ہزارہ سرگی دا تارا اور آج کا گجر کنونشن

(Iftikhar Chohdury, )

میری عادت ہے میں ماضی میں زندہ رہتا ہوں موسم مجھ پر بہت اثر کرتے ہیں پہاڑی راگ دل چیر کے رکھ دیتے ہیں۔میں جدہ میں تھا تو فالکن فریٹ کمپنی کے باہر ریت پر گدا بچھا کر پی آئی اے کو دیکھ کر روتا تھا۔چاند سے باتیں کیا کرتا تھا۔سوچتا تھا یہ چاند جو آج جدہ میں چمک رہا ہے میری ماں بھی اسے دیکھ رہی ہو گی میرے چھوٹے چھوٹے بھائی میرے چچا میرے ماموں سب دیکھتے ہوں گے۔دنیا کا سب سے پر سکون لمحہ میرے لئے وہ ہوتا تھا اور ہے کہ جب آنسو میرے عارضوں سے ہو کر میرے منہ میں آتے ہیں۔بد قسمتیاں یہ ہیں کہ اب یہ آنسو میر آئیندہ نسل کے حصے آ گئے ہیں یا پھر اسی چہرے پر اس وقت داڑھی نہیں تھی اب تو آنسوؤں کو داڑھی بھی تر کرنا ہوتی ہے۔ میں بھی پہاڑ سے اٹھا میرے گاؤں میں جو درکوٹ کے پیچھے ڈھکیاں نلہ ہے یہاں میں نے ۱۹۵۵ میں پیدائش پائی والد کے ساتھ گجرانوالہ آ گئے میدان میں در بدر صحراؤں میں روزی تلاش کرتے کرتے پوٹھوہار کی کٹی پھٹی زمین میں مرنے آ آ گیا ہوں اس ساٹھ باسٹھ سال کے گھن چکر میں بس یہ پایا کہ اب گاؤں کو منال کے پاس سے گزر کر پاتا ہوں ڈیفنس روڈ بن رہا ہے شائد پورا بن جائے اس روڈ کی داستاں میرے بھائی مختار گجر سناتے سناتے زمین دوز ہو گئے جان محمد ببھوتری نلہ تا نجف پور کی سنایا کرتے تھے دیکھیں خاک ہو جائیں گے تم کو خبر ہونے تک۔ہزارہ کی سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ یہ وادی بہت خوبصورت ہے اونچی وادیاں کھیت کھلیان آبشاریں اس دھرتی کے ماتھے کا جھومر ہیں مگر کسی نے کیا کوب کہا بہت خوبصورت زمین ہزارہ مگر آدمی کا ہے مشکل گزارا۔مائیں بچوں کو جنم تو دیتی ہیں لیکن ان کی قبریں ہزارہ سے دور جہاں جہاں انہیں روٹی کھینچ لے گئی وہین قبریں بنا کر سو جاتے ہیں اس ماں کے بیٹے۔اس دھرتی نے جرنیل پیدا کئے صدر بنے مگر افسوس کے کہ وہ اک کا بوٹا ثابت ہوئے کچھ نہیں کر پائے اپنی ماں دھرتی کے لئے۔میرے والدین بھی یہیں ہزارہ کی ایبٹ آباد زمین پر پیدا ہوئے جس کے ٹکڑے ہوئے تو ہری پور اور ایبٹ آباد میں تقسیم ہو گئے۔آج میاں شفقت کی دعوت تھی ایبٹ آباد میں گجر کنونشن تھا۔برادری اور قوم کی کھچ دل سے جڑی رہتی ہے جتنے مرضٰ پھنے خان بن جائیں جب آپ کو اپنی ماں بولی اپنی برادری اور اپنی قوم بلاتی ہے تو مجھے سچ پوچھیں کوئی مثال یاد نہیں آتی بس یہی سمجھ لئے بکری اپنے صحن میں بچھڑے بچے کو میں کی آواز دے کر بلاتی ہے اور کسی پہاڑی کے نکے سے برونکے بھرتا ماں کی آواز پر لبیک کرتا پہنچ جاتا ہے۔مجھے ابو فاطمہ نے بڑے پیار سے کہا کہ کنونشن میں آنا ہے اس سے پہلے ایک دو فون آئے تھے کسی نے کہا تھا کہ کارڈ لے کر آئیں گے برادر بزرگ مرحوم امتیاز گجر کے دوست جناب عبدالباری کا فون بھی تھا۔