نیند کیوں نہیں آتی، چند مشورے

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: شبانہ رمضان ، جتوئی
انسان اگر دنیا پر نظر دورائے تو اﷲ تعالی کی کاری گری میں کوئی ایسی چیز نظر نہ آئے گی کہ جس میں انسان کے لیے کوئی نعمت نہ ہو۔ ہر طرف انسان کی خوشحالی کا سامان ہی نظر آتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اپنی ’’لا ریب کتاب‘‘ میں پیش بہا خزانے چھپا رکھے ہیں۔ جو ایسے جواہر اور موتی ہیں جس کی قیمت اور اہمیت کا مسلمان انکار نہیں کرسکتا۔ کیوں کہ آج کے مسلمان سے تو غیر مسلم بھی ترقی کی منازل طے کرتے جارہے ہیں اور ان کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اسی کتاب اﷲ کا مطالعہ کیا جسے آج کا مسلم چھوڑ چکا ہے۔اگر مسلمان بھی اس کتاب کا مطالعہ کرتے تو پستی اور پریشانی کا شکار نہ ہوتے۔

یورپین ممالک کی جانب سے نیند پر بے شمار ریسرچ سامنے آتیں رہیں تاہم اگر ہم قرآن سے رہنمائی لیں تو اﷲ تعالیٰ نے نیند کے فوائد ہمیں پہلے بتادیے ہیں۔ نیند انسان کی بنیادی نعمتوں میں سے ایک انمول نعمت ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: ’’اور ہم نے تمہاری نیند کو آرام کا ذریعہ بنایا ہے‘‘۔ یقینا آرام ہی انسان کے دن بھر کے نظام کو چلاتا ہے۔ایک اور مقام پر ارشاد ہوا ’’ میں تمہارے لیے رات کو بچھونا بنایا، تاکہ تم اس میں سکون اور آرام کرسکو اور دن کو روشنی کی تاکہ اس میں روزی کی تلاش کرسکو‘‘۔

بد قسمتی سے بے شمار لوگ اس نعمت سے محروم ہیں۔ ان محرومین میں سے کچھ تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے خود ہی اپنے آپ کو اس انمول نعمت سے محروم کیا ہوا ہے۔ جیسے کہ وہ لوگ جو رات رات بھر فیس بک، موبائل یا دیگر غیر ضروری محافل میں اپنا وقت برباد کر کے رات بھر جاگتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق آئی فون یا اسکرین کی شعاعیں انسان کے دماغ میں موجود نیند دینے والے نظام کو متاثر کرتی ہیں۔ یہ وہیں شعاعیں جن کے بعد انسان کی نیند آٹومیٹک اڑ جاتی ہے۔ جس کے بعد بیشتر افراد رات بھر کروٹیں بدلتے رہتے ہیں تاہم انہیں نیند نہیں آتی۔ اگر آپ کی روٹین ہے اور اس روٹین کے مطابق آپ نیند کرتے ہیں تو وہ وقت آتے ہی آپ کو خود با خود نیند آنے لگتی ہے۔ مگر جب آپ اس وقت خود کو موبائل، آئی فون یا لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر کی اسکرین پر ضائع کرتے ہیں تو نیند کا نظام درہم برہم ہوجاتاہے۔

اسلام نے عشاء کی نماز کے فورا بعد سونے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے پر سکون نیند کے لیے لازم ہے کہ جلد از جلد سویا جائے۔ وقت پر نیند کرنے سے نہ صرف انسان ترو تازہ رہتا ہے بلکہ دماغ بھی فریش ہوتا اور بہت کچھ بہتر سوچنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ویسے بھی طالبعلموں کو جلد سونا چاہیے کیوں اس سے ان کی تعلیمی صلاحیتوں پر اثرات نہیں پڑتے۔ ورنہ جو بچے دیر تک جاگتے ہیں وہ تعلیم حاصل کرنے میں بہت کمزور ہوتے ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1232 Articles with 503543 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Apr, 2018 Views: 595

Comments

آپ کی رائے