”پارلیمنٹ سپریم ہے “ کے زُعم میں مبتلا نا اہل اور نا عاقبت اندیش سیاستدانوں کا طرزِ عمل (۳)

(Sarwar, Lahore)

(۲) درویش صفت مفتی محمود کی وفات کے بعد ان کی پارٹی کی امارت حقِ جانشینی کے تحت مولانا فضل الرحمٰن کے حصہ میں آئی۔ انہوں نے ہرآنے والی حکومت سے خوب مفادات حاصل کئے۔ صدرر مشرف نے ریٹائرڈ فوجیوں کے لئے مختص اراضی میں سے کئی سو کنال مولانا صاحب کو الاٹ کی۔ وہ اراضی کس مقصد کے لئے ملی اور اب کہاں ہے؟ کسی کو معلوم نہیں۔ مولانا کو مولانا ڈیزل بھی کہا جاتا ہے۔ اگریہ لقب یا خطاب کسی اچھے کام کی وجہ سے ملا تو اس نام سے پکارے جانے پر مولانا کو سیخ پا ہونے کی ضرورت نہیں۔ مگرایسا نہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے۔حکومتیں آتی جاتی رہیں مگر مولانا کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی کرسی پر جمے رہے۔ کارکردگی صفر مگر سہولتیں پوری!! اب تو مقبوضہ کشمیر سے بھی آوازیں آتی ہیں کہ مولانا صاحب یہ کرسی چھوڑدیں۔ مگرکیوں؟ اسلام آباد میں 17 اپریل 2018 کو نا اہل نوازشریف کی زیرِ صدارت ” وو ٹ کو عزت دو “ سیمینار میں تقریرمیں جوہرِ خطابت میں سپریم کورٹ پاکستان کے تاحیات نا اہلی کی سزا پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا صاحب نے دین میں سزا اورمعافی کیتشریح اپنے حساب سے کردی۔ اگرمعافی اتنی ہی آسان ہے تو میں ان سوالات کا جواب مولانا سے چاہوں گا:
(الف) حضرت محمد ﷺ نے ایک صحابی کو کسی علاقہ میں زکوٰۃ اکٹھی کرنے بھیجا۔ اُس نے واپسی پر سارامال جمع کرانے کی بجائے کچھ مال اپنے پاس یہ کہہ کر رکھ لیا کہ اُس علاقہ والوں نے ان کی ذات کے لئے دیا تھا۔ اللہ کے نبی ﷺنے وہ مال بھی لے لیااورفرمایا (مفہوم)کہ اگرتم مدینہ میں رہتے توپھر وہ مال تمہیں کیسے ملتا؟ مو لانا صاحب یہ مال بحقِ سرکارضبط کیوں کیا گیا؟ کیا نوازشریف پر یہ حکم لاگو نہیں ہوتا یا اُسے کھلی چھٹی دے دی جائے کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خزانہ میں سے جتنا چاہے اپنی ذات کے لئے نکال لے، اس کو ملک میں رکھے یا بیرونِ ملک کارخانے لگائے یا بچوں کے نام پرجائیدادیں خریدے او پھر اپنی بے گناہی کا ڈھنڈورا بھی پیٹے!!
(ب) غزوۂ القریٰ میں آپ ﷺ کا غلام ماتھے پرتیرلگنے سے مر گیا۔ صحابہ کرام کے خیال میں وہ شہید اورجنتی تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: َ نہیں، وہ دوزخی ہے۔ صحابہ کرام اس بات پر سخت حیران تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اس نے مالِ
غنیمت میں سے ایک چادر چرائی تھی“۔ اُس غلام کی سزا کی معافی کے لئے آپﷺنے اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں مانگی۔دنیا میں ملنے والی کوئی بھی سزا اِس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔ تاہم دوزخ میں کتنی دیررہے گا؟ مدت کا کوئی پتہ نہیں!!
