پی ٹی آئی کے گوربا چوف اور چودھری نور عالم گجر

(Iftikhar Chohdury, )

ان دنوں سردار سکندر حیات اور مرحوم سردار عبدالقیوم میں ٹھن گئی تھی۔مسلم کانفرنس کے لوگ دو گروہوں میں بٹ چکے تھے۔جدہ پاکستانی سیاسی پارٹیوں کا مرکز تھا جنرل اسد درانی جیسی چیز سے بچا ہوا جدہ بڑا پیارا تھا آئے روز تقریبات ہوتیں پاکستان سے آنے والے مہمانوں سے ملاقاتیں ہماری تنظیم حلقہ ء یاران وطن کوئی موقع نہ چھوڑتی۔کسی بھی آنے والے مہمان کی پذیرائی کی جاتی۔اسی طرح کی تقریبات کا مرکز جدہ کا فردوس ہوٹل تھا جو حی البوادی میں واقع ہے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے ایسی ہی تقریب جو پاکستان سے آئے ہوئے آزاد کشمیر کے وزیر ٹرانسپورٹ چودھری نور عالم کے اعزاز میں ہوئی۔مسلم کانفرنس کے مقامی لیڈران نے اپنی تقریروں میں جناب سکندر حیات کو تنقید کا نشانہ بنایا کچھ نے سردار صاحب سے شکوے شکائیتیں کیں۔جب چودھری نور عالم کی باری آئی تو انہوں نے بڑے باوقار انداز سے سمجھاتے ہوئے کہا کہ گھر میں جب بڑے لڑ پڑیں تو بچوں کو فریق نہیں بننا چاہئے ان کی صلح کے لئے کوشش کرنی چاہئے انہیں احساس دلانا چاہئے کہ آپ کی اس لڑائی سے کیا کیا نقصانات ہو سکتے ہیں۔دشمن اس سے کتنا فائدہ اٹھا سکتا ہے اور جو ہزیمت و شکست آپ کو ملے گی اس کا آپ کو اندازہ بھی نہیں ہو گا۔بجائے اس کے کہ آپ لاٹھی ڈنڈہ سوٹا لے کر کسی ایک کے ساتھ ہو جائیں آپ ان بڑوں کی منتیں ٹھوڈیاں پکڑ کر معاملے کو درست کریں۔

دوستو! یہ کوئی تئیس سالہ پرانی بات ہے۔مجھے آج کشمیری راہنما چودھری نور عالم بہت یاد آئے آج ہمارے دو بڑے بھی لڑ پڑے ہیں شاہ صاحب اور ترین صاحب۔دونوں کی پارٹی کے لئے قربانیاں کم نہیں ہیں ہر ایک نے حصہ بقدر جثہ بقدر ہمت ڈالا۔ایک جانب ترین صاحب کی محنت پیسہ اور دولت لگا تو دوسری جانب شاہ محمود قریشی صاحب کی سیاسی فراست دانشمندی کی دولت لگی۔سیاسی کیرئر داؤ پر لگا۔

