جاتی عمرہ کے شیخ مجیب کی زبان بندی ضروری

(Mian Muhammad Ashraf Asmi, Lahore)

کیا عجب وقت آن پڑا ہے کہ نواز شریف اور الطاف حسین ایک ہی پلڑئے میں آ پڑے ہیں دونوں مودی کی زبان بول رہے ہیں۔جناب سابق وزیر اعظم کے بیان کہ پاکستان ممبئی حملوں میں ملوث ہے سُن کر اتنا شدید گھاؤ لگا ہے کہ دل سنبھل ہی نہیں پا رہا۔ پاکستان کی تاریخ اور اِس کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر پاکستانی فوج اﷲ پاک کے بعد اِس ملک کی پاسبان ہے۔کشمیر کا معاملہ بھی ایسا ہے کہ وہ پاکستان کی شہ رگ ہے لیکن بھارت وہاں مسلسل خون کی ہولی کھیل رہا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی جنگیں ہو چکیں ہیں۔ نواز شریف کو ہو سکتا ہے کسی خاص سازش کے تحت نا اہل کیا گیا ہو۔ یہ بھی مانا جاسکتا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اِسے کوئی سبق سیکھانا چاہ رہی ہے۔یہ بھی مانا جاسکتا ہے کہ نواز شریف کی مقبولیت کو ختم کرنے کے لیے اُسے رسوا کیا جارہا ہے لیکن کیا ممتازی قادری شہید ؒ کی پھانسی ٹل نہیں سکتی تھی۔کیا ن لیگ ختم نبوت کے قانون کوترمیم کرکے بدترین ظلم کی مرتکب نہیں ہوئی تھی۔ کیا ختم نبوت کے معاملے پر ن لیگ کا موقف عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف نہ تھا۔ کیاا بھی بھی توہین رسالتﷺ کے ساڑھے آٹھ سو کیس زیر التواء نہیں ہیں اُن سب کو تو فراموش کردیا گیا اور ممتاز قادری کو پھانسی دئے کر ن لیگ نے اپنے لیے اپنے ہاتھوں سے ظلم نہ خریدا۔ بھارتی وزیر اعظم کی جاتی اُمرا آمد نواز شریف کے ساتھ ذاتی دوستی،نواز شریف کے خاندان کے بھارت میں کاروبار ایں چہ باشد۔ نواز شریف کی جانب سے پاکستان کو دو لخت کرنے والے شیخ مجیب کو بارہا یاد کرکے پاکستانی عوام اور فوج کو دھمکی دینا کہ شیخ مجیب کے ساتھ ظلم ہوا تھا۔کلبہوشن یادو کے خلاف نوازشریف نے آج تک ایک لفظ منہ سے نہیں نکالا۔ نوازشریف کی بھارت سے محبت کا یہ عالم کہ آزادی کی لکیر کو سیفما کے اجلاس میں ختم کرنے کی بات کر ڈالی اور کہا کہ ہم سب ایک جیسے ہیں اُن کا خدا اور ہمارا خدا ایک ہے۔پھر اقامہ اور پانامہ کی وجہ سے پاکستانی عدلیہ کے ساتھ نواز شریف کی مہم جوئی۔ گلی گلی کوچے کوچے مجھے کیوں نکالا کی رٹ۔پاکستانی فوج کو خلائی مخلوق کا کہہ کر پو ری دُنیا میں مذاق اُڑانا۔ پاکستانی اعلیٰ عدلیہ کے خلاف زبردست محاذ آرائی۔ چیف جسٹس کو سر ئے عام دھمکیاں۔ سوشل میڈیا کو استعمال کرکے چیف جسٹس کو لعن طعن۔۔۔پٹرول اور ڈالر مہنگائی کی آگ میں جھونک دئیے گئے ہیں۔ اسحاق ڈار صاحب ملک و قوم کی دولت لوٹ کر بیمار بن کر لندن میں مزئے کر رہے ہیں اِس لیے کہ وہ نواز شریف کی بیٹی کا سُسر ہے۔