ذرا سوچیں! کاش حکمران مخلص ہوتے۔۔۔۔

(RIAZ HUSSAIN, Chichawatni)
کاش حکمران کا جملہ برا تلخ ہے۔ اس کے پیچھے ایک پچھتاوا اور احمقانہ فیصلہ بھی ہے۔ کہ ہم اپنا حکمران، لیڈر چننے کے لیے مخلص نہیں تھے۔ ہماری اوقات ایک بریانی کی پلیٹ، بچے کا ٹرانسفر، تھانے میں ایف۔ آئی ۔آر اور گلی کے سیوریج کی حدتک محدود ہے۔ ابھی بھی وقت ہے لیڈر کا چناو کرنے میں مخلص ہو جاو اگر آنے والی نسلوں کو اچھا پاکستان دینا چاہتے ہوں۔ پاک فوج ہمارے ماتھے جھومر ہے، یہ دنیاکی بہتری فوج ہے، چند نام نہاد فوج مخالف لوگوں کے پیچھے فوج کو بدنام یا برا نہ کہو۔ورنہ لبیا، شام، فلسطین بننے میں دیر نہیں لگتی۔ پاکستان زندہ باد

مختلف پرائم منسٹرز اور ہمارے پچھتاوے۔

آج کل سیاست کی گہما گہمی ہے۔ ہر سیاسی پارٹی دوسری سیاسی پارٹی کو بچھاڑنے کے چکر میں سرگرم ہے۔ سیاسی رکھ رکھاؤ اس وقت سے زور پکڑتا آرہا ہے جب سے یہ میرا دیس پاکستان معرض وجود میں آیا ہے۔ لیکن افسوس اس وقت ہوتا ہے جب الیکشن گزر جاتا ہے تو پھر بس ایک ہی فقرہ ہوتا ہے۔ ’’کاش حکمران مخلص ہوتے ۔۔۔‘‘

اگر اس فقرے پر غور کیا جائے تویہ لفظ پچھتاوے کے زمرے میں آتا ہے اور ایک لفظ (مخلص) کے معنی ہے۔ سچا ، کھرا اور صاف ۔ اس کا مطلب یہ ہوا جتنا ہم سچے کھرے اور صاف ستھرے ہونگے اتنے ہی اچھے اور بہتر انداز میں سیاسی چناؤ کرنے میں اچھا فیصلہ کر پائیں گے، پھر کاش کالفظ ختم ہو جائے گا۔

ہر سیاسی دور میں سیاست دانوں اور حکمرانوں نے کسی نہ کسی انداز میں جمہور (پاکستانی قوم) کو بیوقوف بنایا کسی نے کم تو کسی نے زیادہ ۔ اور خو د کو ملک کے سب سے کھرے اور سچے مخلص ہونے کا دعویٰ کرتے رہے ، رہیں گے۔ اگر ہمارے سیاست دان مخلص ہوتے تو اپنی جائیدادیں پاکستان سے باہر کیوں بناتے اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ مخلص نہیں ، یا پھر و ہ دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر پاکستان اور پاکستانی سادہ لوح قوم کے ساتھ بہت بڑا فراڈ کرنے جار ہے ہیں۔ ان کو یقین ہی نہیں کہ پاکستان محفوظ ہے یا محفوظ رہے گا یا پھر کالے دھن سے کمایا ہو ا روپیہ پاکستان میں رکھنے سے پکڑے جائیں گے۔

امراء کی اولادیں بیرونِ ممالک کیوں پڑھنے جاتی ہیں۔ جبکہ وہ خود اس قابل ہوتے ہیں کہ اس سے بھی زیادہ بہتر تعلیمی معیار پاکستان میں دے سکتے ہیں۔ لیکن وہ کیوں نہیں دیتے، اس لیے کہ ان کو اپنے ملک سے کوئی سروکار نہیں ۔ یا پھر اس سسٹم سے عام آدمی پاکستانی فائدہ نہیں اٹھا سکتا کیونکہ بہت مہنگا ہوگا یا یا پھر پڑھ لکھ کر ہمارے برابر ہو جائے گا، یہ سسٹم عام آدمی کی پہنچ سے اس لیے دور ہے کہ ہمارا نظامِ معیشت غلط ہے اور صحیح بنیادوں پر تقسیم دولت نہیں کر پائے اور نہ ہی کرنا چاہتے ہیں۔

اگر ہم مخلص ہوتے تو یقینی طور پر پچھلے دورِ حکومت کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ ہونے والا انتخابات میں تبدیلی ضرور لاتے لیکن ہماری اوقات تو ایک بریانی کی پلیٹ یا بچے کی ٹرانسفر تک محدود ہے، یا پھر گلی کا سیوریج ، اور تھانے میں FIR ہمارے مستقبل کی رکاوٹ بن جاتی ہے۔

