دنیا میں مسلمانوں کا بہیمانہ قتل عام……جنگل کا قانون کب ختم ہوگا؟

(عابد محمود عزام, Lahore)

کمزوروں کے خون کی ہولی کھیلنا دنیا کا دستور بن چکا ہے۔ یہ دستور بنانے والے دنیا پر جنگل کا قانون رائج کرچکے ہیں۔ جنگل میں کوئی قانون نہ ہونے کی وجہ سے کمزور کسی نہ کسی طرح بھاگ کر جان بچانے میں کامیاب ہوہی جاتا ہے، لیکن ’’مہذب اور تعلیم یافتہ‘‘ انسانوں کی اس دنیا میں قانون بھی کمزور مظلوم کو روندنے کے لیے طاقتور ظالم کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔دنیا کے اس ظالمانہ دستور کے سب سے زیادہ شکار مسلمان ہیں، لیکن پھر بھی ان ہی کو دہشتگرد کہا جاتا ہے۔ دہشت گردی کی نام نہاد جنگ کی لپیٹ میں صرف مسلمان ہی آتا ہے۔ دنیا کے کئی حصوں میں بیرونی طاقتوں نے مسلمانوں پر جنگیں مسلط کی ہوئی ہیں۔ مسلمان ہر جگہ مظلوم اور متاثر ہیں، جن کے خلاف منظم انداز میں ریاستی اور غیر ریاستی دہشتگردی کی جارہی ہے۔ اس وقت مسلمان دنیا کی سب سے مظلوم قوم بن چکی ہے، جس کے خلاف مختلف جابر اور ظالم ریاستیں انسانیت کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر ٹوٹ پڑی ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں مسلمان زیر عتاب اور دہشتگردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ فلسطین سے لے کر کشمیر تک، افغانستان سے لے کر عراق تک، شام سے برما اور یمن سے پاکستان تک لہو لہو اسلامی دنیا مغرب کی استعماری پالیسیوں کی تباہ ناکی کی داستان سنا رہی ہے۔ عراق، افغانستان، برما، کشمیر، فلسطین، صومالیہ، چیچنیا، کو سوو، نائجیریا، بوسنیا، الجزائر، بلغاریہ، انڈونیشیا، فلپائن، چین، البانیہ، سری لنکا اور بھارت میں ہونے والے مظالم اور وحشت و درندگی کا نشانہ صرف مسلمان بنے ہیں۔ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم نہ تو عالمی برادری کو نظر آتے ہیں اور نہ ہی اقوام متحدہ کی آنکھ کھلتی ہے، لیکن اگر مسلمان صرف اپنے حق کے لیے آواز بھی اٹھاتے ہیں تو دہشت گرد قرار پاتے ہیں۔ مسلمانوں کے معاملے میں عالمی برادری نے ہمیشہ منافقت سے کام لیا ہے۔

