ملک کی بقا کیلئے انتہائی ضروری اقدامات وقت کی ضرورت بن گئے

(Muzammil Ferozi, Karachi)

سید قیصر محمود
فی الوقت اس سوال کا جواب ملک کی بقا کیلئے انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ 2014 میں محسود تحفظ تحریک کے نام سے سیاست شروع کرنے والے 26 سالہ نوجوان نے اپنی تحریک کا نام پختون تحفظ موومنٹ کیوں رکھ دیا ؟ اس سوال کا ایک سادہ سا جواب تو یہ ہے کہ صرف محسودیوں کے نام پر اپنی سیاسی دکان چمکانے میں اسے وہ ردعمل نہیں ملتا جو کہ پوری پختون برادری کی ہمدردی سمیٹنے کی صورت میں حاصل ہوا ہے۔ تاہم اگر گہرائی میں جا کر حقائق پر غور کیا جائے اور کڑیوں سے کڑیاں ملائی جائیں تو ایک عام محب وطن پاکستانی وطن عزیز کے خلاف سازش کی شدت دیکھ کر کانپ جائے گا۔

جواں عمری میں خود کو نمایاں کرنا انسانی فطرت کا خاصہ ہے۔ اسی فطری تقاضے کے باعث منظور پشتین نے علاقائی مسائل کو اٹھاکرخود کو نمایاں کرنے کی کوشش کی، یہ بھی ایک اتفاق تھا کہ وطن عزیز کو تباہ کرنے کا مشن لے کر دہشتگردی کرنے والوں نے وزیرستان کو اپنا مسکن بنا لیا تھا۔ رابطوں کے فقدان ، برقی مواصلاتی ذرائع کی قلت اور دور دراز واقع ہونے کی وجہ سے فوج کو ان وطن دشمنوں سے نمٹنے میں وقت لگا۔ جس طرح ایک قدیم کہاوت ہے کہ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے، کچھ یہی صورت حال وزیرستان کے امن پسند لوگوں کے ساتھ بھی پیش آئی جو چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پسنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

فوجی جوانوں کی ہر ممکن کوشش تھی کہ دہشتگردوں کے خلاف اس طرح کارروائی کی جائے کہ شہریوں کو جانی اتلاف سے بچایا جا سکے۔ تاہم ابتدا میں دہشتگرد وزیرستان میں اپنے قدم جمانے کیلئے مقامی قبائلیوں کی ہمدردی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔گو کہ ان کی اکثریت افغانستان،تاجکستان،ترکمانستان، ازبکستان ، سوڈان ، یمن ، صومالیہ، سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک سے آئی تھی۔تاہم ان کی کوشش تھی کہ سادہ لوح مگر بہادر قبائلیوں کو یہ باور کرایا جا سکے کہ وہ اسلام کی بقا کیلئے جنگ لڑ رہے ہیں۔ قبائلیوں کی اسلام کیلئے جان دینے کی روایات بہت قدیم ہیں۔

دہشتگردوں نے اپنی سازش کے تحت خود اپنے میزبانوں کو جانی نقصان پہنچانا شروع کر دیا تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ پاک فوج قبائلیوں پر حملہ آور ہے۔ اپنی ان کوششوں کی کامیابی کیلئے انہوں نے پہاڑوں سے معصوم قبائلیوں کے مکانات کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ دوسری جانب فوج کوئی کارروائی کرتے ہوئے ہچکچاتی تھی کہ کہیں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں معصوم قبائلی نشانہ نہ بن جائیں۔ یہ کسی بھی فوج کی فطرت میں شامل ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہم وطنوں کو اپنی گولی کا نشانہ نہیں بناتی۔ اعلیٰ فوجی افسران اس حقیقت سے بھی آگاہ تھے کہ یہ انہی قبائلیوں کا علاقہ ہے جو کشمیریوں کے خلاف بھارتی جارحیت کا سامنا کرنے کیلئے دیوانہ وار اپنی سادہ رائفلوں کے ہمراہ سرحد پر پہنچ گئے تھے۔ یہ تو پاک فوج کا دایاں ہاتھ تھے جو دشمن سے کسی جنگ کی صورت میں فوج کی مدد کیلئے تیار رہتے ہیں۔

