سو روزہ لولی پوپ حقیقت کیا ہے ؟

(ظہر شاہ ستوریانی, )

 دنیا کا ایک قانون ہے، کہ کسی بھی بڑے درجے تک پہنچنے کےلیے پہلے اس سے نیچلے درجوں کے امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان چھوٹوں درجوں میں کامیابی کے بعد ہی اسے اوپر والے درجہ میں داخلہ ملتا ہے بصورت دیگر وہ اوپر والے درجہ کے لیے نااہل تصور کیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک طالب علم کو ہی دیکھ لے پہلے اسے کےجی ون، پہلی، دوسری، پانچويں اسی طرح آخر تک کلاسیں پڑھنا پڑتے ہیں، ان کا امتحان دیکر اچھے نمبرات لیکر پاس ہونا پڑتا ہے، پھر ان کلاسوں کے سرٹیفکیٹ دیکھا کر آگلے کلاسوں میں داخلے کےلیے اپلائی کرتا ہے۔ اگر اس نے یہ چھوٹے کلاسسز پاس نہیں کیۓ تو اسے اگلے کلاسوں میں داخلہ نہیں دیا جاتا۔

اسی طرح ایک کرکٹر جب انٹرنیشنل ٹیم میں جاتا ہے اس سے پہلے اسے کلب لیول، ڈومیسٹک کرکٹ، فرسٹ کلاس کرکٹ میں اچھی کارگردگی دکھانی پڑتی ہی تب جاکر وہ قومی انٹرنیشنل ٹیم کےلیے اپلائی کرنے کا اہل ہوتا ہے، وہ اپنے پچھلے کریئر کی کارگردگی پیش کرتا ہے، کہ دیکھوں میں نے ڈومیسٹک کرکٹ اور فرسٹ کلاس کرکٹ اتنی شاندار پرفامنس دیئے ہیں لہذا مجھے انٹرنیشنل ٹیم کی نمائندگی کا موقع دیا جائے۔ پھر اسے اس پچھلے پرفامنس کی بنیاد پر قومی ٹیم میں سلیکٹ کردیا جاتا ہے، ورنہ بصورت دیگر اسے ریجکٹ کردیا جاتا ہے۔

تو ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ اگر ایک لڑکا میٹرک میں فیل ہوجائے اور فرسٹ ایئر کےلیے اپلائی کرے اور کہے کہ مجھے فرسٹ ایئر میں داخلہ دیا جائے میں انشاء اللہ اےون گریڈ لونگا، تو کیا خیال ہے اسے فرسٹ ایئر میں داخلہ دیا جائیگا ؟ یا اسے جوتے مارکر بھگا دیا جائیگا کہ میٹرک تو پاس نہیں کرسکا اور آگیا فرسٹ ایئر میں داخلہ لینے، اور وہ بھی دعوا کررہا ہے اے ون گریڈ لینےکا۔

یا اسی طرح کلب لیول، ڈومیسٹک کرکٹ اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں بری طرح ناکام رہنے والا پلیر آجائیں کہ مجھے انٹرنیشنل ٹیم کی نمائندگی کا موقع دیا جائے میں پہلے ہی ون ڈے میں روہیت شرما کی 264 رنز، پہلے ٹی ٹونٹی میں کرس گیل کے 175رنز، اور پہلے ہی ٹیسٹ میں برائن لارا کے چارسو پلس رنز کے ریکارڈ توڑونگا، تو کیا اس کھلاڑي کے اس دعوے کو مان لیا جائیگا؟ اور اسے انٹرنیشنل ٹیم میں سلیکٹ کرلیا جائےگا ؟ یا اس جوتے مار کر بھگا دیا جائےگا کہ نیچلے درجے کی کرکٹ میں تو تیری کارگردگی صفر ہے اور آگیا انٹرنیشنل لیول کی کرکٹ میں ریکارڈ توڑنے کی دعوے کرنے۔

ان تمام مثالوں کی روشنی میں اب ہم آتے ہیں کپتان صاحب کی سوروزہ ویژن کی طرف۔ سمجھ نہیں آتی خان صاحب سے تو ایک صوبہ سنبھالا نہیں گیا اور آگیا مرکز میں حکومت مانگنے۔ خان صاحب پہلے خود ہی اپنی کےپی کے حکومت کی ناکامی کا اعتراف کرچکے ہے اپنے اس بیان میں: کہ اچھا ہوا ہمیں پچھلے الیکشن میں ہمیں مرکز میں حکومت نہیں ملی ورنہ اس کا بھی یہی حال ہوتا جو کےپی کے میں ہے۔ اگر پی ٹی آئی کا کوئی سپورٹر اس بیان سے اتفاق نہیں کرتا تو میں پوچھنا چاہتا ہو کہ اگر خان صاحب کی کےپی کے میں حکومت کامیاب ہوئی ہے، تو خان صاحب سوروزہ ویژن پیش کرنے کے بجائے اپنی کےپی کے حکومت کی کارگردگی کیوں پیش نہیں کرتا، کہ دیکھوں ہمیں عوام نے ایک صوبے میں نمائندگی کا موقع دیا ہم نے اتنے اچھے اور کامیاب طریقے سے حکومت کی لہذا ہمیں اب مرکز میں حکومت دی جائے۔ جس طرح ایک طالب علم چھوٹے درجے کے امتحان میں کامیابی کے بعد جب اگلے درجے میں داخلہ لیتا ہے تو وہ یہ دعوا نہیں کرتا کہ مجھے اگلے کلاس میں داخلہ دیا جائے تو میں فرسٹ پوزیشن لونگا بلکہ وہ پچھلے درجے کا سرٹیفکیٹ دیکھا کر ثابت کرتا ہے میں نے پچھلے کلاس میں یہ کارگردگی پیش کی لہذا میں اس اگلے کلاس کا اہل ہو مجھے اس اگلے کلاس میں داخلہ دیا جائے۔ اسی طرح اگر خان صاحب نے کےپی کے میں کامیاب حکومت کی ہے، تو اس کارگردگی پیش کرکے مرکز میں حکومت لینے کی اہلیت ثابت کریں، اس روزہ لولی پوپ سے اب عوام کو گمراہ نہ کریں کہ ہمیں عوام موقع دے ہم پہلے سو روز میں آسمان کی نیلی چھت اتار کر پیلی چھت چڑھا دینگے کیونکہ یہ نیلی چھت اب بہت پرانی ہوچکی ہے۔ اپنی اہلیت کارگردگی سے ثابت کریں بڑے بڑے دعووں سے نہیں، یہ دعوے کےپی کے میں کیوں پوری نہیں کیے جن کے اب بلند وبانگ نعرے لگارہے ہیں، ان بےبنیاد دعووں سے اب کسی کو گمراہ نہیں کیا جاسکتا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ظہر شاہ ستوریانی

Read More Articles by ظہر شاہ ستوریانی: 2 Articles with 997 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 May, 2018 Views: 362

Comments

آپ کی رائے