الیکشن،سیاستدان اور عوام۔۔۔۔

(Nasir Alam, Sawat)

 ضلع سوات میں نامزداورٹکٹ ہولڈرامیدواروں نے انتخابی سرگرمیوں کا آغازکردیا،پرانے رشتے ناطے تازہ ہونے لگے،امیدواروں نے سرراہ علیک سلیک اور غمی خوشی میں شرکت کومعمول بنادیا،سوات کی آٹھ صوبائی اور تین قومی نشستوں کیلئے متعددامیدوار سامنے آگئے جبکہ ساتھ ساتھ آزادامیدوار بھی میدان میں نکلے،وعدوں اور بلند وبانگ دعوؤں کا میدان گرم اورسیاسی موسم کا درجہ حرارت بڑ ھ گیا ہے،وہ لوگ بھی اپنے حلقوں میں نظر آرہے ہیں جومنتخب ہونے کے بعد پانچ سال تک علاقے سے غائب رہے ، پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ شہبازشریف کاسوات سے الیکشن لڑنے کا اعلان کرکے کاغذات جمع کرادئے ہیں جس سے سوات کی سیاست میں ڈرامائی تبدیلی آگئی ،سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف این اے ۳ سے الیکشن لڑیں گے،بعض مقامی لوگوں کے مطابق شہبازشریف نے انتہائی مخدوش صورتحال میں سوات سے نقل مکانی کرنے والوں پر پنجاب داخلے پر پابندی لگائی تھی ،شہباز شریف کے کاغذات ان کے لیگل ایڈوائزر رانا اسد اور امیر مقام نے جمع کرادئے ،یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ن لیگ کے صوبائی صدر انجینئر امیر مقام بھی سوات میں ایک قومی اور ایک صوبائی نشست کیلئے الیکشن میں حصہ لیں گے،دوسری جانب سوات میں مختلف سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والوں سمیت کئی آزادامیدواروں نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرکے سیاسی سرگرمیاں،الیکشن کمپین،کارنر میٹنگزاورعوام رابطہ مہم کا آغاز کردیااوررشتے ناطے تازہ کرنے لگے جبکہ بڑی پابندی کے ساتھ لوگوں کی غمی خوشی میں بھی شرکت شروع کردی ہے ،سوات میں بعض سیاسی پارٹیوں کے کارکنان ٹکٹوں کی حالیہ تقسیم سے خوش نظر نہیں آرہے ہیں جس کا اظہار ان کی جانب سے کھل سامنے آرہاہے جس کے مطابق الیکشن کیلئے غیرموزون افرادکو ٹکٹ دے کر مستحق امیدوارو ں کو نظراندازکیاگیاہے،سوات میں الیکشن کیلئے نامزدامیدواروں میں پرانے چہروں کے ساتھ ساتھ نئے چہرے بھی سامنے آئے ہیں جو لوگوں کو اپنے حق میں ووٹ استعمال کرنے پر آمادہ کرنے کیلئے مسلسل متحرک نظرآرہے ہیں تاہم سب سے زیادہ کانٹے دار مقابلہ سوات کے اہم ترین صوبائی حلقہ پی کے پانچ پر متوقع ہے۔

ضلع سوات میں بھی سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں بلکہ یہ کہنابے جا نہ ہوگا کہ سیاسی موسم کافی گرم ہے اگرچہ نئی مردم شماری کی روشنی میں نئی حلقہ بندیوں نے سیاستدانوں کو ایک عجیب سے مخمصے میں ڈالا ہے تاہم وہ پھر بھی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں،سوات میں وہ سیاستدان بھی نظر آنے لگے جو کافی عرصہ تک پس منظرمیں رہیں ،سیاسی پارٹیوں کی جانب سے ممبر سازی،کارنرمیٹنگز،جلسوں اور انفرادی طورپر لوگوں سے میل ملاپ بام عروج پر ہے،سوات کے آٹھ صوبائی اور تین قومی حلقوں میں اس وقت سیاسی گرمیاں جاری ہیں جبکہ کئی سیاسی پارٹیوں نے تو ان حلقوں کیلئے اپنے امیداروں کوٹکٹ بھی جاری کئے ہیں اورکئی پارٹیوں کے کارکن نامزدگیاں بھی عمل میں لاچکے ہیں جن کی جانب سے مسلسل بیانات سامنے آرہے ہیں کہ فلاں ایک موزون امیدارہے لہٰذہ پارٹی قائدین اسے ٹکٹ دیں۔

