میڈیا نشانے پر کیوں؟

(Rufan Khan, )

 گزشتہ روزجمعیت علماء اسلام نے پشاورمیں فاٹا انضمام کے خلاف صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے فاٹا انضمام کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔ احتجاجی مظاہرے میں دور دور سے کارکناں شریک ہوئے ان کاایک ہی مطالبہ تھا کہ فاٹا کو الگ صوبہ بنادیا جائے اور قبائلیوں سے رائے لی جائے ۔چونکہ آپ کے علم میں ہوگا کہ چنددن قبل فاٹا انضمام کا بل وفاقی کابینہ اور سینیٹ نے منظورکیا اورفاٹا باقاعدہ خیبر پختونخوا کا حصہ بن گیا اب اس کے خلاف جو بھی کچھ کرتا ہے اپنا قیمتی وقت ضائع کرتا ہے ۔ اس سلسلے میں گزشتہ روزایک طرف فاٹا انضمام بل کی منظوری کیلئے خیبر پختونخو ا اسمبلی میں کابینے کااجلاس ہورہا تھاتودو سری جانب جمعیت علماء اسلام اسمبلی کے باہر فاٹا انضمام کے خلا ف پراُمن احتجاج ریکارڈکروارہاتھا لیکن اس دوران اچانک مظاہر ین مشتعل ہوگئے اورصوبائی اسمبلی کا گھیراؤ کیااوراسمبلی ہال کو تالے لگانے شروع کئے۔ پولیس نے اُسے منتشر کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس کامیاب نہ ہوسکی اورحالت بگڑ نے لگی توپولیس کی مزید نفری طلب کرلی گئی جب پولیس کی نفری پہنچ گئی تو اُنہوں نے مظاہرین پر آنسو گیس اور شیلنگ کی۔ میڈیا کے نمائندگان اپنی رپورٹنگ میں مصروف تھے اور ناطرین کوبروقت حقائق پر مبنی اور غیر جانبدارانہ صورتحال سے آگا ء کررہے تھے۔اس دوران جمعیت علماء اسلام کے چند کارکناں نے میڈیا کے نمائندوں پر حملہ کیا اور اسے پتھراؤ کا نشانہ بنایا ۔سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ کیا میڈیا کے نمائندوں کاقصوریہ تھاکہ اُنہوں نے جمعیت علماء اسلام کے مشتعل احتجاج کو بروقت کوریج دی یااُن پر اس لئے پتھراؤکیاکہ وہ روزہ خور تھے؟ اگر ان کے روز ے بھی تھے اور ان کا قصوربھی نہیں تھا تو کیو ں جے یو آئی کے کارکنوں نے غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا ۔ صبح سے میڈیا کے تمام نمائند گان ڈی ایس این جیزسمیت صوبائی اسمبلی کے باہر موجودتھے اور انتظار میں تھے کہ اب جمعیت علمااسلام کے کارکناں فاٹا انضمام کے خلاف احتجاج کیلئے آئیں گے ۔افسوس ان کو کیا پتہ تھا کہ وہ ہم میڈیا کے نمائندوں پر بھی پتھر برسائیں گے ۔احتجاج کے دوران پولیس نے جو شیلنگ اور ڈانڈے استعمال کئے ۔اس پر بھی سوچناہوگاکہ کون غلط تھا ؟بہت دکھ ہوا جب میں نے ٹی وی اسکرین پر تشددکایہ ماحول دیکھاا اس لئے نہیں کہ مظاہرین نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایااوراپنے مطالبے تسلیم کرانے کیلئے اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے اسمبلی کاگھیراؤکیا بلکہ صدمہ اس پر ہوا کہ میڈیا نمائندگان جو جمعیت علماء اسلام کے احتجاجی مظاہر ے کوروزے کی حالت میں سخت تکلیف اورشدید گرمی میں کوریج دینے کی خدمت میں مصروف تھے تواس کے بدلے میں جمعیت علماء اسلام کے چند شرپسند عناصر نے ان پر پتھربرسائے۔ جس سے میڈیا کے کئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور گاڑیوں کو کافی نقصان پہنچااس کے ساتھ ساتھ متعدد میڈیا کے نمائندگان اور کمرہ مین بھی زخمی ہوئے کیا یہ غنڈہ گردی نہیں اگر غنڈہ گردی نہیں تو کیا ؟ ملک میں ہر سیاستدان دعوے سے کہتا ہے کہ میڈیا ملک کا چوتھا ستون ہے ملک چلانے میں میڈیا کا کردار اہم ہے اورجس سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ صحافی برادری معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے یہ معاشرے کی آنکھیں اور کان ہوتے ہیں قارئین کرام حکومت تو میڈیا کوتسلیم کرتی ہے لیکن میڈیا کے نمائندوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہتی ہے کیونکہ میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ روز انہ وہ رویہ اپنا یا جاتا ہے جومعاشرے کی کسی اورفرد کے ساتھ پیش نہیں آتا۔ آئے روز میڈیا کے نمائندوں پر قاتلانہ حملے تک کئے جاتے ہیں۔رپورٹنگ کے دوران متعدد صحافی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاچکے ہیں پھران کے خاندان اور معصوم بچے بے یار و مددگار رہ جاتے ہیں کیونکہ وہ تو اپنے گھر کاکفیل ہوتا تھا چند دن کیلئے سیاستدان میڈیا پرہمددردیاں حاصل کرنے کیلئے لواحقین کو تعزیت کرتے رہتے ہیں لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد لوگوں سے صحافی کا نام بھی بھول جاتا ہے نہ توان کے خاندان کو سرکاری ملازم کی طرح سرکار سے کچھ ملتا ہے اور نہ ہی کسی میڈیا ادارے کی طرف سے ہاتھ کچھ آتا ہے ۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ میڈیا میں اتفاق واتحاد کا فقدان ہے۔ اتحاد و اتفاق ہوگا تو شائد کسی بھی صحافی کے ساتھ یہ نہ ہوتا۔ حکومت بھی میڈیا کی اس بے اتفاقی سے فائد اٹھاتی ہے ۔بد قسمتی سے آج کل صحافیوں کاروپ ہر کسی نے اپنا یا ہے قلم اور ایک چھوٹا کیمرہ پیدا کرکے بلیک میلنگ کرتے ہیں ۔ اگرہم چاہتے ہیں کہ دو نمبر افراد سے چھٹکارامل جائے۔ اورحکومت صحافیوں کو تحفظ فراہم کرے تومیڈیا کو اتحاد واتفاق کی فضا پیدا کرنی ہوگی اورایک دوسرے کا ہمدرد بننا ہوگا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rufan Khan

Read More Articles by Rufan Khan: 28 Articles with 11107 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 May, 2018 Views: 467

Comments

آپ کی رائے