مکافات عمل .....عبرتناک انجام

(Sami Ullah Malik, )

کیایہ قرب ِ قیامت کے آثارہیں کہ امت مسلمہ کے باہمی اختلافات نے آج ہمیں اس مقام پرلاکھڑاکیاہے کہ مسلم خون کی ارزانی نے دہلاکررکھ دیا ہے اور مسلمان ممالک کے حکمرانوں کی اکثریت بھی گنگ ہے یارب العزت نے ان سے یہ توفیق ہی سلب کرلی ہے گویادنیاکی حکمرانی کے نشے میں اپنے مغربی آقاؤں کی خوشامداورچاپلوسی میں گنگ ہیں۔ ایک ہی وقت میں غزہ فلسطین میں اسرائیلی درندوں نے زمین پربراہ راست اورفضامیں ڈرون سے فائرنگ کرکے جس بیدردی سے تین درجن نہتے فلسطینی اور۱۳۰۰/سے زائد زخمی کردیئے جن میں اکثریت کی حالت نازک ہے ۔ابھی یہ صدمہ تازہ تھاکہ قندوزافغانستان میں ایک دینی مدرسے میں جہاں معصوم حفاظ کی دستاربندی کی تقریب میں کسی امریکی ڈرون نے نہیں بلکہ خودافغان فضائیہ کے حملے میں دوسوکے قریب افرادکوشہیدکردیاگیاجس میں۱۰۱معصوم بچے تھے جواپنے ہاتھوں میں کامیابی کی اسناد تھامے اورسروں پردستارباندھے اللہ کے حضورقرآن خوانی کی محافل سجانے کیلئے حاضرہوگئے اورگھروں میں بیٹھی مائیں جنہوں نے بڑے شوق اور ذوق سے اپنے بچوں کوتیارکرکے اس منصب کیلئے مدرسے میں روانہ کیاتھااب ساری زندگی ان کے کان اپنے بچوں کی خوبصورت آوازمیں قرآن سننے کی منتظررہیں گی۔

ابھی ان واقعات پرمسلمانوں حکمرانوں کے مردہ ضمیروں کاماتم ختم نہیں ہواتھا کہ پہاڑجیسی عزیمت کی مالک میری انتہائی محترم بہن آسیہ اندرابی کی رندھی اورکانپتی آوازاورفریاد نے میرا کلیجہ چیرکررکھ دیاجس میں وہ دہائی دے رہی تھیں کہ'' ہم ایک طرف اپنے ان شہیدوں کوپاکستانی جھنڈوں میں سجاکر تدفین کیلئے قبرستان لے جارہےہیں جہاں بھارتی فورسزنے خاردارتاریں لگاکر راستوں کوبندکررکھاہے جس کے جواب میں ہماری مساجدمیں پاکستان کی سلامتی اوریکجہتی کے ترانے بجائے جارہے ہیں، اب اورکتنی شہادتیں اورجوان لاشے مانگتے ہیں آپ؟''پتہ چلاکہ قابض بھارتی فورسزنے شوپیاں اوراسلام آبادمیں۲۰سے زائدکشمیری شہید اور۱۰۰سے زائد زخمی کر دیئے جن میں اکثریت پیلٹ گن کے چھروں سے مضروب ہوئی ہے۔شوپیاں کے علاقے کچدرا اور دراگڑھ میں کیمیکل پھینک کرچارمکانات کو جلا دیا گیا ۔میڈیامیں بھارتی قابض فوجی درندے کو ہاتھوں میں کیمیکل ہتھیاراٹھانے کی تصویربڑی وائرل ہورہی ہے جس کے بارے میں بتایاگیاہے کہ حال ہی میں اسرائیل سے یہ انسانیت سوزہتھیار حاصل کئے گئے ہیں۔ ابھی کالم لکھ رہاتھاکہ اطلاع ملی کہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی قابض فوج نے آسیہ بہن کوان کی دو معاون سیکرٹریزکے ہمراہ ایک مرتبہ پھرگرفتار کرلیاہے گویایہ علیل مجاہدہ انتہائی بہادری اورعزیمت کے ساتھ اپنے مقدس مشن کوجاری رکھے ہوئے ہے۔