(ج) اسی طرح کا ایک واقعہ غزوہ خیبر میں بھی پیش آیا۔ اُس موقع پر بھی آنحضرت ﷺ نے اسی طرح کی سخت وعید سنائی۔
(چ) عقیل نامی ایک صحابی نے ایک غزوہ میں مالِ غنیمت میں سے بلا اجازت ایک سوئی لے لی۔ اللہ کے نبی ﷺ کا اعلان سن کر وہ سوئی فوراََ واپس کردی۔
(ح) ایک غزوہ میں ایک صحابی نے مالِ غنیمت میں سے بالوں کا گچھا لے لیا مگر نبیﷺ کی طرف سے اعلان پر ”مالِ غنیمت میں دھوکہ انتہائی شرمناک اوررسواکن ہے اورقیامت میں جہنم کی آگ کا کام کرتاہے۔“ بالوں کا گچھا واپس کر دیا۔
(خ) غزوۂ حنین میں حضرت ابو جہم رضی اللہ عنہ مالِ غنیمت کے نگران تھے۔ منع کرنے کے باوجود حضرت خالد ابن برصا ء نے اس ڈھیر میں سے بالوں سے بنی ایک رسی لگام کے للئے لے لی۔ بات بڑھ گئی اور حضرت ابو جہم رضی اللہ نے کمان سے حضرت خالد ابن برصا ء کا سر زخمی کر دیا۔ معاملہ آپ ﷺ تک گیا۔ خالد ابن برصا ء نے بدلہ پر اصرار کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”۔۔ میں تمہیں ایک ذمہ دارنگران اورناظم سے ہر گز بدلہ نہیں لینے دوں گا۔“
(د) اس کے علاوہ بھی اسلامی تاریخ میں بے شمار مثالیں ہیں جہاں حاکم، نگران اور عمالِ حکومت کا ایماندار، صادق اور امین ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ قاضی القضا ۃ کی عدالت میں خلفاء راشدین پیش ہوتے اور اپنے خلاف فیصلوں پر عمل بھی کرتے آئے ہیں۔ کرپٹ عمالِ حکومت کا محاسبہ کرنا بھی حکمرانوں کی ذمہ داری تھی مگر افسوس کہ نا اہل نواز شریف نے نہ
اپنے آپ کو ٹھیک کیا نہ دوسروں کو روکا۔ یہاں گنگا ہی اُلٹی بہتی رہی ہےَ اور وہ بھی فضل الرحمٰن صاحب اورپوری پارلیمنٹ کے سامنے!!
فضل الرحمٰن صاحب آ پ میری رہنمائی فرمائیے!صحابہ کرام جہاد جیسے عظیم عمل کے لئے آنحضرت محمد ﷺ کی معیت میں غزوۂ یا سرایا یا کفر واسلام کے درمیان لڑائی میں شرکت کرنا اور شہید ہو جانا، جنت جانے کا سب سے بڑا شارٹ کٹ ہے۔ شہید زندہ ہے اور اپنے رب کے ہاں رزق حاصل کرتا ہے۔ شہادت جیسی عظیم سعادت کی تمنا ہر صحابی کے دل میں کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ ایک معمولی سی رسی یا چادر چوری کرنے پر اللہ تعالیٰ اتنی بڑی سزا دیتے ہیں تو مولانا صاحب، پھر کیا نواز شریف کا عمل بطور حاکم خیانت، چوری، قومی دولت کو بے دریغ اپنے ذاتی مصرف میں لانا، منی لانڈرنگ کے ذریعہ غیر ممالک میں فیکڑیاں لگانا اور جائیدادیں بنانا اور پکڑے جانے پر عدلیہ اور قاضی القضا ۃ کےخلاف خطرناک حد تک ذلت آمیز خیالات کا بر ملا اظہاراسلام کی رو سے قابلِ گرفت نہیں؟۔ کیاان کو دوبارہ ایسی کوئی ذ مہ داری دی جا سکتی؟ اگر نوازشریف کو ملنے والی سزا آپ کی نظر میں غلط ہے تو پھر سیرت النبی، احادیث، اور اسلامی تاریخ کی ان درخشندہ روایات کو ہم کہاں رکھیں؟ کیا یہ سب صرف پڑھنے کے لئے ہیں یا ان پر عمل بھی کیا جا سکتا ہے؟
