آخری لوگ

(Hania iqbal, Lahore)

ہم کتنے خوش نصیب لوگ ہیں ، کیونکہ ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے مٹی کے بنے گھروں میں بیٹھ کر پریوں کی کہانیاں سنیں ، ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے بچپن میں محلے کی لکڑی کی بنی چھتوں پہ اپنے دوستوں کیساتھ روایتی کھیل کھیلے ، ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے لالٹین کی روشنی میں ناول پڑھے ، جنہوں نے اپنے پیاروں کیلیئے اپنے احساسات کو خط میں لکھ کر بھیجا ، ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے بیلوں کو ہل چلاتے دیکھا جنہوں نے کھلیانوں کی رونق دیکھی ، ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے مٹی کے گڑھوں کا پانی پیا ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے عید کا چاند دیکھ کر تالیاں بجائیں ، ہمارے جیسا تو کوئ نہیں کیونکہ ہم وہ آخری لوگ ہیں جو سر پہ سرسوں کا تیل انڈیل اور آنکھوں میں سرمہ لگا کر شادیوں پہ جاتے تھے ، ہم وہ لوگ ہیں جو پلاسٹک کے جوتے پہن کے گلی ڈنڈا کھیلتے تھے ، اور گلے میں مفلر لٹکا کے خود کو بابو سمجھتے تھے ، ہم وہ دلفریب لوگ ہیں جنہوں نے شبنم اور ندیم کی ناکام محبت پہ آنسو بہائے اور جہانگیر خان اور جانشیر خان کو نکمے ترین انسان سمجھتے رہے ، ہم وہ بہترین لوگ ہیں جنہوں نے تختی لکھنے کی سیاہی گاڑھی کرنے کیلیئے دوات میں چینی پھینکی ، جنہوں نے سکول کی گھنٹی بجانے کو اعزاز سمجھا ، ہم وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنہوں نے رشتوں کی اصل مٹھاس دیکھی ہمارے جیسا تو کوئی بھی نہیں ،
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hania iqbal

Read More Articles by Hania iqbal: 5 Articles with 3052 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Apr, 2018 Views: 1404

Comments

آپ کی رائے