چند سال پہلے ایک پاکستانی ٹی وی چینل کی طرف سے بیرون ملک پاکستانی طلبا یا انٹرویو کرنے گیا جہاں بلاول بھٹو زرداری بھی زیر تعلیم تھا۔ وہاں جو کچھ مجھے دیکھنے ، سننے اور سمجھنے میں اقتباس ملا اس کا ذکر ضرور کرتا چلوں گا۔ اینکر ان بچوں سے مختلف سوالا ت کرتا ہے۔ بات چل نکلتی ہے حکومتی ڈھانچے اور اقتدار کی تو پھر وہاں موجود طلبا نے جوا ب دیا کہ سر آپ خوامخواہ مغزماری نہ کریں جن لوگوں نے پاکستان کی سیاست کرنی ہے یا وقت کے حکمران بننا ہے وہ دوسرے ہاسٹل میں رہتے ہیں۔ یعنی بلاول بھٹو۔۔ یہ ایسا پاکستانی وڈیرہ اور طالب علم جس نے کبھی بھی ہمارے ساتھ کسی بھی پاکستانی تقریب میں شمولیت نہیں کی ۔ وہ وہاں پر موجود دوسری کمیونٹی کے ساتھ ہی تقریبات میں شرکت کرتا ہے اس کا پاکستان کے کلچر یا تاریخ سے کوئی لین دین نہیں۔ پھر ہم کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کاش حکمران مخلص ہوتے ۔ آج دیکھ لو وہی بات ہوئی ہے وہ سرکاری پروٹوکول لے رہا ہے اور الیکشن میں بھر پور حصہ بھی لے رہا ہے اور عین ممکن ہے پاکستان کی کسی بڑی سیٹ کا وزیر بھی بن جائے۔ پھر ہم کہیں گے کہ کاش حکمران مخلص ہوتے۔

صدر ایوب کا دور آیا ، دور حکومت گزر گیا ، بعد میں لوگوں کو کہتے سنا کہ ہم مخلص نہیں تھے کہ ہم نے محترمہ فاطمہ جناح ؒ کا ساتھ نہ دے کر زیادتی کی ہے حالانکہ لوگ آج بھی ایوب دور کو یاد کرتے ہیں جس دور میں امریکہ جیسا ملک ایئر پورٹ پر استقبال کے لیے جمع ہو جایا کرتا تھا ۔ اورپاکستان دوسرے ممالک کو قرض دیتا تھا۔

پھر دورِ حکومت میں تغیر و تبدل آئے پاکستان دو لخت ہو گیا، آج ہم کہتے کہ کاش ہم مخلص ہوتے۔ یا پھر حکمرانو ں کو کہتے ہیں کہ وہ مخلص ہوتے ۔۔۔ دوستو! حکمران کا مخلص ہونا ضروری نہیں لیکن انتخاب آپ نے مخلص کا کرنا ہے۔ تو حکمران بھی مخلص ہو جائے گا۔ بھٹو دور میں ایک وقت آیا کہ جہاں جہاں کوئی ہاری بیٹھا ہے وہ زمین پر قبضہ کر لے، کوئی بتا سکتا ہے کہ بھٹو نے کتنی زمین ہاریوں میں تقسیم کی یا کتنے ہاری قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے لیکن ملک میں خانہ جنگی جیسی صورت حال پیدا کر دی۔ طالب علم کے لیے بس کا کرایہ دس پیسے کردیا۔ تاکہ بس اور طالب علم کی لڑائی شروع ہو جائے۔ طلبا کی جتنی لڑائیاں ٹرانسپورٹ کے حوالہ سے ہوئی اس رعایت کے بعد ہوئیں ۔ اب ہم سوچ کر کہتے ہیں کہ کاش حکمران مخلص ہوتے۔

جنرل ضیاء الحق کا دور شروع ہوتا ہے جب روس پاکستان پر قبضہ کرنے کے چکر میں تھا ادھر امریکہ اسے سپرپاوور نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ ایسا پلان بنا کہ روس کئی ریاستی ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا اور امریکہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا اور سپر پاوور بن گیا ۔ ایک بہترین دور گزر ، مہنگائی نہ ہونے کے برابر تھی۔ روپے کا سواں حصہ بھی قابل استعمال تھا ۔ وقت گزر تا گیا ۔ ضیا الحق شہید ہو گئے ۔ اس سنہری دور کو بعد میں یاد بھی کرتے ہیں اور لوگ وہی فقرہ دہراتے ہیں کہ کاش حکمران مخلص ہوتے کہ اسلامی نظام قائم کرجاتا ہے۔ انصاف کا بول بالا ہوتا ۔