قبائلیوں کو بیرون ملک سے آنے والے دہشتگردوں کی سازش کا جب پتہ چلا تو اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ مقامی قبائلیوں کو دوست نما دشمنوں کے ہاتھوں کافی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔ وقتی طور پر دہشتگردوں کو مقامی قبائلیوں کی ہمدردیاں بھی حاصل ہوئیں جو فوج کو دشمن سمجھنے لگے تھے۔ منظور پشتین بھی اس وقت انہی معصوم قبائل میں شامل تھا جو کم عمر ہونے کی وجہ سے دہشتگردوں کی سازش کا شکار ہو چکا تھا۔ پشتین نے محسودیوں کے حق میں خلوص نیت سے اپنی تحریک کا آغاز کیا مگر بدقسمتی سے وہ ایسے عناصر کے ہاتھ لگ گیا جو پختونوں سے محبت کی آڑ میں وطن عزیز کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے مشن پر کام کر رہے تھے۔

یہ حقیقت ہر بین الاقوامی فورم پر تسلیم کی جاتی ہے کہ کہ پاک فوج نے ضرب عضب کے نام سے ایک کامیاب آپریشن کے ذریعے ان دہشتگردوں کووزیرستان سے مار بھگایا، پشتونوں کو ان کی زمینیں واپس دلائیں، تاکہ پاکستان اور خصوصاَ پشتون محفوظ رہیں اور ان پر کوئی آنچ آئے بغیر امن ہو جائے۔تاہم اندورون و بیرون ملک موجود دشمن سے یہ کامیابی ہضم نہیں ہوئی تو پاکستان کے اندر ایسے افراد کی تلاش شروع کی گئی جو اپنے حلقوں میں کچھ اثرورسوخ رکھتے ہوں اور اپنے مخاطب کو متاثر کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔ قبائلی علاقے میں ڈیورنڈر لائن کو متنازعہ بنا کر مطلوبہ مقاصد کے حصول کے لئے دشمن قوتوں نے گزشتہ کئی دہائیوں سے کوششیں کیں مگر کوئی کامیابی حاصل نہ ہو سکی تھی۔ جب پاکستان دشمنی کیلئے کوئی اور نکتہ نہ ملا تو پشتون کارڈ کھیلنے کا منصوبہ بنایاگیا کیونکہ ایسے وطن دشمنوں کی ایک تعداد اب بھی موجود ہے جو اپنے مالی مفادات کیلئے دشمن قوتوں کے آلہ کار بننے پر تیارتھے۔ یہ صورت حال دیکھتے ہوئےایک نئی تحریک ”پشتون تحفظ موومنٹ“ متعارف کرائی گئی جس کیلئے منظور پشتین کا انتخاب کیا گیا کیونکہ وہ محسود تحفظ تحریک کے دوران اہم لوگوں کی نظروں میں آ چکا تھا اور بولنے کے فن سے بھی آگاہ تھا۔

ایک وقت تھا جب وزیر ستان دنیا بھر میں دہشت گردی کا گڑھ کہلایاجانے لگا۔ ضرب عضب کے نتیجے میں جب پاک فوج نے دشمن قوتوں کو نیست و نابود کر دیاتودشمن نے پاکستان میں تخریب کاری اور شورش پیدا کرنے کے لیے متبادل طریقے تلاش کرنے شروع کردیے۔ منظور پشتین کو سائنسی بنیادوں پر ملک میں بغاوت کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ اسے ایسے مطالبات پر مبنی ایجنڈا تھمایا گیا ہے جو دیکھ کر لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسے حق پر سمجھنے لگتی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس فتنے سے نمٹنے کیلئے ہمارے سیکورٹی ادارے بھی سائنسی بنیادوں پر منصوبہ بندی کریں۔ لوگوں کو ان حقائق سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے جن کے باعث منظور پشتین دانستہ یا نادانستہ ملک دشمن قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔

دہشتگردوں کے پروپیگنڈے کا شکار منظور پشتین ابتدا میں اکثر بمباری اور بارودی سرنگوں کے دھماکوں کے خلاف مظاہروں میں شریک ہوتا تھا۔ 15 نومبر 2016 کو ٹانک میں اس کے گروپ کی جانب سے ایک بڑا مظاہرہ کیا گیا جس میں سکیورٹی اداروں کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی۔اس موقع پر بعض فوجی افسر سخت کارروائی کے حق میں تھے مگر اعلیٰ فوجی افسران دہشتگردوں کے پروپیگنڈے کے شکار قبائلی نوجوانوں کو گمراہ سمجھتے ہوئے ان کے خلاف کسی کارروائی کے خلاف تھے۔

