معراج اور فلسفۂ عروجِ مسلم: معراج النبی ﷺ کے تصدق بیت اقصیٰ آزاد ہو یارب!

(Ghulam Mustafa Rizvi, India)

بیت المقدس منبعِ برکات ہے۔ عظمتوں کی آماج گاہ ہے۔ کثیر انبیائے کرام علیہم السلام کی جائے نزول ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اقامت گاہ ہے۔ حضرت داؤد و حضرت سلیمان کا مسکن رہی ہے یہ ارضِ پاک۔ اﷲ نے کثیر خوبیوں سے خاکِ اقدس کو نوازہ۔ رحمتوں کا مصدر رہی ہے یہ زمیں۔ برکتوں کا محور رہی ہے بیتِ اقصیٰ۔ پھر رب نے فضل فرمایا۔ اپنا آخری محبوب صلی اﷲ علیہ وسلم بھیجا۔ معراج کا شرف بخشا۔ معجزات عطا کیے۔ معجزۂ معراج سے ختم المرسلین صلی اﷲ علیہ وسلم کی عظمت کا ایک باب اُجاگر ہوا۔ انھیں معراج عطا کی۔ شب کے ایک حصے میں اپنے پاس بلایا۔ معراج کی پہلی منزل مسجد اقصیٰ کو بنائی۔ جہاں انبیا و مرسلین جمع ہوئے۔ سب کی امامت امام الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم نے کی۔ آپ مقتدا۔ انبیائے کرام مقتدی۔ گویا یہ بھی فضیلتِ محبوب صلی اﷲ علیہ وسلم ہے کہ شب معراج تمام انبیا و مرسلین نے امام الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کو مقتدا مانا۔

بیت المقدس قبلۂ مسلم رہا ہے۔ اس کی وجہِ نسبت کئی پہلو ہیں۔ شام کی زمیں بڑی فضیلتوں کی حامل ہے، اسی کا ایک علاقہ فلسطین ہے، جہاں مسجد اقصیٰ ہے جس کا ذکر قرآن مقدس میں کئی مقامات پرہے۔ اﷲ نے قسم قسم کی نعمتیں اتاریں۔ انبیائے کرام کا وجود عظیم نعمت ہے۔ جن کی جلوہ گری ہوتی رہی۔ آخر میں امام الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم حجاز کی وادیوں میں آئے۔ آپ کے قدموں سے مسجد اقصیٰ بھی شبِ معراج زینت پائی۔ اقبالؔ کہتے ہیں ؂
اختر شام کی آتی ہے فلک سے آواز
سجدہ کرتی ہے سحر جس کو وہ ہے آج کی رات
رہ یک گام ہے ہمت کے لیے عرشِ بریں
کہہ رہی ہے یہ مسلمان سے معراج کی رات

وسعتِ آسمانی سے ستارۂ شام کی نوائے سحر خیزی یہ ہے کہ شبِ معراج عظمت و شان والی ہے، جس کو سحر بھی خمیدہ ہوئی جاتی ہے۔احترام بجا لاتی ہے۔ شبِ معراج یہ درس عطا کر رہی ہے کہ اے مسلماں! زمیں سے عرشِ بریں کی راہ ایک قدم ہے۔ یعنی اقبالؔ کہتے ہیں کہ اے مسلماں! تیرا مقام پستی نہیں بلندی ہے۔ نشیب نہیں فراز ہے۔ تیرے مرجع عقیدت و محورِ نگاہ تاج دار کونین صلی اﷲ علیہ وسلم کی رسائی تو عرش سے بھی آگے ہے۔ ان کے قدموں تک پہنچ جانا ہی معراجِ مومن ہے۔

امتحاں کا باب: فلسطیں کی زمیں ایک مدت سے یہودی نرغے میں ہے۔ مسلم بستیاں ایک ایک کر کے مٹائی جا رہی ہیں۔ پوری پوری زمیں یہودیوں کے تصرف و قبضہ میں جا رہی ہے۔ یہودی کالونیاں بزورِ طاقت بسائی جا رہی ہیں۔ مسلم اُمہ چیخ رہی ہے۔ مسلم اقتدار خاموش ہے۔ بادشاہانِ مملکتِ اسلامیہ کو اقتدار پیارا ہے۔ اسرائیل اپنے تمام ہتھکنڈے آزما رہا ہے۔ امریکہ اسرائیل کا سب سے بڑا معاون ہے۔ امریکہ کے معاون مال دار مسلم ممالک ہیں۔ شاید انھیں امریکہ نے عملی دھمکی دے رکھی ہے۔ اگر تم نے غلامی سے بغاوت کی تو عراق و افغانستان کی طرح انجام ہوگا، لیبیا و تباہ حال ملکوں کی طرح ختم کر دیے جاؤ گے۔