(ڈ) مینارِ پاکستان پر پی ٹی آئی کے جلسہ بارے فرمایا: یہ جلسہ فلاپ ہو گیا، وہاں صرف بلبوں اور قمقوں کی روشنی تھی، پی ٹی آئی کے ۱۱ پوائنٹ فضولیات تھے وغیرہ وغیرہ۔ اگر فضل الرحمٰن صاحب حقیقت پر مبنی بیان دے دیتے تو شائد نا اہل حکمرانوں کو ناگوار گزرتا!! مشرکینِ مکہ ہمارے نبیﷺ کو صادق اور امین کے نام سے پکارتے تھے۔ کیونکہ آپﷺ ہمیشہ سچی اور حق پر مبنی بات کرتے تھے۔ امت کے ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ رائے دیتے وقت حق اورسچ بولے۔ مولانا صاحب آپ ہر حکومت کو سپورٹ کرتے رہے ہیں۔ آج ملکِ پاک کی جو بھی حالت ہے اُس میں آپ نے حصہ ڈالا ہے۔ کبھی تو حکومت کو کھری کھری سنا یا کریں۔
(ذ) فاٹا کو صوبہ بنا کر قومی دھارے میں شامل کرنے کی مخالفت آ پ صرف اورصرف سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لئےکررہے ہیں۔ مقصد براری کے لئے آپ کی پشتو والی تقریرزہر میں بجھی ہوئی تھی۔ آپ یقیناَ انگریز دور کی مثالیں َ دے کر نوجوانوں کو اکسا رہے تھے کہ وہ اس ادغام کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں۔ کیاوجہ ہے کہ ماسوائے اسفند یار ولی، عبد الصمد اچکزئی اورآپ، باقی سب لوگ اس ادغام کے حق میں ہیں؟ ایسا کرکے آپ لوگ ملک کی کونسی خدمت کر رہے ہیں؟ یہ طرزِ عمل ملک کے لئے زہر ِ قاتل ہے!! مگر شائد آپ نے دام بڑھانے کے لئے ایسا کیا ہو۔
(ر) کئی سال پہلے بھارت کے ساتھ دوستی بس کا آغاہوا تھا۔ سب سے پہلی بس پر آپ بھارت تشریف لے گئے!آپ نہ ہی وزیر ٹرانسپوٹ، نہ وزیرِ خارجہ اور نہ ہی وزیرِ داخلہ اور نہ ہی وزیرِ مذہبی امور واوقاف تھے۔ سمجھ نہیں آتی آپ کس حثیت میں بھارت تشریف لے گئے تھے؟ آپ نے کشمیر کے بارے میں کس سے بات کی تھی؟
٭ ” ووٹ کو عزت دو “ کے نعرہ پر عمل کرتے ہوئے غیر منتخب شدہ مفتاح اسماعیل کو بجٹ تقریروالے دن وزیرِ خزانہ بنایا گیا۔ گویا کہ حکمران جماعت خود تسلیم کر رہی تھی کہ اُن کے پاس کوئی بھی ممبر پارلیمنٹ اہل نہیں جو وزیرِ خزانہ بن سکے!! یہ ہے ”پارلیمان سپریم“ کی بہترین مثال!! یا برطانیہ یا بھارت یا امریکہ میں کبھی ایسا ہوا؟
٭ سپریم کورٹ کے ہاتھوں نا اہل ہونے والا کرپٹ نوازشریف اور اس کی نا پختہ ذہن کی حامل بیٹی مریم صفدر کئی مہینوں سے سوشل میڈیا، عوامی جلسوں اور پریس کانفرسوں میں ببانگِ دہل اعلان کررہے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کہیں اور جگہ لکھے جا رہے ہیں۔ نا اہل نواز شریف کی یہ رٹ ”میرے سینہ میں بے شمار راز ہیں، وقت آنے پرپردہ اُٹھاؤں گا“ ذوالفقار بھٹو والی پالیسی کا پَرتو ہے جب وہ کئی سالوں تک کہتارہا ” میں بتاؤں گا تاشقند میں کیاہوا “ وہ عوام کے جذبات سے کھیلتا رہامگرکچھ نہ بتاسکا!
