آزاد کشمیر کو دستور کا تحفہ اور صوبہ کی منطق

(Tahir Ahmed Farooqi, Muzaffarabad azad kashmir)
آزاد کشمیر کو دستور کا تحفہ اور صوبہ کی منطق

آزاد جموں وکشمیر مملکت پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کے سایہ خدا ئے ذوالجلال میں مہذب اقوام کے آئینہ دار سنگ میل سفر کیجانب آغاز کر چکا ہے ایکٹ1974 ؁ء دستور کی معراج سے ہمکنار ہو کر تیرویں ترمیم کی منظوری کے ساتھ صدر ریاست مسعود خان کے دستخطوں سے سرکاری گزٹ میں شائع ہونے کے بعد نافذ العمل ہو گیا ہے جسکے ساتھ ہی آزاد حکومت انتظامی مالیاتی خود مختاری اور سب خطہ کے شہری پاکستان بشمول آزاد ممالک کے شہریوں جیسا درجہ سے سرفراز ہو گئے ہیں یہ وقعتا قابل رشک تاریخ ساز کامیابی ہے جسکا اسمان میاں نواز شریف ، شاہد خاقان عباسی ہیں تو چاند راجہ فاروق حیدر اور انکی ٹیم کے تمام ارکان ستارے ہیں قومی اداروں پارلیمنٹ حکومت پاکستان کابینہ دفاع خارجہ خزانہ سمیت اسٹبلشمنٹ نے سورج کیطرح روشنی کی حرارت فراہم کرتے ہوئے ملت پاکستان کے جذبات یکجہتی کا حق ادا کردیا ہے وزیراعظم پاکستان کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد نئے سیکرٹری کشمیرافیئرز اکبر درانی‘ چیف سیکرٹری میاں وحید الدین،سابق چیف سیکرٹری اعجازمنیر، ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل فرحت علی میر ، ایڈیشنل سیکرٹری ترقیات ڈاکٹر آصف شاہ ، سیکرٹری قانون ارشاد قریشی سمیت شامل تمام کرداروں کا باترتیب کام یاد گار حیثیت اختیار کرگیا ہے جسکے حوالے سے جاری کشمکش میں آخری چار دن خصوصاً 31مئی کا دن اور شب کے اتار چڑھا ؤ دریا نیلم میں ڈوب جانے والے شخص کے حالات سے مختلف نہ تھے جسکے یقینی ڈوب جانے کے امکانات میں کنارے لگ جائے تو معجزہ ہوتا ہے ، ایسا ہی ہوا ہے اپنی حکومت کے آخری چار گھنٹوں میں بطور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنی کابینہ کا اجلاس بلا کر جاوید میاں داد کے طرح آخری بال پر چھکا لگا کر ساری قوم کی رکی سانسوں کو جیت کے نعرے کے ساتھ سجدہ شکر میں بدل دیا تھا اور اس جیت کیلئے مچھلی کی طرح بغیر پانی کے تڑپنے والے فاروق حیدر نے شاہد آفریدی کیطرح ناقابل یقین رسک لیکر تیرہویں ترمیم کو ورلڈ کپ جیسا اعزاز بنا دیا ہے اس سارے عرصے میں مظفرآباد دستور سازایوان کے اندر باہر سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق کا سب ٹھیک ہے جیسا اعتماد کا ماحول قائم رکھنا سپیکر شاہ غلام قادر سمیت وزراء ممبران پارلیمانی پارٹی کا عزم استقامت سے انتظار کرتے رہنا بڑی بات ہے تاہم ایوان صدر کاخزاں سے پہلے ہی بہار والے درخت کی طرف بلبل جیسے کمزور عمل دخل نے ثابت کردیا ہے سیاستدان کی جگہ سیاستدان کو ہی ہونا چاہیے جہاں سردار خالد ابراہیم ،چوہدری طارق فاروق شاہ ،غلام قادر کو ہونا چاہیے تھا راجہ قیوم ، نجیب نقی ، محمد عزیز بھی اہلیت رکھتے تھے یکم جون کو مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کا سارے عمل کو پوشیدہ رکھ کر آئینی ترامیم کے مسودے کو سایہ نہ پڑنے جیسا طرز عمل کو نا پسندیدہ قرار دینا اور صوبہ بنانے کی بو آنے کا اظہار سابق وزیراعظم سردار عتیق ، اپوزیشن لیڈر چوہدری یاسین ، عبدالماجد خان کی منطق معنی خیز ضرور ہے جنکے نقطہ نظر کی انکے تحفظات کے حوالے اہمیت بنتی ہے اپنے اپنے فورم پر اچھی بحث با مقصد مکالمہ تعمیر ی حیثیت رکھتا ہے فعال اپوزیشن اچھی حکومت کا لازمی ستون ہے مگر ایوان کے باہر بحث برائے بحث تنقید برائے تنقید بے وزن عادت ہے کشمیری مہاجرین مقیم پاکستان کی 12نشستوں کے حق میں دلائل ہوں یا اختلاف رائے ہو جب بطور کشمیری رائے