*محبتِ رسول ﷺ کے دشمن-دہشت گرد*

(Ghulam Mustafa Rizvi, India)

[شہدائے نشتر پارک کا یومِ شہادت 11اپریل]

سارا جہان خوشیاں منارہا تھا۔12ربیع الاول کا مبارک دن۔ انگریزی تاریخ 11اپریل [2006ء]۔ آمدِ مصطفی ﷺ کی خوشی و مسرت سے صحنِ حیات معطر تھے۔ بلاد و اَمصار شادمانیوں سے جھوم رہے تھے۔ نشتر پارک[کراچی] میلادِ مصطفی ﷺ کے اختتامی محافل سے لبریز اور عطر بیز تھا۔ وقتِ مغرب اور عاشقانِ رسول کا ہجوم۔ اچانک بم دھماکوں سے فضا لرز اُٹھی۔امن کے سفیر جو ذکرِ مصطفی ﷺ سے پیامِ امن دے رہے تھے؛ خاک و خون میں نہا گئے۔لہولہان ہوگئے۔ جسموں کے اعضا بکھر گئے۔ کتنے ہی شہید ہوئے۔ یہ بم دھماکے کیوں کیے گئے؟ کس نے کیے؟کس نے کروائے؟ ان شہدائے میلادِ مصطفی کا قصور کیا تھا؟ذکرِ رسول ﷺ کے دشمن کون تھے؟ میلادِ مصطفی ﷺ سے اتنی نفرت ؟

*امن کے دشمن کون؟*
میلاد منانے والے بڑے پُر امن لوگ ہیں۔ یہ عاشقانِ مصطفی اسلاف کی روایتوں کے امین ہیں۔ انھیں کے اسلاف نے 1857ء میں انگریزی استبداد کے خلاف آواز اٹھائی۔ انھیں کے اسلاف نے ہمیشہ قربانیاں دیں اور دنیا کے بیش تر علاقوں میں اسلام کا پیغامِ امن پہنچایا۔ یہ محبتوں کے سفیر ہیں۔ یہ امن کی سوغات بانٹنے والے ہیں۔ ان کی زبانیں ذکرِ رسول ﷺ سے تر رہتی ہیں۔ ان کا قصور شاید یہی تھا کہ یہ عشقِ رسول ﷺ کے داعی تھے۔ یہ محبتِ رسول ﷺ کی سوغات بانٹ رہے تھے۔ یہ میلادِ مصطفی ﷺ کی محافل سجائے بیٹھے تھے۔ یہ دلوں میں عشق و محبت کی روح پھونک رہے تھے۔ یہ اپنے اسلاف کی روایاتِ پاکیزہ کے امین تھے۔یہ سلام باقیام سے سلامتی کا درس دینے والے تھے۔ یہ ’’مصطفی جانِ رحمتﷺ پہ لاکھوں سلام‘‘ کے نغمۂ دل پذیر سے زبانیں تر رکھنے والے لوگ تھے۔

ان کے معمولات و افکار سے باطل کو اختلاف ہے۔ تمام ملتِ باطلہ ایک ہے۔ ان کی شہادت کے وہی ذمہ دار ہیں؛ جنھوں نے انگریزی استبداد کو مستحکم کرنے میں حصہ لیا۔ جنھوں نے ساری دنیا میں پٹروڈالر کے ذریعے محبت رسول ﷺ دلوں سے کھرچنے میں نمایاں رول ادا کیا۔ جنھوں نے حجاز مقدس میں امریکی سپاہ کے لیے مستقر قائم کروایا۔ جو حرمین میں اسلاف کے ورثے کی تاراجی کے ذمے دار ہیں۔ جو امریکی ٹرمپ جیسے اسلام دشمن کے دوست ہیں۔ جو اسرائیل و انگریز کی مخالفت سے گریز کرتے ہیں۔ جن کے دن رات عاشقانِ رسول ﷺ کو مشرک اور بدعتی کہنے میں صرف ہوتے ہیں۔ انھیں محبتِ رسول کی باتیں نہیں بھاتیں؛ انھیں میلادِ مصطفی ﷺ سے چِڑھ ہے، انھیں عشقِ رسول ﷺ سے نفرت ہے۔ وہ نفرتوں کے خوگر ہیں۔ وہ مسلمانوں میں انتشار پھیلاتے ہیں۔ وہ جب محافلِ میلاد مصطفی ﷺ دیکھتے ہیں تو جَل جَل اُٹھتے ہیں؛ ہم نے انھیں دیکھا ہے کہ وہ سرکاری افسران اور مشرک آفیسران کی تعظیم میں سروقد کھڑے ہو جاتے ہیں؛ لیکن جب آقا ﷺ پر سلام کی محفل سجتی ہے تو بیٹھے رہتے ہیں؛ اُٹھ کر راہِ فرار اختیار کر لیتے ہیں۔

*دشمنانِ امن و محبت:*
اسلام امن کا مذہب ہے۔ دہشت گرد امن کے دشمن ہیں۔ اسلام محبتوں کی تعلیم دیتا ہے۔ محافلِ میلاد مصطفی ﷺ سے محبتوں کی سوغات بٹتی ہے۔ جنھیں یہ نغماتِ محبت نہیں بھاتے؛ وہ کبھی لشکرِ طیبہ کی شکل میں اُبھرتے ہیں، کبھی داعش و طالبان کی صورت میں سامنے آتے ہیں، کبھی بوکوحرام و جماعۃ الدعوۃ کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں، کبھی جیش محمد، حزب المجاہدین،لشکرِ جھنگوی کے ٹائٹل میں اُبھرتے ہیں؛ جہاد کا نام لیتے ہیں؛ اور دہشت گردی پھیلاتے ہیں۔ ان کا اسلامی جہاد سے کوئی رشتہ نہیں۔ یہ دہشت گرد اِسلام کے دشمن ہیں، میلادِ مصطفی ﷺ کے دشمن ہیں، ذکرِ رسول ﷺ سے انھیں عار ہے۔ اِسی لیے یہ امریکہ و یہود کے غلام ہیں، ان کے مراکزِ عقیدت کی تاریخ یہود و نصاریٰ کی غلامی سے عبارت ہے۔

*عشق کے سفیر بنیں:*
اسلام محبتوں کے ذریعے دلوں کو جوڑتا ہے۔ ذکرِ رسول ﷺ کے نغمے محبتوں سے دل و دماغ کو مشک بار بناتے ہیں۔ ان سے نفرت دشمنی پر اُبھارتی ہے۔ آپ اپنی نسلوں کی تربیت محبتِ رسول کے سانچے میں کیجیے۔ دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی۔ مسلمانوں کو مشرک و بدعتی کہنے والوں سے نسلوں کو بچائیے۔ طاقِ دل پر عشقِ رسول ﷺ کے چراغ روشن کیجیے۔ پورا صحنِ حیات مہک مہک اُٹھے گا۔ اور نتائج ایسے خوش نما بر آمد ہوں گے کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے الفاظ میں زباں پکار اُٹھے گی:

انھیں جانا، انھیں مانا، نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا

یہ چند سطریں خراجِ عقیدت ہے؛ شہدائے نشتر پارک کو۔

جامِ شہادت پیا ہے جنھوں نے…
اہلِ سنن کو جِلا دی انھوں نے…
یاد آئیں گے وہ ہر سال…

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Mustafa Rizvi

Read More Articles by Ghulam Mustafa Rizvi: 261 Articles with 145431 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Apr, 2018 Views: 372

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