شام، فلسطین، کشمیر اور افغانستان میں درندگی و سفاکیت کے حالیہ واقعات نے جہاں انسانیت کو شرمسار کیا، وہیں ایک بار پھر عالمی برادری کی منافقت کا پردہ چاک کردیا ہے۔ حالیہ دنوں شام میں الغوطہ کے علاقے میں عالمی قوتوں کی جنگ میں انسانیت کا قتل عام ہوا۔ شامی فوج نے 18 فروری کو مشرقی الغوطہ پر دوبارہ قبضے کے لیے زمینی کارروائی اور فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔ شامی رصد گاہ کے مطابق شامی اور روسی طیاروں کے فضائی حملوں اور زمینی لڑائی میں کم سے کم ڈیڑھ ہزار افراد جاں بحق ہوئے۔ مارچ کے تیسرے ہفتے میں الغوطہ میں محصور ہزاروں افراد نے دیگر علاقوں کی جانب نقل مکانی کر کے اپنی جان بچائی، مگر اس عرصے میں عالمی برادری قتل عام رکوانے میں بری طرح ناکام ہوئی۔ اس کے بعد اسرائیلی درندوں کی جانب سے فلسطین میں خون کی ہولی کھیلی گئی۔ فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے ستر سال پندرہ مئی کو پورے ہونے والے ہیں۔ اس ظلم و ناانصافی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرنے کے لیے فلسطینی عوام نے اپنی ہردلعزیز تنظیم حماس کی اپیل پر چھ ہفتوں پر مشتمل احتجاجی مارچ کا آغاز کیا تو انہیں پہلے سے پوزیشنیں لیے ہوئے ماہر اسرائیلی نشانہ بازوں اور ٹینکوں کا سامنا کرنا پڑا ،جنہوں نے نہتے مظاہرین پر براہ راست فائر کھول کے انہیں بھون کررکھ دیا، حالانکہ پرامن احتجاج تمام بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کی رو سے ان کا حق تھا۔ اسرائیل کی وحشیانہ کارروائی میں تقریباً2 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے، جن میں سے کم از کم 17 افراد شہید ہوئے ہیں۔اس کے دو روز بعد ہی بھارتی فو ج نے مقبوضہ کشمیر میں سرچ آپریشن کے نام پر ضلع شوپیاں اور اسلام آباد میں حملے کر کے 20کشمیری نوجوانوں کو شہید اور 3سو سے زائد کو لہولہان کر دیا ۔ بھارت اور اسرائیل جموں و کشمیر اور فلسطین کے مقبوضہ علاقوں پر اپنااپنا غاصبانہ قبضہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں پر ہونے والی درندگی بھی ساری دنیا کے سامنے ہے کہ کس طرح اسرائیل نے فلسطینیوں کی زمین پر قابض ہوکر ان کا ہی جینا حرام کر رکھا ہے۔ اسرائیل جب اور جہاں چاہے، امریکا سمیت عالمی بدمعاشوں کی سرپرستی میں کمزور فلسطینیوں پر بمباری شروع کردیتا ہے۔ فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد جیلوں میں قید ہے۔دوسری جانب بھارت نے کشمیر میں مسلمانوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ بھارتی فورسز برسوں سے کشمیر میں سفاکیت و درندگی کی تاریخ رقم کر رہی ہیں۔ بے گناہوں لوگوں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالا جارہا ہے اور خواتین کی عزتیں تک محفوظ نہیں ہیں۔ گزشتہ ساٹھ سال میں ایک لاکھ کشمیری بھارتی فوج کے ہاتھوں شہادت پاچکے ۔ انتہا پسند ہنود و یہود کے اس ظالمانہ کھیل میں انہیں امریکا کی آشیرباد بھی حاصل ہے۔ فلسطینیوں کے خلاف درندگی پر کویت نے سلامتی کونسل کا اجلاس بلا کر مذمتی قرارداد پیش کرنا چاہی تو امریکا نے اسے ویٹو کر دیا، جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ لوگوں کو خاک و خون میں تڑپانے پر قوموں کے حق خودارادیت اور انسانی حقوق کی علمبردار اقوام متحدہ نے اس کا نوٹس لیا، نہ امریکا سمیت بڑی طاقتوں کو وہ قراردادیں یاد آئیں، جن کے تحت انہوں نے خود بھارت کو کشمیریوں کا حق خودارادی تسلیم کرنے کا پابند کیا تھا۔ ابھی فلسطین و کشمیر میں نہتے بے گناہ جوانوں کی شہادت کا غم ہلکا بھی نہ ہوا تھا کہ افغانستان میں امریکا کے تعاون سے افغان فورسز نے قندوز میں مدرسے پر حملہ کر کے 100سے زاید حفاظ اور علمائے کرام کو شہید کردیا اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ اس وقت وہاں دستار بندی کی تقریب جاری تھی۔ علم حاصل کرنے والے معصوم بچوں کو بمباری کا نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا انسانیت اور مسلم دشمنی پر اتر آیا ہے اور عالمی برادری کی خاموشی اس بات کی شاہد ہے اس نے منافقت کی چادر اوڑھی ہوئی ہے۔ افغانستان میں اب تک امریکا لاکھوں بے گناہ شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار چکا ہے۔ اگر کوئی انتہاپسند مسلمان کہیں حملہ کردیتا ہے تو آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا ہے، لیکن عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو امریکا کی یہ کھلی دہشتگردی نظر نہیں آتی۔

پوری دنیا کے حالات کے تناظر میں جب ہم اقوام متحدہ کی کارگردگی کا جائزہ لیتے ہیں تو اس کے کردار میں ایک تضاد نمایا ں طور پر نظر آتا ہے ایک طرف تو اقوام متحدہ جہاں ضرورت سمجھے بلاکسی تاخیر کے امن فوج بھیج دیتی ہے، مگر مسلم ممالک کے معاملے میں ہمیشہ منافقت سے کام لیا جاتا ہے۔ کشمیر اور فلسطین پر ظالمانہ قبضے ،افغانستان اور عرا ق پر امریکا کی فوجی کاروائیاں اور ان ملکوں پر امریکا کا جارحانہ قبضہ اقوام متحدہ کی تازہ ترین بے حسی کا شکار ہے، حالانکہ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے چارٹرکے آرٹیکل (2) میں یہ بات رقم ہے کہ ’’ ہر شخص انسانی حقوق کے دیے گئے مسوّدے میں بغیر کسی نسل، رنگ، جنس، زبان، مذہب، سیاسی وابستگی، قومی یا سماجی تعلق کے حقوق اور آزادی کا مستحق ہے‘‘ اس طرح کی تیس (30 ) کے قریب شقیں ہیں جو لوگوں کو دوسروں کی غلامی سے نجات اور آزادی سے جینے کا حق دیتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مسوّدے میں کوئی امتیازی شق موجود نہیں، اس میں تمام ممالک، قوموں اور انسانوں کے لیے یکساں حقوق تسلیم کیے گئے ہیں، لیکن چند طاقت ور ممالک کی وجہ سے اس منشور کی حیثیت ایک کاغذ کے ٹکڑے کی طرح رہ گئی ہے۔ مسلمانوں کے قتل عام پر عالمی برادری نے تو مجرمانہ خاموشی اختیار کر ہی رکھی ہے، اسلامی ممالک بھی زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھ رہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 417617 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Apr, 2018 Views: 464

Comments

آپ کی رائے