طبی معجزہ

(Tanvir Sadiq, Lahore)

تقریباً ڈھائی سالہ اس چھوٹے سے بچے سے ایک شادی کی تقریب کے دوران ملاقات ہوئی ،جس کی زندگی طب کی دنیا کا ایک معجزہ ہے۔ملتان کا رہائشی و ہ بچہ شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے لئے اپنے ماں باپ کے ہمراہ لاہور آیا ہوا تھا۔وہ بچہ ایک سال کا تھا کہ اس کے سر میں چوٹ لگی۔بچے کی ماں فوراً ہسپتال لے گئی۔ بچہ چوٹ کے سبب رو رہا تھا۔ ڈاکٹر نے دوائی دی اور سی ٹی سکین کا کہا۔ اگلے دن انہوں نے سی ٹی سکین کروانا تھا۔ بچے کو آرام کرنے لٹا دیا گیا۔ دو تین گھنٹے تو بچہ ٹھیک رہامگر اس کے بعد یکایک اس کو جھٹکے لگنے شروع ہو گئے۔بچے کو دوبارہ ہسپتال لے جایا گیا۔فوراً سی ٹی سکین کیا گیا ۔پتہ چلا کہ چوٹ کی وجہ سے سر کے اندرخون بہہ رہا تھا جو دماغ میں جم گیا ہے اور اس کی وجہ سے دماغ کے کام میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ تھوڑی دیر بعد بچہ بے ہوش ہو گیا۔

ڈاکٹروں کے خیال میں بچے کی جان بچانے کی صرف ایک صورت تھی کہ دماغ کا آپریشن کیا جائے۔ آپریشن کے بعد بھی زندگی کا پچاس فیصد چانس تھا۔ بڑی سوچ بچار کے بعد ماں باپ نے ہمت کی اور آپریشن شروع ہو گیا۔ بچے کے سر کی ہڈی اتار دی گئی۔ کھلے ہوئے دماغ سے خون صاف کیا گیا اور دماغ کو کھلا چھوڑ دیا گیا۔ پورے سر پر ہلکی سی پٹی باند ھ دی گئی۔ سر پر جو دباؤ آیا تھا اس کی وجہ سے دماغ کو اپنی اصلی حالت میں پوری طرح آ نے میں تین ماہ درکار تھے۔ اب بچہ ٹھیک تھا مگردو مسائل تھے۔ ایک بچے کے کھلے سر کی حفاظت اور دوسرا سر سے اتاری گئی ہڈی کو محفوظ رکھنا۔بچے کے کھلے سر کی حفاظت کے لئے فیصلہ کیا گیا کہ جب تک بچے کے سر پر ہڈی دوبارہ لگائی نہیں جاتی، اس وقت تک بچہ ڈاکٹروں کی زیر حفاظت ہسپتال ہی میں رہے گا۔سر کی ہڈی کو محفوظ کرنے کے لئے بچے کے پیٹ کاآپریشن کرکے ہڈی کو پیٹ کے اندر محفوظ کر دیا گیا۔

یہ ملتان کا ایک پرائیویٹ ہسپتال تھا۔ ایک ہفتے میں ڈاکٹروں کو اندازہ ہو گیا کہ بچے کے والدین مڈل کلاس کے سفید پوش لوگ ہیں اور پرائیویٹ ہسپتال میں یہ چند دن بھی انہوں نے مجبوری میں گزارے ہیں اور اب مزید پرائیویٹ انتہائی مہنگا علاج ان کے لئے شاید ممکن نہ ہو۔ڈاکٹر انتہائی نفیس اور بھلے لوگ تھے۔ انہوں نے بچے کو ملتان کے چلڈرن ہسپتال میں منتقل کر دیا جہاں اس کی نگہداشت بھی وہ خود کرتے رہے۔ تین ماہ بعد بچے کے پیٹ سے ہڈی نکال کر اس کے ننگے سر پر لگا دی گئی۔ بچے کو مزید تین ماہ تک ہسپتال میں ڈاکٹروں نے اپنی زیر نگرانی رکھا اور چھہ ماہ کی زبردست محنت اور نگہداشت کے بعد جب انہوں نے محسوس کیا کہ اب بچہ والدین کی زیر نگرانی رہ سکتا ہے تواسے ماں باپ کے سپرد کر دیا گیا۔ بچہ ذہنی طور پر قدرے کمزور ہے اور ڈاکٹروں کے بقول اسے پوری طرح ٹھیک ہونے میں ایک دو سال لگ سکتے ہیں۔ اس کے سر کی حفاظت بھی ابھی کئی سال کرنا ہو گی۔ مگر الحمدوﷲوہ چلتا پھرتا، ہنستا کھیلتا، بولتا چالتا اور عام بچوں کی طرح ہر کام سر انجام دیتا ہے۔تیزی سے کوئی کام کرنے یا ڈورنے سے وہ ڈر جاتا ہے لیکن ماں اور باپ اسے ابھی چند لمحوں کے لئے بھی اکیلا نہیں چھوڑتے۔ اس حادثے نے جہاں بچے کے ذہن پر اثر کیا ہے وہاں اس کے ماں اور باپ کو بھی بہت محتاط کر دیا ہے۔طب کے شعبے میں یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہے جو ہمارے اپنے ڈاکٹروں نے انجام دیا ہے۔یقیناً یہ ہمارے لئے فخر کی بات ہے کہ اس ملک کے سپوت دنیا کے بہترین ڈاکٹروں سے اگر بڑھ کر نہیں تو کم بھی نہیں۔