٭ ’’پارلیمان سپریم ہے“ سے ووٹ لینے والا کٹھ پتلی وزیرِ اعظم عباسی کا بیان، اپنے نا اہل نواز شریف کی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ کی باز گشت ہے ” اب الیکشن کمیشن نہیں خلائی مخلوق الیکشن کرائے گی۔“ یہ الیکشن کمیشن پر عدم اعتماد اور عدلیہ اورفوج پر مداخلت کی طر ف کھلااشارہ اورالزام ہے۔ ایسا کرتے ہوئے در اصل انتخابات میں اپنی نا اہل قیادت، نا قص کارکردگی اورووٹر کو عزت نہ دینے جانے کی روش کی بناء پر نظرآنے وا لی واضح شکست کو ماننے کی بجائے اس کا ابھی سے جواز ڈھونڈاجا رہا ہےَ۔
٭ ’’سوئٹزر لینڈ کے بینکوں میں کئی عشروں سے پڑے ہوئے کروڑوں ڈالر، سرے محل اور اربوں ڈالر مالیت کی بیرونِ ملک جائیدادیں، سب غریب عوام کی خون پسینے کی کمائی کی لوٹ سے ہی بنے۔ ”پارلیمان سپریم“ ہے اس لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانے میں آج تک متحرک ہوئی؟
٭ نا اہل، کرپٹ، نا عاقبت اندیش سیاستدانوں کی وجہ سے ملک گھمبیر مسائل سے دوچار ہے۔ اور باتوں کے علاوہ بجلی کی قلت اورپانی کا بحرا ن دن بدن شدید سے شدید تر ہو تا جائے گا۔ کالا باغ ڈیم ا ن دونوں مسائل کا بہترین حل ہے مگر ”پارلیمان سپریم“ نے کبھی بھی اس کی اہمیت کو نہ سمجھا بلکہ اس کی ڈٹ کر مخالفت کی۔ہم اپنی اگلی نسلوں کو ایک ایسا ملک دے کر جانا چاہتے ہیں جو بجلی کی سخت قلت کا شکارہواورجس کے دریا اور نہریں ہمارے سیاستدانوں کی نالائقی اور کوتاہ اندیشی کا مرثیہ پڑھ رہے ہوں!!
٭ نا اہل سیاستدان ویسے تو ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی میں بہت ماہر ہیں۔مخالف پارٹیوں اوران کے سربراہوں کے خلاف ہر زہ سرائی کرنا عام معمول ہے۔ زبان سے نازیبا الفاظ نکالنا اور بازاری زبان استعمال کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ایسا لگتا ہے کہ ان میں سے اکثر انتہائی اجڈ اور اور گنوارہیں اور اس میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ مخالف کی گھریلو زندگی کو زیرِ بحث لانے میں کوئی شرم نہیں آتی۔ اخلاقیات اور معاشر تی اقدار ان کے پاس سے بھی نہیں گزریں۔ اگر کسی میڈیا ٹاک میں اکٹھے ہو جائیں تو تمام آداب محفل کو بالائے طاق رکھ کر صرف اپنی پارٹی کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے مخالف کی بات پر لڑنا شروع کردیتے ہیں۔ اخلاقیات کا جنازہ نکلتے ہوئے آپ آسانی سے دیکھ سکتے ہیں۔
٭ سپیکر قومی اسمبلی کی بار باراپیل کہ حکومتی ارکان حاضری یقینی بنائیں اور وزراء سوالات کے جوابات دیں۔ مگر حکومت نے کوئی اثر نہ لیا۔آخر کار ایک دن سپیکر صاحب کرسی چھوڑکر ایوان سے چلے گئے۔ یہ ہے ”ووٹ کو عزت دو اور پارلیمنٹ سپریم ہے “ کی بہترین مثال۔ ڈھونڈ کر لائیں ایسی کوئی مثال برطانیہ، بھارت یا امریکہ کی پارلیمنٹ سے!! اسی طرح کی صورتِ حال سینٹ میں پیش آ چکی ہے۔
٭ سیاستدان ویسے تو کسی مخالف کی بات پر متفق نہیں ہوتے ماسوائے اُس بل کے جو قومی اسمبلی میں اُن کی تنخواہ، ٹی اے، ڈی اے اور دیگر مراعات سے متعلق ہو۔ ”ووٹ کو عزت دو اور پارلیمنٹ سپریم ہے “ کی بہترین کی مثال پیش کرتے ہوئے اس بل کو فوراََ منظور کر لیا جاتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sarwar

Read More Articles by Sarwar: 66 Articles with 38948 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 May, 2018 Views: 350

Comments

آپ کی رائے