میں میزبانوں کی سستی کے باوجود تیار تھا کہ ایبٹ آباد گجر کنونشن میں جاؤں رات کو کسی جگہ اکٹھے تھے بھانجے عابد مختار گجر سے کہا تھا گاڑی تم چلا لے جانا میں ایبٹ آباد جاؤں گا۔لیکن ہوا یہ کہ صبح اطلاع آئی نوجوان کے پیٹ کے ہاتھوں مجبور بیت الخلاء سے باہر ہی نہیں آ رہا اور یوں میں اس کی بسیار خوری کی زد میں آ گیا ۔میں نے اپنی تقریر کے خدوخال بنا رکھے تھے سوچا تھا کہ گیا تو اپنے ان لوگوں سے بات کروں گا کہ خدا را اپنی شناخت بنائیں میرا دل چاہ رہا تھا کہ انہیں کل کے ہاکی میچ کی داستاں سناؤں کی شکیل عباسی جب گیند لے کر دشمن کی صفوں میں گھسا تو انگریز کمنٹریٹر عباسی عباسی کر رہا تھا۔مجھے دلی خوشی ہوئی کہ فرزند کوہسار مری کا بیٹا پنڈی میں پلنے والا عباسی اپنے قبیلے کی آنکھ کا تارا تو تھا ہی اس نے اپنی برادری کا نام بلند کیا۔مجھے سچی بات ہے رشک بھی آیا کہ اس سے پہلے اور اب بھی پاکستان کی ٹیموں میں چاہے وہ کرکٹ کی ہوں یا ہاکی کی ہمارے لوگ اپنے نام کے ساتھ گجر کیوں نہیں لگاتے۔ہم تو دشمن کی صفوں میں کبھی میجر طفیل شہید کی شکل میں گھسے کبھی بلال اکبر کی شکل میں کراچی میں لسانیت پرستوں کو جڑ سے اکھاڑنے میں کامیاب ہوئے مگر کسی کو علم نہیں کہ یہ گجر ہیں۔میں آج ایبٹ آباد میں ہوتا تو یہ کام ضرور کرتا کہ سب سے عہد لیتا کہ اپنے ناموں کے ساتھ گجر لکھا کریں۔عباسی،راجے،کیانی،قریشی،اعوان ہر جگہ آپ کو ملیں گے کوئی گجر ملے گا تو نام ہو گا چودھری،میاں،سردار،ملک اور جانے کیا کیا لکھیں گے ایک گجر نام نہیں لکھیں گے۔میری قرارداد یہی ہوتی دوسری اہم بات گجر ازم کی کرتے ہوئے میں اس بات پر ضرور زور دیتا کہ نام تو لکھا جائے مگر کام وہ کیا جائے جو ایک مارشل قوم کیا کرتی تھی مظلوم کی آواز بنیں اور اسے سہارا دیں جب کوئی گرا ہوا ہو تو اسے یہ نہ پوچھیں کہ کون سی برادری ہے کس قوم سے تعلق ہے اور کہاں کے رہنے والے ہو وہاں ایک مسلمان بن کے اسے دکھائیں۔میں جب بھی گجر کی بات کرتا ہوں میرے سامنے میری قوم کے آئیڈیل ایک شخص آتے ہیں وہ ہیں چودھری رحمت علی گورسی مرحوم جنہوں نے اس ملک خداداد کو نام ہی نہیں الگ وطن کا خواب بھی پیش کیا۔قارئیں اس بات کو یاد رکھیں جب ۱۹۱۵ میں چودھری رحمت علی الگ وطن کی بات کر رہے تھے اس وقت بر صغیر پاک و ہند میں اتحاد بھائی چارے اور یگانگت کی بات کی جاتی تھی انہی دنوں میں جناب قائد اعظم ہند و مسلم اتحاد کے سفیر کہلوائے جاتے تھے اقبال مسئلہ ء قومیت اور چین و عرب کے اتحاد کا داعی تھے وہ ہندوستان کے اندر رہ کر محدود آزادی کی بات کیا کرتے تھے ۱۹۴۰ بعد میں بہت بعد میں قرارداد پاکستان پاس ہوئی اس میں بھی میں ہندوستان کے اندر آزادی کی بات ہوئی اسے قرارداد لاہور کہا گیا جو بعد میں ہندو پریس نے قرار داد پاکستان کا نام دیا۔کسی نے سچ کہا تھا یہ نفرت پھیلانے والے ہندو ہی تھے جنہوں نے پاکستان بنایا۔