کیا ہم آج کسی ایک کا ساتھ دئے بغیر اس باوقار گجر کی بات پر عمل نہ کریں جو اس نے ربع صدی پہلے جدہ کے فردوس ہوٹل میں کی تھی۔مجھے دلی دکھ ہوا کچھ کم فہم دوست شاہ صاحب پر بڑے بھونڈے انداز میں تنقید کر رہے ہیں۔اچھے بچے بنیں۔اپنے قائدین سے التماس کریں کہ ڈانگ سوٹا رکھ دیں ۔ابھی نئے پاکستان کی منزل دور ہے۔یہ سب لڑائیاں یہ سب جھگڑے ٹکٹوں کے لئے نہ کریں۔مجھے دیکھیں میں بھی امیدوار ہوں گزشتہ عشرے سے زائد لڑ رہا ہوں کپتان کے ٹانگے کی سواری ہوں۔میرا اعلان ہے کہ اگر پارٹی کو میرے ایک ٹکٹ نہ دینے سے فائدہ ہوتا ہے تو پی پی گیارہ کا ٹکٹ جسے مرضی دے دیجئے پی پی تیرہ کا ٹکٹ جسے مرضی نواز دیجئے مگر خدا را خدا را۔عمران خان کی منزل کھوٹی نہ کریں۔میں کوئی فوزیہ قصوری جاوید ہاشمی راجہ عامر زمان نہیں ہوں۔راجہ عامر کو ہمیشہ کہا کہ پارٹی نہ چھوڑیں فقزیہ قصوری کو بھی اور ہاشمی کو بھی۔فوزیہ کے علاوہ ان دونوں کو پارٹی میں آن کی دعوت میں نے دی تھی۔دیکھ لیجئے یہ تھڑ دلے صرف ٹکٹ کے لئے میدان سے بھاگ گئے۔دو نون کے ساتھ گئے اور ایک گمنام راہوں پر ضائع ہو گئی۔ہمیں دیکھیں ڈٹے ہوئے ہیں ایک ایم پی اے کی سیٹ نہ ہوئی جنت کا ٹکٹ ہو گیا۔میں جانتا ہوں کہ ہری پور پی ٹی کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے تا حیات نا اہل شخص نے اپنی ذات سے باہر دیکھا ہی نہیں۔لکھ لیجئے ہریپور ختم ایک سیٹ بھی نہیں۔ایبٹ آباد میں شائد ایک مانسہرہ فارغ یہ قبیح کام کس نے کیا اپنوں نے ۔وہ اپنے جو بعد میں آئے اور لوٹ مار کر کے پارٹی کا صفایا کر کے جا رہے ہیں۔۔مجھے علم ہے اس پارٹی کو رہبر رہزن بن کر لوٹ رہے ہیں ۔پنڈی کیا پورے پاکستان سے سچی اور حقیقی شکائتیں موصول ہو رہی ہیں۔لوگوں نے اپنے ضمیر گاڑیوں اور کروڑوں میں بیچے ہیں۔وہ جانے اﷲ جانے میں جانوں نیا پاکستان ٹکٹ کے علاوہ اگر کچھ اور بھی چاہئے تو لے لیں لیکن اس موقع پر سر پھٹول نہ کریں۔الیکشن آئے گا چلا جائے گا اﷲ کرے پاکستان نیا بن جائے۔پھر دیکھیں گے پھر ان بے ضمیروں کے گلے میں ہاتھ ڈالیں گے جو نظرئے کو بیچ کر معاشرے میں تگڑے ہو گئے مال پانی بنا لیا۔لیکن یہ وقت اب اس بحث میں جانے کا نہیں۔

اﷲ تعالی سے دعا ہے کہ ہمارے قائدین وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنی توپوں کا رخ ایک دوسرے کی طرف موڑنے کی بجائے اپنی صفوں میں اتحاد کی جانب کر لیں۔

