سعودی عرب ایک نئی راہ پر گامزن۰۰۰

(M A Rasheed Junaid, India)
۰۰۰ ملکی معیشت کے استحکام کے لئے نئی راہیں

یہ ایک خوش آئند خبرہیکہ مملکتِ سعودی عرب میں فوجی سازو سامان تیار کرنے کی ذمہ دار کمپنی سامی نے ملک میں جہازوں کے بنیادی ڈھانچے اور ان کے اسپیر پارٹس کی تیاری کیلئے تیزی سے کام جاری رکھا ہوا ہے فی الحال یہ کام شہر جدہ میں ہورہا ہے۔ ہوائی جہازوں کی کمپنی اے اے سی سی کے اشتراک سے 2020تک ہوائی جہازوں کے اسپیر پارٹس کی تیاری شروع کردے گی۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی عرب کی ایئر کرافٹ ایکیوپمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکیٹیو انجینئر ڈاکٹرمنصور العید نے بتایا کہ فرم 2020سے ٹائیفون طیاروں کے اسپیر پارٹس کی تیاری شروع کرے گی تاہم سول طیاروں کے اسپیر پارٹس کی تیاری اسی سال یعنی 2019میں شروع ہونے کا امکان ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر مقامی سطح پر کسی بھی چیز تیاری عمل میں آتی ہے تو اس کے اخرجات بھی کم ہوتے ہیں۔ اسی سلسلہ میں منصور العید کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر ہوائی جہازوں کے پرزہ جات کی تیاری سے اخراجات میں کمی، ان کی درآمدات سے منافع کمانے اور قومی پیدواواری صلاحیت میں اضافے کے بے پناہ مواقع پیدا ہونگے۔ مسلح افواج کو بیرون ملک سے جہازوں کے پرزے منگوانے کی پریشانی ختم ہوگی اور پبلک سیکٹر میں ہزاروں سعودی شہریوں کو روزگار مہیاکیا جا سکے گا۔جدہ میں جہازوں کے پرزہ جات کی تیاری کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں ڈاکٹر منصور العید نے کہا کہ سعودی عرب طیاروں کے پرزہ جات کی تیاری میں جلد خود کفیل ہوجائیگا۔جن پرزہ جات کی تیاری سعودی عرب میں کی جارہی ہے ان میں جہازوں کے ٹائر، ان کے اندر استعمال ہونے والی فریم، جہازوں کے بڑے عقبی اور چھوٹے پر تیار کیے جائیں گے۔ جدہ میں تیاری کے بعد انہیں الظہران بھیجا جائے گا جہاں ان میں دوسرے پرزہ جات کی فٹنگ کی جائے گی۔ دیگر پرزہ جات میں بھی زیادہ تر سعودی عرب کے اندر ہی تیار کیے جائیں گے۔العید کے مطابق سعودی شہریوں کو روزگار کے مزید مواقع فراہم ہونگے انکا کہنا تھا کہ گذشتہ تین سال کے دوران ہم نے 450 سعودی شہریوں کو اس شعبے میں روزگار فراہم کیا ہے۔کمپنی کے پاس جہازوں کے پرزہ جات اور آلات کی تیاری کے لیے بے پناہ مواقع بتائے جارہے ہیں جس کے ذریعہ مزید شعبوں میں بھی ملازمتیں تخلیق کرنے کے امکانات بتائے جارہے ہیں۔منصور العید نے اس عزم کا اظہار بھی کہا کہ سعودی عرب نہ صرف خود طیاروں کے پرزہ جات میں خود کفیل ہوگا بلکہ ہم علاقائی سطح پر بھی دوسرے ممالک کی بھی اسپئرپارٹس کی تیاری میں مدد کرسکیں گے۔ان کا ایقان ہیکہ آئندہ دو سال کے دوران سعودی عرب میں قائم ایسے کارخانوں میں سعودی شہریوں کے تناسب کو 62 فی صد سے بڑھا کر 80 فی صد تک لایا جائے گا۔سعودی عرب کی یہ ایک بڑی کامیابی ہے اسی طرح دوسرے شعبوں میں بھی سعودی عرب خودکفیل ہوتا ہے تو اسکی معیشت پر مثبت اثر پڑسکتا ہے۔ سعودی عرب دنیا کا وہ اہم ملک ہے جہاں کئی ممالک کی سبزیاں، اناج، مشروبات،کاسمیٹکس ، کپڑااور ہر قسم کی مصنوعات و دیگر زندگی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی اشیاء فراہم ہوتی ہیں۔ اگر سعودی عرب ان تمام اشیاء میں نصف پر بھی خودکفیل ہوجائے تو اس سے اسکی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا اور ملک میں ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع فراہم ہونگے۔ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کا ویژن 2030سعودی عرب کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی ارادہ اسی وقت کامیابی سے ہمکنار ہوسکتا ہے جبکہ ملک کا ہر شہری سخت محنت، جستجو اورکام کے جذبہ کے تحت آگے آئے۔ ماضی میں سعودی شہریوں کو جو مراعات دیئے گئے تھے اس سے لاکھوں سعودی شہری آرام پسند زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے تھے لیکن آج معاشی استحکام اور ترقی کیلئے ضروری ہوگیا کہ سعودی عرب کا ہر شہری روزگار سے منسلک ہو کیونکہ شاہی حکومت نے کئی مراعات ختم کردیئے ہے جس کی وجہ سے سعودی شہریوں کو ضروری ہوگیا ہے کہ وہ محنت و مزدوری کرکے روزگار حاصل کریں۔ اب اگر شاہی حکومت نئے نئے ایجادات اور نئی ٹکنکس کے ذریعہ ملک کو خودمکتفی بنانے کی راہیں فراہم کرتی ہیں تو ملک میں روزگار کے کئی مواقع دستیاب ہونگے اور ملک معاشی انحطاط کے بجائے ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی شاہی حکومت کیلئے ضروری ہے کہ وہ ملک اور بیرون ملک دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے موثر اقدامات کریں ۔ یمن اور شام کے حالات پر قابو پانے کیلئے ضروری ہے کہ سعودی عرب اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ ملکر شامی حکمراں بشارالاسد اور اپوزیشن کے درمیان مصالحت کروانے کی کوشش کریں اور یمن میں صدر عبدربہ منصور ہادی اور حوثی باغیوں کے درمیان بھی بات چیت کے ذریعہ عملی اقدمات کریں۔ اگر سعودی عرب یمن اور شام کی خانہ جنگی میں یوں ہی پھنسا رہا تو اسکے منفی اثرات میں مزید اضافہ ہوگا اور اس سے سعودی معیشت پر مزید منفی اثرات مرتب ہونگے۔پڑوسی ممالک کے ساتھ مضبوط اور دوستانہ رشتے ہی سعودی عرب اور دیگر عرب و اسلامی ممالک کے درمیان معاشی استحکام کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہیکہ سعودی عرب، بحرین، عرب اماراتجس طرح قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرلئے ہیں اور قطر پر کئی قسم کی پابندیاں عائد کرچکے ہیں اس میں ترمیم کرتے ہوئے قطر کے ساتھ بہتر اور دوستانہ تعلقات دوبارہ قائم کرنے کی سعی کریں ، ان ممالک کے درمیان بہتر اور خوشگوار تعلقات ہی خطہ میں خوشحالی کا سبب بن سکتے ہیں دہشت گردی کے حوالے سے خطہ میں جو سنگین حالات ہیں اس پر قابو پانے کیلئے ان تمام ممالک کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔عالمِ اسلام کے حکمراں مشرقِ وسطیٰ کے حالات کے ساتھ ساتھ فلسطین کے مسئلہ پر توجہہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ امریکہ جس طرح صیہونی مملکت کا ساتھ دیتے ہوئے فلسطینی عوام کے ساتھ نا انصافی کررہا ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ عالم ِ اسلام متحدہ طور پر آواز اٹھائے۔ دشمنانِ اسلام نہیں چاہتے کہ اسلامی ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات قائم رہے ان کا مقصد تو یہی ہیکہ ایک دوسرے کے دشمنی پیدا کرکے اپنے ہتھیاروں کی نکاسی عمل میں لائے جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں آج کروڑہا ڈالرس کے ہتھیار اسلامی ممالک خرید رہے ہیں جس کا استعمال شائد ممکن نہیں یہ ہتھیار صرف دکھاوے کیلئے خریدے جارہے ہیں کیونکہ ان کا استعمال شائد ان ہی ممالک کے لئے نقصاندہ ثابت ہو۔ لہذا عالمِ اسلام کروڑوں ڈالرس کے ہتھیار خریدنے کے بجائے اپنے پڑوسی ممالک کے شہریوں کو تعلیم اور روزگار سے منسلک کرنے اور دیگر ترقیاتی پروگراموں کو روبہ عمل لانے کی سعی کریں جس سے تمام اسلامی ممالک کے درمیان بھائی چارگی کی فضاء قائم ہوگی۔ کاش عالمِ اسلام کے حکمراں ہر میدان میں خودمکتفی ہوکر دوسروں کی ضروریات پورا کرنے والے بنتے۰۰۰