چودھری رحمت علی کی فکر کا پاکستان بنا اور اب بچانا اس قوم کی ذمہ داری بنتی ہے جو اس کی خالق ہونے کا دعوی بھی کرتی ہے۔اسے استحکام پاکستان کے لئے ایک کاوش قرار دینے کی سعی کرتا۔جناب آفتاب احمد خان شیر پاؤ آج کے جلسے کے مہمان خصوصی بھی تھے ایک لحاظ سے قومی وطن پارٹی کے صدر نے گجروں کے اس کنونشن میں اپنے امیدوار بھی نامزد کئے میں ہوتا تو شائد اسے یک طرفہ نہ جانے دیتا قومی شعور کی بات کرتا اور لوگوں کو موقع دیتا کہ وہ اپنی سوچ اپنی فکر کے مطابق فیصلہ کرتے۔

مجھے سچ پوچھیں پی ٹی آئی سے جنوں کی حد تک پیار ہے مگر ان پاکستانی پارٹیوں کے ذمہ داران میں بیٹھ کر میں ان کا محاسبہ ضرور کرتا جو برادری کو اپنی کامیابی کی سیڑھی تو سمجھتے رہے مگر اس کے لئے کچھ نہیں کر سکے۔آج چودھری رحمت علی اسی جگہ دفن ہیں جس جگہ جعفر اقبال گجر ڈپٹی اسپیکر بنے اور چودھری رحت علی کی قبر وہیں ہے جہاں شیر پاؤ وزیر داخلہ سردار یوسف کئی مرتبہ وفاقی وزیر چوھدری امیر حسین سپیکر چودھری اقبال پانچ بار وزیر جنرل سوار خان ڈپٹی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بریگیڈئر صاحبداد خان وزیر جیل خانہ جات چودھری سلطان علی وزیر خوراک چودھری ستار وریو وفاقی وزیر چودھری اختر علی وریو وزیر غرض کس کس کا نام لوں اور کس کا نہ لوں یہ سب آئے واسکٹیں شیروانیاں ٹوپیاں جناح کیپیں پہن کر آتے رہے کھاتے رہے حکمرانی کرتے رہے گجروں کی محفلوں میں گئے تو سب گجروں ے بلاتفریق انہیں سر پر اٹھایا میں آج ہوتا تو ان سے ضرور پوچھتا کہ سردار یوسف صاحب آپ نے اس گجر قوم کے نام پر برسوں عزت کمائی آپ کی انگلی پکڑ کر چلانے والا میاں ولی الرحمن اس کے قبیلے کے شفقت میاں کو کیا دیا اس کا گلہ تھا کہ گجر لیڈر تو بن گئے مگر مانسہرہ میں ان کے اندر سے سیدوں سواتیوں اور اعوانوں کا ڈر اب بھی نہیں گیا اب بھی گجر پسماندہ ہیں اب بھی ان کی کوئی نہیں سنتا۔مجھے اپنے اس دوست سے کوئی گلہ نہیں مگر یہ دکھ ضرور ہے کہ وزارت مذہبی امور میں جو انھی مچی ہوئی تھی اس کا تدارک کیسے ہوا؟کیا کامران بٹ جو حامد سعید کاظمی کے دور میں لوٹتا تھا اس کی چھٹی ہوئی بحراﷲ ہزاروی کی موجیں ختم ہوئیں پراؤیٹ ٹور آپریٹرز کو کوٹہ کیسے دیا جاتا ہے۔یہ سارا کچھ اس وجہ سے معاف نہیں کیا جاتا کہ وزیر گجر ہیں۔سچ پوچھیں اب تو چودھریرحمت علی کی روح بھی کہتی ہے کہ خدارا میرے نام پر سیاست بند کریں اور نہ ہی میری فوٹو کو آئیکون بنا کر ڈھنڈورہ پیٹیں اگر اس ملک خدادا میں دو قومی نظرئیے کی دھجیاں اڑانے والے کے سامنے یہ سرادران قوم ہاتھ باندھے نظر آتے ہیں تو مجھے چودھری رحمت علی کی روح کو تڑپتے دیکھنا اچھا نہیں لگتا۔کہاں کس جگہ انہوں نے چاپلوسی کی کدھر سرادر قوم لوہار قوم کے قدموں میں بیٹھا دکھائی دیا۔مت کیجئے کھلواڑ اس قوم کے ساتھ کہ جس کی عزت آبرو اس کی غیرت تھی۔