چیچہ وطنی کی سیاسی صورت حال

(Babar Alyas, Chichawatni)
سابقہ این اے 162اور163 کو ملکر ایک نسبتاً بڑا حلقہ این اے 149 تو بن گیا کیا عام آدمی کو بھی اس سے کوئی فائدہ ھو گا یا پھر وہی محرومی براے محرومی عروج پر جاۓ گئ یہ تو وقت ہی بتاۓ گا.

سابقہ این اے 162 جو 2002ء سے موجودہ پانچ سالہ حکومتی مدت مکمل ھونے تک مجموعی طور پر محرومی کا شکار ھے اور اسکی بڑی وجہ منتخب نمایندگان کی تبدیل ھوتی وفاداریاں ہیں جو بظاہر تو علاقے کی بہتری ؤ ترقی کے لیے ھوتی ہیں مگر وجہ محرومی بن جاتی ہیں. جبکہ اس کے مقابلے میں سابقہ این اے 163 2002ء سے اب تک ترقی یافتہ حلقوں میں شمار ھوتا ھے اور موجودہ ایم این اے چوہدری منیر ازہر جٹ صاحب نے علاقہ میں کافی کام کرواے ہیں اب 2018ء میں جب دونوں سابقہ حلقوں کو ملکر ایک بڑا حلقہ این اے 149 بنا دیا گیا ھے تو دیکھتے ہیں کہ عوام کے مسائل اجاگر کرنے اور حل کرنے میں یہاں سے منتخب ہونے والے نمائندۓ کہاں تک کامیاب ھوتے ہیں یا پھر جوں کا توں والی صورت حال ہی عوام کا مقدر رہتی ھے .الیکشن تو قیاس آرائی کا نام ہے ہی اور ویسے بھی کیا الیکشن وقت پر ہوں گے؟ یہ وہ سوال ھے جسکی وجہ سے سیاسی پندت تو تذبذب کا شکار ہیں !!” چیچہ وطنی حلقہ این اے۔162 ضلع ساہیوال سے پاکستان قومی اسمبلی کا حلقہ یہ ضلع ساہیوال کا تیسرا حلقہ ہے جو بڑا بھی ھے اب اس حلقہ کو این اے 163 کے ساتھ ضم کر کے نئی حلقہ بندی میں یہ حلقہ این اے 149 ھو چکا ھے اور میرے خیال میں اب یہ حلقہ این اے 149 ایک کافی بڑا حلقہ بن چکا ھے.صوبائی سطح پر نظر دوڑۓ تو چیچہ وطنی میں سابقہ پی پی.224 کو 200 ,سابقہ پی پی. 225 کو 201,سابقہ پی پی. 226 کو 202 میں تبدیل کر دیا گیا ھے .

نئی حلقہ بندیوں کے بعد ساہیوال کی تحصیل چیچہ وطنی شہر کو قومی اسمبلی حلقہ این اے 162,163 کو واحد نشست این اے 149 میں تبدیل کرنے سے یہاں کی تین بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی کو فرق نہیں کیونکہ اصل مقابلہ بھی انکے ہی درمیان ھےاور کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔

اس کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتیں اور کئی آزاد امیدوار بھی اس سیاسی دنگل میں اترنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

دوسری جانب فرض کریں اگر کوئی ایم این اے کے الیکشن کے لیے ان بڑی سیاسی جماعتوں کا ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ھوا تو وہ امیدواران صوبائی اسمبلی کے حلقوں پی پی 200، 201 اور 202 پر طبع آزمائی کریں گے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) اس وقت سابقہ این اے 162, چوہدری طفیل جٹ صاحب, چوہدری منیر ازہر جٹ صاحب 163, موجودہ این اے 149 میں اقتدار میں تھی .صوبائی سطح پر پی پی 224 سابقہ اور موجودہ پی پی 200 میں چوہدری وحید اصغر ڈوگر صاحب پاکستان تحریک انصاف, پی پی 225 سابقہ اور موجودہ 201 میں چوہدری محمد ارشد جٹ صاحب ,سابقہ پی پی 226 اور موجودہ 201 میں چوہدری محمد حنیف جٹ صاحب پاکستان مسلم لیگ ن کے اقتدار تھے, اب علاقے کے باقی رہنماؤں میں اس وقت چوہدری محمد طفیل جٹ صاحب گروپ، چوہدری منیر ازہر صاحب گروپ، چوہدری زاہد اقبال صاحب گروپ سابقہ MNA , حاجی محمد ایوب صاحب, رانا ریاض احمد خاں صاحب گروپ شامل ہیں جو خود سال 2018 میں قسمت آزمائی کرنا چاہیتے ہیں.

پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے رائے حسن نواز صاحب سابقہ MNA ، رائے مرتضی اقبال صاحب ، چوہدری وحید اصغر ڈوگر سابقہ MPA، رائے عزیزاللہ خاں صاحب سابقہ MNA ، میجر (ر) غلام سرور صاحب,ملک نعمان لنگڑیال صاحب گروپ, چوہدری سعید گجر صاحب, رانا نعیم صاحب, ٹکٹ کی دوڑ میں شامل ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے طرف سے متوقع امیدوار چوہدری نذیر وڑائچ صاحب ، چوہدری شہزاد سعید چیمہ صاحب سابقہ MPA، چوہدری شفقت چیمہ صاحب ، رانا نعیم الرحمان صاحب اور بیگم شہناز جاوید صاحبہ سابقہ MNA بھی اس میں نمایاں ہو سکتے ہیں۔

نئی حلقہ بندی کے اعتبار سے قومی حلقہ این اے 147 میں سابقہ این اے 163 پورا حلقہ اور سابقہ این اے 162 کا پورا شہری حلقہ اور غازی آباد، دادفتیانہ کی کچھ یونین کونسل بھی شامل کیا گیا ھے تو اس اعتبار سے مقابلہ ٹف ھوگا.

پاکستان مسلم لیگ ن کے ممکنہ امیدوار چوہدری محمد طفیل جٹ صاحب نظر آتے ہیں کیونکہ سابق صوبائی حلقہ پی پی 225 میں ان کے بھائی چوہدری ارشد جٹ صاحب اور پی پی 226 میں ان کے دوسرے بھائی چوہدری حنیف جٹ صاحب موجودہ ممبران صوبائی اسمبلی رہے ہیں۔

اور این اے 162 کا شہری حلقہ اور نئی شامل ہونی والی یونین کونسلز میں شامل ہیں اور چوہدری طفیل جٹ صاحب کافی گہرا سیاسی اثر رسوخ رکھتے ہیں۔

چوہدری منیر ازہر جٹ صاحب MNA کا ووٹ بینک اس علاقہ میں نہ ہونے کے برابر ہی ہے اور دوسری جانب حاجی چوہدری ایوب صاحب شاید خود بھی اس نئے حلقے سے الیکشن لڑنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور ان کی ساری ہمدردیاں چوہدری طفیل کیساتھ ہیں۔لیکن ایک حقیقت اور جس سے کنارہ کرنا پاگل پن ہی ھو گا اور وہ یہ کہ رانا ریاض احمد خاں صاحب اور انکے بیٹے رانا باسط ریاض صاحب کا گروپ ھے جو 2013 سے پاکستان مسلم لیگ ن کے لیے دن رات کام کر رہا ھے اور اس سال 2018میں رانا ریاض احمد خاں صاحب MPA کے لیے میدان میں آنے کو تیار ہیں مگر چوہدری طفیل جٹ صاحب گروپ کی حمایت کم نظر آتی ہے .

یہ بھی ایک سچ ھے کہ چیچہ وطنی سے ایم این اے کی ٹکٹ کے حصول کے لیے اس بار بھی صرف ن لیگ میں کھینچا تانی کی سی کیفیت نظر آتی ہے ، جس امیدوار کو چوہدری زاہد اقبال صاحب گروپ سپورٹ کرے گا اس کا ہی پلڑا بھاری ہو گا اور اسی طرح صوبائی حلقوں میں بھی ن لیگ کیطرف سے چوہدری زاہد اقبال صاحب گروپ ہی اثر انداز رہے گا۔چیچہ وطنی میں ن) لیگی اہم رہنما کوئی بڑا فیصلہ کر کے اپ سیٹ کر نے کو بھی تیار نظر آتے ہیں. پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے رائے حسن نواز خاں صاحب شاید الیکشن لڑنے کے لیے اہل نہ ہو سکیں کیونکہ نوازشریف کی نااہلی کے بعد ان کو ریلیف ملنے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔

چوہدری وحید اصغر ڈوگر صاحب اور رائے مرتضی اقبال صاحب صوبائی سیٹوں پہ امیدوار ہوں گے جبکہ میجر سرور صاحب اور ملک نعمان لنگڑیال صاحب کے درمیان ٹکٹ کے حصول کیلئے کافی کھینچا تانی ہو گی مگر ٹکٹ اسے ہی ملے گا جسے رائے حسن نواز صاحب کی حمایت حاصل ہو گی۔ چوہدری وحید اصغر ڈوگر صاحب سیاست چیچہ وطنی میں ڈوگر گروپ کی طرف بھی بڑھ چڑھ کے حصہ لیتے ہیں۔ 1988 میں اپنا پہلا الیکشن رائے حسن نواز صاحب کیخلاف پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے لڑا تھا۔ تحصیل ناظم کے دور میں یونین ناظم منتخب ہوئےااور 2002 میں آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا اور پی پی 224 سے ایم پی اے بنے ۔ 2013 میں پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے الیکشن جیتا۔ اب ایک بار پھر تحریک انصاف کے ہی پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔۔مگر ایک حیقیت یہ بھی ھے کہ انکی شرافت کے علاوہ کوئی ایسا نمایاں کام حلقے کے لیے نظر نہیں آتا جسکی بدولت انکو مضبوط ماننا جاۓ سواۓ ڈوگر گروپ کے ذاتی ووٹ بینک لے.

چوہدری شہزاد سعید چیمہ صاحب پاکستان پیپلزپارٹی کے پرانے اور مخلص ورکر ہیں، کافی امید ہے ایم این اے کا ٹکٹ انہی کو ملے گا دوسری جانب یہ بھی قیاس آرائی ھے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اس حلقے سے سابقہ MNA بیگم شہناز جاوید صاحبہ کوایم این کا ٹکٹ دے گی جبکہ چوہدری شفقت چیمہ صاحب ، ڈاکٹر رانا نعیم الرحمان صاحب اور چوہدری شہزاد سعید چیمہ صاحب اس بہت بڑے قومی حلقے کی بجائے صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کو ترجیح دے سکتے ہیں.

سابقہ حلقہ این اے۔163 پاکستان قومی اسمبلی کا ضلع ساہیوال کا چوتھا حلقہ ہے۔

ملک نعمان احمد لنگڑیال صاحب قومی اسمبلی کے انتخابات میں اس حلقے سے 2008ء میں کامیاب ہوا۔اور 2013 میں پاکستان مسلم لیگ ن کے فورم سے چوہدری منیر ازہر جٹ صاحب MNA منتخب ہوئے.
2013 کے عام انتخابات 11 مئی 2013 کو ہوئے جس میں
چوہدری محمد منیر اظہر صاحب پاکستان مسلم لیگ (ن) 88853 ووٹ لے کر
ملک نعمان احمد لنگڑیال صاحب پاکستان مسلم لیگ (ق) 66883 ووٹ لے کر
آفتاب ارشاد چیمہ صاحب پاکستان تحریک انصاف 16276ووٹ لے کر نمایاں تھے
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چوہدری محمد منیر اظہر نے 88853 ووٹ حاصل کر کامیابی حاصل کی۔

حلقہ این اے۔162 پاکستان قومی اسمبلی ضلع ساہیوال کا تیسرا حلقہ تھا جس میں سال 2008 میں چوہدری زاہد اقبال صاحب PPP کے فورم سے قومی اسمبلی کے انتخابات میں اس حلقے سے کامیاب ہوۓ.

2013 کے عام انتخابات 11 مئی 2013 کو ہوے اور چوہدری زاہد اقبال صاحب جو علاقے کی ترقی کے پیش نظر مسلم لیگ ن میں شامل ھوۓ تھے اور 2008 کے ضمنی الیکشن میں کامیابی بھی حاصل کی اور 2013 کے عام انتخابی مقابلے میں مسلم لیگ ن کے فورم سے علاقے کی بہتری کے لیے میدان میں آنے مگر نااہلی کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے امید وار راۓ حسن نواز صاحب جیت گۓ اور انکی نااہلی کے بعد مسلم لیگ ن کے فورم سے چوہدری طفیل جٹ صاحب MNA منتخب ہوئے اب 2018 میں جب حلقہ بڑا ھوچکا ھے اور پاکستان تحریک انصاف بظاہر مضبوط نظر آتی ہے حلقہ کی عوام ااپنی سرداری کا تاج کس سر پر رکھتے ہیں یہ تو 25 جولائی 2018 کا سورج ہی بتاۓ گا. لیکن آنے والوں دنوں میں اس حلقے کا سیاسی ماحول اپنے عروج پر رہے گا.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 298 Articles with 99524 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
05 Jun, 2018 Views: 405

Comments

آپ کی رائے