عیدِ سعید مبارک۰۰۰ ماہِ صیام کی عبادت و ریاضت اور راہِ ﷲ خرچ۔ ایک نعمت عظمیٰ

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

الحمد ﷲ رمضان المبارک کی خوشیاں مبارک ہوں۔ اﷲ کے نیک بندے عبادت الٰہی کے ذریعہ اپنے مالک کو راضی کرنے میں کامیاب ہوگئے اور دین و دنیا کی فلاح پالیئے ۔ نورانی ، رحمتوں کی بارشوں کا مہینہ اپنے کو پہنچ چکا ۔ اﷲ کے نیک بندے اس ماہِ مبارک کے گزرجانے پر دکھ و غم کے ساتھ اﷲ سے خیر کی امید رکھتے ہوئے ماہ صیام کوالوداع کہہ کر رخصت کیا۔ مسلمان اس عظیم المرتبت مہینے میں احکاماتِ الٰہی اور شریعت مطہرہ پر عمل کرتے ہوئے روزہ رکھے اور غرباؤ مساکین کا خیال کرتے ہوئے اﷲ کی راہ میں خیرات کرنے کی سعادت حاصل کی۔احکامات الٰہی کے تحت عالمی سطح پر مسلمان اپنے مالوں کی زکوٰۃ اور صدقات کے ذریعہ غریب ، مسکین بھائیوں اور بہنوں کی عالمی سطح پر مدد کرتے ہیں۔یہ مدد عالمی سطح پر فرداً فرداً بھی ہوتی ہے اور کہیں مسلم حکمرانوں اور اہلِ خیر حضرات و اداروں کی جانب سے اجتماعی طور پر بھی کی جاتی ہے۔سعودی عرب، عرب امارات، ترکی اور بعض اسلامی ممالک کی جانب سے عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر امداد فراہم کرتے ہیں ذرائع ابلاغ کے مطابق گذشتہ دنوں سعودی عرب کی جانب سے ماہ صیام کی مناسبت سے برادر ملک سوڈان کیلئے خصوصی امداد خرطوم پہنچا ئی گئی ۔ یہ امداد شاہ سلمان ریلیف مرکز اور سوڈان کے ہلال احمر کے تعاون سے مستحق شہریوں میں تقسیم کی جائیگی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب سے 458 ٹن امدادی سامان کی کھیپ مال بردار کشتیوں کے ذریعے سوڈان کی بورزان بندرگاہ پہنچائی گئی۔ امدادی سامان میں ادویات، خوراک اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں۔یہ امدادی سامان سوڈان کی بحر الاحمر، شمال کردفان ریاستوں اور وود عشانہ کے علاقے میں تقسیم کی جائے گی۔سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی’ایس پی اے‘ کے مطابق سوڈان کی تمام ریاستوں میں اور صوبوں میں شاہ سلمان ریلیف مرکز کی طرف سے بھیجی گئی ادویات 40 مراکز صحت اور 15 بنیادی ہیلتھ یونٹوں میں تقسیم کی جائے گی جس سے کم سے کم 50 ہزار افراد مستفید ہونگے۔ گذشتہ برس شاہ سلمان ریلیف مرکز کی جانب سے سوڈان کے رمضان امدادی پیکج کے تحت 5 لاکھ ڈالر کا سامان ارسال کیا گیا جس سے 87500 افراد مستفید ہوئے تھے۔اس طرح سعودی عرب اپنے دیگر مسلم بھائیوں اور بہنوں کو صحت مند اور خوش حال زندگی گزارنے کے لئے بڑے پیمانے پر خطیر رقم کی امداد فراہم کرتا ہے جو قابلِ تحسین اقدام ہے۔ اسی طرح ماہِ صیام میں عالمِ اسلام میں جس طرح روزداروں کو افطار کرایاجاتا ہے اس جیسی مثال کسی اور مذہب میں نہیں ملتی۔ حرمین شریفین میں لاکھوں کی تعداد میں ہر روز مسلمانوں کی ضیافت کا افطار کے وقت اہتمام قابلِ دید ہوتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے معتمرین کا جس طرح افطار کے وقت استقبال کیا جاتا ہے اور انہیں جس اندازمیں اپنے دسترخوان پر بیٹھ کر روزہ افطار کرنے کی دعوت دی جاتی ہے یہ قابلِ تعریف ہوتا ہے۔ اسلامی ممالک روزہ افطار کے وقت بڑے بڑے دسترخوان بچھائے جاتے ہیں۔ اسی طرح کا ایک دسترخوان ماہ صیام کے آخر دنوں میں دبئی پولیس نے بچھایا ۔