اس معجزانہ واقعے کے بعد میں سوچتا ہوں کہ پاکستان طب کے شعبے میں اتنا کمزور نہیں ،جتنا اسے ہمارے سیاستدانوں ، سرکاری افسروں اور کاروباری حضرات نے بنا دیا ہے۔ہمارے پاس عالمی پائے کے ڈاکٹر اور سرجن حضرات کی کمی نہیں۔ بلکہ باہر کے ممالک میں بھی ہمارے ہونہار ڈاکٹر اپنی قابلیت کے جھنڈے گاڑرہے ہیں۔ہمارے پاس بہترین ہسپتال اور بہترین طبی آلات موجود ہیں۔ادویات کی بھی کمی نہیں مگر ہر سیاستدان، ہر سرکاری افسر اور ہر بڑا کاروباری علاج کے لئے کسی باہر کے ملک جا رہا ہوتا ہے۔مجھے اس کی وجوہات سمجھ آتی ہیں۔ زیادہ تر سرکاری افسر علاج کے نام پر سیر و سیاحت کے چکر میں ہوتے ہیں اور وہ اپنی نام نہاد بیماری کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔بیس پچیس سال پہلے کی بات ہے،میرے مرحوم والد کے ایک ساتھی جو اس وقت گریڈ سترہ کے افسر تھے، اس وقت کے چیف منسٹر صاحب کے قریبی عزیز تھے۔ ایک دن چیف منسٹر کے گھر ان کے پاس بیٹھے انہوں نے چیف منسٹر صاحب کوبتایا کہ چھ سات دن سے کھانسی آ رہی ہے ، دوائی بھی کھا رہا ہوں مگر طبیعت ابھی تک ٹھیک نہیں ہوئی۔ چیف منسٹر صاحب نے فرمایا، فوری تیاری کریں اور لندن جا کر علاج کرائیں ۔ مگر کیسے۔ انہوں نے حیران ہو کر پوچھا۔ جواب ملا ۔ صبح سروسز ہسپتال سے بیماری کا سرٹیفیکیٹ لیں اور چلے جائیں۔وہ اگلی صبح خوشی خوشی سروسز ہسپتال پہنچے۔ ڈاکٹر کو کہا کہ مجھے ایک ہفتے سے کھانسی ہے آرام نہیں آ رہا ،اب علاج کے لئے لندن جانا ہے ،آپ سرٹیفیکیٹ بنا دیں۔ ڈاکٹر ہنسا کہ دو دن اور دوا پی لیں ٹھیک ہو جائیں گے۔ شام کو انہوں نے چیف منسٹر صاحب کو صورت حال کا بتایا۔ چیف منسٹر صاحب نے فوراً سیکرٹری کو حکم دیا کہ پتہ کیا جائے کس ڈاکٹر نے ایسی جرآت کی ہے۔ جب میں نے کہا ہے کہ انہیں علاج کے لئے لندن جانا ہے تو وہ پوچھنے والا کون۔ اگلے دن سرٹیفیکیٹ تیار تھا۔ تین چار دن میں فنڈ بھی مل گئے اور وہ ایک ماہ لندن میں بمعہ بیگم سرکاری خرچ پر علاج کروا کر واپس آ گئے۔بیگم کا خرچ بھی سرکار نے دیا۔

یہ تو سرکاری لوٹ مارکے ابتدائی دنوں کی بات تھی۔اب تو یہ عام بات ہو چکی۔اب ہر سرکاری افسر ، ہر منتخب سیاستدان اور ہر بڑا کاروباری شخص یہ لوٹ مار اپنا حق جانتا اور سمجھتا ہے۔کاروباری آدمی تو چلو کسی حد تک اپنے پیسے خرچ کرتا ہے مگر سرکاری طور پر جانے والے افسران علاج سے زیادہ سیرو سیاحت کے شوقین ہوتے اور سرکاری فنڈکو شیر مادر سمجھ کر ہضم کرتے ہیں۔حد تو یہ ہے کہ ہر محکمے نے اپنے افسران کے غیر ملکی دوروں کا بندوبست کیا ہواہے۔ علاج کے علاوہ بھی کوئی کسی انداز میں اور کوئی کسی دوسرے انداز میں باہر جانے کا انتظام کر لیتا ہے۔ ملک کے خزانے میں موجود زر مبادلہ کا ایک بڑا حصہ سرکاری افسروں اور سیاست دانوں کی عیاشی پر خرچ ہو رہا ہے اور کوئی بھی اسے کنٹرول کرنے پر تیار نہیں۔ حکومت کو اس کے بارے سوچنا چائیے اورغیر ملکی علاج کی سرکاری خرچ پر اجازت بہت ہی خصوصی حالات میں دینی چائیے۔سرکاری خرچ پر علاج کے لئے افراد کو فنڈ دینے کی بجائے وہی فنڈ ہسپتالوں کی بہتری پر خرچ کئے جائیں تو عام آدمی بھی جدید سہولیات سے استفادہ حاصل کر سکے گا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 437 Articles with 221080 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
12 Apr, 2018 Views: 845

Comments

آپ کی رائے
Good Job, I Like this article 5 star rated +++++
By: Shakira Nandini, Oporto on Apr, 22 2018
Reply Reply
0 Like