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں۔میں راولپنڈی کو دیکھ رہا ہوں یہ پی ٹی آئی کا گڑھ ہے یہاں بھی لوگ دست و گریباں ہو رہے ہیں ۔شہر کی تین قومی اسمبلی کی نشستوں پر نون لیگ متحد ہو چکی ہے این اے اکسٹھ میں ملک ابرار براجماں این اے باسٹھ پر چودھری تنویر کا بیٹا اور این اے ساٹھ پر حنیف عباسی۔انہوں نے شکیل اعوان کو صوبائی میں ایڈجسٹ کر لیا ہے۔یہ کل کے دشمن اب متحد ہیں ہم ہیں کہ حلقے کے اندر باہر کی لڑائی میں لگے ہوئے ہیں میں اس لئے ناراض کہ کوئی باہر سے آ جائے دوسرا اس لئے کہ وہ اپنے آپ کو حقدار سمجھتا ہے۔کیا ہم پنڈی سے عمران خان کو خوشی کی خبر دیں گے؟یاد رکھئے اور لکھ لیجئے آج کی اس گھڑی اور اس لمحے میں ہم بہت پیچھے ہیں یہاں تو بیٹ ہے ہی نہیں دو سیٹیں قلم دوات اور اس کے نیچے اس کے بلونگڑے۔ایسا چلے گا نیا پاکستان۔سیکھو نہ سیکھو حنیف عباسی اور چودھری تنویر سے سیکھو۔شیخ صاحب سے یاد اﷲ ہے آج کی نہیں برسوں سے۔افسوس کہ وہ اپنے سائز سے بڑی خواہشات رکھتے ہیں۔بس یہی لڑائیاں ہیں ہمارا کیا۔جسے ٹکٹ ملا اس کے ساتھ ہو لیں گے لیکن دل تو زخمی ہو گا جب دو ایف آئی آرز میں نامزد ملزم ہمیں پیچھے چھوڑ آگے نکلیں گے وہ جو رٹ لے کر پراڈوؤں پر چڑھ گئے انہیں ملا تو کیا گزرے گی اور وہ جو مدتوں سے شیخ صاحب کے انویسٹر بنے ہوئے ہیں انہیں ملا تو مجھے خدارا یہ بتائیے کہ جو تین معیار شاہ صاحب نے رکھے HONESTY,LOYALITY,ELCTABILITYان پر تول لیجئے۔یہ موقع کمپیئن کا نہیں۔لیکن مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ ہمارے نادان دوست ہماری بیڑی میں وٹے ڈال رہے ہیں۔ان تین اصولوں پر پرکھ لیجئے۔میرا اﷲ اس پارٹی کو اس کے گورباچوف سے بچائے 2013میں جاوید ہاشمی کو گورباچوف کہا تھا2018 میں بھی گوربا چوف موجود ہیں۔اور وہ لوگ ہیں جو اس پارٹی کو آگے نہیں دیکھنا چاہتے۔ہنگ پارلیمنٹ بنی تو دیکھ لیجئے گا اقتتدار والوں کی صف میں سوٹے لگائے جا رہیں ہوں گے۔اور شوکت خانم کا بیٹا دور سے دیکھ رہا ہو گا۔اس لئے کہ ہم اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑا مار رہے ہیں۔ہم میں کوئی نور عالم نہیں جو ہمیں کان سے پکڑ کر متحد کر سکے۔میں نے ایک بات کہی تھی کہ انجینئر افتخار چودھری سے حلف لینے والو تم بھی حلف دو کہ اقرباء پروری اور پیسے کے لئے نہیں بکو گے،کسی نے حلف نہیں دیا۔مغربی جمہوریت کی مثالیں دینے والے اپنے امپورٹڈ بھائی کو ٹکٹ دے رہے ہیں۔ہری پور سے ایک تا حیات نا اہل شخص اپنے گھر تین سیٹیں لے جا رہا ہے۔وسطی پنجاب میں کارکنوں کا حق مار کر تین تین چار چار سیٹوں پر قبضے ہو رہے ہیں۔کیا قاف لیگ کے مستری ،پیپلز پارٹی کے کارپینٹر بنائیں گے نیا پاکستان کیا ایسے بنے گا اقبال کا پاکستان جہاں فرزند اقبال کو دیوار کے ساتھ لگا دیا۔ ہو۔لیڈیز سیٹیں دیکھ لیں کیا ظلم ہو رہا ہے لسٹ دیکھ لیجئے کیا ان میں فوزیہ قصوری آ جاتیں تو کون سی موت پڑ جانی تھی؟ آج پروین خان سے پوچھا کیا بنا کہنے لگیں مجھے تو پوچھا بھی نہیں یہ وہی پروین خان ہے جسے خان صاحب اپنی دیرینہ اور دلیر کارکن کا خطاب دے چکے تھے.۔اب بھی اگر سنبھل جائیں اب بھی اگر متحد ہو جائیں تو کوئی وجہ نہیں ہم عمران خان کو نیا پاکستان نہ دے سکیں۔میری گزارش ہے ان ٹکٹ دینے والوں کو قران سامنے رکھ کر قسم دیں کہ کیا ٹکٹ ایمانداری سے دیے؟

گرچہ بت ہیں جماعت کی آستیوں میں مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الاﷲ۔

انجینئر افتخار چودھری کی طرح پی ٹی آئی کے لاکھوں ورکر اداس ہیں پریشان ہیں۔اپنے بڑوں کی منتیں اور ٹھوڈیاں پکڑتے ہیں۔چودھری نور عالم گجر مرحوم آپ بہت یاد آئے آپ جیسا تو یہاں ایک بھی نہیں۔(میں پی ٹی آئی کا ذمہ دار بھی ہوں اور کالم نویس بھی۔مجھے ایک عام کارکن کی طرح بھی دیکھنا ہے)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 408 Articles with 166626 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More
25 Jun, 2018 Views: 450

Comments

آپ کی رائے