عالمی سیاحتی مرکز دبئی میں دنیا کا طویل ترین افطار دستر خوان
ماہِ صیام کے اختتام سے قبل دبئی پولیس نے عالمی سطح پر ایک نیا نیکارڈ قائم کیا ہے۔یہ ریکارڈ ہی نہیں بلکہ اﷲ کی خوشنودی حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے عالمی سیاحتی مرکز دبئی میں پولیس نے دنیا کا طویل ترین افطار دستر خوان قائم کرکے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق افطار عام زاید کے عنوان سے دبئی صنعتی زون میں جبل علی کے مقام پر 6 کلو میٹر طویل افطار دستر خوان لگایا گیا اور افطاری کیلئے 12 ہزار 830 ملازمین کی خدمات حاصل کی گئیں۔اس موقع پر دبئی کے انسپکٹر جنرل پولیس میجر جنرل عبداﷲ خلیفہ المری نے کہا کہ اس اہتمام کا مقصد الشیخ زاید کی قابل قدر انسانی اقدار اور ان کے انسانیت نوازی کے جذبے کو عام کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امارات گذشتہ پانچ سال سے بیرونی امداد کے حوالے سے پہلے نمبر پر ہے۔طویل ترین افطار دستر خوان کے موقع پر تقریب سے خطاب میں اس اہتمام کے نگران میجر جنرل السلام سعید بن ھویدی الفلاسی نے کہا کہ افطار دستر خوان پرخدمات انجام دینے کے لیے دبئی پولیس کے250 ملازمین کو بھی مامور کیا گیا جنہوں نے مسلسل 200 گھنٹے کی محنت سے افطار دسترخوان کا اہتمام کیا۔افطار اہتمام کے وائس چیئرمین بریگیڈیئر یوسف العدیدی نے کہا کہ کھلی شاہراہ پر افطار دستر خوان بچھانے اور چھ کلو میٹر طویل قطار لگانے کے باوجود ٹریفک میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں آئی۔یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہیکہ اتنے طویل دسترخوان کا اہتمام جس طرح کیا گیا وہ اپنی جگہ ایک ریکارڈ ہے تو دوسری جانب ٹرافک کو کسی قسم کا خلل نہ پہنچنے کیلئے انتظامات انجام دینا بھی ایک نیا ریکارڈ ہے ۔ اس طرح اسلامی کے علاوہ دیگر ممالک خصوصاً ترکی ، ہندوستان، پاکستان وغیرہ میں بھی روزہ داروں کیلئے بڑے بڑے دسترخوان سجائے جاتے ہیں اور اعلیٰ پیمانے پر روزہ داروں کی ضیافت کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ ماہِ صیام میں امیر و غریب سب ہی اﷲ کی دی ہوئی نعمتوں سے سرفراز ہوتے ہوئے اپنی دنیا و آخرت سنوارلیتے ہیں۔اس روزہ داروں کو افطار کرانا اور غرباء و مساکین کا خیال کرنا یہ سب اﷲ رب العزت کی ایک عظیم نعمت ہے جو ہم مسلمانوں کو اﷲ تعالیٰ نے عنایت فرمائی ہے۔