افسوس! بارگاہِ الٰہی کی بجائے امریکی تسلط طاری کر لیا۔ گویا ایسی مملکتوں کا عروج امریکی زوال کے ساتھ ہی خاک میں مل جائے گا۔آج کوئی مسلم ملک فلسطیں کے لیے سامنے نہیں آرہا۔ ترکوں نے متعدد بار آواز بلند کی۔ لیکن ایک ملک کی تائید کافی نہیں بلکہ تمام مسلم ملکوں کی متحدہ فوجی و عسکری قوت درکار ہے جو ظالم اسرائیل کو کھدیڑ دے اور فلسطینیوں کی آزادی کی راہ ہم وار کرے۔ یہ وقت دعا کا بھی ہے اور عمل کا بھی۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ شبِ معراج کی بابرکت گھڑیاں رب کی بارگاہ میں استغاثے میں گزاریں۔ رحمت طلب کریں۔ شام کے لیے عافیت و خیر مانگیں۔ شہدا کے لیے مغفرت، فلسطیں کی آزادی کا پروانہ گڑگڑا کر مانگیں۔ یقیں کہ رحمتوں کی بادِ بہاری چلے گی اور عرب بیدار ہوں گے۔ امریکہ نوازوں کا زوال ضرور آئے گا۔ پھر جو صبح نمودار ہوگی اس کے سائے میں اسلام کے سچے چاہنے والے حجاز کی وادیوں میں عشق و عرفاں کی جوت جگائیں گے۔ اسرائیل نواز حکمراں انجام کو پہنچیں گے۔ قبلۂ اول سے صہیونی فوج کا انخلا ہوگا۔ فلسطینیوں کی قربانی ضرور رنگ لائے گی۔ ان کے لہو کی سرخی سے چمنِ حق کی حنا بندی ہوگی۔ ؂
مری مشاطگی کی کیا ضرورت حسن معنی کو
کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی

فضل و شرف: معراج کے موقع پر مسجد حرام سے رسول پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کو مسجد اقصیٰ کا سفر طے کرانے میں رب کی بہت سے حکمتیں تھیں۔ ایک اہم سبب تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قدم رسول کی برکت سے مسجد اقصیٰ کو شرف دینا، تین مساجد کو خصوصی عظمتیں دی گئیں، مسجد حرام، مسجد نبوی و مسجد اقصیٰ۔اول الذکر دونوں مساجدِ مبارکہ تو آقا صلی اﷲ علیہ وسلم کے قدم ناز کی برکتوں سے مستفیض ہو چکی تھیں۔ مسجد اقصیٰ کو یہ منزلت و عظمت سفر معراج میں عطا کردی گئی۔ اب چوں کہ مسجد اقصیٰ انبیائے کرام بالخصوص خاتم الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کے نقشِ قدم سے برکت پا چکی اور مسلمانوں کا قبلہ رہی، اس وجہ سے اس سے مسلمان کبھی بھی دست بردار نہیں ہوسکتے۔ ایمانی غیرت کا تقاضا ہے کہ بیت اقصیٰ پر یہودی قبضہ کے خلاف مؤثر اقدام اُٹھائے جائیں۔ اور یہودی تسلط کو اُکھاڑ پھینکا جائے۔اس سلسلے میں مسلم مملکتوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ظالموں کے تسلط کو ختم کرا کے شہر امن کو انسانی حقوق کی پامالی سے نجات دلائیں۔اﷲ تعالیٰ شب معراج کی بابرکت ساعتوں کے توسل ہمیں مسجداقصیٰ کی بازیابی کے لیے اخلاص عمل عطا کرے اور مسلمانوں کو وہ شوکت و قوت دے کہ اپنے قبلہ کو ظالموں کے چنگل سے آزادی دلا سکیں ؂
شب اسریٰ کے دولہا پہ دائم درود
نوشہ بزم جنت پہ لاکھوں سلام
٭٭٭
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Mustafa Rizvi

Read More Articles by Ghulam Mustafa Rizvi: 262 Articles with 145658 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Apr, 2018 Views: 906

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