لودھراں کی سیاسی بساط

(Liaquat Ali Mughal, Kehroor Pakka)

جہانگیر خان ترین نے اپنے حلقے میں پیدا سیاسی صورت حال کو کنٹرول کرنے اور افواہوں کی گردش کو روکنے کیلئے تین دن انتہائی مصروفیت میں گزارے اور پی ٹی آئی کی ٹکٹ سے آمدہ الیکشن میں انتخاب لڑنے کے امیدواروں سے فردا فردا ملاقات کی اور کوشش کی کہ یہ کھلا کٹہ کسی طرح سے بدمزگی پیدا کئے بغیربند ہوجائے لیکن تاحال ایسی کوئی واضح اور قابل عمل صورت حال سامنے نہ آسکی۔ سب سے زیادہ مسئلہ حلقہ این اے 160 کا بنا ہوا ہے جس میں ایم این اے کے دو مضبوط امیدوار اختر خان کانجو اور نواب امان اﷲ ہیں جن میں ٹکٹ کیلئے جاری سرد جنگ اب گرما گرم مقابلہ میں تبدیل ہوچکی ہے کیونکہ این اے 160 کیلئے پی ٹی آئی کی جانب سے نواب امان اﷲ کی تمام تر کاوشوں اور قربانیوں کو ایک سائیڈ پر رکھ پر ایم این اے کا ٹکٹ اختر خان کانجو کو دیا جارہا ہے جس کی وجہ سے نواب امان اﷲ اور ان کے سپورٹر و ووٹرز شدید گومگو کی کیفیات کا شکار ہیں کہ کس طرح سے الیکشن میں دبنگ انٹری کی جائے کیونکہ گڑگلو کے مطابق جہانگیر ترین کی طرف سے نواب امان اﷲ کو حلقہ پی پی 227 سے بطور ایم پی اے لڑانے کی بھرپور کوشش ناکام ہوچکی ہے جس کی وجہ سے حلقہ میں بڑی ہلچل ہونے کا امکان ہے ۔اسی طرح حلقہ این اے 161 سے علی خان ترین کو بھی گرین سگنل مل چکا ہے اور ان کے ونگز میں پی پی227 میں ویسے تو اسحاق گھلو ڈاکٹر شیر اعوان رانا ارسلان خان اور حافظ صدیق امیدواری کے علم بلند کئے ہوئے ہیں لیکن قرعہ پیر رفیع الدین شاہ کے نام نکلنے کی قومی امید ہے کیونکہ غالب گمان اور موجودہ سیناریو میں پیر آف گولڑہ شریف کی پی ٹی آئی میں شمولیت کو 100 فیصد یقینی بتایاجارہا ہے اوراگر ایسا ہواتو پیر رفیع الدین شاہ کی ٹکٹ اور بھی سو فیصد یقینی ہے اور صدیق بلوچ اور عبدالرحمن خان کانجو سے پیچ اپ کی تمام خبریں بھی بے بنیاد ہونے جارہی ہیں