چلائیے اپنی دوکان مذہب کے نام پر کسی اور نام پر خدارا اس قوم اس برادری کو گجروں کے نام پر مت بیچئے۔میں اگر ایبٹ آباد ہوتا تو شائد یہ سب کچھ سب کو اچھا نہ لگتا شائد میرے دوست اسے پسند نہ کرتے لیکن سچی بات ہے کہ سچ یہی ہے ہمیں کسی غیر نے تو لوٹا ہی تھا ہمارے اپنے بھی تھے۔میں اﷲ کے ہاں سر خرو ہوں جو کچھ اس نے دیا میں نے مسلمانوں،پاکستانیوں،گجروں اور فیملی کے لئے جو ہو سکا کیا۔مجھے گنوانے کی ضرورت نہیں پھول کی اپنی خوشبو ہوتی ہے اور وہ بتایا کرتی ہے لوگ اس بات کی گواہی دیں گے کہ خاکسار کیا کیا کر گیا۔

ایبٹ آباد کے کنونشن کی روداد مجھے کوئی بتائے یہ نہ بتائے اس کی خوشبو بھی مجھ تک پہنچی ہے۔یہ ایک اچھی کاوش تھی بعین جس طرح ارشد ضیاء شفیق چیچی کر رہے ہیں۔انجمن گجراں کی کاوش کو سلام آل پاکستان گجرز ایسوسی ایشن جس کا میں سر پرست بھی ہوں ہم نے کوشش کی ہے کہ قوم کے سلاران کو سیدھے راستے پر چلائیں۔چودھری رحمت علی پاکستان کی امانت ہے انہوں نے کسی گجرستان کی بات نہیں کی تھی۔

موضع لسن یو سی لنگڑیال کے محلہ کوپرہ میں ماموں نتھو کے گھر کے پچھواڑے میرا نام کندہ ہے شنید ہے وہ امین میں دب گیا ہے بعین اسی طرح جس طرح محبت کرنے والے ماموں ممانیاں ماسی مسیریاں اور مملیریاں محبتوں کو دفن کر چکی ہیں مگر محب زیر زمین ہو تو تار کو جگنوؤں کی مانند روشنی دیتی ہے ٹمٹماتی روشنیوں میں ماں کا پیار کبھی نہیں مرتا میں آج وہاں اپنی ایبٹ آبادی ماں کو بھی یاد کرتا جو نالہ نڑاہ سے پانی بھرتی بھرتی نلہ پہنچیں اور وہاں سے گجرانوالہ۔اور اب گجرانوالہ کے بڑے قبرستان میں اپنے خواند کے قدموں میں محو استراحت ہیں اب تو بڑا بیٹا بھی بلا لیا ہے۔کہتے ہیں کہ ہزارہ کی مائیں بد نصیب ہوتی ہیں کی جن کی اولادیں سات سمندر پار تک مدفون ہو جاتی ہیں میری تو ماں بھی پنجاب کی ہو کر رہ گئیں۔کاش کسی نے ان دکھوں کو چھیڑا ہوتا ہزارہ کی تاریکی میں میں جس کو موقع ملا اس نے اپنا حصہ ڈالا۔انگریز کے ٹوڈی تو تھے ہی لوئر ہزارہ میں ترینوں نے بھی کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ایک کفن اتارتا رہا دوسرا مردے کے حصہ ء مو ء خرہ کے ساتھ خشب دری کی وارداتیں کرتا رہا۔کاش کسی نے ہزارہ میں انڈسٹری لگائی ہوتی کاش ہزارہ کے سیاست دان ہزارہ والوں کا کچھ کرتے ہزارہ سرگی دا تارہ اپنوں کے ہاتھوں گیا ہے مارا۔اور اسی طرح ہمارے گجر لیڈر اپنی نالائقیقں کو دفن کر کے اپنی مجبور اور پسی ہوئی قوم کا کچھ کرتے۔میاں شفقت کی فاطمہ ابراہیم اور احمد کب اپنے گاؤں میں بجلی دیکھیں گے کب میاں ولی الرحمن محسن سرادر یوسف کا گھرانہ ان سے خیر پائے گا۔دوستو!میں آ نہ سکا لیکن یہ ضرور یاد رکھئے کہ بلانے کا فن آپ کو بھی نہیں آیا اگر سیکھنا تھا تو چودھری اختر سنبھڑیال بھوپال والہ سے سیکھتے۔ سرگی دے اس تارے کو اﷲ پاک لٹیروں سے بچائے ۔کنونشن مبارک ہو

