القدر صحابی ہیں جن کا شمار کاتبین وحی میں ہوتا ہے۔ کاتبین وحی کل ۱۳ صحابہ کرام ہیں جن میں سیدنا امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ چھٹے نمبر پر ہیں۔ انہی صحابہ کرامؓ کے بارے میں اﷲ رب العزت نے فرمایا:قران کے صفحے بڑے پاکیزہ اور بزرگی والے ہیں۔ بڑی عظمت والے اور پاکیزگی والے ہیں۔جن ہاتھوں نے قرآن مجید لکھا ہے وہ ہاتھ بڑے چمکنے والے معزز اور نیکوکار ہیں۔(سورۃعبس)
؂جس دل میں امیر معاویہ کی شان نہیں
سچ تو یہ ہے کہ وہ ملعون مسلمان نہیں
تاریخ سے کیا پوچھتے ہو ان کی صداقت
کیا تمہارے پاس معاویہ ؓ کا لکھا قرآن نہیں
فرمان ِ رسولﷺ۔میرے رازدان معاویہ بن ابی سفیان ہیں
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ نبی کریمﷺ کے رازدار تھے۔محب طبری نے "ریاض النصرہ" میں نقل کیا ہے کہ ٓانحضرت ﷺ نے فرمایا:"میری امت میں سب سے ذیادہ رحیم ابوبکر ہیں اور دین کی باتوں میں سب سے زیادہ قوی عمر ہیں اور حیاء میں سب سے زیادہ عثمان ہیں اور علم قضا میں سب سے زیادہ علی ہیں اور ہر نبی کے کچھ حواری ہوتے ہیں میرے حواری طلحہ اور زبیر ہیں اور جہاں کہیں سعد بن ابی وقاص ہوں تو حق انہیں کی طرف ہوگا اور سعید بن زید ان دس آدمیوں میں سے ایک شخص ہیں جو رحمان کو محبوب ہیں اور عبدالرحمن بن عوف رحمن کے تاجروں میں سے ہیں اور ابو عبیدہ بن جراح اﷲ اور اسکے رسول کے امین ہیں اور میرے رازدان معاویہ بن ابی سفیان ہیں۔پس جو شخص ان لوگوں سے محبت رکھے گا وہ نجات پائے گا اور جو شخص بغض رکھے گا وہ ہلاک ہوگا۔
سب سے پہلے بحری جہاد کے لشکر کے سپہ سالار
سرور کائنات فخر موجودات ،امام الانبیا ء سرتاج الرسول ،حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ " میری امت کا سب سے بڑا لشکر جو بحری جہادکرے گا اس کے لئے جنت واجب ہوگی" (بخاری شریف)
بااتفاق محدثین و مورخین سب سے پہلے بحری جہاد کرنے والے لشکر کے قائد حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ تھے۔
حضرت معاویہ ؓ کی نماز
حضرت ابوالدردا ء رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضور ﷺکے بعد آپ سے زیادہ مشابہت رکھنے والی نماز پڑھنے والا امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ سے زیادہ کوئی نہیں دیکھا۔(تطہیر الجنان )
اس جوان کی برائی مت کرو!
حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے ایک موقع پر فرمایا : قریش کے اس جوان (معاویہ)کی برائی مت کرو. " من یضحک فی الغضب" جو غصہ کے وقت ہنستا ہے انتہائی بردبار ہے(الاستعاب)
ایک موقع پر حضرت عمررضی اﷲ عنہ نے فرمایا تم قیصر و کسری اور ان کی حکومت کی تعریف کرتے ہو حالانکہ خود تم میں معاویہ موجود ہے۔
معاویہ فقیہ ہے
حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: اے لوگو!معاویہ کی گورنری اور امارت کو تم ناپسند نہ کرو۔ حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ نے فرمایا ’’انہ فقیہ ‘‘یقینا معاویہ رضی اﷲ عنہ فقیہ ہیں۔ (البدایہ)
بطور خلیفہ خدمات جلیلہ
1۔ آپ رضی اﷲ عنہ کے دو رخلافت میں فتوحات کا سلسلہ انتہائی برق رفتاری سے جاری رہا اور قلات ، قندھار، قیقان ، مکران ، سیسان ، سمر قند ، ترمذ،شمالی افریقہ ،جزیرہ روڈس ،جزیرہ اروڈ ،کابل ،صقلیہ (سسلی ) سمیت مشرق ومغرب ،شمال وجنوب کا 22 لاکھ مربع میل سے زائد علاقہ اسلام کے زیر نگیں آگیا ۔ ان فتوحات میں غزوہ قسطنطنیہ ایک اہم مقام رکھتاہے ۔ یہ مسلمانوں کی قسطنطنیہ پر پہلی فوج کشی تھی ، مسلمانوں کا بحری بیڑہ سفیان ازدی رضی اﷲ عنہ کی سرکردگی میں روم سے گزر کر قسطنطنیہ پہنچا اور قلعے کا محاصرہ کرلیا ۔
2۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فوج کو دو حصوں میں تقسیم کیا ایک حصہ موسم سرما میں اور دوسرا حصہ موسم گرما میں جہاد کرتا تھا ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فوجیوں کا وظیفہ دگنا کردیا ۔ ان کے بچوں کے بھی وظائف مقرر کردئیے نیز ان کے اہل خانہ کا مکمل خیال رکھا ۔
3 ۔مردم شماری کیلئے باقاعدہ محکمہ قائم کیا ۔
4۔ بیت اﷲ شریف کی خدمت کیلئے مستقل ملازم رکھے ۔ بیت اﷲ پر دیبا وحریر کا خوبصورت غلاف چڑھایا ۔
5 ۔تمام قدیم مساجد کی ازسرنو تعمیر ومرمت ،توسیع وتجدید او رتزئین وآرائش کی ۔
6 ۔حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے سب سے پہلا قامتی ہسپتال دمشق میں قائم کیا۔
7 ۔نہروں کے نظام کے ذریعے سینکڑوں مربع میل اراضی کو آباد کیا اور زراعت کو خوب ترقی دی ۔
8۔نئے شہر آباد کئے اور نو آبادیاتی نظام متعارف کرایا ۔
9 ۔ خط دیوانی ایجاد کیا اور قوم کو الفاظ کی صورت میں لکھنے کا طریقہ پیدا کیا۔
10 ۔ڈاک کے نظام کو بہتر بنایا ، اس میں اصلاحات کیں اور باقاعدہ محکمہ بناکر ملازم مقرر کئے ۔
11 ۔احکام پر مہر لگانے اور حکم کی نقل دفتر میں محفوظ رکھنے کا طریقہ ایجاد کیا۔
12 ۔عدلیہ کے نظام میں اصلاحات کیں اور اس کو مزیدترقی دی ۔
13 ۔آپ نے دین اخلاق اور قانون کی طرح طب اور علم الجراحت کی تعلیم کا انتظام بھی کیا۔
14 ۔آپ نے بیت المال سے تجارتی قرضے بغیر اشتراک نفع یا سود کے جاری کرکے تجارت وصنعت کو فروغ دیا اور بین الاقوامی معاہدے کئے۔
15 ۔سرحدوں کی حفاظت کیلئے قدیم قلعوں کی مرمت کر کے اور چند نئے قلعے تعمیر کرا کر اس میں مستقل فوجیں متعین کیں۔
16 ۔حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے دور میں ہی سب سے پہلے منجنیق کا استعمال کیا گیا۔
17۔مستقل فوج کے علاوہ رضا کاروں کی فوج بنائی ۔
18۔ بحری بیڑے قائم کئے اور بحری فوج (نیوی )کا شعبہ قائم کیا ۔ یہ آپ رضی اﷲ عنہ کا تجدیدی کارنامہ ہے ۔
19۔ جہاز سازی کی صنعت میں اصلاحات کیں اور باقاعدہ کارخانے قائم کئے۔پہلا کارخانہ 54 ھ میں قائم ہوا ۔
20۔ قلعے بنائے ، فوجی چھاؤنیاں قائم کیں اور دارالضرب کے نام سے شعبہ قائم کیا ۔
21۔ امن عامہ برقرار رکھنے کیلئے پولیس کے شعبے کو ترقی دی جسے حضرت عمررضی اﷲ عنہ نے قائم کیا تھا ۔
22۔دارالخلافہ دمشق اور تمام صوبوں میں قومی وصوبائی اسمبلی کی طرز پر مجالس شوری قائم کیں ۔
ابو اسحق السبیعی رحمہ اﷲ فرماتے ہیں بلاشبہ وہ مہد ی زماں تھے
حضرت امیرمعاویہ رضی اﷲ عنہ کا الوداع
علم وحلم اور تدبر کے سمندر اور لاتعداد صفات سے آراستہ جلیل القدر صحابی رسول 22رجب المرجب 60ھ میں 78 سال کی عمر میں اس فانی دنیا سے الوداع فرماگئے۔آپ کی نماز جنازہ حضرت ضحاک رضی اﷲ عنہ نے پڑھائی اور ان کی تدفین دمشق میں ہوئی۔
؂ زہے مقدر معاویہ کو دل وجگر کا سلام پہنچے
امیرعادل کے عہد روشن کا تذکرہ صبح وشام لکھوں
اے بحروبر کے عظیم فاتح،عرب،عجم کے مثالی حاکم
میں سوچتا ہوں کہ کس قلم سے تیراسنہرا نظام لکھوں
اے کاتب وحی حق تعالیٰ اے امت مسلمہ کے ماموں
مرا قلم بھی ادب میں جھکتا ہے جب بھی تیرا نام لکھوں۔
(چوہدری اکرام الحق)
اﷲ پاک اصحاب رسول ﷺ کی محبت مرتے دم تک ہمارے دلوں میں قائم ودائم رکھے (آمین یارب العالمین)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tariq Noman

Read More Articles by Tariq Noman: 69 Articles with 47373 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Apr, 2018 Views: 553

Comments

آپ کی رائے