نواز شریف کا پیسہ ،میڈیا کیسے حقائق سے پردہ اٹھائے؟

(Prof Akbar Hashmi, Rawalpindi)

مجھے معلوم ہے میڈیاغریب آدمی کی خبریں نہیں چھاپتا۔ بے حیائی، فحاشی، عریانیت ،ملک میں انارکی پھیلانے کی خبریں ٹی وی اور اخبارات دیتے ہیں لیکن اﷲ نے اپنی نشانیاں ظاہر کرتے ہوئے سوشل میڈیا نامی یہ چیز بنادی: لو سنو! آج نواز شریف صاحب کسی ہوٹل میں ووٹ کو عزت دو سیمینار میں پھول جھاڑ رہے تھے:جہاں سابق وزیر اعظم جناب محمد خان جونیجو مرحوم کے صاحبزادے اسد جونیجو صاحب اپنے کانوں سے اپنے باپ کی کسرِ شان سن رہے تھے۔ لو میں سچ بتاؤں کہ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں نواز شریف بھی پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے جو کبھی بی ڈی ممبر بھی نہ بنے تھے بلکہ باپ دادا میں بھی کوئی شجرسیاست سے لطف اندوز نہ ہوا تھا۔ پہلے جنرل جیلانی گورنر پنجاب نے احسان کا بدل احسان انہیں منہ مانگی وزارتِ خزانہ دے رکھی تھی(احسان کا بدلہ سبھی کو معلوم ہے) انکے سرپرست اعلیٰ ملک کے تیسرے مارشل لا لگانے والے جناب محمد ضیاء الحق صاحب تھے۔ نواز صاحب پنجاب کے وزیراعلیٰ بن گئے۔ مسلم لیگ بحال ہوئی۔محمد خان جونیجو پاکستان کے وزیراعظم بنے۔1988 میں انکی حکومت کو فارغ کیاگیا۔ اسمبلیاں توڑ دی گئیں۔ اس کا پسِ منظر طویل ہے۔ہر چیز مجھے معلوم ہے۔ پنجاب میں عارضی حکومت میں نواز شریف پھر وزیر اعلیٰ بن بیٹھے اور انہوں نے تو بننا ہی تھا۔ فارغ شدہ وزیر تعلیم جناب غلام حیدر وائیں کو نواز شریف کہا کہ کل آپ بھی دوبارہ عارضی حکومت میں وزیرِ تعلیم کا حلف اٹھائیں۔ انہوں نے جواب دیاکہ میں مسلم لیگی ہوں اور مسلم لیگ کی حکومت کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا ہے میں میاں چنو ں جارہا ہوں۔ اس وقت میں لاہور مسلم لیگ ہاؤ س میں انکے پاس تھا ۔ انہوں نے اپنا ایٹچی کیس اٹھا رکشے میں بیٹھ بس کے اڈے سے میاں چنوں چلے گئے۔ جناب محمد خان جونیجو عوام کے دلوں پر حکمرانی کررہے تھے۔ وہ عوامی رابطے پر نکلے تو پہلے صوبہ سرحد گئے انکی پذیرائی سے نواز صاحب کے ہاتھوں کے طوطے اڑگئے۔ اب جو وہ پنجاب کے دورے پر نکلے توچکوال چوک میں انپر حملہ کرایا گیا۔ پھر خوشاب چوک میں شدید حملہ ہوا۔ میری پانچویں گاڑی تھی۔ اسلام الدین شیخ کی گاڑی توڑی گئی ۔ جونیجو صاحب کی گاڑی میں نثار محمد خان تھے۔ مرد مجاہد جونیجو فرنٹ سیٹ پر تھے۔ چھت پر مسلح افراد نے کلاشنکوف سیدھی کی تو فسادی بھاگ گئے۔ سرگودھا میں انتہائی بھیانک ساز ش کی گئی ۔ یہاں بیان کرنے کا موقع نہیں ۔ یہ سبھی کچھ تو نواز شریف نے کیا ۔ جب چیف جسٹس جناب عبدالحلیم صاحب نے جونیجو صاحب کی حکومت کی بحالی کا فیصلہ کیا تو نواز شریف پشاور روڈ پر پاگلوں کی طرح گاڑی کیوں دوڑا رہے تھے ؟ کس جرنیل نے فیصلہ تبدیل کرایا۔ ان سارے امور میں نواز شریف کسی شک و شبہ کے بغیر واضح نظر آتا ہے۔ چکوال اور خوشاب سرگودھا کے واقعات میں راولپنڈی کے مسلم لیگی سردار نسیم بھی ہمارے ساتھ جونیجو کے حامی تھے۔ اسلام آباد ہوٹل کا واقعہ کس کو معلوم نہیں کہ پاکستان مسلم لیگ کی صدارت کے لیئے غیر متعلقہ لوگوں کو کوسٹروں میں لاہور سے کون بھر کر لایا؟ وہاں کا منتظم میں تھا اور ان کا حملہ ناکام بنادیا۔ تفصیلات کے لیئے اخبارات دیکھیں۔ تو یہ تاریخی حقائق ہیں جنہیں آج نواز شریف صاحب مسخ کرکے ووٹ کو عزت دو کے سیمینار میں پیش کررہے ہیں۔ پاکستان کا میڈیا مال کا پجاری ہے۔ ان میں سے کوئی تو سچ کا ساتھ دے۔ اﷲ پاکستان کو سلامت رکھے اور مسلم لیگ نے جس نظریہ کے تحت پاکستان بنایا تھا اس کی حکمرانی ہو۔ وہ ہے لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ ﷺ ۔ لبیک یا رسول اﷲ ﷺ۔ غازی ممتاز حسین قادری تیرے خون سے انقلاب آرہا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: AKBAR HUSAIN HASHMI

Read More Articles by AKBAR HUSAIN HASHMI: 146 Articles with 82393 views »
BELONG TO HASHMI FAMILY.. View More
19 Apr, 2018 Views: 406

Comments

آپ کی رائے