"وعدوں سے تکمیل تک" جائزہ

(Shahid Yousuf Khan, )

لازم نہیں کہ ہر وہ صحافی، صحافی کہلائے جو صرف حکومتوں کی خامیاں بیان کرنے میں مہارت رکھتا ہو۔ بلاشبہ پاکستانی تاریخ میں جتنی بھی جمہوری حکومتیں قائم ہوئی ہیں ان حکومتوں نے ترقیاتی کام بھی کیے ہیں جو کہ ملک کے طول و عرض میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ناقدین اور سیاسی ماہرین کی تنقیدوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو تمام اکثریت سیاسی تجزیہ کاروں کی تنقید دراصل تنقید برائے اصلاح ہوتی ہے تاکہ جو بھی حکومت ہے وہ ان تنقیدوں کو خوشی کوشی قبول کر کے اپنی اصلاح اور معاشرتی ترقی کے لیے اپنی صلاحتیں بروئے کار لائیں اور کام چلتا رہے۔ ان کے علاوہ کچھ تجزیہ کار ایسے بھی ہیں جو حکومت کے اچھے کاموں کی بلا جھجھک تعریف کرتے ہیں ۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ عوام کو باور کرایا جاسکے کہ حکومت اور ریاست کچھ اچھے کام بھی کر رہی ہے لہذا ہمیشہ منفی سوچ کو پروان نہیں چڑھانا چاہئیے اور بلاشبہ اس قسم کی تعریفیں منتخب حکومتوں کی مزید حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔

میرے پاس اس وقت زیر نظر کتاب "وعدوں سے تکمیل تک" موجود ہے جس کے مصنف ایک نوجوان کالم نگار طاہر تبسم دُرانی ہیں۔نوجوان کالم نگار طاہر تبسم دُرانی جو کئی سالوں سے مختلف قومی اخبارات میں کالم نگاری کرتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے ان کالموں کو مجموعہ بنا کر یہ کتاب ترتیب دی ہے جن کالموں میں انہوں نے موجودہ حکومت کے اچھے کاموں کی تعریف کی گئی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بہت ساری کوتاہیوں کے باوجود موجودہ حکومت نے بہتر اصلاحی کام بھی کیے ہیں۔ کئی دوبتے قومی اداروں کو اس حکومت نے دوبارہ کھرا کرنے کی کوشش کی ہے اور کامیابی ھاصل ہوئی ہے۔ جس طرح بجلی کا مسئلہ، ریلوے کے مسائل، تعلیم اور صحت پر کام، زراعت کو جدید سہولیات مہیا کرنا اور دیہی اور شہری عوام کے لیے کئی نئی سہولیات کا میسر کرنا،نئی سڑکیں تعمیر کرنا۔ یہ وہ کام ہیں اگر گزشتہ حکومتوں سے ان کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو موجودہ حکومت کی تعریف کرنا بالکل جائز ہے۔ ریلوے جیسا اہم ادارہ جو مسلسل گھاٹے میں جا رہا تھا اور جو آج وزیر ریلوے کواجہ سعد رفیق کی محنت سے دوبارہ بہتری کی جانب گامزن ہے ۔ یہ سب اسی حکومت کی وجہ سے ہے۔ گزشتہ ھکومتوں کی نسبت موجود حکومت جو اپنی مکمل مدت پوری کرنے والی ہے حالانکہ اس حکومت کو کافی مسائل درپیش رہے لیکن پھر بھی مشکل حالات میں سمجھداری کے ذریعے اپنا دورانیہ مکمل کرنے پر پہنچی ہے۔

کتاب پرھنے کے بعد یقیناً یہ احساس ہوتا ہے کہ واقعی حکومت نے جو اچھے کام کیے ہیں ان کی تعریف بھی کی جانی چاہئے اور ان کا کریڈت حومت کو دینا چاہئیے ۔ اس کتاب میں حکومت کے میگا پراجیکٹس پر ڈسکس کی گئی ہے۔