یمن میں ماہِ صیام کا احترام تک نہیں۔۔۔ جنگ جاری
حوثی باغیوں کو شکست کا منہ دیکھنا پڑرہا ہے ۔یمن کی ساحلی گورنری الحدیدہ میں حکام کے مطابق عرب اتحادی فوج کی مدد سے سرکاری فوج اور حکومت نواز مزاحمتی فورسز نے الحدیدہ کے تین اہم علاقوں کو باغیوں سے آزاد کرالیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق الحدیدہ کے گورنر الحسن طاہر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سرکاری فوج عرب اتحادی فوج کی مدد سے تیزی کے ساتھ الحدیدہ شہر میں پیش قدمی کررہی ہے۔ گذشتہ دو روز کے دوران تین اہم علاقوں سے باغیوں کو نکال دیا گیا ۔الحسن طاہر نے الحدیدہ کے عوام سے اپیل کی کہ وہ باغیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور حکومتی فوج کا استقبال کریں اور اس کی بھرپور مدد کریں تاکہ جلد از جلد شہر کو باغیوں سے نجات دلائی جاسکے۔دوسری جانب حوثی ملیشیا کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے یمن کے مغربی ساحلی محاذ پر پے درپے شکست کا اعتراف کیا ہے۔ ان کی جانب سے اپنی شکست کے اعتراف کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جبکہ الحدیدہ گورنری کے کئی اہم علاقوں کو حوثی شدت پسندوں سے چھڑا لیا گیا ہے۔ملک کے مغربی ساحلی محاذ پر باغیوں کو مسلسل شکست دینے کے ساتھ انہیں غیرمعمولی جانی اور مالی نقصان بھی پہنچایا گیا ہے۔ ماہِ رمضان المبارک کے موقع پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سعودی اتحاد، حکمراں یمنی فوج اور حوثی باغیوں کے درمیان کم از کم ایک ماہ کیلئے جنگ بندی عمل میں لائی جاتی تاکہ جنگ میں حصہ لینے والے سعودی اتحاد کی فوج ہو کہ حوثی باغی اور یمنی فوج یا یمن کے عام شہری ۔ سب ہی اس مقدس ماہ کا احترام کرتے ہوئے احکامات الٰہی بجالاتے برخلاف اسکے یمن میں خانہ جنگی جاری ہے جس میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو ہلاک کررہا ہے کاش مسلم حکمراں اپنے مسلم بھائیوں کو اس ماہِ مبارک میں ہلاک کرنے سے بچے رہتے۔
اسرائیلی فوج کا فلسطینی روزہ داروں کے تکلیف دہ برتاؤ
اسرائیلی فوج ماہِ صیام میں بھی فلسطینی روزہ داروں کو مسجد اقصیٰ جانے سے روکنے کیلئے جگہ جگہ فوجی چوکیاں قائم کرکے ستانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق غرب اردن اور بیت المقدس کے درمیان قائم کردہ اسرائیلی فوجی چیک پوسٹیں فلسطینی نمازیوں اور روزہ داروں کیلئے ایک نئی آزمائش بن گئے ہیں۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق ماہ صیام کے دوسرے جمعہ کو جب بیت لحم سے ہزاروں روزہ دار مسجد اقصی میں نماز جمعہ کی ادائی کیلئے نکلے تو انہیں القدس سے متصل سرحد پر قائم چوکی پر روک لیا گیا۔ گھنٹوں روکے جانے کے بعد فلسطینیوں کو چھوڑا گیا۔ شناخت اور تلاشی کی آڑ میں چوکی پر فلسطینی مردو خواتین روزہ داروں کی تذلیل کی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ اب روز کا معمول بن گیا ہے۔