بہت سی سیاسی پارٹیوں نے عام انتخابات کیلئے مہم کا آغاز سوات سے کردیا ہے جبکہ بڑی سیاسی پارٹیوں کے قائدین سوات کارخ کرکے عوام کے دلوں میں اپنے لئے جگہ بنانے کی کوششیں کررہے ہیں،کئی سیاستدان پرانے نعروں کے ساتھ اور کئی نئے نعروں کے ساتھ الیکشن کے میدان میں اترچکے ہیں ،عوام کے ساتھ وعدوں اور ان کیلئے بڑے بڑے کام کرانے کے دعوؤں کا سلسلہ تیزی کے ساتھ جاری ہے،سوات میں موجود کھیلوں کے میدانوں میں اس وقت کھیل کم اور سیاسی سرگرمیاں زیادہ ہورہی ہیں ہیں،سیاسی پارٹیوں نے گراسی گراؤنڈ،فارم گراؤنڈ مینگورہ ،کبل گراؤنڈ،ڈھیرئی گراؤنڈ،گلی باغ اورکھیلوں کے دیگر میدانوں کو اپنے جلسوں بلکہ سیاسی مقاصدکیلئے استعمال کرنا شروع کردیا ہے جس کے سبب ان میدانوں میں کھیلوں کی سرگرمیاں خاصی متاثر ہورہی ہیں ۔

سوات میں گذشتہ کافی عرصہ سے جتنے الیکشن ہوئے ہیں ان میں اکثریت ایک ہی پارٹی کی آئی ہے جس طرح ایم ایم اے،عوامی نیشنل پارٹی اورتحریک انصاف ،یہ پارٹیاں پانچ پانچ سال تک اقتدارمیں ر ہیں ،ان پارٹیوں یا ان پارٹیوں کی حکومتوں نے عوام کی فلاح اور علاقے کی ترقی کیلئے بھی کچھ اقدامات اٹھائے ہوں گے تاہم عوام پھر بھی ان سے مطمئن نظرنہیں آرہے ہیں جن کا کہناہے کہ ووٹ اس لئے دیا تھا کہ یہ لوگ اپنے منشور ،نعروں،وعدوں اور دعوؤں کوعملی جامہ پہنائیں گے مگر انہیں اس وقت مایوسی ہوئی جب اقتدارمیں آنے والے لوگ اپنے منشوراوروعدو ں کو بھلا کر اقتدار کے مزے لوٹنے لگے تاہم دوراقتدار میں اقرباء پروری کی پالیسی پر بڑی پابندی کے ساتھ عمل پیرا رہیں جس کے سبب لوگوں کا استحصال ہوتا رہا اوریوں وہ اپنے جائز حقوق سے محروم ہوتے رہیں۔

