نرسنگ کا عالمی دن ۔۔۔مسلمان خواتین کا شاندار کردار

(Naveed Akhtar, Islamabad)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

12 مئی پاکستان سمیت دنیا بھرمیں نرسنگ کا عالمی دن منایا جاتا ہے،اس دن کی مناسبت سے مختلف تقاریب کا انعقاد کر کے نرسنگ کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے،نرسنگ انسانی خدمت کا ایک عظیم اور صحت کے شعبہ میں اہم کردار کا حامل کام ہے ایک نرس کے ذمہ سردی گرمی میں دن رات کی پرواہ کیئے بغیر مریض کی تیمارداری کرنا،مریض کو دوائی دینا اسکی دیکھ بھال کرنا اور بنیادی ضروریات کا خیال رکھنا شامل ہے،نرسنگ کا یہ عالمی دن اُس برطانوی نرس فلورنس نائٹ انگیل کی یاد میں منایا جاتا ہے جس نے 1854کی جنگ میں فوجیوں کی تیمارداری کی،پاکستان میں اس شعبے کی بنیاد بیگم رعنا لیاقت علی خان نے رکھی،بعدازاں 1949 میں سنٹرل نرسنگ ایسویسی ایشن اور1951 میں نرسز ایسویسی ایشن کا قیام عمل میں آیا،جبکہ اس وقت پاکستان کے چاروں صوبوں میں نرسنگ کے تقریبا 162 ادارے کام کررہے ہیں،قارئین اسلام وہ عظیم دین ہے جس نے سیاست،معیشت ،تعلیم ،صحت الغرض دنیا کے ہر شعبے میں ہماری بہترین راہنمائی کی ہے ،جبکہ رسول اﷲ ﷺ ،اصحابہ کرام ،اصحابیات اور سلف صالحین کی زندگیوں سے ہمیں عملی طور پر راہنمائی ملتی ہے،آج سائنس اور طب اہل مغرب کیلئے نقطہ عروج سمجھا جارہا ہے،اور اس نے مسلمانوں کو احساس کمتری کا شکار بنادیا ہے،حالانکہ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اس برگ و بار کو ہمارے ہی اسلاف نے کئی صدیوں تک اپنے خون جگر سے سینچ کر پروان چڑھایا ہے،سائنس و طب میں اقوام عالم نے ہمارے ہی بڑوں کی نگشت پکڑ کر چلناسیکھنا ہے،شعبہ نرسنگ ہی لے لیجئے 12 مئی پاکستان سمیت دنیا بھر میں نرسنگ کا دن ایک برطانوی خاتون نرس کی یاد میں منایا جا رہا ہے،شاید کچھ بھولے لوگ یہی سمجھ بیٹھیں گئے کہ نرسنگ کا یہ کام بھی ایک برطانوی عورت نے ہی اٹھارویں صدی میں متعارف کروایا ہے ،لہذامیں نے سوچا کیوں نا ہمارے اوپر مسلط کئے گئے نصاب سے ہٹ کر اسلامی اوراک کو پلٹ کر دیکھا جائے ،اسلامی تاریخ کے اوراق پلٹنے سے انسانی خدمت کا یہ عظیم کام بھی مسلمانوں کے ہی مرہون منت نکلا،نرسنگ کا یہ کام مسلم خواتین نے آج سے ہزاروں سال قبل متعارف کروایا،قارئین نرسنگ صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ جذبے اور انسانی خدمت کے عظیم کام کا نام ہے،جبکہ اسلام تو نام ہی انسانی خدمت اور خیر خواہی کا ہے ،نرسنگ کی بہترین مثال ہمیں رسول اﷲ ﷺ کے دور سے ملتی ہے،اسلامی کی تاریخ میں آج سے ہزاروں سال قبل ہمیں نرسنگ کے میدان سے اُم المومنین سیدنا عائشہ ،سیدنا اُم عمارہ ،اُم ایمن،اُم صلیم،سیدنا صفیہ ،ربیع بنت معوذ ،سیدہ اُم رفیدۃ ودیگر اصحابیات رضی اﷲ تعالیٰ عنھا کی بہت ساری مثالیں ملتی ہیں جو مختلف غزوات میں اسلام کے لشکر کے ساتھ موجود