بے نظیر بھٹو کے دو ادوار حکومت آئے تیسرے کے لیے اپنی جان کی بازی ہا ر گئی، ق لیگ کا دور آتا ہے کتابیں مفت کا ڈھونک رچایا گیا ، کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ کتابیں سرکاری خزانے سے پرنٹ ہوتی ہیں یا پرویز الٰہی نے اپنی جیب سے خرچ کیا تھا۔ سرکاری خزانے سے پرنٹ ہو کر کتب کو بھی ہم مفت کتابیں کہتے آ رہے ہیں۔ اپنی اپنی اوقات دیکھیں کہ اپنے ہی پیسوں سے دو سے تین سو کا سیٹ ایک پورے سال کے لیے لے کر خوش ہو جاتے ہیں کیاآپ اس قابل بھی نہیں اگر نہیں تو اس کی وجہ بھی حکمران ہی ہیں۔ پھر ہم کہتے کہ کاش حکمران مخلص ہوتے ۔ کسی بھی حکمران نے اپنی جیب سے کچھ نہیں لگایا بلکہ ہماری ہی جیبوں سے نکلوا کر اپنی جیبیں بھر کر چلے گئے ۔

مشرف دور شروع ہوتا ہے امریکہ کی جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ 9/11کا نام نہاد وقوعہ ہمارے لیے درد سر بن جاتا ہے۔ پھر دور ختم ہوتا ہے ۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ کاش حکمران مخلص ہوتے۔ حالانکہ ایک عام آدمی آج بھی مشرف دور کو اچھا دور کہتا ہے۔

میرے ہم وطنو ! جتنے بھی سیاسی ادوار گزرے ہیں ان سب نے ایک ہی پلان کے تحت معیشت کو تباہ کیا ہے ، حالات ایسے پیدا کئے گئے کہ پہلے پاکستانی قوم کو مالی اور ذہنی طور پر غریب کیا جائے، اورچند امرا ، اشرافیہ کو امیر تر کیا جائے تاکہ یہ قوم زر خرید غلام کی طرح فرمانبردار ہو جائے ۔ آج ستر سال کا عرصہ گزرنے کے بعد غور کرو ہر ادارہ اپنا تشخص کھو چکا ہے، اس پر سیاست دانوں پر پہرہ ہے ، کلاس فور ملاز م کی تقرری و تبادلہ تک سیاست اثرانداز ہو چکی ہے۔ جب تک اپنا مفاد ملتا رہتا ہے ہم خاموش رہتے ہیں جب وقت اپنے قدموں کے نیچے روندتا ہے تو پھر بے اختیار منہ سے نکلتا ہے کاش ہمارے حکمران مخلص ہوتے۔ اس بات سے ہی اندازہ لگا لیں کہ ہر دور میں سیاست دانوں نے فوج جو دنیا کی بہتر فوج ہے اسے ختم کرنے کی کوشش کی یا پھر پولیس کیطرح بے بس کردیا جائے تاکہ ان کے سر پر لٹکتی ہوئی تلوار ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے اور پھر مک مکا کر کے اپنی اپنی باریوں پر حکومت کرتے رہیں ، جب بھی کوئی دوسرا ملک قبضہ کرنے کی کوشش کرے تو پھر یہ حکمران اڑان بھر کرے دوسرے ملکوں میں غائب ہو جائیں ۔ جب ہماری آنکھ کھلے تو پھر کہیں گے کہ کاش ہمارے حکمران مخلص ہوتے۔ ذرا سوچیں اور بغور جائزہ لیں کہ ہم کیا چاہتے تھے اور ہمارے ساتھ کیا ہو گیا (بھٹو زند ہ ہے) اللہ کریم ہم سب کو خود مخلص اور مخلص حکمران چننے کی توفیق عطافرمائے آمین۔میری سادہ قوم سیاست دانوں کی پیروی کریں لیکن ملکی مفاد کو سامنے رکھیں اور اپنی پاک فوج کا ساتھ دیں نہیں تو لبیا، شام، دمشق اور فلسطین بننے میں دیر نہیں لگے گی۔ پاکستان زندہ باد۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: RIAZ HUSSAIN

Read More Articles by RIAZ HUSSAIN: 118 Articles with 66608 views »
Controller: Joint Forces Public School- Chichawatni. .. View More
12 Jun, 2018 Views: 298

Comments

آپ کی رائے