اب اگر بات کی جائے حلقہ پی پی 224 کی تو وہاں پر اختر خان کانجو کے حمایت یافتہ زوارحسین وڑائچ ہیں جن کے بارے میں شنید ہے کہ ان کی ٹکٹ کنفرم ہوچکی اور شفیق آرائیں جوکہ اپنا ووٹ بنک بھی رکھتے ہیں اس بنا پر شدید ناراض ہیں اور ان کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ کسی بھی وقت عبدالرحمن خان کانجو سے الحاق کرسکتے ہیں جس بنا پر پی ٹی آئی کو شدید مشکلات پیش آسکتی ہیں جبکہ 225 میں پی ٹی آئی کی جانب سے چار کنڈیڈیٹس پائپ لائن میں ہیں اور ان میں سے طاہر خان ملیزئی کو گرین سگنل مل چکا ہے کیونکہ وہ حیات اﷲ ترین کے حمایت یافتہ ہیں اس بنا پر سابق ایم پی اے اکرم کانجو اور آفتاب بابر کا فل موڈ ہے کہ وہ پی ٹی آئی کو خیر باد کہہ دیں۔حلقہ پی پی 226 میں بھی اختر خان کانجو کی بھرپور کوشش ہے کہ محمود نواز جوئیہ کو ایم پی اے کا ٹکٹ مل جائے لیکن اس حلقہ میں رانا اعجاز احمد نون سابق ایم پی اے کو گرین سگنل دیاجارہا ہے لیکن نواب امان اﷲ کی سیاسی پوزیشن کلیئر نہ ہونے کی بنا پر یہ معاملہ بھی گلے پڑا ہوا ہے اور delay کا شکار ہے ۔محمود نواز جوئیہ اور احمد نواز کے مقابلہ میں رانا اعجاز احمد نون ایک مضبوط امیدوار ہیں جبکہ ان کا مقابلہ سجاد حسین جوئیہ یا ان کے بیٹے شاہ محمد جوئیہ سے بھی ہوسکتا ہے ۔گڑگلو کے مطابق حلقہ پی پی225 کیلئے سجاد حسین جوئیہ اور عبدالرحمن کانجو میں بھی سرد جنگ اب گرم کی طرف گامزن ہے کیونکہ سہیل کانجو کے الیکشن لڑنے کے اعلان کی وجہ سے اسے روکنے کیلئے عبدالرحمن کانجو نے این اے 160 اور پی پی 225 کی دونوں سیٹوں سے الیکشن لڑنے کا عندیہ دیا ہے جس کی وجہ سے موجود ایم پی اے اور سجاد جوئیہ کا حمایت یافتہ جہانگیر سلطان بھٹہ منظر سے غائب ہوجاتا ہے جبکہ سجاد جوئیہ کی خواہش ہے جہانگیر سلطان بھٹہ کی الیکشن contest کرے اور اگر معاملہ سیٹل نہ ہوا اور سجاد جوئیہ نے مخالفت کی تو عبدالرحمن کی سیٹ خطرے میں پڑ جائے گی کیونکہ سہیل کانجو جیتنے کی پوزیشن میں نہ ہے لیکن عبدالرحمن کانجو کیلئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہونے کا امکان ہے تاریخ اور حالات و واقعات یہی بتاتے ہیں کہ جب تک جوئیہ اور کانجو اکٹھے الیکشن نہیں لڑیں گے فتح یابی ان کا مقدر نہیں بنے گی

حلقہ پی پی 228 میں عزت جاوید کو مضبوط امیدوار جانا جارہا ہے احمد خان بلوچ کا معاملہ ففٹی ففٹی ہے اگر جہانگیر ترین اسے ’رام‘ کرسکے تو پھر عبدالرحمن کانجو یا دیگر کسی بھی دوسرے امیدوار کیلئے خطرناک ہوگاجبکہ صدیق خان بلوچ کی کہانی تھک چکی ہے اسے طشت ازبام کرنا وقت کے ضیاع کے مترادف ہے۔ درج بالا پیچیدہ اور الجھی ہوئی صورت حال میں دونوں پارٹیوں کیلئے کوئی بھی فیصلہ کرنا انتہائی کٹھن ہے کیونکہ ایک بھی غلط فیصلہ ساری سیاسی بساط کو پلٹ سکتا ہے ۔اس ساری صورت میں حال پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سوائے امداد اﷲ عباسی کے کوئی بھی شخص ضلع بھر میں دکھائی نہیں دے رہا ۔ المختصر جہانگیر ترین 31مئی سے 4 جون تک تمام معاملات کو واضح کرنے والے ہیں عبدالرحمن خان کانجو آج تک تو ن لیگ کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے کے دعویدار ہیں لیکن گڑگلو کی پیشین گوئی ہے کہ وہ الیکشن آزاد حیثیت میں لڑیں گے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: liaquat ali mughal

Read More Articles by liaquat ali mughal: 238 Articles with 123746 views »
me,working as lecturer in govt. degree college kahror pacca in computer science from 2000 to till now... View More
30 May, 2018 Views: 734

Comments

آپ کی رائے