خلائی مخلوق۔۔۔عجب تماشا

(Amjad Siddique, Lahore)

نوازشریف اور بے نظیرکے ادوار بڑے عجب ادوارتھے۔دونوں پرجوش ۔خو د کو حق پر سمجھتے دوسرے کو جھوٹا قراردیتے دونوں ہمہ وقت ایک دوسرے کی راہ تنگ کرنے میں لگے تھے۔دونوں میں سے کوئی بھی نہ پورے حق پر تھا۔نہ پورے کا پورا جھوٹا۔دونوں نے ایک حصار قائم کررکھا تھااور اس سے باہر آنے پر آمادہ نہ تھے۔نوازشریف کو یہ سبق پڑھایاگیا تھاکہ پیپلز پارٹی ملک توڑنے والی جماعت ہے۔یہ اپنے اقتدار کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔یہ مغربیت زدہ جماعت اسلامی شعار کو مقدم نہیں سمجھتی۔مغرب اس جماعت کی آزاد خیالی کے سبب متوجہ ہے۔یہ جماعت ملک اور اسلام کے لیے چیلنج سے کم نہیں۔اس کی راہ روکنا قوم ریاست اور اسلام کی خدمت سے کم نہیں ۔بے نظیر کو یہ رٹایا گیا کہ اصل جمہوریت صرف اور صرف پیپلزپارٹی کانام ہے۔ باقی کسی بھی جماعت کا جمہوریت سے کچھ تعلق نہیں۔ان کی حکومت کو خلائی مخلوق کی حکومت تصور کرنا چاہیے۔ نوازشریف پی پی کے مخالف دھڑوں میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔ پنجاب میں ان کی حکومت تھی۔تب وفاقی حکومت اورحکومت پنجاب میں تب آئے دن اٹ کھڑکا ہوتارہتاتھا۔

آج جبکہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا۔دونوں جماعتیں اس خودساحتہ حصار سے باہر آچکی۔خیال کیا جاتاہے کہ اگر محترمہ بے نظیر زندہ رہتی تو جتنے جتن نوازشریف کو ووٹ کے تقدس کی بحالی کے لیے کرنا پڑرہے ہیں۔نہ کرنا پڑتے۔قوم کی بدقسمتی کے پی پی کی موجودہ قیادت بالکل الگ سوچ اور ذہنیت رکھنے کے سبب ساتھ دینے سے معذور ہے۔ نوازشریف کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالنے کے ان کا راستہ روکنے والے دھڑوں کا ساتھ دے رہی ہے۔اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ حکومت ایک ہفتے کے اندر فوجی افسرا ن کے خلاف کاروائی کرے۔اس سلسلے میں ہفتے میں کابینہ کا اجلاس بلایا جائے۔یہ طے کرنا حکومت کا کام ہے کہ ٹرائل کرنا ہے۔اصغر خاں کیس میں سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم کے معاملے پر چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔عدالت کا کہنا تھا کہ فیصلہ دیا جاچکا۔نظر ثانی کی درخواستیں خارج کی جاچکیں۔اب فیصلے پر عملدرامد ہوناہے۔اٹارنی جنرل نے فیصلے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت مانگی تھی۔جو مسترد کردی گئی۔ایک ہفتے میں فوجی افسران کے خلاف کاروائی کرنے کا حکم دے دیا گیا۔

اصغر خاں کیس کا فیصلہ اور اس پر عمل درآمد ہونا ضروری ہے۔مگر ہمارے ہاں دوسرے کئی معاملات کی طرح اس کیس کو بھی مخصوص تاثرپیدا کرنے کے لیے کاستعمال کیا جارہا ہے۔اس کیس میں درجنوں بلکہ ایک آدھ جماعت کے سوا ساری جماعتیں قصور وارتھے۔سیاست دا ن ہی نہیں ایوان صدر ،فوج ، آئی ایس آئی ۔وغیر ہ سبھی اس کارخیر میں شامل تھے۔اب بجائے سبھی کو حصہ بقدر جثہ سزا جزا ملنے کے باقی سبھوں کو ایک طر ف کرکے صرف اور صر ف نوازشریف پر ساراملبہ ڈالنے کی سازش کی کی جارہی ہے۔یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ تب سارے کاسارا کھیل نوازشریف کے لیے رچا یا گیاہو۔انہیں آمریت کی پیداوار ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔عملا حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔جب کردار کی بات کی جائے تو معاملہ بالکل الٹ نکلتاہے۔ نوازشریف اپنے ہردور میں اسٹیبلشمنٹ سے نبرد آزما رہے۔مگر اس کے باوجود ان کی حکومتیں بنانے کا الزام فوج پر لگایا جارہا ہے۔اصل میں الزام تراشی کا سامنا اس لیے ہے کہ وہ اس بھیڑ سے نکلنا چاہ رہے ہیں۔ چوہدری برادران ۔گیلانی ۔قریشی ۔وغیر ہ درجنوں بڑے خاندانوں کو تو اسی تنخواہ پر گذارا کرنے کی خواہش ہے مگر نوازشریف اب ملک میں قانون او رآئین کی حقیقی حکمرانی پرتلے ہیں ۔ایسی حکمرانی جہاں قانون وردی والوں اور بغیر وردی والوں کے لیے برابر ہو۔جہاں عدلیہ فوج ۔سیاست دان اور دیگر تمام دھڑوں ،شعبوں اور اداروں کے لیے یکسا ں رہے۔مز ے کی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کے وہ لوگ بھی نوازشریف کو فوج کا لاڈلا کہہ رہے ہیں۔جو ضیاء۔اور مشرف دور میں پوری طرح لطف اندوز ہوتے رہے ہیں۔نوازشریف اپنے ہر دورمیں یا تو براہ راست اسٹیبلشمنٹ سے نبرد آزما رہے یا پھر ان کے نمائندوں سے۔صدر غلام اسحاق ۔صدر فاروق لغاری۔اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی اچھل کود بے وجہ نہ تھی۔نوازشریف کو کئی آرمی چیفس کے ساتھ بھی تلخیوں سے گزرنا پڑا۔جنرل جہانگیر کرامت اور پرویز مشر ف کو ہٹانے تک کی نوبت آگئی۔آمریت کا یہ مبینہ لاڈلاہر دور میں آمرانہ قوتوں سے ٹکراتا نظرآیا۔اپنے موجود ہ دور میں بھی نوازشریف کا مقابلہ ان لوگوں سے رہا جو غیر اعلانیہ فوج کے ترجمان ہیں۔کبھی تھرڈ ایمپائر کی انگلی اٹھنے کی بات کرتے ہیں۔کبھی یہ کہتے بھی سنے گئے کہ ہمیں حکومت پر نہیں آرمی چیف پر بھروسا ہے۔ہمیں انہی کی ضمانت چاہیے۔ تماشہ ہے کہ آمریت کا لاڈلا ووٹ کے تقدس کی تحریک چلارہا ہے۔اور جمہوریت کے چیمپئن فوج کے دفاع کی جنگ لڑرہے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amjad Siddique

Read More Articles by Amjad Siddique: 222 Articles with 65325 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 May, 2018 Views: 211

Comments

آپ کی رائے