سرچ آپریشن گھرگھرتلاشی کی آڑمیں ان علاقوں کاگھیراؤکرنے کے بعدہزاروں افرادحزب المجاہدین اورلشکرطیبہ سے وابسہ مجاہدین کوبچانے کیلئے باہرآگئے تاہم قابض فوجی درندوں نے انہیں آگے جانے سے روک دیااوراوراندھادھندفائرنگ اورپیلٹ گن کے چھرے رسادیئے جس کے نتیجے میں موقع پرہی چارافرادوفاداری کاجام شہادت نوش کر گئے ،پچاس افرادزخمی ہوگئے،سات نوجوانوں کودراگڑھ اورچارکوکچدرامیں شہیدکردیاگیا۔ بھارتی فوج نے دعویٰ کیاکہ شہیدہونے والوں میں حزب المجاہدین کے ایک کمانڈربھی شامل ہیں جبکہ کچدارمیں تین فوجیوں کی ہلاکت کادعویٰ بھی کیاگیا۔ایک نوجوان کوضلع اسلام آبادکے علاقے دیالگام میں شہیدکیاگیا۔بھارتی حکام نے شہیدہونے والے مجاہدین اورپانچ شہریوں کے مقامی ہونے کااعتراف بھی کیاہے۔ان میں اقبال بھٹ،جان محمدلون،زبیراحمدبٹ،رؤف بشیرخندے،یاوراحمد،نذیر،عادل،عبیرشفیع ملا،رئیس،اشفاق
ملک، زبیرتورے،احمدوانی،مشتاق احمداوردیگرشامل ہیں۔اس اعتراف نے متعصب مودی سرکار کے منہ پرکالک مل دی ہے جوکشمیرمیں جدوجہدآزادی کرنے والے مجاہدین کوپاکستانی قراردیکربدنام کرتے رہتے ہیں۔
نوجوانوں کی شہادت کی اطلاع ملتے ہی اسلام آباداورشوپیاں میں کہرام مچ گیا اورلوگوں کی ایک بڑی تعداداپنے گھروں سے باہرنکل آئی اوربھارتی فوجی درندوں کے خلاف نعرے بازی اورپتھر برساتے رہے۔بھارتی فوج نے بے رحمانہ اندازمیں مظاہرین پرفائرنگ کی اورآنسوگیس کی شیلنگ کی جس سے مزیدپچاس افرادزخمی ہوگئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق بھارتی فورسزنے زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے والی ایمبولینسوں کوبھی روک کر زخمی شہریوں پرتشددکیاگیا۔بھارتی مظالم اور نوجوانوں کی شہادت کے خلاف احتجاج پھیلنے کے بعدسرینگرسمیت مختلف مقامات پرمظاہرین اور بھاری فوج میں جھڑپیں جاری ہیں۔مظاہرین ہاتھوں میں پاکستانی جھنڈوں کولہراتے ہوئے آزادی کے نعرے لگارہے ہیں جس کی بناء پربھارتی قابض فورسز نے کرفیونافذکردیاہے لیکن شوپیاں میں شہیدہونے والے یاوراحمدکی نمازجنازہ میں کشمیریوں کاٹھاٹھیں مارتاسمندرامڈآیا۔رش اس قدرزیادہ تھا کہ پانچ مرتبہ نمازجنازہ اداکی گئی ۔اس دوران مسلسل کشمیریوں کی جانب سے بھارتی قابض فوج،مقبوضہ کشمیرکی کٹھ پتلی محبوبہ حکومت کے خلاف اور پاکستان سے یکجہتی کے پرجوش نعرے لگائے جاتے رہے۔اسی طرح احمدوانی کی نمازجنازہ میں شرکت کرنے والوں کوروکنے کیلئے چاروں طرف سڑکوں کوخاردارتاروں سے بندکردیاگیالیکن اس کے باوجود ہزاروں کے مجمع نے بھارتی درندوں کی تمام کاروائیوں کونہ صرف ناکام بنادیابلکہ کشمیر کی جدوجہدآزادی کوجاری رکھنے اورپاکستان کے ساتھ الحاق اوریکجہتی کے نعرے مسلسل وادی کے کوہساروں میں گونجتے رہے۔