ہوتیں،اور مجاہدین کی مرہم پٹی و تیمارداری کا کام سرانجام دیتی ،سیدنا اُم رفیدۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنھا کو اگر میں دنیا کی پہلی خاتون نرس کہوں تو یہ غلط نہ ہوگا،آپ کا نام سیدہ رفیدۃ انصاریہ تھا بعض روایات میں آپکو اُم رفیدۃ جبکہ اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے آپ کو رفیدۃ اسلمیہ بھی کہا گیا ہے،آپ کا تعلق انصار میں سے تھے جس کی وجہ سے آپ کواُم رفیدۃ انصاریہ بھی کہا جاتا ہے،آپ نے رسول اﷲﷺسے اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل کی،اوراُن خوش نصیب خواتین میں سے ہیں جنہوں نے رسول اکرم ﷺ کے ہاں اس بات پر بیعت کی کہ وہ اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھرائیں گئیں،چوری ،زنا نہیں کریں گئیں،کسی پربہتان نہیں لگائیں گئیں،اﷲ اور اُس کے رسولﷺ کی نافرمانی نہیں کریں گیں،اور اپنے خاوند کو دھوکہ نہیں دیں گی،حضرت رفیدۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنھا اسلام اور دنیا کی پہلی ؔخاتون نرس ہیں جنکی سیرت کے روشن پہلو کے مطالعہ کی ہر اس عورت کو ضرورت ہے جو آج نرسنگ کے شعبہ میں خدمات سرانجام دے رہیں ہیں،یقینا ایک عورت ہونے کے ناطے پاکستان سمیت دنیا بھر میں نرسنگ کو اپنی ذمہ داری سرانجام دینے میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا،مگر قارئین جب کوئی بھی کام اپنی معاشی ضرورت کے ساتھ رسول اکرمﷺ ،اصحابہ کرام،اور اصحابیات کے طریقے اور اسلامی تعلیمات کو مدنظر رکھ کر کیا جائے تو وہی کام انسان کی معاشی ضرورت بھی پوری کرتا ہے اور اﷲ رب العزت کے ہاں اجر بھی بن جاتا ہے،اور اگر ایسے کام میں کوئی تکلیف یا مشکل پیش آئے تو اﷲ کے ہاں اس کا بھی اجر عظیم ہے،بطور مسلمان ہمیں صرف اپنی سوچ اور فکر درست کرنی ہوگی،نرسنگ کے شعبہ میں کام کرنے والی خواتین اگر اس شعبے کو اپنی معاشی ضرورت کے ساتھ اس کام کو انسانیت کی خدمت اور اﷲ کی رضا کا ذریعہ سمجھ لیں تو یقینا اس میں دنیاوی اور اخروی فوائد ہی ہیں ،اس کے لئے ہمارے پاس بہترین مثال سیدنا رفیدۃ کی موجودہے،آپ نے اسلام قبول کرنے کے بعد نہایت عمدہ کام کاانتخاب کیااور اپنی زندگی زخمی مجاہدین کی مرہم پٹی اور تیمارداری کیلئے وقف کر دی،جب آپ نے اسلام قبول کیا تو مدینہ میں اُن دنوں جنگی حالات تھے،ان دنوں میں متعدد غزوات ہوئے ،ان غزوات میں لوگوں کا زخمی یا بیمار ہونا یقینی بات تھی آپ نے اس فیصلے کا انتخاب کیا کہ وہ اﷲ کی راہ میں زخم کھانے والے لوگوں کی مرہم پٹی کیا کریں گی،جو کہ بہت اچھی سوچ تھی،یقینا اس کام کیلئے انہوں نے تعلیم حاصل کی ہوگی اور سیکھا ہوگابہرحال اس کی تفصیل موجود نہیں ،آپ نے رسول اﷲﷺ کے حکم پر مسجد نبوی کے باہر خیمہ لگایا جہاں آپ لوگوں کی خدمت کا کام سرانجام دیتیں جبکہ جنگی حالات میں آپ اپنے ساتھ ایک ٹیم تشکیل دیا کرتیں جو افواج کے ساتھ میدان جنگ میں