تنازعہ اور متنازعہ

(Sarwar Siddiqui, Lahore)

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی نے اپنی کتاب دی سپائے کرونیکلز،را، آئی ایس آئی اینڈ دی الوڑن آف پیس' میں آخرکیا لکھ دیاہے کہ ایک بھونچال سا آگیاہے آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل اسد درانی کی کتاب پر فوج کے تحفظات سامنے آ گئے۔سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ اس کتاب میں بہت سے موضوعات حقائق کے برعکس بیان کیے گئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسد درانی کو ان بیانات پر پوزیشن واضح کرنے کے لئے جی ایچ کیو طلب کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق ملٹری ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر اسد درانی کو اپنی پوزیشن واضح کرنی ہوگی اور یوں عسکری قیادت نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اگر پاک فوج کا کوئی سابق افسر بھی ملکی مفاد کے خلاف کوئی بات کرے گا تو اس کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے گا۔لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے سابق 'را' چیف اے ایس دلت کے ساتھ مل کر لکھی گئی کتاب 'دی سپائے کرونیکلز: را، آئی ایس آئی اینڈ دی الوڑن آف پیس' میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اہم معاملات پر بات کی ہے۔کتاب میں جن معاملات پر روشنی ڈالی گئی، ان میں کارگل آپریشن، ایبٹ آباد میں امریکی نیوی سیلز کا اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا آپریشن،کلبھوشن یادیو کی گرفتاری، حافظ سعید، کشمیر، برہان وانی اور دیگر معاملات شامل ہیں۔اس کتاب پر پاکستان کی سیاسی قیادت نے سنگین خدشات ظاہر کیے ہیں۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسددرانی کی کتاب پرقومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔انہوں نے کہا کہ قومی سانحات اور سلامتی سے متعلق معاملات پر انکوائری کے لئے قابل اعتبار قومی کمیشن بنایا جائے۔ سیاسی رہنماؤں کا جو بھی نقطہ ٔ نظر ہو اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ کتاب ہمیشہ متنازعہ رہے گی جس نے مسائل حل کرنے کی بجائے اسے مزید الجھا دیاہے کیونکہ دونوں ممالک میں بہت سے معاملات پر تنازعات ہیں جن میں مسئلہ کشمیر سرے فہرست ہے جبکہ بھارت کی پاکستان میں مداخلت کے واضح ثبوت بھی موجودہیں ۔پانی اورڈیم بنانے پر بھی پا کستانی حکومت کے بہت سے تحفظات پائے جاتے ہیں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کی گرفتاری اور اس کے اعترافات و انکشافات سے بھی پاکستانی عوام میں خاصا اضطراب پایا جاتاہے ان حالات میں انٹیلی جنس کمیونٹی کے اندر اس کتاب کے مندرجات غیرمتوقع ہیں خاص طورپر پاک بھارت کے سابق چیف آف انٹیلی جنس کی طرف سے دونوں ممالک کے بارے میں آپریشن، واقعات اور ان کے بارے رائے کااظہار افسوس ناک ہے جاسوسی کی تاریخ: را، آئی ایس آئی اور امن کے الیکشن، کئی متعدد محاذوں کا ایک تحریری اظہار ہے جو اکثر ٹریک II کے طور پر ڈائیلاگ پر مبنی پلیٹ فارم پر حکام (خدمت یا ریٹائرڈ) کے درمیان ہوتا ہے کتاب اسد درانی او ر اے ایس دولات کے درمیان کتاب میں ایک آرام دہ اور پرسکون بات چیت میں ایک غیر معمولی نظر پیش کرتے ہوئے عام انسانی پہلو کو الگ کرتی ہے. جاسوسی ایجنسیوں کے سابق سربراہان ان کے اوقات اور واقعات کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے اپنے متعلقہ ممالک میں ظاہر کی. کارگل سے کشمیر، لاہور، اری اور ممبئی سے سوویتوں اور امریکی اور بن لادن سے افغانستان، مہنگی چین تک افغانستان کے سخت خطے میں اور پیچھے سے - دونوں دونوں کے بارے میں مزید معلومات کا اشتراک کیا ہے۔ان کے خیالات میں ہر طرف مسائل کو حل کرنے کا مجرم قرار دیتے ہیں درانی اور دولات نے پاکستان اور بھارت کے کشیدہ تعلقات پر روشنی ڈالی. ہے۔ تاہم کتاب ابھی تک ان کے اوقات کی ذاتی تجربات پر مبنی ہے. واقعات کے مکمل افشاء کرنے کے بغیر، دونوں اس سے متعلق سوالات اور تحریر کے لئے بہت سے سوالات اور نظریات کو چھوڑ دیتے ہیں جب اس طرح آئی ایس آئی اور را کے کاموں کے درمیان کچھ اسی طرح کے پوائنٹس ڈرائنگ کرتے ہیں. خوشحسن اور حافظ سعید کے معاملات پر بات چیت کے لئے ایک عنوان میں بحث کی جاتی ہے.تاہم لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے اس ایجنسی کے زیادہ اہمیت کا اظہار کیا ہے جب وہ قیادت کے دوران پاکستان کے سابق صدر مشرف پر بھی تنقید کرتے ہیں دونوں کے سروں پر سیاسی اور فوجی صورتحال کے باوجود پاکستان کے ساتھ آگے چلنے کی کوششیں،افغانستان پر بات چیت ، دولت نے بالی ووڈ کی نرم طاقت کی صلاحیت قبول کی. افغانستان میں بھارت اور پاکستان کی شمولیت کے لئے، ایسا کرنے کی ضرورت ہے جو کچھ کرنے کی ضرورت ہے. دونوں ملکوں کے مختلف سیاسی اور فوجی نظریات ایک موضوع ہے جس میں کتاب میں بھی شامل ہے وہ اپنے نظریات کے مطابق تجویز کردہ حکمت عملی پیش کرتے ہیں پاکستان اور بھارت کے درمیان برادری پر اپنے مسائل حل کرنے چاہہیں جبکہ درانی طویل عرصہ تک طویل عرصے کے دوران پائیدار ڈھانچے کے لئے انتخاب کرتے ہیں-اسکے پیچھے بیک ڈیل چینلز کے مسلسل استعمال کے لئے بات چیت کی جائے جس کے نتیجہ پر دونوں کا اتفاق ہونا چاہیے. وہاں مزید جنگ نہیں ہونا چاہئے اور مسائل کو ختم کرنے کی ضرورت ہے. یہ کتاب ایک غیر معمولی ٹکڑا، تقریبا افسانوی اور بہت سے لوگوں کے لئے اچنبھے کا سبب ہوسکتی ہے. سابقہ انٹیلی جنس کے سربراہان کی طرف سے یہ کتاب کتنی معتبر ہوسکتی ہے اس کا فیصلہ وقت کرے گا ۔ نواز شریف نے کہا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کی کتاب میں ہونے والے انکشافات ایسا ایشو ہے جس پر بات ہونی چاہیے، اس پر قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے اور قومی کمشن تشکیل دیا جائے ۔ سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے پاکستان اور بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے دو سابق سربراہوں کی کتاب 'دی سپائے کرونیکلز: را، آئی ایس آئی اینڈ دی الوڑن آف پیس' کی اشاعت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ کتاب کسی سویلین یا سیاستدان نے بھارتی ہم منصب کے ساتھ مل کر لکھی ہوتی تو اس پر 'غداری' کا فتویٰ لگا دیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ کتاب لکھنے والے سیاستدان پر نہ صرف غداری کے فتوے لگ رہے ہوتے بلکہ اس کے خلاف پورے ملک میں احتجاج کا نہ رکنے والا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ حیرت کی بات ہے کہ ایک طرف انڈیا اور پاکستان کے تعلقات خراب ترین سطح پر ہیں جبکہ دوسری طرف ایک ایسی کتاب کی رونمائی ہو رہی ہے جو دونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے سابق سربراہوں نے لکھی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے اپنے ادارے یا وفاقی حکومت سے اس بات کی اجازت لی تھی کہ وہ اپنے انڈین ہم منصب کے ساتھ مل کر کتاب لکھ رہے ہیں؟ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ اگر آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے اجازت لینا ضروری نہیں سمجھا تو کیا انہوں نے اس کتاب کے بارے میں وفاقی حکومت یا وزارت دفاع کو آگاہ کیا تھا؟ یہ کوئی آسان معاملہ نہیں ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان خراب تعلقات کی ایک تاریخ ہے۔ سینٹ کے چیئرمین کے استفسار پر وزیر قانون محمود بشیر ورک کا کہنا تھا کہ انہیں اس کتاب کی اشاعت کے بارے میں حکومت سے اجازت لینے کے بارے میں علم نہیں ہے۔ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے وزارت داخلہ اور وزارت دفاع سے کتاب کے معاملے پر جواب طلب کر لیا۔پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل اسد درانی کی کتاب پر فوج کے تحفظات سامنے آ گئے ہیں کہ اس کتاب میں بہت سے موضوعات حقائق کے برعکس بیان کی گئے ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اسد درانی کو ان بیانات پر پوزیشن واضح کرنے کے لئے (جنرل ہیڈکوارٹرز) جی ایچ کیو طلب کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق ملٹری ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر اسد درانی کو اپنی پوزیشن واضح کرنی ہوگی اور یوں عسکری قیادت نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اگر پاک فوج کا کوئی سابق افسر بھی ملکی مفاد کے خلاف کوئی بات کرے گا تو اس کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے گا۔واضح رہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے سابق ‘را’ چیف اے ایس دلت کے ساتھ مل کر لکھی گئی کتاب ‘دی سپائے کرونیکلز: را، آئی ایس آئی اینڈ دی الوڑن آف پیس’ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اہم معاملات پر بات کی ہے۔کتاب میں جن معاملات پر روشنی ڈالی گئی، اْن میں کارگل آپریشن، ایبٹ آباد میں امریکی نیوی سیلز کا اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا آپریشن، کلبھوشن یادیو کی گرفتاری، حافظ سعید، کشمیر، برہان وانی اور دیگر معاملات شامل ہیں۔ یہ کتاب پاک بھارت دونوں ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے دو سابق ڈی آئی نے مشترکہ طور پر تحریرکی ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود کشیدگی سے نا واقف نہیں ہیں ۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کو ملکی مفاد کو ہرقیمت پر پیش ِ نظر رکھنا چاہیے تھا کیونکہ پاک بھارت کے درمیان بہت سے حل طلب تنازعات موجودہیں ان کی موجودگی میں کسی متنازعہ کتاب کی اشاعت جلتی پر تیل کا کام کر سکتی ہے احتیاط ہی بہترین حل ہوتاہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sarwar Siddiqui

Read More Articles by Sarwar Siddiqui: 218 Articles with 102915 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 May, 2018 Views: 546

Comments

آپ کی رائے
I totally agree with Sarwar Siddiqui no one specially of this position person should allow any debate at this crucial time
By: Saeed, Calgary on May, 29 2018
Reply Reply
0 Like