بھارتی فورسزکے ہاتھوں زخمیوں میں ایسے نوجوان بھی شامل ہیں جنہیں آنکھوں پرپیلٹ گن کے چھرے لگے ہیں اوران کی بینائی ضائع ہونے کا خدشہ ظاہرکیاجارہاہے۔کٹھ پتلی حکومت نے لوگوں کواحتجاج سے روکنے کیلئے اسلام آباداورشوپیاں میں ریل اورانٹرنیٹ سروس مکمل طورپربندکر دی ہے۔ضلع بانڈی پورہ میں سمبل سوناواری کے علاقے شاہ گنڈاور نائدکھے میں بھی بھارتی فورسزنے مظاہرین کومنتشرکرنے کیلئے پیلٹ گن اور آنسوگیس سمیت طاقت کاوحشیانہ استعمال کیاجس کے جواب میں مشتعل نوجوانوں نے بھارتی فورسز پر شدیدپتھراؤکیا۔جھڑپوں کے دوران۱۱ نوجوان زخمی ہوگئے ۔کشمیریونیورسٹی کے طالب علموں نے شدیداحتجاج کرتے ہوئے آزادی کے حق میں اوربھارت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پرمظاہرہ میں بھرپورحصہ لیااورمعاملہ یہاں تک ہی نہیں رہابلکہ اسکول اورکالج کی کشمیری بچیاں بھی ہاتھوں میں پتھراٹھائے ہوئے بھارتی قابض فوج کے خلاف مظاہرے کررہی ہیں جس کوبی بی سی کے علاوہ دیگرغیرملکی میڈیا میں بھی کافی پذیرائی مل رہی ہے۔

حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلانی اس پیرانہ سالی میں اس سفاکانہ کاروائی کے خلاف مظاہرہ کرنے کیلئے گھرسے باہرآنے کی مسلسل کوشش کررتے رہے لیکن قابض بھارتی فورسز نے ان کے گھرکادروازہ باہرسے بندکرکے ایک بھاری تعدادمیں پولیس کی نفری تعینات کردی جس کی ویڈیو میڈیامیں کافی وائرل ہوگئی ہے جس میں وہ بھارتی فاشزم کو للکار رہے ہیں۔وہ کٹھوعہ جموںمیں ایک معصوم مسلمان بچی کی ایک ہندوپولیس اہلکارکے ہاتھوں بے حرمتی اوراب تک سزا نہ دینے پر سخت احتجاج اوراپنے غم وغصے کااظہاربھی کررہے تھے جہاں مودی سرکارکی بی جے پی پارٹی کے رہنماء کی معیت میں اس ہندوپولیس اہلکارمجرم کوبچانے کیلئے انتہائی بے شرمی اوربے حیائی کے ساتھ سڑکوں پرریلی نکال چکی ہے۔ قابض انتظامیہ نے مسلم لیگ جموں وکشمیرکے رہنماء مسرت عالم بھٹ کوگزشتہ دنوں کوٹ بھلوال جیل جموں سے سرینگرلاکر ۲۰۱۰ء میں درج کئے گئے ایک جھوٹے مقدمے کے سلسلے میں عدالت کے سامنے پیش کیا۔

ادھرترجمان دفترخارجہ نے مقبوضہ کشمیرمیں نوجوانوں کے قتل عام کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کاقتل عام انسانی حقوق چارٹرسے کھلااور سنگین مذاق ہے۔یہ مقبوضہ کشمیرمیں سفاک اورالمناک دن ہے۔شوپیاں اوراسلام آباد(اننت ناگ) ضلع میں بھارتی فوج کی قتل وغارت گری کے خلاف سخت زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔بھارتی فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے تین مزید کشمیری نوجوان شہیدہوگئے ہیں۔بھارتی فورسزاور کشمیریوں کے مابین شدیدجھڑپیں بھی جاری ہیں جن کے نتیجے میں زخمیوں کی تعدادتین سوسے تجاوزکرگئی جن میں متعددکی حالت تشویشناک ہے۔بھارتی فوج نے کرفیوجیسی پابندیاں عائدکرکے پورے کشمیرکوفوجی چھاؤنی اور انسانی مذبح خانے میں تبدیل کردیاہے۔ بزرگ کشمیری رہنماء سیدعلی گیلانی،میرواعظ عمرفاروق کوگھروں میں نظربندکردیاگیاہے اوریٰسین ملک کوجیل میں بھیج دیا گیاہے جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ یٰسین ملک نہ صرف دل کے مریض بلکہ اوربھی کئی جسمانی عوارض میں بھی مبتلاہیں۔