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 407 Articles with 162957 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More
24 Apr, 2018 Views: 775

Comments

آپ کی رائے
یہ جو نیا مداری ہے یہ تو اک بیماری ہے باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری
بندے کو جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں اور اس کے تذکرے زمین و آسمان پر ہیں۔پاکستانی اینکر اس کے قصے سیاست دانوں کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔موصوف کی تصویریں اس کے ٹویٹ ری ٹویٹ ہو رہے ہیں۔گویا کوئی نیا چاند آیا ہے جس کی صد نبارکیاں دی جا رہی ہیں۔
موصوف کوئی جدی پشتی لیڈر نہیں بس اس کے پاس ایک گیدڑ سنگھی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف نیچنل بلکہ انٹر نیشنل میڈیا پر آیا اور چھا گیا۔منظور پشتین نام ہے اس کا اب آپ کہیں گے وہ کون سی گیدڑ سنگھی ہے جو اسے اتنا معروف کر گئی جس کے تذکرے ماروی سرمد،جیو،عاصمہ جہانگیر کی بیٹی غرض ہر اس عورت و مرد کے منہ پر ہیں جو اسلام پاکستان دو قومی نظریئے کا کھلا دشمن ہے۔اس نسخہ ء جان فزاء کا ذکر بعد میں کروں گا یہاں ایک خاتون کا ذکر کروں گا جو میری بہن جیسی ہے جس نے مشرف دور سے مسنگ پرسنز کی تحریک چلا رکھی ہے جس کا شروع دن سے سپورٹر ہوں آمنہ مسعود جنجوعہ وہ بہن ہیں جن کے سر پر چادر اوڑھوا چکا ہوں ہم گجروں میں ایک ریت رواج ہے کہ جسے بہن کہتے ہیں اسے چادر تحفے میں پیش کرتے ہیں۔کوئی چار سال پہلے عابد مختار گجر اور میں ان کے اس دفتر میں گئے تھے جو ان کے مسنگ خاوند نے صدر میں کھول رکھا تھا گکھڑ پلازہ کے اس دفتر کو بیچ دیا گیا ہے یہاں وہ اسکول تھا جہاں ان کے کھوئے ہوئے خاوند بچوں کو پڑھاتے تھے آمنہ کی تحریک میں ایک کمی تھی اور یہی کمی ہے جس کا میں نے اپنے کالم میں ذکر کیا ہے۔ اس نے اس ساری جد وجہد میں فوج کو گالی نہیں دی پاکستان کو برا بھال نہیں کہا۔پشتین وہ لگر بگڑ ہے جو فوج کے مارے ہوئے شکار پر بندوق تان کر کھڑا ہے یعنی وانا وزیرستان فاٹا کراچی میں مرے فوج اور بھنگڑے ڈالے یہ پشتین۔شیر کے مارے ہوئے شکار پر اکڑنے والے اس لگڑ بگڑ کو کیا کہیں اسے وہ گیدڑ ہی کہا جا سکتا ہے جو کہہ رہا ہے کہ پشتون فوج اور ٹی ٹی پی سے پس رہے ہیں اس کو کوئی سمجھائے ماما تو پہلے کدھر تھا جب سوات فاٹا وزیرستان کراچی میں اف کرنے کی بھی ممانعت تھی؟