فروری 2018 میں اسلام آباد میں ہونے والے کامیاب دس روزہ احتجاج سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک دشمن قوتوں نے منظور کو اپنی تحریک کی سمت نہ صرف تبدیل کرنے بلکہ پشتون تحفظ موومنٹ کے نام سے دائرہ کار بڑھانے کی ہدایت کرتے ہوئے اس کی تنظیم نو کے لئے بھی سہولیات فراہم کر دیں۔ کراچی اس ملک کا معاشی انجن ہونے کے باعث اسے ٹارگیٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ مستقبل میںکوئٹہ کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اس تحریک کا دائرہ وزیرستان سے بڑھا کرکراچی اور بلوچستان تک پھیلا دیا گیا۔ ان علاقوں میں عوامی جلسوں کیلئے صرف فنڈنگ ہی نہیں کی گئی بلکہ دیگر سیاسی پارٹیوں کے ناراض پختونوں کو بھی منظور پشتین کے پلیٹ فارم سے حکومت مخالف تحریک میں حصہ لینے پر راغب کرنے کیلئے پختون آبادی کی اکثریت والے علاقوں میں اپنے ایجنٹوں کا جال بھی بچھا دیا۔

گوادر بندگاہ اور سی پیک سے خوف زدہ بھارتی حساس ایجنسی نے ہم عصر افغان ، اسرائیل اور امریکی ایجنسیوں کے اشتراک سے پاک فوج کو دباﺅ میں لاکر اپنے مطلوبہ مقاصد کے حصول کیلئے اپنے گیم کا آغاز کر دیا۔ سوشل میڈیا کو جدید دور میں زیادہ بااثر اور طاقتور پائے جانے کے بعد پختوں کارڈ کو ہوائی مقبولیت دلوانے کیلئے باقاعدہ میڈیا سیل تشکیل دے کر اپنے ایجنٹوں کے حوالے کئے گئے ہیں۔ یہی نہیں سوشل میڈیا کے ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔ فیس بک پروفائل پر زخمی نوجوانوں، خون آلود لاشوں اور کراچی میں مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں مارے جانے والے وزیرستان کے نوجوان نقیب اللہ محسود کی تصاویر ڈالی گئی ہیں۔ دشمن نے اپنے اس اپریشن کیلئے تعلیم یافتہ پختون نوجوانوں کا انتخاب کیا ہے جواپنا تعارف حقوق انسانی کے کارکن کے طور پر کرواتے ہیں۔

منظور پشتین کی ملک دشمنی اور ریاست کے خلاف سرگرمیاں عام شہریوں کیلئے نہ صرف غم و غصہ کا باعث بن رہی ہیں بلکہ خدشہ ہے کہ اگر افغان اور انڈین خفیہ ایجنسیوں کے اشتراک سے اس کے جلسوں کو نہ روکا گیا تو کراچی میں کسی بھی وقت کوئی بڑا تصادم امن و امان کا مسئلہ پیدا کر دے گا۔کراچی میں نہ صرف سیکورٹی اداروں بلکہ پولیس اور شہریوں نے بھی موجودہ امن کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ کراچی میں نہ صرف انڈیا ، افغانستان، اسرائیل امریکہ بلکہ متعدد دیگر ممالک کی خفیہ ایجنسیاں اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے سرگرداں ہونے کے متعدد ثبوت مل چکے ہیں۔ کالعدم مذہبی جماعتوں کے ناراض پختون بھی پی ٹی ایم کے پلیٹ فارم سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔

میری حکومت پاکستان اور افواج پاکستان سے دست بستہ استدعا ہے کہ پی ٹی ایم کی موجودہ تحریک کو ایک گمراہ پاکستانی کی نادانیاں تصور کرتے ہوئے معاملات کو نظرانداز کرنے کی کوشش نہ کریں اور نہ ہی طاقت کا استعمال کوئی بہتری لا سکتا ہے۔ قوم کے نوجوانوں اور دیگر آبادیوں کو سی پیک کے پس منظر میں دشمن قوتوں کی سازشوں سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی کو ملک دشمن یا غدار کہنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ جو نوجوان دشمن قوتوں کے بہکاوے میں آکر ملک اور سیکورٹی اداروں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں انہیں راہ راست پر لانے کیلئے سنجیدہ اور فوری اقدامات کئے جائیں۔ بالخصوص وزیرستان اور قبائلی علاقوں میں بزرگ اور قبائلی عمائدین کی خدمات حاصل کی جائیں۔ ان علاقوں میں اگر کسی جانب سے کوئی زیادتی ہوئی ہے تو اس کا مداوہ کیا جائے۔مجھے یقین ہے کہ اس طرح ہم اپنی بکھری ہوئی قوم کو ایک مضبوط پلیٹ فارم پر لا سکیں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muzammil Ferozi

Read More Articles by Muzammil Ferozi: 9 Articles with 4033 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Jun, 2018 Views: 353

Comments

آپ کی رائے