جموں وکشمیراسمبلی کے ممبرانجینئرعبدالرشیدکی قیادت میں سرینگرمیں ایک بڑی ریلی نکالی گئی اورلال چوک میں دھرنادیاگیا۔مقبوضہ جموں،ڈوڈہ ،کشتواڑ،بانہال اوردیگرعلاقوں میں بھی ہڑتال رہی۔انٹرنیٹ،موبائل سروس کے ساتھ ساتھ ٹرین سروس بھی بندرہی۔ہزاروں کشمیریوں کی جانب سے سرینگر،شوپیاں،اننت ناگ ،پلوامہ بانڈی پورہ اوردیگرعلاقوں میں زبردستی احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ اس دوران شرکاء کی جانب سے اسلام،آزادی اورپاکستان کے ساتھ یکجہتی اوراس کے حق میں نعرے گونجتے رہے۔ ہڑتال کی وجہ سے اسکول،پٹرول پمپ ،بینک اورتمام کاروباری مراکزبندہیں۔کشمیریوں کی طرف سے جگہ جگہ پاکستانی پرچم لہرائے جاتے رہے،جنوبی کشمیر میں بھی مکمل کرفیورہا۔ہڑتال اورمظاہروں کی کال حریت کانفرنس کے مرکزی قائدین کی جانب سے دی گئی۔

سرینگرمیں عوامی اتحادپارٹی کے سربراہ اورمقبوضہ کشمیرکی اسمبلی کے ممبر عبدالرشیدنے سرینگرکے مشہورلال چوک میں دھرنابھی دیااورریلی بھی نکالی جس میں کثیرتعدادمیں کشمیریوں نے اپنے ہاتھوں میں سیاہ جھنڈوں اوربھارتی فورسز اورمودی سرکارکے خلاف نعروں پرمشتمل کتبے اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین نے جب ریگل چوک سے لال چوک کی طرف پیش قدمی کی توپریس انکلیو کے قریب بھارتی فورسزنے انہیں آگے جانے سے روک دیاجس پرانجینئر عبدالرشید نے وہی پر دھرنادیتے ہوئے کہاکہ نہتے کشمیریوں کے قتل عام اوران پرتشددکاہرایک نیاواقعہ کشمیریوں کے قتل عام اور ان پرتشدد کاہرایک نیاواقعہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کوختم کرنے کی بجائے اسے نیارخ دینے کاباعث بنتاہے۔جنوبی کشمیرمیں اس قدربیدردی سے نہتے کشمیریوں کے قتل عام سے ایک بارپھرثابت ہوگیاہے کہ اصل دہشتگرداوربے گناہوں کے خون کا پیاساکون ہے۔انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ کشمیریوں کے قتل عام بندکرانے کیلئے بھارت پردباؤبڑھائیں ۔ مقبوضہ بھارتی فورسزنے سرینگرسمیت جنوبی کشمیرکے علاقوں میں اضافی نفری تعینات کررکھی ہے اورلوگوں کواب توگھروں میں محصورکرکے رکھ دیاگیا ہے۔

کشمیراورفلسطین برسوں سے استعماری مظالم کانشانہ بن رہے ہیں مگرگزشتہ دنوں حالات اس وقت اورسنگین ہوگئے جب افغان فضائیہ نے قندوز میں واقع ایک مدرسے پروحشیانہ بمباری کرکے۱۰۱ معصوم حفاط سمیت کل دوسوافرادکو شہیدکر دیااوراب امن عالم کیلئے غارت گرثابت ہونے والے یہ فلیش پوائنٹ بہیمت کی ایسی علامت بن گئے ہیں کہ کبھی بھی یہ بارودپھٹ کرکسی عالمی جنگ کاموجب بن سکتے ہیں۔عالمی برادری کے بالغ نظر حلقے یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان حساس معاملات کا حل تلاش کئے بغیردنیاکامستقبل محفوظ بناناممکن نہیں اوریہ امربھی کسی آنکھ سے اوجھل نہیں کہ بالعموم فلسطین اور بالخصوص کشمیرکے نہتے عوام کم وبیش سات عشروں سے اپنے سیاسی مستقبل کافیصلہ خودکرنے کی جدوجہدمیں مصروف ہیں۔ دوسری طرف المناک حقیقت یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اورانسانی حقوق کی تنظیموں کے مطالبات اورمہذب دنیاکی حمائت کے باوجود بھارت کشمیریوں، اسرائیل فلسطینیوں کی آزادی اورافغان اپنے ملک میں جارحیت کرنے والے ممالک کے خلاف آوازبلندکرنے پرریاستی جبرو تشددکانشانہ بنایاجارہا ہے۔

