28 مئی پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن

(Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore)

28مئی 1998 بروز جمعرات سہ پہر 3بج کر15منٹ پر چاغی کے مقام پر پاکستان نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس سے پوری دنیا کو حیران کر دیا اس دن سے پاکستان ناقابل تسخیر ہو گیا اور پہلا ایٹمی صلاحیت رکھنے والا اسلامی ملک بن گیا ایٹمی دھماکوں سے نہ صرف پاکستانیوں کے بلکہ تمام امت مسلمہ کا سر بھی فخر سے بلند ہو گیا اور تمام اسلامی ممالک نے اسے خوب سراہا پاکستانی اس دن کو بھی قومی دن کی طرح ہی مناتے ہیں اور اپنی اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں ایٹمی دھماکے سابقہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کئے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سابقہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے اس پر کام ہو رہا تھا اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر کا بھی ہاتھ ہے یہ تینوں شخصیتیں پاکستانی ہیں اور ہمیں فخر ہے کہ ان کی کوششوں سے آج پاکستان ناقابل تسخیر ملک بن چکا ہے 11مئی کو بھارت نے تین دھماکے کئے اور 13 مئی کو مزید دو دھماکے کر کے پاکستان کو پیغام دینے کی کوشش کی کہ اب بھارت کسی بھی طرح کا جارحانہ رویہ اپنا سکتا ہے لیکن وہ پاکستان کی طاقت سے ناواقف تھااس کے بدے پاکستان نے 28 مئی کو پانچ دھماکے کر کے بھارت کا منہ بند کر دیا اب بھارت کو پاکستان پر حملہ کرتے وقت ہزار بار سوچنا پڑے گا پاکستان کے ایٹمی بموں کی کوالٹی بھارت سے کئی درجہ بہتر ہے ۔28مئی کو جو دھماکے کئے گئے اس دن کو یوم تکبیر کا نام دیا گیا اور اس دن کی مناسبت سے ہر سال 28 مئی کو ملک بھر میں جلسے ،جلوس اور تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔پاکستان ایک پر امن ملک ہے اور کسی بھی جارحیت کا ارادہ نہیں رکھتا ہمارا ایٹمی پروگرام خالصتاً اپنے ملک کو محفوظ بنانے کے لئے ہے جب سے ہم ایٹمی طاقت بنے ہیں ہمارا ازلی دشمن بھارت بھی اپنی جگہ پر آ گیا ہے پہلے پہل تو بھارت کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر لئے ہیں لیکن پھر یقین آ گیا اور پوری دنیا کو پاکستان نے باور کرا دیا کہ ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں ہم پر جب مشکل آتی ہے توہم اپنے رب پر مکمل بھروسہ کرتے ہیں جس طرح ہم نے ایٹمی دھماکے کر کے اپنے ملک کو نا قابل تسخیر بنا دیا ہے اب ہمیں وعدہ کرنا ہو گا کہ ہم اپنے ملک سے توانائی کے بحران کو بھی ختم کر کے رہیں گے ہم اپنے ملک سے کرپشن کا خاتمہ کر کے رہیں گے ہم اپنے ملک سے بے روز گاری،مہنگائی اور رشوت کا قلم قمع کر کے رہیں گے ہمارے پاس ہر طرح کے وسائل موجود ہیں پھر بھی بد قسمتی سے ہمارا ملک آج بھی کئی ممالک سے ببت پیچھے ہے ابھی بھی ہمیں مزید اور سخت محنت کی ضرورت ہے تا کہ ہم جلد ہی ترقی یافتہ قوموں کی صف میں آ جائیں ہمیں کسی بھی ملک کے آگے جھکنا نہ پڑے ہمیں کسی سے خیرات نہ لینی پڑے ہم بھی عزت دار قوموں کی طرح دنیا میں جی سکیں دنیا بھر کی طرح ہمارے نوجوان بھی باصلاحیت ہیں اور وہ اپنے ملک کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں صرف ان کی راہنمائی کرنے کی ضرورت ہے ہمارے نوجوان آج ہر شعبے میں اپنا نام بنا رہے ہیں وہ دن دور نہیں جب پاکستان دنیا بھر میں اپنا وقار بلند کرنے میں کامیاب ہو جائے گا اس کے لئے ہم سب کو مل کر فیصلہ کرنا ہو گا اب 2018 انتخابات کا سال ہے اس میں ووٹ ہی ہماری تقدیر کا فیصلہ کرے گا ہمیں اس جماعت یا اس فرد کو ووٹ دینا ہے جو ملک کی ترقی میں دلچسپی رکھتے ہیں ہمیں اس کو ووٹ دینا ہے جو عوام کی محبت اپنے دلوں میں رکھتے ہیں ہمیں اپنا قیمتی ووٹ ان کو دینا ہے جو ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالیں ہمیں ووٹ انکو دینا ہے جو ملک سے کرپشن کا خاتمہ کریں ہمیں ووٹ ان کو دینا ہے جو ملک سے بے روزگاری ،مہنگائی ،دہشت گردی اور رشوت ستانی کا کمل خاتمہ کریں ہمیں اس بار اپنا ووٹ سوچ سمجھ کر استعمال کرنا ہے اب ہمیں آنکھیں بند نہیں رکھنی اگر ملک کو بدلنا ہے تو ہم بدلیں گے اگر ملک میں تبدیلی لانی ہے تو ہم عوام ہی لا سکتے ہیں یقین کریں عوام ایک بہت بڑی طاقت ہے آپ اس کو سمجھیں اور اپنے ملک کی ترقی کے لئے اپنا من دھن سب نچھاور کر دیں کیونکہ یہ ملک ہے تو ہم ہیں اب حکمرانوں کو بھی بدلنا ہو گا حکمرانوں کو ملک کی ترقی میں دل و جان سے کام کرنا ہو گا ووٹ لیتے وقت وہ جو وعدے عوام سے کرتے ہیں اب ان کو پایہ تکمیل تک پہچانا ہو گا تب ہی وہ صحیح عوامی نمائیندے کہلانے کے قابل ہوں گے جب سے ہم ایٹمی طاقت بنے ہیں تب سے امریکہ بہادر کی آنکھوں میں کھٹک رہے ہیں اسی لئے تو اب امریکہ نے پینترہ بدلا اور ہمارے ازلی دشمن بھارت سے اپنے پیار کی پینگیں چڑھانا شروع کیں لیکن ہم نے بھی اب امریکہ کی جانب دیکھنا چھوڑ دیا ہے گو کہ ہم کسی ملک سے تعلقات ختم نہیں کر سکتے لیکن خود دار قوم ہونے کے ناطے ہمیں برابری سے رہنا ہو گا ہم بھی چاہتے ہیں کہ جب ہم کسی دوسرے مل جائیں تو ہمیں بھی عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہر ملک پاکستان کی عزت کرے اور ہر پاکستانی کاوقار بلند ہو تو پھر ہمیں اپنے آپ سے آج کے دن وعدہ کرنا ہو گا کہ ہم جئیں گے پاکستان کے لئے اور مریں گے تو بھی پاکستان کی عزت و ناموس پر۔ہمیں اپنی جان سے بھی پیارا ہے پاکستان اور اس کے لئے ہم کسی بی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔ میرے دعا ہے کہ پاکستان دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرے آمین۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: H/Dr Ch Tanweer Sarwar

Read More Articles by H/Dr Ch Tanweer Sarwar: 287 Articles with 1327669 views »
I am homeo physician,writer,author,graphic designer and poet.I have written five computer books.I like also read islamic books.I love recite Quran dai.. View More
28 May, 2018 Views: 228

Comments

آپ کی رائے