اب وہ وقت آگیا ہے کہ نواز شریف کی زبان بندی کی جائے ورنہ پوری دُنیا میں یہ تاثر جا رہا ہے کہ پاکستانی سابق وزیر اعظم کہہ رہا ہے کہ ممبی حملووں میں پاکستان ملوث ہے۔ جمہور عوام کے دل میں یہ بات راسخ ہو گئی ہے کہ نواز شریف کی سوچ یکسر بدل گئی ہے۔ پنجاب میں بھی اِن کی حکومت تھی لیکن تھانہ کلچر تبدیل نہ ہو سکا عوامی مسائل مزید گھمبیر ہوتے چلے گئے۔ پاکستانی عوام کے لیے یہ ہضم کرنا مشکل ہوتا جارہا تھا کہ کشمیر میں قتل و غارت ہو رہی ہے اور نواز شریف کے ساتھ مودی کی یاری گھریلو تعلقات تک پہنچ چکی ہے ۔مودی کا افغانستا ن میں بیٹھ کرپاکستان کو خوب دھمکیاں لگانا اور پھر سیدھا پاکستان بغیر کسی شیڈول کے آنا سیدھا جاتی عمرہ جانا اور نواز شریف کے ہاں شادی میں شریک ہونا ۔ نواز شریف کے اِس طرح کے اندازِ محبت نے پاکستانیوں اور فوج کے دل میں اضطرابی کیفیت پیدا کردی۔ دوسری طرف نواز شریف کے بھارت میں کاروبار کیے جانے کے معاملے نے بھی عوام اور ملٹر ی اسٹیبلشمنٹ کو تحفظات میں مبتلا کردیا ۔ پانامہ لیکس نے نواز شریف کے خلا ف ہنگامہ کھڑا کیا کہ نواز شریف پانامہ اور اقامہ کے کی زد میں آکر نااہل ہو چکا ہے اور گلی گلی قریہ قریہ کہتا پھر رہا ہے کہ مجھے کیوں نکالا۔ نیب نے نواز شریف کی جانب سے منی لانڈرنگ کیے جانے اور بیرون ملک کاروبار اور جائیدادوں کی خرید کیے جانے پر نواز شریف کا بھرکس نکال دیا ہے ۔اب نواز شریف ہفتے میں چار پانچ دن عدالتوں میں پیش ہورہا ہے۔ اپنی بیٹی کو بھی نوازشریف نے سیاست میں اِن کر لیا ہے۔قسمت کے مارئے نواز شریف کی بہادر بیوی محترمہ کلثوم نواز صاحبہ کینسر کے علاج کے لیے لندن میں ہیں اور نواز شریف لندن اور پاکستان کے درمیان پنگ پانگ بنا ہوا ہے۔ پنجاب میں ایک اعلیٰ آفیسر احد چیمہ کی گرفتاری اور اُس کے جانب سے کرپشن کیے جانے کے اقرار نے نواز شریف اور شہباز شریف کی گڈ گورنس کو سر عام ننگا کر دیا ہے۔ خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنائے جانے کا تاثر یہ اُبھرا ہے کہ اِس وقت پاکستان میں کوئی حکومت نہیں بس ڈنگ ٹپائے جارہے ہیں۔ نواز شریف کے حصے میں ایک رسوائی ختم نبوتﷺ کے قانون کی ترمیم کے حوالے سے بھی آئی جس کی وجہ سے پوری قوم سراپا ا حتجاج بن گئی۔ راولپنڈی اور لاہور میں دھرنے دئیے گئے۔ پوری قوم پر یہ عیاں ہو گیا کہ نواز شریف قادیانیوں کے ساتھ مل گئے ہیں اور قادیانیوں کو پاکستان میں نواز رہے ہیں۔ نواز شریف اپنے حکومت میں ہی پورئے ملک میں احتجاجی جلسے کر رہے ہیں کہ اُ نھیں کیوں نکالا۔ اِن حالات میں جناب چیف جسٹس آف پاکستان الطاف کی طرح نواز شریف کی بھی میڈیا پر زبان بندی کا حکم جاری فرمادیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 445 Articles with 221236 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More
15 May, 2018 Views: 422

Comments

آپ کی رائے