انسانی تاریخ کی ان سات دہائیوں کے دوران جنت نظیروادیٔ کشمیر اورسرزمین فلسطین،اوراب افغانستان کے ساتھ ساتھ عراق میں لاکھوں بے گناہوں کاخون بہہ چکاہے،خواتین کی عزت و ناموس کی بے حرمتی ہورہی ہے۔بچوں،بزرگوں اورہرکس کو خوف وہراس میں زندگی گزارنے پر مجبور کیاجارہاہے۔امریکی سرپرستی میں بھارت،جنوبی ایشیااوراسرائیل مشرقِ وسطیٰ کے امن واستحکام کی تباہی کاکھیل کھیل رہے ہیں۔دنیابھرسے اس انسانیت سوزروّیے کے خلاف احتجاج کی صدائیں توبلند ہوتی ہیں تاہم کسی بھی طرف سے ظلم وتشددکایہ سلسلہ روکنے کیلئے کوئی مؤثر اور نتیجہ خیز کوشش سامنے نہیں آئی۔

خطے میں اسلحے کی دوڑ،ایٹم بموں کی تیاری ،میزائل تجربات نے بدترین جنگی ماحول پیدا کر رکھاہے لیکن بھارت اور اسرائیل اپنی ہٹ دھرمی سے بازنہیں آرہے اوراس پرمستزادجہاں مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیاں تعمیر کرنے میں قصرسفیدکے فرعون ٹرمپ کادامادجیئرڈکشنرمالی اعانت فراہم کرتاہوتومقبوضہ فلسطین اوربیت المقدس پرقبضہ اورخطے میں شر انگیز کاروائیوں کااسرائیلی سلسلہ تو اسی طرح جاری رہے گااور جب تک جنوبی ایشیامیں سیکولرازم اورجمہوریت کی آڑمیں جبراورانسانی حقوق کی پامالی میں ملوث بھارت کوامریکا کی آشیر بادحاصل رہے گی ،عالمی امن کاخواب ادھورارہے گا بلکہ کبھی بھی معمولی سی غلطی سے صبرکاپیمانہ ایسالبریز رہنے کاامکان موجودرہے گاکہ جہاں کف افسوس ملنے کیلئے بھی کوئی موجودنہ رہے گا۔اس لئے یہ کہنادرست ہوگاکہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اورجنوبی ایشیامیں بھارت توسیع پسندی، جارحیت ،شرانگیزاورریاستی طاقت کے بہیمانہ استعمال کی بناء پر ایسی انتہائی خطرناک راہ پرچل رہے ہیں ،انہیں روکانہ گیاتومنطقی انجام کے طورپرعالمی برادری بدترین تباہی اوربربادی سے دوچارہو جائے گی۔

کشمیراورفلسطین کے المیوں کا تعلق چونکہ اسلامی دنیاسے ہے اس لیے جب تک اسلامی ریاستیں ان کربناک معاملات پرمضبوط آوازبلندنہیں کریں گے ،ان کے منصفانہ حل کی امیدپیدانہیں ہوسکے گی۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان،ایران اورترکی فلسطین اورکشمیرپراسلامی امہ کومتحدکرنے کابیڑہ اٹھائیں توعالمی رائے عامہ میں بھی مثبت تبدیلیاں پیداکی جاسکتی ہیں۔ضرورت اس امرکی ہے کہ ابتدائی کوششوں کے طورپرپاکستان،ترکی اورایران کشمیروفلسطین کیلئے اسلامی ممالک اورعالمی برادری کے اہم ارکان سے سفارتی رابطوں کا آغاز کریں ۔کشمیراورفلسطین کے مسائل کی حدت کوعالمی امن کے تناظرمیں ابھارنے کی کوشش کی جائے مگراس کیلئے اب انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ موجودہ حکومت کشمیرکمیٹی کی دوبارہ تشکیل کرکے اس کا سربراہ نہ صرف ایسے فردکو بنائے جوخارجہ اموراوراس کوبیان کرنے پرمکمل دسترس رکھتاہوجبکہ اس وقت مسئلہ کشمیرپر سب سے بڑا ظلم کشمیرکمیٹی نے روارکھاہے جس کی سربراہی ہم نے پچھلے کئی برسوں سے ایسے فردکے سپردکررکھی ہے جس نے اپنی ذاتی مفادات کے حصول کیلئے تمام حکومتی وسائل کابے دریغ استعمال توکیالیکن کشمیرکازکوشدید ترین نقصان پہنچایاہے۔ حالیہ کشمیرسانحے پران کے انتہائی غیرسنجیدہ روّیے نے ساری قوم کوہلاکررکھ دیاہے ۔موجودہ حکومت یادرکھے کہ وہ پہلے ہی مکافات عمل کاشکارہے اورتاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کشمیرکے مسئلے کابالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے مفادات کوترجیح دی ،وہ عبرتناک انجام سے دوچارہواہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 231967 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Apr, 2018 Views: 376

Comments

آپ کی رائے