شماری کے تناظر میں ان کو اپنا حصہ کہتے ہیں تو ان کی نشستوں کو ہوا میں رکھنا دو عملی تھا جن کو آئینی تحفظ دے کر تضاد ختم کیا گیا ہے ان سے منسلک آزاد کشمیرکی آبادی جتنے نسل در نسل کشمیری ہوں یا بیرون ملک سبز پاسپورٹ پر تارکین وطن ہوں آزاد کشمیر کے کوٹہ کے علاوہ بحیثیت پاکستانی ملک کی پارلیمنٹ صوبائی علاقائی اسمبلیوں حکومتوں ، افواج سمیت تمام اداروں میں بڑے بڑے منصبوں سے لیکر عام نوعیت کی ذمہ داریوں پر بیٹھے ہوں سیاست تجارت سمیت ہر شعبہ زندگی میں نظر آتے ہیں ان کشمیریوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے کیا آپ ان سب کو آزاد کشمیر میں لا کر ان کے مقام حیثیت سہولیات سمیت وہ سب کچھ دے سکتے ہیں جو ان کے پاس ہے آپ تو کبروں پر جھکڑا کرتے ہیں ، گلگت بلتستان کے عوام اپنے ایمان کی طرح صوبے کے مطالبے کے حامی ہیں مگر ان کو حکومت پاکستان نے کہا 15لاکھ کی آبادی پر صوبہ نہیں بنایا جا سکتا ہے البتہ فاٹا کی طرح صوبہ کے پی کے میں ضم کرکے قومی اسمبلی میں تین صوبائی اسمبلی میں چھ نشستوں پر نمائندگی دی جا ئی جا سکتی ہے دونوں خطوں کی آئینی اصلاحات میں اقوام متحدہ کی کشمیری پر قراردادوں کے مطابق حق خودرادیت کی حساسیت کا تحفظ برقرار رکھا گیا ہے اگر 28ہزار مربہ میل والے گلگت بلتستان کو سی پیک کے باوجود صوبہ نہیں بنایا جارہا ہے تو چار ہزار مربہ میل والے آزاد کشمیر کو صوبہ بنا کر پاکستان کے ہر ضلع کو صوبہ بنوانے کی تحریکوں کے دروازے کھولے جا سکتے ہیں یہاں اےئر پورٹ بنانے کیلئے پی آئی اے پٹری بچھانے کیلئے ریلوے اسی طرح کے دیگر امور پر روک کر عوام کو سہولیات سے محروم رکھنا جائز ہے نیشنل ایکشن پلان کی آڑ میں بلوچ پٹھانوں کو نکالا گیا تو بلوچستان اسمبلی میں بختون خواہ ملی پارٹی نے تحریک التواء پیش کی ہمارے شہریوں کو تنگ کیا جاتا ہے پھر یہاں کشمیریوں کا کیا کام ہے جو واپس ہو گئی مگر کشمیر کونسل کے چند ملازموں اور غیر حقیقت پسندانہ باتوں کا بھوت خطہ کے عوام سے دوستی نہیں دشمنی ہے حکومت آزاد کشمیر نے بہت کچھ حاصل کیا ہے لیا کچھ نہیں ہے مقبوضہ کشمیر کی قیادت عوام کی جگہ آپ سب بھی ہوتے تو حکومت پاکستان کی سطح پر رابطے ، تعلق کو ترجیح دیتے دو انچ مسجد حائل نہ ہونے دیتے مصور کے شاہکار مجسمہ کی ہزاروں خوبیوں پر توجہ دینی چاہیے ایک دو خامیوں پر نقطہ چینی کرکے مکھی نہ بنا جائے اس آئینی نو نے آزاد کشمیر کو کنواں کے مینڈک والے قحط سے نکا کر عملی دنیا کے سمندر کی طرف راستہ دے دیا ہے جس پر چلتے ہوئے اپنی اہلیت صلاحیت کو ثابت کرنا ہوگا آپ کو بطور سرکاری مشینر ی یہ حال ہے یکم جون کو مشترکہ اجلاس میں افطار کا وقت قریب آ جانے کے باوجود سارے ڈیوٹی پر معمور پولیس اہلکاروں ، ڈرائیورز ، سٹاف ممبران ، پولیٹکل ورکرز کیلئے دو کھجوریں ، ٹھنڈے پانی کا انتظام نہیں کر سکتے ہیں کیا یہ بھی وزیراعظم نے کرنا ہے یہ مجموعی معاشرتی چہرہ ہے جس کے باعث خود کو درجہ بہ درجہ دیوتا اور باقی سب کو اپنی تعریفی پوجا کا حامل سمجھنے والوں کے ساتھ آئینی کشمیر ورلڈ کپ اور رمضان المبارک کے تقدس کے فریضے کے پیش نظر اختتام تک سیز فائر رہ سکتا ہے اس کے بعد راقم سمیت اپنا اپنا کام سب کا حق بنتا ہے آخر میں سابق وزیراعظم بیرسٹر سلطان محمود کو آئینی کشمکش میں حکومت کے ساتھ دو ٹوک انداز میں حوصلے بڑھانے کے کردار پر سلام نہ پیش کرنا ناانصافی ہے ان سمیت سب لوگ مبارکباد کے حقدار ہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 204 Articles with 68362 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jun, 2018 Views: 149

Comments

آپ کی رائے