لیلۃ القدر کے موقع پرساڑھے تین لاکھ روزہ داروں کی قبلہ اول میں عبادت
الحمد ﷲ لاکھوں کی تعداد میں مسلمان رمضان المبارک میں دنیا کے مختلف ممالک سے حرمین شریفین میں حاضر ہوکر اپنے خالق و مالک کو راضی کرنے عبادت میں مشغول ہوجاتا ہیں۔ شبِ قدر کے موقع پر حرمین شریفین کا نظارہ کچھ عجیب منظر پیش کرتا ہے ویسے ہر روز ، ہر آن حرمین شریفین کا نورانی منظر لائق دید ہوتا ہے۔ مسلمانوں کیلئے قبلہ اول بھی حرمین شریفین کے بعد اہمیت کا حامل ہے۔ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج اپنی ظلم و بربریت کیلئے عالمی سطح پر مشہور ہے۔ ماہِ صیام میں بھی روزہ داروں کو اسرائیلی فورسس ظلم و ستم کا شکار بناتی رہی ہے روزہ داروں کو مسجد اقصی جانے کیلئے گھنٹوں سیکیوریٹی چک اَپ کے لئے ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔ اس کے باوجود فلسطینی مسلمان مسجد اقصی میں عبادت کرنے کو ترجیح دیتے ہوئے ہر اسرائیلی ظلم و بربریت کو سہتے رہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق فلسطین میں ماہ صیام کی27؍ویں شب (لیلۃ القدر)کے موقع پر لاکھوں نمازی مسجد اقصی پہنچے اور قبلہ اول میں رات بھر عبادت کی سعادت حاصل کی۔ دوسری طرف اسرائیلی فوج اور پولیس نے فلسطینیوں کو قبلہ اول تک رسائی سے روکنے کیلئے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں اور پورے بیت المقدس کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیاتھا۔فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق لیلۃ القدر کے موقع پر 1948 کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بیت المقدس اور مقبوضہ مغربی کنارے کے ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی مسجد اقصی پہنچے۔ اس موقع پر اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصی میں40سال سے کم عمر افراد کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔فلسطینی محکمہ اوقاف کے مطابق لیلۃ القدر کی عشاء اور تراویح کی نمازوں میں کم سے کم تین لاکھ 50ہزار فلسطینی شریک ہوئے۔قبل ازیں اسرائیلی پولیس کی طرف سے فلسطینی شہریوں کو قبلہ اول میں آنے سے روکنے کیلئے سنگین نوعیت کی پابندیاں عائدکرنے کا اعلان کیا تھا۔ رمضان کے دیگر ایام کی طرح اس روز بھی نام نہاد سیکیورٹی کی آڑ میں فلسطینی نمازیوں کو مختلف حربوں سے ہراساں کیا گیا تاہم اس کے باوجود مردو خواتین کی ایک بڑی تعداد قبلہ اول میں پہنچنے میں کامیاب رہی۔اسرائیلی فوج نے مسجد اقصی کو ملانے والی تمام شاہراؤں کو جگہ جگہ ٹریفک کیلئے بند کر رکھا تھا۔ فلسطینی شہری متبادل اور دور دراز کے راستوں سے قبلہ اول تک پہنچے۔قابض فوج نے القدس کی تمام فلسطینی کالونیوں کو فوجی چھانیوں میں تبدیل کر رکھا تھا۔ قابض فوج اور پولیس کی بھاری نفری نے القدس میں فلسطینیوں کے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر پوزیشنیں سنبھال رکھی تھیں۔اسرائیلی فوج کی اتنی سختی کے باوجود فلسطینی مسلمان اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر مسجد اقصیٰ پہنچ کر لیلۃ القدر کی عبادت میں مشغول رہے۔