ان سب باتو ں سے قطع نظر آئندہ ہونے والے الیکشن کو مدنظر رکھ کر عوام کی رائے جاننے کی کوشش کی گئی تو ان کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا،ان میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جوکسی نہ کسی سیاسی پارٹی سے وابستگی رکھتے ہیں توظاہری بات ہے کہ ان کی ہمدردیاں اپنی متعلقہ پارٹی کے ساتھ ہوں گی لہٰذہ ایسے لوگوں کی رائے کوزیادہ اہمیت نہیں دی جاسکتی،دوسری جانب ایسے بھی لوگ موجود ہیں جن کی سیاسی وابستگی کسی بھی سیاسی پارٹی کے ساتھ نہیں تاہم اگر انہیں قائل کیا جائے تو وہ الیکشن میں سوچ سمجھ کر یا بلا سوچے سمجھے ووٹ استعمال کرتے ہیں،اس کے علاوہ ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو سیاست میں دلچسپی ہی نہیں رکھتے ،یہی وہ لوگ ہیں جن سے اگر الیکشن سے متعلق پوچھاجائے تو وہ بلادھڑک تبصرے کرتے ہیں،اس حوالے سے مختلف الخیال لوگوں کی جانب سے جو باتیں سامنے آئی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ سوات کے عوام کو ہمیشہ سیاستدانوں نے مختلف نعروں اور دعوؤں کے ذریعے دھوکہ دیا،الیکشن میں سیاستدان طرح طرح کے وعدے کرکے ووٹ بٹورلیتے ہیں اورایک طرح سے عوام کے کاندھوں پر پاؤں رکھ رکھ کر اقتدار تک پہنچ جاتے ہیں جس کے بعد سب کچھ بھلا کر اقتدارکے مزوں میں کھو جاتے ہیں۔

یہ ہے سیاستدانوں کے بارے میں عوامی رائے تاہم دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو سیاستدان ان باتوں سے قطع نظر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اوران کی جانب سے صبح سے لے کر رات گئے تک الیکشن کی تیاریاں ہورہی ہیں جبکہ کارکنوں کو نئی ممبر شپ اور لوگوں کو اپنی پارٹی میں شامل کرانے کا ٹاسک بھی دیا گیا ہے کیونکہ ممبر سازی اور نئی شمولیتوں سے ان کی پارٹی کو استحکام ملے گا اوران کی جیت یقینی ہوجائے گی۔

ان لوگوں کو اپنی فکر ہے انہیں یہ فکر نہیں کہ اس وقت سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سمیت آس پاس کے دیگر علاقوں میں پانی کی شدید قلت ہے،کنویں خشک ہوگئے ،دریاؤں کا پانی مضرصحت ہوگیا،امراض پھیل رہے ہیں،لوگوں کو صحت،تعلیم اور زندگی کی دیگر بنیادی سہولیات میسر نہیں، کاروباری لوگ مرضی کے نرخ چلارہے ہیں،دوسری طرف من مانے نرخوں پر عوام کے ہاتھ غذاکے نام پر زہر فروخت کیا جارہاہے کیونکہ یہاں پر فروخت ہونے والے پکے پکائے کھانے دن بھر کھلے آسمان تلے پڑے رہتے ہیں جن پر پورادن دھول اورگردوغبار پڑا رہتاہے جس کے سبب یہ غذاء زہر میں تبدیل ہوجاتی ہے ،سیاستدانوں کو یہ بھی فکر نہیں کہ اس وقت کتنے بچے مجبوری اور غربت کی وجہ سے سکولوں کی بجائے ورکشاپوں،ہوٹلوں اوردیگرمشقت والی جگہوں پر محنت اورمزدوری کیلئے جاتے ہیں اور کتنے بچے بازاروں اور گلی کوچوں میں بھیک مانگتے ہیں۔

ایک طرف سیاسی لوگوں کی جانب سے الیکشن کی تیاریاں عروج پر ہیں اوردوسری طرف عوام سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں کہ ان میں سے کون ایسا سنجیدہ اوردل میں قوم کا درد رکھنے والاہے جسے وہ ووٹ دیں، شائد کچھ مزید سوچنے کے بعد عوام کو اپنے اس سوال کا جواب بھی مل جائے تاہم اس وقت تک سامنے آنے والے امیدوار اور آئندہ نامزدہونے والے امیدوار اسی علاقے کے ہیں لہٰذہ عوام کیلئے یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ ان کے حلقے سے الیکشن لڑنے والوں میں سے کون مخلص،سنجیدہ اوردیانتدارہے لہٰذہ اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں شائد ان کے ووٹ کے ذریعے اس بارصحیح لوگوں کا انتخاب عمل میں آسکے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Nasir Alam

Read More Articles by Nasir Alam: 10 Articles with 3658 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Jun, 2018 Views: 326

Comments

آپ کی رائے