ایسا ہی الخلیل اور القدس شہروں کے درمیان قائم چیک پوسٹوں پرہوتا ہے۔ الخلیل سے القدس تک کا سفر منٹوں کے بجائے گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ فلسطینی شہری گھنٹوں چوکیوں پر قطاروں میں کھڑے تلاشی اور چیکنگ کے انتظار میں رسواء ہوتے ہیں چیک پوسٹوں پر ہونے والی تذلیل پر مقامی فلسطینی شہری سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے کئی بار صہیونی حکام سے ماہ تلاشی کا طریقہ کار تبدیل کرنے پر زور دیا مگرصہیونی فوجی اور پولیس اہلکار دانستہ طورپر فلسطینیوں کو ہراساں کرتے اور ان کے اعصاب کو آزمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک مقامی سماجی کارکن اور انسانی حقوق کمیٹی کے رابطہ کار ایڈووکیٹ فرید الاطرش نے اسرائیلی چیک پوسٹوں پر فلسطینیوں کی روز مرہ کی بنیاد پر جاری تذلیل کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ مسجد اقصی میں نماز کی ادائیگی کیلئے آنے والوں کو ان چیک پوسٹوں ہی پر نمازیں ادا کرنا پڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیک پوسٹوں پر فلسطینیوں کی تلاشی کا عمل سست ہونے کے ساتھ توہین آمیز بھی ہے اور ماہ صیام میں صہیونی ایک طے شدہ منصوبے کے تحت سخت گرمی میں روزہ داروں کو دھوپ میں کھڑا رکھتے ہیں۔ اسرائیلی درندگی کا اور کیا ثبوت ہوسکتاہے کہ وہ ماہ رمضان المبارک کے موقع پر بھی روزہ داروں کو اذیت پہنچانے کے لئے گھنٹوں تلاشی کے نام پر تکلیف پہنچا رہے ہیں ۔
***

ملکی معیشت کے استحکام کے لئے نئی راہیں
ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید
9949481933
یہ ایک خوش آئند خبرہیکہ مملکتِ سعودی عرب میں فوجی سازو سامان تیار کرنے کی ذمہ دار کمپنی سامی نے ملک میں جہازوں کے بنیادی ڈھانچے اور ان کے اسپیر پارٹس کی تیاری کیلئے تیزی سے کام جاری رکھا ہوا ہے فی الحال یہ کام شہر جدہ میں ہورہا ہے۔ ہوائی جہازوں کی کمپنی اے اے سی سی کے اشتراک سے 2020تک ہوائی جہازوں کے اسپیر پارٹس کی تیاری شروع کردے گی۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی عرب کی ایئر کرافٹ ایکیوپمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکیٹیو انجینئر ڈاکٹرمنصور العید نے بتایا کہ فرم 2020سے ٹائیفون طیاروں کے اسپیر پارٹس کی تیاری شروع کرے گی تاہم سول طیاروں کے اسپیر پارٹس کی تیاری اسی سال یعنی 2019میں شروع ہونے کا امکان ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر مقامی سطح پر کسی بھی چیز تیاری عمل میں آتی ہے تو اس کے اخرجات بھی کم ہوتے ہیں۔ اسی سلسلہ میں منصور العید کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر ہوائی جہازوں کے پرزہ جات کی تیاری سے اخراجات میں کمی، ان کی درآمدات سے منافع کمانے اور قومی پیدواواری صلاحیت میں اضافے کے بے پناہ مواقع پیدا ہونگے۔ مسلح افواج کو بیرون ملک سے جہازوں کے پرزے منگوانے کی پریشانی ختم ہوگی اور پبلک سیکٹر میں ہزاروں سعودی شہریوں کو روزگار مہیاکیا جا سکے گا۔جدہ میں جہازوں کے پرزہ جات کی تیاری کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں ڈاکٹر منصور العید نے کہا کہ سعودی عرب طیاروں کے پرزہ جات کی تیاری میں جلد خود کفیل ہوجائیگا۔جن پرزہ جات کی تیاری سعودی عرب میں کی جارہی ہے ان میں جہازوں کے ٹائر، ان کے اندر استعمال ہونے والی فریم، جہازوں کے بڑے عقبی اور چھوٹے پر تیار کیے جائیں گے۔ جدہ میں تیاری کے بعد انہیں الظہران بھیجا جائے گا جہاں ان میں دوسرے پرزہ جات کی فٹنگ کی جائے گی۔ دیگر پرزہ جات میں بھی زیادہ تر سعودی عرب کے اندر ہی تیار کیے جائیں گے۔العید کے مطابق سعودی شہریوں کو روزگار کے مزید مواقع فراہم ہونگے انکا کہنا تھا کہ گذشتہ تین سال کے دوران ہم نے 450 سعودی شہریوں کو اس شعبے میں روزگار فراہم کیا ہے۔کمپنی کے پاس جہازوں کے پرزہ جات اور آلات کی تیاری کے لیے بے پناہ مواقع بتائے جارہے ہیں جس کے ذریعہ مزید شعبوں میں بھی ملازمتیں تخلیق کرنے کے امکانات بتائے جارہے ہیں۔منصور العید نے اس عزم کا اظہار بھی کہا کہ سعودی عرب نہ صرف خود طیاروں کے پرزہ جات میں خود کفیل ہوگا بلکہ ہم علاقائی سطح پر بھی دوسرے ممالک کی بھی اسپئرپارٹس کی تیاری میں مدد کرسکیں گے۔ان کا ایقان ہیکہ آئندہ دو سال کے دوران سعودی عرب میں قائم ایسے کارخانوں میں سعودی شہریوں کے تناسب کو 62 فی صد سے بڑھا کر 80 فی صد تک لایا جائے گا۔سعودی عرب کی یہ ایک بڑی کامیابی ہے اسی طرح دوسرے شعبوں میں بھی سعودی عرب خودکفیل ہوتا ہے تو اسکی معیشت پر مثبت اثر پڑسکتا ہے۔ سعودی عرب دنیا کا وہ اہم ملک ہے جہاں کئی ممالک کی سبزیاں، اناج، مشروبات،کاسمیٹکس ، کپڑااور ہر قسم کی مصنوعات و دیگر زندگی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی اشیاء فراہم ہوتی ہیں۔ اگر سعودی عرب ان تمام اشیاء میں نصف پر بھی خودکفیل ہوجائے تو اس سے اسکی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا اور ملک میں ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع فراہم ہونگے۔ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کا ویژن 2030سعودی عرب کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی ارادہ اسی وقت کامیابی سے ہمکنار ہوسکتا ہے جبکہ ملک کا ہر شہری سخت محنت، جستجو اورکام کے جذبہ کے تحت آگے آئے۔ ماضی میں سعودی شہریوں کو جو مراعات دیئے گئے تھے اس سے لاکھوں سعودی شہری آرام پسند زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے تھے لیکن آج معاشی استحکام اور ترقی کیلئے ضروری ہوگیا کہ سعودی عرب کا ہر شہری روزگار سے منسلک ہو کیونکہ شاہی حکومت نے کئی مراعات ختم کردیئے ہے جس کی وجہ سے سعودی شہریوں کو ضروری ہوگیا ہے کہ وہ محنت و مزدوری کرکے روزگار حاصل کریں۔ اب اگر شاہی حکومت نئے نئے ایجادات اور نئی ٹکنکس کے ذریعہ ملک کو خودمکتفی بنانے کی راہیں فراہم کرتی ہیں تو ملک میں روزگار کے کئی مواقع دستیاب ہونگے اور ملک معاشی انحطاط کے بجائے ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی شاہی حکومت کیلئے ضروری ہے کہ وہ ملک اور بیرون ملک دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے موثر اقدامات کریں ۔ یمن اور شام کے حالات پر قابو پانے کیلئے ضروری ہے کہ سعودی عرب اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ ملکر شامی حکمراں بشارالاسد اور اپوزیشن کے درمیان مصالحت کروانے کی کوشش کریں اور یمن میں صدر عبدربہ منصور ہادی اور حوثی باغیوں کے درمیان بھی بات چیت کے ذریعہ عملی اقدمات کریں۔ اگر سعودی عرب یمن اور شام کی خانہ جنگی میں یوں ہی پھنسا رہا تو اسکے منفی اثرات میں مزید اضافہ ہوگا اور اس سے سعودی معیشت پر مزید منفی اثرات مرتب ہونگے۔