ووٹ کس کو دینا چاہئے؟ گزشتہ سے پیوستہ

(Shafqat Ullah, )
قرآنی آیت کا مفہوم ہے کہ ’’ بے شک اﷲ کے نزدیک ایک ہی دین ہے ، اور وہ ہے اسلام ‘‘۔اور اﷲ تعالیٰ قرآن کریم میں دین اسلام کے پیروکاروں کو لفظ ایمان والے،مؤمن اور مسلمان سے پکارتا ہے ۔ اگر ہم مؤمن اور ایمان والے کو ایک ہی لفظ میں بیان کرنا چاہیں تو لفظ مسلمان سے بیان کر سکتے ہیں ۔1973 کے آئین میں پہلی دفعہ لفظ مسلمان کی تعریف شامل کی گئی جس کی رو سے ’’ توحید ، رسالت ، قیامت ، اﷲ تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان لانے کے علاوہ حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی تسلیم کرنا لازمی ہے ‘‘۔ میری نظر میں لفظ مسلمان کی تشریح کچھ یوں ہے کہ ’’ ایسا شخص جو اپنی تمام تر نفسانی خواہشات اﷲ تعالیٰ کے حوالے کر کے اس کے اور اس کے رسول ﷺ کی اتباع میں امن حاصل کر لے ،مسلمان کہلاتا ہے‘‘ ۔ توحید سے مراد اﷲ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانا ، اس کا کسی کو شریک نہ بنانا ، بن دیکھے اس کے احکامات کو بلا تاویل بجا لانا اور اس بات پر کامل ایمان رکھنا کہ اﷲ تعالیٰ ساری دنیا کو پیدا کرنے والا کائنات کا واحد رب ہے ۔دنیا کی تمام تر تعریفوں کا سزاوار وہی رب ہے ، دنیا کی تمام دولت اور خزانوں کا مالک ،زمین و آسماں میں جو کچھ پنہاں ہے جو ظاہر ہے سب کے سب اﷲ کے خزانے ہیں ، اس کی قدرت ہے کہ وہ جس کو جتنا چاہے عطا کر دے اور جس سے چاہے چھین لے ، وہ قاد ر و مطلق ہے ، اس کے کن کہہ دینے سے سب ہو جاتا ہے، بلا شبہ اس پر کسی کا کوئی اختیار نہیں جو اﷲ تعالیٰ چاہتا ہے ۔ اس کائنات میں حاکمیت ایک اﷲ کے سوا نہ کسی کی ہو سکتی ہے اور نہ کسی کا یہ حق ہے کہ حاکمیت کا دعویدار بنے ۔رسالت سے مراد دنیا میں جتنے بھی انبیاء ؑ آئے ان سب پر ایمان لانا ، محمد ﷺ اﷲ کے رسول اور آخری نبی ہیں پر ایمان لانا ہے ، ان کی اطاعت کرنا ہے ۔انہوں نے اپنے زندگی میں عملی طور پر انسانیت کی ایسی مثالیں قائم کی ہیں کہ وہ آج تک ہمارے لئے اسوۃ حسنہ ہے۔قیامت سے مراد حشر کے بپا ہونے پر ایمان لانا ہے ، کہ یہ ساری کائنات اور اس کے درمیان ، اوپر نیچے جتنی بھی مخلوقات ہیں سب کی سب فناہ ہو جائیں گی اور صرف اﷲ کی ذات باقی رہ جائے گی ، اور پھر اﷲ تعالیٰ جتنی بھی مخلوقات اس دنیا میں اول سے آخر تک آئیں سب کو زندہ کریں گے ، اور ان کا حساب لیا جائے گا ۔ ان کو ان کے اعمال کے مطابق جز ا و سزا کا فیصلہ سنایا جائے گا ۔ بے شک یہ بہت جلد بپا ہونے والی ہے ۔سورہ النساء آیت نمبر 59 کا مفہوم ہے کہ ’’ اے لوگوں جو ایمان لائے ہو، اطاعت کرو اﷲ کی اور اس کے رسول ﷺ کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے اولی الامر ہوں ، پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جائے تو اسے اﷲ اور رسولﷺ کی طرف پھیر دو ، اگر تم اﷲ اور روزِ آخر پر یقین رکھتے ہو تو ۔‘‘ یہ آیت چھ دستوری نکات واضح کرتی ہے ۔ اﷲ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کا ہر اطاعت پر مقدم ہونا ، اولی الامر کی اطاعت اﷲ اور رسولﷺ کی اطاعت کے تحت ہونا ، اولی الامر اہلِ ایمان میں سے ہوں ، لوگوں کو حکام اور حکومت کے نزاع کا حق ہے ، نزاع کی صورت میں آخری فیصلہ کن سند خدا اور رسولﷺ کا قانون ہے ، نظامِ خلافت میں ایک ایسا ادار ہ ہونا چاہئے جو اولی الامر اور عوام کے دباؤ سے آزاد رہ کر اس بالا تر قانون کے مطابق جملہ نزاعات کا فیصلہ دے سکے ۔قرآنی آیات کا مفہوم ہے کہ ’’ اور ہونا چاہئے تم میں سے ایسا گروہ جو دعوت دے بھلائی کی طرف ، اور حکم دے نیکی کااور روکے بدی سے ، ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔ اور نہ ہو جاؤ ایسے لوگوں کی طرح جو متفرق ہو گئے اور جنہو ں نے اختلاف کیا جبکہ ان کے پاس واضح ہدایات آ چکی تھیں ۔ ایسے لوگوں کیلئے بڑا عذاب ہے ‘‘۔ان تمام باتوں پر ایمان لانے کے بعد بندہ صاحبِ ایمان تو ہو جاتا ہے لیکن اگر اس کے اعمال و کردار سے ان کی پاسداری نہ جھلکے تو وہ مسلمان بس نام کا ہی ہو گا ۔ کوئی بھی ہوشمند انسان یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ اسلام کی ایک بھی تعلیم انسانیت کے خلاف ہے ، بلکہ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ انسانیت اسلام میں صرف بنیاد ہے ، ایک بہت چھوٹا سا حصہ ۔ مسلمان تو وہ لوگ ہیں جن کے ہاتھ ، پاؤں اور زبان سے دوسرے لوگ محفوظ ہوں، جو اخلاق و کردار میں اعلیٰ ہوں ، جن کی نذر میں تمام اطاعتیں اﷲ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے سامنے ہیچ ہوں ، جو صبر کریں اور نیکی کی ترغیب دیں ، برائی سے منع کریں ، ظلم نہ کریں کہ اﷲ کے خوف ان کے دل میں ہو، جھوٹ کو گناہِ کبیرہ سمجھے ،آخرت کے حساب کتاب سے ان کا دل ڈرتا ہو، غریب کا حق کھانے سے انہیں قیامت کے اﷲ کے حضور پیش ہونے کا ڈر ہو ، معاملات دین میں کوتاہی ان کیلئے وبال جان کے مترادف ہو ، جو امت کی خاطر ایثار کا جذبہ رکھتا ہو ،جس کے دل میں نفاق نہ ہو، الغرض کہ ہر بدی کی طرف اس کا اٹھتا ہوا قدم اس کے دل میں ڈر پیدا کر دے کہ خدا دیکھ رہا ہے۔ ہمارا ملک الحمد اﷲ اسلامی جمہوریہ ہے جو اس لئے حاصل کیا گیا تاکہ مسلمان یہاں آزادانہ اﷲ تعالیٰ کے قوانین اور آپﷺ کی تعلیمات کی پریکٹس کر سکیں ۔ سیاست دین سے ہر گز جدا نہیں ، لیکن یہ ایک غلط افواہ عوام میں پھیلائی گئی ہے کہ سیاست انبیاء کاکام نہیں یا اس بارے میں اﷲ تعالیٰ نے تعلیمات نہیں دیں ۔ ہم اپنے لئے ہر بار انتخابات میں اچھے سے اچھا حکمران کا چناؤ کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کیا کبھی ہم نے اپنے حکمران کے چناؤ کیلئے مندرجہ بالا خصوصیات کی طلب کی ہے ؟؟ حکمران طبقے کے نام ایک قطعہ:
مجھ کو اﷲ نے ہے انسان بنایا
اس پہ ہے شکر ، مسلمان بنایا
فرض ہے مجھ پہ کہ انصاف کروں میں
مجھ گدا کو تونے سلطان بنایا
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 209 Articles with 87939 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
26 Jun, 2018 Views: 328

Comments

آپ کی رائے