نواز کا بیانیہ اور شہباز شریف کا موقف

(Mian Muhammad Ashraf Asmi, Lahore)

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ مسلم لیگ ن نے ملک میں بڑئے بڑئے منصوبے تکیمل تک پہنچائے او ربلا شبہ یہ ایک بہت بڑی جماعت ہے۔اِس جماعت کے خلاف سازشوں کا سلسلہ تب شروع ہوا جب اِس جماعت کے روح رواں جناب نواز شریف کے گرد نام نہاد لبرل جمع ہوگئے یوں وہ نواز شریف جو کہ مذہبی طبقے کا امیدوار گردانا جاتا تھا اُس کے دور میں ممتاز قادی کو پھانسی ہوئی۔ ختم نبوت کے قانون کو تبدیل کرنے کی ناپاک جسارت کی گئی۔اور رہی سہی کسر نواز شریف کے حالیہ بیان کہ نا ن استیٹ ایکٹرز ممبی حملے کے لیے کیوں بھیجے گئے۔ اب ظاہری بات ہے یہ بیانہ اُس طرح کا بیان نہیں ہے کہ جس طرح کا حمید گل، جنرل مشرف رحمان ملک وغیرہ کے ساتھ نتھی کیا جارہاہے اور سوشل میڈیا پر اِ بیانات کی وڈیوز بھی وائرل ہیں۔ جناب نواز شریف نے کہا کہ حملہ کرنے کے لیے کیوں بھیجا گیا؟ اِس سارے معاملے میں پوری دُنیا میں پاکستان کے موقف کو شدید ضرب پہنچی ہے۔جبکہ شہباز شریف کا بیانیہ کچھ اور ہے۔ نواز شریف کہتا ہے کہ ہمارئے مقابلے میں خلائی مخلوق ہے جبکہ شہباز شریف کا بیان ہے کہ نہین کوئی مخلوق نہیں ہے۔شہباز شریف نے ختم نبوت کے قانون مین ترمیم کرنے کی سازش کرنے والوں کو وزارت سے نکالنے تک کہا مگر راجہ ظفر الحق کمیٹی بنادی گئی اور کسی کے خلاف کوئی ایکشن نہینں ہوا۔اب جب نواز شریف نے ممبئی حملوں کی ذمہ داری پاکستان کے سر پر لے لی ہے تو شہابز شریف کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر، وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے حالیہ انٹرویو پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس نے بھی یہ انٹرویو کروایا ہے اس نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ زیادتی کی ہے وہ نواز شریف کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ قبل ازیں سرل المیڈا ہی کی وجہ سے ہی نیوز لیکس کا تنازعہ کھڑا ہوا تھا، مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے بیان پر ہر فورم پر بات کی جا چکی ہے، اس حوالے سے پارٹی پالیسی وضع کی جائے گی، پارلیمانی پارٹی کے ارکان کے تحفظات نواز شریف کے سامنے رکھوں گا۔ انہوں نے یہ بات پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی جو جمعرات کو پارلیمنٹ ہاوس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت ہوا جس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے خصوصی دعوت پر شرکت کی۔ پارلیمانی پارٹی کے ارکان نے اجلاس میں پارٹی کے قائد میاں نواز شریف کے حالیہ بیان سے پیدا ہونے والی صورتحال پر اظہار خیال کیا اور پارٹی صدر میاں شہباز شریف کے سامنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں 100 سے زائد ارکان قومی اسمبلی نے شرکت کی اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور میاں نواز شریف کے حالیہ بیانات پر تبادلہ خیال کیا۔ پارلیمانی پارٹی کے ارکان نے کہا کہ نواز شریف کے حالیہ بیانات کے بعد سیاسی ماحول سازگار نہیں رہا، ہمیں انتخابی مہم میں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لہٰذا صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ پارلیمانی پارٹی کے ارکان نے شہباز شریف پر زور دیا وہ اس سلسلے میں رہنمائی کریں کہ موجودہ حالات میں کس طرح پارٹی میاں نواز شریف کے بیانیہ کا دفاع کیا جا سکتا ہے۔ میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ نواز شریف ہم سب کے قائد ہیں اور ان کی حب الوطنی پر سوال اٹھانے والوں کو منہ توڑ جواب دینا چاہئے ہم سب محب وطن ہیں۔ میاں نواز شریف وہ لیڈر ہیں جنھوں نے عالمی دباو کے باوجود چھ ایٹمی دھماکے کئے اور پانچ ارب ڈالر کی امداد کی پیش کش کو مسترد کر دیا۔ میاں شہباز شریف نے پارلیمانی پارٹی کے ارکان کو اس بات کا یقین دلایا کہ وہ ان کے جذبات سے پارٹی کے قائد میاں نواز شریف کو آگاہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آپ لوگ بھی ان سے بات کریں۔ میاں نواز شریف کی جانب سے انھیں مثبت جواب موصول ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی کارکردگی ہی اس کا سب سے بڑا دفاع ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس لغاری اور وزیر مملکت عبدالرحمان کانجو نے کہا کہ ہم آزاد الیکشن لڑ کر مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے تھے اور آج بھی مسلم لیگ ن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نواز شریف کے حالیہ بیانیے میں نرمی لانے کی ضرورت ہے۔ میاں شہباز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ ن اس بیانیے میں نرمی لانے کے لئے بھرپورکوشش کرے گی۔

نواز شریف کے بیان نے جس طرح پورئے ملک میں بھونچال کی کیفت پیدا کردی ہے ایسے میں شہباز شریف کی جانب سے پاک فوج اور پاکستانی عوام کے موقف کی تائید بہت بڑی بات ہے۔ شہباز شریف کو حالات کا ادراک ہے۔ یقینی طور پر نواز شریف کو غدار نہیں کہا جاسکتا لیکن جس طرح کی باتیں وہ نا اہل ہونے کے بعد کر رہے ہیں وہ کسی بھی پاکستانی کے لیے قابل قبول نہیں ہیں ۔ اِس لیے نواز شریف کو اپنی سزائیں نظر آرہی ین اور وہ اِس ھوالے سے مزاحمت کے طور پر اپنے غلط مشیروں کے نرغے میں ہیں یہ وہ مشیر ہیں جو بھارت کے ساتھ سرحد کی لیکر مٹانا چاہتے ہیں۔ جنہیں مذہب سے کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ یہ لبرل فاشسٹ طبقہ قادیانی نواز ہے۔ ایسے میں جناب شہباز شریف کا قومی معاملات پر عوامی موقف کی بات کرنا یقینی ایک بڑی سیاسی جماعت کے صدر ہونے کے ناطے یہ بہت بڑاا قدم ہے۔ اﷲ پاک پاکستان کو قائم دائم رکھے۔ نواز شریف کی نااہلیت نے نواز شریف کے اعصاب پر بہت بُرا اثر ڈالا ہے ۔اِس لیے نواز شریف نے ملک و قوم کے وقار کی بجائے اپنی جان بچانے کے لیے ہر طرح کی جنگ لڑنا شروع کی ہوئی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 445 Articles with 219876 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More
22 May, 2018 Views: 310

Comments

آپ کی رائے