بیٹے

(Farheen Naz Tariq, Chakwal)
١٠٠ لفظی کہانی

"بیٹا اب تو نظر بھی نہیں آتے۔اتنے دن بعد ملنے آتے ہو۔"
"شادی ہو گئی ہے ماں۔ وقت کم ملتا ہے-"
"شادی کے بعد کیا بیٹے پر ماں کا حق نہیں رہتا۔"
"حق ہے ماں مگر مجبور ہوجاتا ہوں-"
"مجبور تو بیٹیاں ہوتی تھی۔"
"جب آپ جیسی مائیں بیٹیوں کو احترام، اخلاق سکھانا بھول جائیں گی تو بیٹے مجبور ہو ہی جائیں گے۔"
"شمشیر اب چلیں بھی۔آپ تو دہلیز سے ہی چپک گئے۔"
گلی میں بہو بدتمیزی سے چلائی تھی۔
اس نے ایک نظرصحن میں کھڑی داماد سے جھگڑتی بیٹی کو دیکھا اور نظر چراگئی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Farheen Naz Tariq

Read More Articles by Farheen Naz Tariq: 30 Articles with 19733 views »
My work is my intro. .. View More
17 Apr, 2018 Views: 294

Comments

آپ کی رائے