100 دن کا پلان یا بیان

(Shoukat Ullah, Banu)

پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات 2018 ء کے لئے سو دن کا پلان دے دیا ہے جس کو دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما خورشید شاہ نے اس کو پری پول دھاندلی کہہ دیا ہے جب کہ وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ عمران خان نیٹو کے اس کمانڈر کی طرح ہیں جو نو ایکشن ٹاک اونلی یعنی عمل نہیں باتیں کرتا ہے جب ان کا سو دن کا پلان دیکھا تو ہنسی آئی کیوں کہ نقل کے لئے بھی عقل چاہیے۔ ہمیں سیاسی جماعتوں کے تنقیدی تیروں سے ہٹ کر حقیقت کی عینک لگا کر دیکھنا چاہیئے کہ یہ واقعی سو دن کا پلان ہے یا محض بیان ہے۔اس کے لئے ہمیں پانچ سال پیچھے یعنی 2013 ء کے انتخابات تک جانا پڑے گا۔اُس وقت ایک ایسی فضا قائم ہوگئی تھی کہ پاکستان تحریک انصاف کامیاب ہو کر حکمرانی کی کرسی پر براجمان ہوجائے گی لیکن انتخابات کے نتائج اس کے بالکل برعکس آئے اور اُس کو خیبر پختون خوا کی حد تک حکومت بنانے کا موقع ملا۔یاد رہے کہ اُس وقت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے نوے دن میں تبدیلی کاایجنڈہ پیش کیا گیا۔ انہوں نے خیبر پختون خوا میں حکومتی اُڑن گھوڑے پر سوار ہوکر گورنر ہاؤس کو لائبریری ، وزیراعلیٰ ہاؤس سے یونیورسٹی ، وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ، کھیلوں کے نئے گراؤنڈز وغیرہ وغیرہ بے شمار وعدے کئے لیکن پانچ سال گزر گئے اور کتنے وعدے ایفا ہوئے یہ عوام خوب جانتی ہے ۔ عوام یہ بھی جانتی ہے کہ خیبر پختون خوا ترقی کے منازل طے کر کے اُس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں بے روزگاری کا گراف صفر تک گر گیا ہے اور روزگار کے اتنے شاندار مواقع پیدا ہوچکے ہیں کہ لوگ وہاں کو کھچے چلے آرہے ہیں۔ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ تین سو ساٹھ ڈیموں کی تعمیر سے ہوچکا ہے اور بجلی کی پیداوار میں خود کفالت کے بعد اُس کی برآمدبھی شروع ہو چکی ہے۔ عوام یہ بھی جانتی ہے کہ بلین ٹری اور بی آر ٹی جیسے میگا پراجیکٹس کی بدولت خیبرپختون خوا میں چار سُو سبزہ ہی سبزہ اور پشاور شہر خوب صورتی کا وہ منظر پیش کر رہا ہے کہ جیسے آپ یورپ آگئے ہوں۔یہ چند تلخ حقائق ہیں جن کو ہم نے کھلے دل سے تسلیم کرنا ہو گا۔

اَب پاکستان تحریک انصاف نے سو دن کا پلان عوام کے سامنے رکھ دیا ہے۔ اگرچہ پلان نہایت عمدہ ہے لیکن اس پر عمل درآمد تب ہی ممکن ہے جب پی ٹی آئی اقتدار کی باگ دوڑ سنبھالے گی کیوں کہ پلان پر عمل حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ انتخابات سے قبل سیاسی جماعتیں اپنے انتخابی منشور کا اعلان کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خورشید شاہ نے اس کو انتخابات سے قبل دھاندلی قرار دیا ہے۔ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے وقت وزیراعلیٰ پرویز خٹک سے پوچھا گیا کہ عمران خان نے خیبر پختون خوا میں تین سو ساٹھ ڈیموں کی تعمیر کا پلان بنایا تھااور یہ بھی کہا تھا کہ جس سے نہ صرف لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوگا بلکہ بجلی کی اضافی پیداوار دیگر صوبوں کو بھی برآمد کی جائے گی تو وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اس کے جواب میں کہا کہ خان صاحب کو ٹیکنیکل باتوں کا علم نہ تھا۔اس پر پروگرام کے اینکر پرسن نے برجستہ کہا کہ پھر یہ تو سیاسی بیان ہوا اور دیر تک وزیراعلیٰ سے یہ بات منواتا رہا کہ وہ خود اپنی زبان سے یہ اقرار کرے کہ وہ محض سیاسی بیان تھا۔ان تمام باتوں کا مدعا صرف یہ ہے کہ پلان اور سیاسی بیان میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔پلان کا اعلان کرتے وقت زمینی حقائق و وسائل کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور ٹائم فریم اس کا اہم جز ہوتا ہے جب کہ سیاسی بیان کسی بھی وقت داغا جاسکتا ہے اور اُس سے اسی طرح انکار بھی ممکن ہوتاہے۔ پس پی ٹی آئی کے سو دن کے پلان کو بیان تصور کریں تو اس میں کوئی حرج نہ ہوگا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 124324 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 May, 2018 Views: 273

Comments

آپ کی رائے