آمنہ مسعود جنجوعہ نے ان بے زبانوں کو آواز دی جن کے خاوند جن کے بچے غائب تھے۔اس نے صدارتی محل کے باہر بھی چیخ و پکار کی اور سڑکوں پر بھی آمنہ کے مظاہروں میں میں بھی شریک ہوتا رہا۔اس کا مقابلہ اس وقت کے ڈکٹیٹر مشرف سے تھا وہ مشرف جو ڈالر لے کر پاکستان کے بیٹے فروخت کرتا رہا۔احتجاج جاری رہا اس میں کئی بار میاں اسلم ابراہیم پراچہ نواز شریف عمران خان بھی شریک ہوئے قاضی حسین بھی شامل تھے لیکن اس کی آواز بیٹھ گئی اسے کسی نے نہیں سنا کوئی ماروی کوئی فرزانہ باری کوئی ہود بھائی اس کی مدد کو نہیں پہنچا۔لیکن کیا وجہ ہے کہ پشتین کی آواز وائس آف امریکہ بی بی سی اور وائس آف جرمنی کے ساتھ ہمارے میڈیا پر سنائی دی گئی موچی دروازے میں ان کے جلسے میں پانی چھوڑا گیا۔اصل بات یہ نہیں تھی کہ پانی چھوڑا گیا اصل وجہ یہ تھی کہ یہ خبر دنیا بھر میں پھیلائی جائے حضور بات لمبی نہ ہو جائے قصہ یہ ہے کہ جو گیدڑ سنگھی منظور کو ملی ہے اور وہ ہے ملالہ یوسف زئی والی گیدڑ سنگھی جس میں پاکستان کی فوج کو گالی دی جاتی ہے مجھے کسی سے کیا لینا دینا میں تو اپنی بجاتا ہوں اپنی آواز ہے میری چاہے طوطی کی آواز ہو ہے تو اپنی۔یہ سارے تماشے یہ سارے فراڈ ان کے پیچھے امریکی ڈالر ہیں جو وہ ہمارے میڈیا پر خرچ کر رہا ہے۔اب یاد آئی اس پشتین کو کہ وہ پشتونوں کا نقیب بن کر سامنے آیا ہے۔میں اس روز نقیب اللہ محسود کے دھرنے میں گیا میں نے پختون ازم کی بو سونگھ لی تھی اور وہ ویڈیو ریکارڈ پر ہے جس میں کہا تھا کہ یہاں مسئلہ پختون غیر پختون کا نہیں مسئلہ یہ ہے کہ ظالم مظلوم کے اوپر انھے واہ ظلم کر رہا ہے۔مجھے ان بلوچوں سندھیوں پنجابیوں ہزارے والوں کا بھی خیال آتا ہے جو گمنام راہوں پر مار دیئے گئے جنہیں کسی نے یاد نہیں کیا جو کراچی سے بوریوں میں بند ہو کر گھروں میں پہنچے۔کسی کو یاد ہے اس دہشت گردی کے خاتمے میں کون کون مارے گئے اور اس غنڈہ گردی دہشت گردی کے خاتمے میں کس ادارے نے کام دکھایا۔منظور پشتین اور آمنہ مسعود جنجوعہ کے درمیان فرق یہ ہے کہ آمنہ نے فوج کو گالی نہیں دی اس بے سہارا بہن نے اپنے خاوند اور دیگر لوگوں کے لئے عدالتوں میں جانا گوا را کیا۔منظور پشتین کی گیدڑ سنگھی فوج کو گالی دینا ہے عدالت کو گالی دینا ہے۔آئیں اس سے پوچھتے ہیں کہ جو الزام عدلیہ پر لگایا کہ تم تو خوبصورت ہو یہاں عدالت میں کسے تلاش کرتی ہو میرے ساتھ شادی کر لو۔یہ جملہ ایک ایٹم بم سے کم نہیں یہ پشتین اور اس کے ساتھی کہہ گئے مگر انہیں علم نہیں کہ پاکستان کے عوام اپنی عدالتوں پر اعتماد کرتے ہیں لاکھ چیف جسٹس کہتے پھریں کہ انہیں کسی یک جہتی کی ضرور نہیں لیکن حضور ہم اظہار یک جہتی آپ سے نہیں ان فیصلوں سے کر رہے ہیں جو آپ دے رہے ہیں آج جسٹس منیر بن جائیں آپ کے لئے عمران خان ہزار پکاریں کوئی ایک بندہ بھی نہیں نکلے گا۔