پڑوسی ممالک کے ساتھ مضبوط اور دوستانہ رشتے ہی سعودی عرب اور دیگر عرب و اسلامی ممالک کے درمیان معاشی استحکام کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہیکہ سعودی عرب، بحرین، عرب اماراتجس طرح قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرلئے ہیں اور قطر پر کئی قسم کی پابندیاں عائد کرچکے ہیں اس میں ترمیم کرتے ہوئے قطر کے ساتھ بہتر اور دوستانہ تعلقات دوبارہ قائم کرنے کی سعی کریں ، ان ممالک کے درمیان بہتر اور خوشگوار تعلقات ہی خطہ میں خوشحالی کا سبب بن سکتے ہیں دہشت گردی کے حوالے سے خطہ میں جو سنگین حالات ہیں اس پر قابو پانے کیلئے ان تمام ممالک کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔عالمِ اسلام کے حکمراں مشرقِ وسطیٰ کے حالات کے ساتھ ساتھ فلسطین کے مسئلہ پر توجہہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ امریکہ جس طرح صیہونی مملکت کا ساتھ دیتے ہوئے فلسطینی عوام کے ساتھ نا انصافی کررہا ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ عالم ِ اسلام متحدہ طور پر آواز اٹھائے۔ دشمنانِ اسلام نہیں چاہتے کہ اسلامی ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات قائم رہے ان کا مقصد تو یہی ہیکہ ایک دوسرے کے دشمنی پیدا کرکے اپنے ہتھیاروں کی نکاسی عمل میں لائے جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں آج کروڑہا ڈالرس کے ہتھیار اسلامی ممالک خرید رہے ہیں جس کا استعمال شائد ممکن نہیں یہ ہتھیار صرف دکھاوے کیلئے خریدے جارہے ہیں کیونکہ ان کا استعمال شائد ان ہی ممالک کے لئے نقصاندہ ثابت ہو۔ لہذا عالمِ اسلام کروڑوں ڈالرس کے ہتھیار خریدنے کے بجائے اپنے پڑوسی ممالک کے شہریوں کو تعلیم اور روزگار سے منسلک کرنے اور دیگر ترقیاتی پروگراموں کو روبہ عمل لانے کی سعی کریں جس سے تمام اسلامی ممالک کے درمیان بھائی چارگی کی فضاء قائم ہوگی۔ کاش عالمِ اسلام کے حکمراں ہر میدان میں خودمکتفی ہوکر دوسروں کی ضروریات پورا کرنے والے بنتے۰۰۰

یمن میں ماہِ صیام کا احترام تک نہیں۔۔۔ جنگ جاری
حوثی باغیوں کو شکست کا منہ دیکھنا پڑرہا ہے ۔یمن کی ساحلی گورنری الحدیدہ میں حکام کے مطابق عرب اتحادی فوج کی مدد سے سرکاری فوج اور حکومت نواز مزاحمتی فورسز نے الحدیدہ کے تین اہم علاقوں کو باغیوں سے آزاد کرالیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق الحدیدہ کے گورنر الحسن طاہر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سرکاری فوج عرب اتحادی فوج کی مدد سے تیزی کے ساتھ الحدیدہ شہر میں پیش قدمی کررہی ہے۔ گذشتہ دو روز کے دوران تین اہم علاقوں سے باغیوں کو نکال دیا گیا ۔الحسن طاہر نے الحدیدہ کے عوام سے اپیل کی کہ وہ باغیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور حکومتی فوج کا استقبال کریں اور اس کی بھرپور مدد کریں تاکہ جلد از جلد شہر کو باغیوں سے نجات دلائی جاسکے۔دوسری جانب حوثی ملیشیا کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے یمن کے مغربی ساحلی محاذ پر پے درپے شکست کا اعتراف کیا ہے۔ ان کی جانب سے اپنی شکست کے اعتراف کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جبکہ الحدیدہ گورنری کے کئی اہم علاقوں کو حوثی شدت پسندوں سے چھڑا لیا گیا ہے۔ملک کے مغربی ساحلی محاذ پر باغیوں کو مسلسل شکست دینے کے ساتھ انہیں غیرمعمولی جانی اور مالی نقصان بھی پہنچایا گیا ہے۔ ماہِ رمضان المبارک کے موقع پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سعودی اتحاد، حکمراں یمنی فوج اور حوثی باغیوں کے درمیان کم از کم ایک ماہ کیلئے جنگ بندی عمل میں لائی جاتی تاکہ جنگ میں حصہ لینے والے سعودی اتحاد کی فوج ہو کہ حوثی باغی اور یمنی فوج یا یمن کے عام شہری ۔ سب ہی اس مقدس ماہ کا احترام کرتے ہوئے احکامات الٰہی بجالاتے برخلاف اسکے یمن میں خانہ جنگی جاری ہے جس میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو ہلاک کررہا ہے کاش مسلم حکمراں اپنے مسلم بھائیوں کو اس ماہِ مبارک میں ہلاک کرنے سے بچے رہتے۔

اسرائیلی فوج کا فلسطینی روزہ داروں کے تکلیف دہ برتاؤ
اسرائیلی فوج ماہِ صیام میں بھی فلسطینی روزہ داروں کو مسجد اقصیٰ جانے سے روکنے کیلئے جگہ جگہ فوجی چوکیاں قائم کرکے ستانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق غرب اردن اور بیت المقدس کے درمیان قائم کردہ اسرائیلی فوجی چیک پوسٹیں فلسطینی نمازیوں اور روزہ داروں کیلئے ایک نئی آزمائش بن گئے ہیں۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق ماہ صیام کے دوسرے جمعہ کو جب بیت لحم سے ہزاروں روزہ دار مسجد اقصی میں نماز جمعہ کی ادائی کیلئے نکلے تو انہیں القدس سے متصل سرحد پر قائم چوکی پر روک لیا گیا۔ گھنٹوں روکے جانے کے بعد فلسطینیوں کو چھوڑا گیا۔ شناخت اور تلاشی کی آڑ میں چوکی پر فلسطینی مردو خواتین روزہ داروں کی تذلیل کی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ اب روز کا معمول بن گیا ہے۔ایسا ہی الخلیل اور القدس شہروں کے درمیان قائم چیک پوسٹوں پرہوتا ہے۔ الخلیل سے القدس تک کا سفر منٹوں کے بجائے گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ فلسطینی شہری گھنٹوں چوکیوں پر قطاروں میں کھڑے تلاشی اور چیکنگ کے انتظار میں رسواء ہوتے ہیں چیک پوسٹوں پر ہونے والی تذلیل پر مقامی فلسطینی شہری سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے کئی بار صہیونی حکام سے ماہ تلاشی کا طریقہ کار تبدیل کرنے پر زور دیا مگرصہیونی فوجی اور پولیس اہلکار دانستہ طورپر فلسطینیوں کو ہراساں کرتے اور ان کے اعصاب کو آزمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک مقامی سماجی کارکن اور انسانی حقوق کمیٹی کے رابطہ کار ایڈووکیٹ فرید الاطرش نے اسرائیلی چیک پوسٹوں پر فلسطینیوں کی روز مرہ کی بنیاد پر جاری تذلیل کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ مسجد اقصی میں نماز کی ادائیگی کیلئے آنے والوں کو ان چیک پوسٹوں ہی پر نمازیں ادا کرنا پڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیک پوسٹوں پر فلسطینیوں کی تلاشی کا عمل سست ہونے کے ساتھ توہین آمیز بھی ہے اور ماہ صیام میں صہیونی ایک طے شدہ منصوبے کے تحت سخت گرمی میں روزہ داروں کو دھوپ میں کھڑا رکھتے ہیں۔ اسرائیلی درندگی کا اور کیا ثبوت ہوسکتاہے کہ وہ ماہ رمضان المبارک کے موقع پر بھی روزہ داروں کو اذیت پہنچانے کے لئے گھنٹوں تلاشی کے نام پر تکلیف پہنچا رہے ہیں ۔
***

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M A Rasheed Junaid

Read More Articles by M A Rasheed Junaid: 259 Articles with 99734 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Jun, 2018 Views: 402

Comments

آپ کی رائے