خیر کتاب "وعدوں سے تکمیل تک" مصنف طاہر تبسم دُرانی نے حکومت کے ان تمام منصوبوں پر بات کی جو حکومت نے وعدے کیے تھے اور انہیں مشکل حالات ہونے کے باوجود بھی تکمیل تک پہنچایا ہے۔ بدقسمتی سے حکومت کے لیے پہلے دن سے ہی مختلف مسائل درپیش رہے اور ایسا لگتا تھا جیسا کہ حکومت آج ہی ختم ہونے والی ہے لیکن ایسے حالات مین ان وعدوں کو مکمل کرنا قابل تعریف ہے جب منتخب وزیراعظم کو نااہل کر دیا جائے اور یہاں تک کہ پارٹی کی صدارت سے بھی محروم کیا جائے لیکن حکومت کے اداروں نے حتی المکان کوشش جاری رکھی کہ ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔

کتاب مصنف اس لھاظ سے بھی قابل تعریف ہیں کہ انہوں نے ناقدین کی متوقع فکر کیے بغیر مضامین لکھتے رہے جب اخبارات کے اسی فیصد مضامین سیاسی، معاشرتی مسائل، قومی مسائل پر ہوتے تو طاہر تبسم نے ان کے بیچ ہی اپنے مضامین کے ذریعے ان ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے عوام کو باخبر کرتے رہے کہ جن کے لیے حکومت قابل تعریف تھی۔ صاحب کتاب اس لیے بھی قابل تعریف ہیں انہوں ے کتاب جس ماھول اور موسم میں شائع کروائی وہ کسی صورت بھی اچھا موسم نہیں تھا کہ جب حکومت ایسے بحران میں ہو، حکمران جماعت اپنی ساکھ بچانے کے فکر میں ہو، چاروں طرف سے سیاسی ناقدین موجود ہوں تو یہ ہمت والا کام ہے۔ "وعدون سے تکمیل تک" پہلے ایڈیشن کی مختصر عرصے میں کامیابی کے بعد دوسرا ایڈیشن بھی شائع ہوچکا ہے۔ دوسرے ایدیشن کے بعد یہ تاثر بھی زائل ہوتا ے کہ کتاب بینی کا شوق بالکل ختم ہوچکا ہے۔ زیر نظر کتاب میں سینئر صحافیوں نجم ولی خان، نوید چوہدری، مزاح نگار گُل نوخیز اختر، نوجوان صحافی فرخ شہباز ورائچ نے کتاب کے اپنے مثبت تاثرات بیان کیے ہیں۔ طاہر تبسم دُرانی کو صاحب کتاب ہونے پر پاکستان فیدرل یونین آف جررنلست، پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ، اپوا، پاکستان کونسل آف میدیا رائٹرز اور سینئر صارفیوں نے مبارکباد دی ہے ۔

"وعدوں سے تکمیل تک" میں 70 بڑے منصوبوں کو زیر بحث لایا گیا ہے جو مسلم لیگ کی 2013-18 کے دورانیے میں مکمل ہوئے ہیں۔ پاکستان ادب پبلشر میانوالی سے شائع اس کتاب میں 186 صفحات ہیں ۔ کتاب کی قیمت 500 روپے رکھی گئی ہے۔

مجھے امید ہے اس وقت نہیں تو یہ کتاب مستقبل میں مسلم لیگ ن کے لیے بہت ہی کار آمد ثابت ہوگی جب وہ اپنی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں پر ایک کتاب کو پیش کر سکیں گے۔ یہ کتاب یقیناً مسلم لیگ نواز کے ترقیاتی منصوبوں پر ایک مکمل جامع رپورٹ ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Shahid Yousuf Khan

Read More Articles by Muhammad Shahid Yousuf Khan: 49 Articles with 26576 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Apr, 2018 Views: 544

Comments

آپ کی رائے