آمنہ مسعود اور منظور پشتین کی جد وجہد میں ایک فرق اور بھی ہے آمنہ کے ساتھ چند سر پھرے تھے جن میں سید مودودی کی فکر سے متآثر میرے جیسے چند لوگ اور خود جماعت اسلامی کے وہ لوگ جو سود و زیاں سے بے فکر تھے۔لیکن منظور پشتین کے سرے محمود اچکزئی سے ملتے ہیں وہ اچکزئی جو لسانیت پرست جماعت کا سربراہ ہے دوسرے معنوں میں وہ دوسرا الطاف حسین ہے۔اور اس کے علاوہ ایک گروہ وہ ہے جس کی سربراہی نواز شریف کرتے ہیں یہ مطلب پرست نواز شریف وہی ہے جس نے آمنہ مسعود کے سر پر ہاتھ رکھا اور جب اقتتدار میں آیا تو اس کے سر سے چادر چھین لی اسے سڑکوں پر گھسیٹا۔مراد یہ ہے کہ نواز شریف اقتتدار کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے پاؤں بھی پڑ سکتا ہے اور گلہ بھی پکڑ سکتا ہے۔نواز شریف نے ایک بار کہا تھا کہ یہ لکیر ویسے ہی ہے اور ہم بھی اسی رب کو پوجتے ہیں جس کو بھارتی پوجتے ہیں۔اس کے لئے منظور پشتین کے کفیل محمود اچکزئی کو اپنا سیاسی گرو ماننا ایسے ہی ہے جیسے قائد اعظم محمد علی جناح گاندھی اور نہرو کو اپنا لیڈر مان لیتے۔میں اپنی تحریروں میں کہہ چکا ہوں کہ میاں نواز شریف حد ذات سے باہر دیکھنے کے قائل نہیں ہیں میں نے کئی بار کہا کہ مدینہ کے موہن سنگھ اوبرائے ہوٹل کے ایک ہال میں میاں صاحب میرے سامنے فوج کے بارے میں انتہائی غلیظ کلمات کہہ چکے ہیں اور یہاں یہ بھی لکھ دوں کے زہر ہلا ہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند منہ پر جواب دے مارا کہ حضور ایک حوالدار قابو نہیں آتا آپ پوری فوج کی تذلیل کر رہے ہیں گواہی چاہئے مسعود ملک جو اے پی پی پی کے سربراہ ہیں موجود تھے لاہور کے چودھری حنیف تھے۔میں جو فوج فوج کرتا ہوں اس لئے نہیں کہ میں پنڈی وال ہوں صاحب مجھے علم ہے کہ یہ ادارہ کمزور ہوا تو میری نسل ٹھوکریں کھائے گی۔ہم نے کب کہا ہے کہ مارشل لاء لگے لیکن یہ بھی تو نہیں چاہتے کہ مودی کے پاؤں میں بیٹھیں آپ اور ہم چاٹیں آپ کے تلوے ایسا نہیں چلے گا نواز شریف صاحب۔ہماری داستانیں زمانہ جانتا ہے کہ مشرف کی جیل کاٹی جمہوریت کے لئے اور مشرف کو تخت سے اتارا صاف پتھر مار کر کسی اسد درانی اور کرنل طارق سے نہیں ڈرے۔نہ معافی مانگی اور نہ ہی بلک بلک کے روئے۔کیا ہوا سعودی عرب سے اجڑ کر آئے مگر زندہ ہیں ناں اور باوقار زندہ ہیں کدھر ہیں وہ جو اپنے آپ کو خدا سمجھتے تھے لیکن یہ تو نہیں ہو سکتا کہ پورے ادارے پر کالک ملیں۔منظور پشتین کی پشت پر آپ ہیں میاں صاحب آپ جناب محمود اچکزئی جن کا سارا گھرانہ کھا پاکستان کا رہا ہے اور اسی کی تھالی میں چھید کر ہرا ہے۔مجھے تو سچی بات ہے بار بار پشتین کا نام لے کر شرم محسوس ہو رہی ہے یہ ملالہ کا دوسرا رخ ہے یہ عبید شرمین سلمان رشدی تسلیمہ نسرین ضیاء الدین شکیل آفریدی عاصمہ جہانگیر ماوری سرمد فرزانہ باری ہود بھائی طاہر عبداللہ ہے۔قوم کو علم ہو چکا ہے یہی وجہ ہے کہ میڈیا کی مضبوط سپورٹ کے باوجود اس ننگ وطن کا کوئی مقام نہیں۔اللہ بھلا کرے سوشل میدیا کا جس نے جعلی تصویروں کے بل بوتے پر جاری پراپوگینڈے کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔یہ منظور تو نامنظور ہے۔یہ جو نیا مداری ہے یہ تو اک بیماری ہے۔
By: Iftikhar, Rawalpindi on Apr, 24 2018
Reply Reply
0 Like