آسٹریا میں مساجد کی بندش اسلام مخالف اقدام ۔ ترک صدر
دشمنانِ اسلام ، جس طرح اسلام کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے مسلمانوں کو عبادت الٰہی سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں اس سے مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے درمیان پیار و محبت کے بجائے دشمنی میں اضافہ ہوگا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے آسٹریا میں غیر ملکی امداد پر انحصار کرنے والی 7مساجد کو بند کیے جانے کے فیصلے کیخلاف اقدام کو اسلام مخالف قرار دیا ہے۔رجب طیب اردغان نے آسٹریا میں غیر ملکی امداد پر انحصار کرنے والی 7مساجد کو بند کیے جانے اور ان مساجد سے منسلک درجنوں ترک نژاد اماموں کو ملک بدر کرنے کے فیصلے کیخلاف کارروائی کرنے پر زور دیتے ہوئے اس اقدام کو اسلام مخالف قرار دیا ہے۔استنبول میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا کہ ان کو خدشہ ہے کہ آسٹریا کے چانسلر کا یہ فیصلہ دنیا کو صلیب اور ہلال کے مابین جنگ کی طرف راغب کرے گا۔آسٹریا کا ان مساجد کو بند کرنے کا فیصلہ خود آسٹریا کے لئے دردِ سر بن سکتا ہے کیونکہ اگر ان مسلمانوں کو نمازسے روکنے کی کوشش کی گئی تو اس کے خلاف احتجاج ہوگا اور اگر احتجاج میں اضافہ ہوا تو پھر حکومت کو سیکوریٹی کے مسائل سے دوچار ہونا پڑے گا اس لئے آسٹریا کے چانسلر کو چائیے کہ وہ اپنے فیصلے کو واپس لیں تاکہ آسٹریا میں مقیم مسلمان سکون قلب کے ساتھ ان مساجد میں نماز ادا کرسکیں۔

عالمِ الاسلام کا اتحاد کیوں نہیں۔؟
دشمنانِ اسلام جب سخت دشمنی کو فراموش کرکے ایک ساتھ مذاکرات کے ٹیبل پر بیٹھ سکتے ہیں تو عالم اسلام کے وہ حکمراں اور مسلمان کیوں متحد نہیں ہوسکتے ہیں ۔ جو درس سرکار دوعالم رحمۃ للعالمین نے ہم مسلمانوں کو دیا ہے اس سے ہم کنارہ کشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے کے سخت دشمن امریکہ اور شمالی کوریا کے صدور کے درمیان ملاقات اور مصافحہ اسلامی حکمرانوں کے لئے لمحہ فکر ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اور شمالی کوریا سربراہ کم جونگ ان کے درمیان تاریخی ملاقات سنگاپور میں ہوئی، دونوں رہنماؤں نے باہمی اعتماد کی فضا قائم رکھنے پر اتفاق اور مختلف معاہدوں پر دستخط کئے ، تقریباً 45منٹ تک دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رہا،گرم جوشی سے کم اور ٹرمپ کا مصافحہ تاریخی لمحہ بن گیا، ون آن ون ملاقات میں شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کا معاملہ سر فہرست رہا۔امریکی و شمالی کوریا سربراہان ملاقات کے بعد وفود کی سطح پر بات چیت ہوئی جس میں شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کا معاملہ زیر بحث آیا، اس موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سربراہ سے کہا کہ مل جل کر دونوں ملک تمام مسائل حل کرلیں گے۔وفود کی سطح پر ملاقات کے دوران امریکی اور شمالی کوریا کے سربراہان کی مترجموں کے ذریعے گفتگو ہوئی۔صدر ٹرمپ نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین صاحب آپ کیساتھ ملاقات بڑا اعزا زہے،ہم ساتھ مل کر بڑی کامیابی حاصل کریں گے اور وہ بڑا مسئلہ حل کریں گے، جواب تک حل نہیں ہو سکا۔مسئلہ حل کرنے کے عزم کے اظہار کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر سربراہ شمالی کوریا سے ہاتھ ملایا۔سربراہ شمالی کوریا کم جونگ ان نے جوابی گفتگو میں کہا کہ میں بھی ان معاملات پر یقین رکھتا ہوں،چیلنجس ہونگے لیکن صدر ٹرمپ کے ساتھ ہم کام جاری رکھیں گے۔کم جونگ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے اس ملاقات کے لیے تمام خدشات اور قیاس آرائیوں کو مسترد کیا، مجھے یقین ہے کہ یہ ملاقات امن کے لیے بہت مفید رہے گی۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم یہ مسئلہ حل کریں گے اور کامیاب ہوں گے، مستقبل میں ان معاملات پر آپ کے ساتھ کام جاری رکھنے کی امید کرتا ہوں۔67برس سے ایک دوسرے کے دشمن، ایٹمی ہتھیاروں سے برباد کرنے کی دھمکیاں دینے والے پہلی بار ایک ساتھ بیٹھ گئے، پوری دنیا کی نظریں امن کی نئی امید پرلگ گئیں۔اب دیکھنا ہے کہ شمالی کوریا امریکہ کی بات مان کر اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو ختم کرتا ہے یا نہیں یہ فیصلہ تو بعدمیں ہوگا لیکن عالمِ اسلام کے حکمرانوں کیلئے لمحہِ فکریہ ہیکہ کس طرح یہ دو دشمن اپنی دشمنی بھلاکر مسکراہٹ کے ساتھ ایک دوسرے کا استقبال کئے ۔ آج مشرقِ وسطیٰ کے حالات بہتر ہونا ضروری ہے۔ سعودی عرب، بحرین، عرب امارات جس طرح قطر کو اپنے سے الگ کرچکے ہیں ان ممالک کے درمیان پھر ایک بار دوستی ہونی ضروری ہے کیونکہ ان عرب ممالک کے درمیان صرف دوستی ہی نہیں بلکہ کئی خاندانوں کی رشتہ داریاں بھی ہیں اور اسے الگ کرنا شاید ممکن نہیں۔ اس لئے ان حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ مذاکرات کے ذریعہ اپنے اختلافات کو دور کریں اورعالمی سطح پر مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کی سعی کرتے ہوئے اسلامی بھائی چارگی کے پیغام کو عام کریں۔

سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری
آخر کار سعودی خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کردیئے گئے۔سعودی عرب میں گذشتہ کئی سال سے خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت دینے کی مانگ آخر رنگ لائی اور اب شاہی فرمان کے بعد انہیں لائسنس کا اجراء تیزی سے جاری ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق اب تک لگ بھگ سینکڑوں لائسنس خواتین کو جاری کر دئیے گئے ہیں۔سعودی خواتین اسے خوشگوار اور تاریخی لمحات سمجھتے ہوئے تمام ڈاکیومنٹیشن پوری کرتی دکھائی دیں اوراس موقع پر وہ نہایت خوش بھی نظر آئیں۔ خواتین کوڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کا آغاز ہوچکا ہے اب سعودی خواتین 24؍جون سے خودڈرائیونگ کرتی دکھائی دیں گی۔سعودی عرب کے مختلف شہروں میں سینکڑوں خواتین کو ڈرائیونگ میں مہارت کی جانچ کے بعد لائسنس جاری کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔سعودی خواتین کو کار چلانے کی تربیت دینے کے لیے پانچ شہروں میں ڈرائیونگ اسکول قائم کیے گئے ہیں۔ان اسکولوں میں بیرون ممالک سے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے والی سعودی خواتین اپنی ہم وطنوں کو کاریں چلانے کی تربیت دیں گی۔ البتہ سعودی خواتین کیلئے بھی وہی قوانین لاگو ہونگے جو مرد ڈرائیونگ کیلئے لاگو ہے۔اب دیکھنا ہیکہ سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ سے کس قسم کے حالات پیدا ہوتے ہیں اور کتنے خاندان ایسے ہونگے جنہیں اب مرد ڈرائیور کی ضرورت نہیں رہے گی اس سے چند فیصد افراد کا روزگار بھی ختم ہونے کا امکان ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 255 Articles with 95542 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Jun, 2018 Views: 249

Comments

آپ کی رائے