جاتی اور زخمی ہونے والے مجاہدین کا علاج کرتیں،خود اﷲ کے رسولﷺ زخمی ہونے والے مجاہدین کو سیدنا رفیدۃ کے خیمے میں بھیجنے کا حکم دیتے ،غزوہ بدر،خیبر،احد،اور خندق سمیت آپ نے بہت ساری جنگوں میں بطور نرس حصہ لیا،غزوہ خندق کے موقع پر آپ نے انسانی خدمات کا زبردست کام سرانجام دیا ،جس جگہ خندق کھودی گئی تھی اس کے قریب ہی آپ نے اپنا خیمہ لگا یا جسے موبائل کلینک یا فیلڈ اسپتال بھی کہا جاسکتا ہے،اس غزوہ میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اﷲ عنہ جو کہ انصار کے بڑے سرداروں میں سے تھے انکے بازو پر تیر لگا جس سے انکی رگ کٹ گئی اور شدیدخون بہہ رہا تھا جس پر رسول اﷲﷺ نے فوری حکم دیا کہ سعد بن معاذ کو سیدنا رفیدۃ کے خیمے میں پہنچایا جائے،اس موقع پر سیدنا رفیدۃ نے سعد بن معاذکا علاج کیا اور انکے بازو سے تیر نکالا اور نرسینگ کے تمام فرائض سرانجام دیئے اور شدید بہتے ہوئے خون کو روکنے میں کامیاب ہوئیں،غزوہ خیبر میں بھی آپ رسول اﷲ ﷺ کی اجازت سے شریک ہوئیں اور اس موقع پر آپ کو ایک اسلحہ برادر مجاہد کے برابر مال غنیمت میں حصہ بھی دیا گیا،قارئین حضرت اُم رفیدۃ نے آج سے ہزاروں سال قبلمنفرد کام کر کے ایک عظیم مثال قائم کی اور شعبہ نرسنگ کو متعارف کروایا،آپ نے یہ عظیم کام اﷲ کی رضا کیلئے کیا،اور مجاہدین کی مرہم پٹی اس غرض سے کرتیں کہ ان کے زخم ٹھیک ہوجائیں اور انکے چہرے پر مسکراہٹ آجائے،قارئین دکھ اور تکلیف میں کسی کی مدد کرنا بڑے اعزاز کی بات ہے،ہمارے کام ،کردار یا تعاون سے اگر کسی کے چہرے پر مسکراہٹ آجائے تو یہ کوئی معمولی بات نہیں ،سیدنا رفیدۃ نے خدمت کو اپنا شعار بنا کر دنیا بھر کی خواتین کیلئے عمدہ مثال قائم کی،یقینا دنیا بھر کی خواتین کیلئے سیدنا رفیدۃ اوردیگر صحابیات کی زندگیوں میں بہترین راہنمائی موجود ہے،آخرمیں ایک عرض ہے کہ سلف صالحین کی خدمات کو دیکھتے ہوئے آج ہمیں بھی خدمت خلق کے شعبوں کو اپنی معاشی ضرورت کے حصول کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار رضاکارانہ طور پر خدمات سرانجام دے کر اﷲ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنیکا ذریعہ بنانا چاہئے،پاکستان میں حافظ سعید صاحب کی فلاحی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے علاوہ الخدمت فاؤنڈیشن اور بہت ساری این جی اوز تھرپارکر،آزاد کشمیر،بلوچستان سمیت ملک بھر میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کرتیں ہیں،ملک کے دور افتادہ علاقوں کے ،غرباء و مساکین دکھی اور لاچار لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کیلئے طب سے وابستہ خواتین و خضرات کو ضرور رضاکارانہ طور پر ایسی سرگرمیوں کیلئے وقت نکالنا چاہئے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Naveed Akhtar
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 May, 2018 Views: 530

Comments

آپ کی رائے