عام انتخابات میں امیدواروں کے اثاثے

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)

ایک طرف ملک قرضوں میں ڈوباہواہے۔ پاکستان کی آنے والی کئی نسلیں لاکھوں روپے کی مقروض ہوچکی ہیں۔پاکستان میں پیداہونے والے تمام بچے مقروض پیداہورہے ہیں۔ملک میں صاف پانی کی عدم دستیابی اورخوراک کی قلت کی رپورٹ پڑھی جائیں تواوسان خطاہوجاتے ہیں۔کتنے خاندان ہیں جوچھت سے محروم ہیں۔دوسری طرف انتخابات میں حصہ لینے والے سیاسی لیڈروں اورعوامی نمائندوں کے اثاثوں کی تفصیلات پڑھی جائیں تودماغ چکرانے لگتا ہے اوریہ احساس بھی پیداہونے لگتا ہے کہ پاکستان پرقرضوں کابوجھ کیوں ہے۔ کروڑوں روپے کی مالیت کے اثاثوں کے حامل یہ سیاست دان اگراپنے اپنے حلقوں کے بے سہارا، بے روزگاراورچھت و خوراک سے محروم گھرانوں اورافرادکی محرومیاں ختم کردیں توملک سے ان مسائل کوحل کرنے میں مددمل سکتی ہے۔ کاغذات نامزدگی کے ساتھ منسلک اثاثہ جات کی تفصیلات کے مطابق آصف علی زرداری چھ بلٹ پروف لگژری گاڑیوں ،دبئی میں ہزاروں ایکڑپرمشتمل پراپرٹی اورزرعی اراضی کے مالک ہیں۔آصف علی زرداری کواسلحہ، گھوڑے اورلائیوسٹاک کاشوق ہے۔جس پرانہوں نے خطیررقم خرچ کی ہے۔میڈیارپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کوفراہم کردہ تفصیلات کی روسے آصف علی زرداری کے پاس متحدہ عرب امارات کااقامہ بھی ہے۔اورپاکستان میں ایک درجن سے زائدپراپرٹیزکے مالک ہیں۔جب کہ بے نظیربھٹوکی پانچ پراپرٹیزمیں شیئربھی ہیں۔ظاہرکردہ اثاثہ جات میں بتایاگیا کہ آصف زرداری بیرون ملک دبئی میں الصفامیں ایک خالی پلاٹ کے مالک ہیں جودس کروڑ روپے میں خریداگیاتھا۔آصف علی زرداری کے اثاثوں کی کل مالیت ۵۷ کروڑ ۶۸ لاکھ روپے بنتی ہے۔جس میں آدھی جائیدادکے مالک ان کے بیٹے بلاول بھٹوزرداری ہیں۔پی پی پی کے شریک چیئرمین کے پاس تین ٹیوٹا لینڈکروزر، دوبی ایم ڈبلیواورایک ٹیوٹالیکسس ہے۔تمام مذکورہ گاڑیاں بلٹ پروف ہیں۔اثاثہ جات کی تفصیلات کے مطابق لاتعدادگھوڑوں اورکیٹل کی مالیت ۹ کروڑ روپے جب کہ ان کے پاس موجوداسلحہ کی قیمت ایک کروڑساٹھ لاکھ روپے بتائی گئی۔آصف علی زرداری کے مطابق انہوں نے ایک کروڑ انتیس لاکھ روپے کی سرمایہ کاری لینڈمارکس میں کی ہے۔جب کہ آٹھ لاکھ نوے ہزارروپے کی سرمایہ کاری آصف اپارٹمنٹ میں کی ہے۔انہوں نے کاغذات نامزدگی میں بتایا کہ وہ پاکستان سے باہرکسی کاروبارکے مالک نہیں ہیں۔سابق صدرکے مطابق زرداری گروپ (پرائیویٹ لمیٹڈ اورپارک لین ای اسٹیٹ پرائیویٹ لمیٹڈ) صرف دس لاکھ سات ہزارروپے کی سرمایہ کاری کی ہے ۔جب کہ زرداری گروپ کوپینتالیس لاکھ روپے ادھاردیئے ہیں۔اس حوالے سے مزیدبتایاگیا کہ ان کے پاس بیس کروڑ نوے لاکھ روپے نقدی موجود ہیں ۔ جب کہ سلک بینک میں آٹھ کروڑ ستانوے لاکھ روپے اورسندھ بینک لاڑکانہ برانچ میں ایک ہزارروپے جمع ہیں۔آصف علی زرداری کے پاس کلفٹن میں دو پراپرٹیز ہیں جس کی مالیت گیارہ کروڑ پندرہ لاکھ روپے بتائی گئی۔جب کہ ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی کراچی میں دوہزارگزکابنگلہ آٹھ لاکھ پچاس ہزارروپے میں خریدا گیا اورنواب شاہ میں ایک گھرہے جس کی قیمت دوکروڑپچیس لاکھ روپے ہے۔نواب شاہ ،لاڑکانہ ،ٹنڈوالہیارمیں زرعی زمین کے مالک ہیں جب کہ نواب شاہ ، ماتلی ،بدین ،ٹنڈوالہیارمیں مجموعی طورپرتقریباًسات ہزارچارسوایکڑاراضی لیزپرحاصل کی گئی ہے۔اپنے والدکی طرح پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری بھی ارب پتی ہیں۔جن کی پاکستان اوربیرون ملک درجن بھرپراپرٹیزہیں اوردبئی اوربرطانیہ میں سرمایہ کاری کی گئی ہے۔بلاول بھٹوزرداری کی جانب سے فراہم کردہ اثاثہ جات کی تفصیلات میں بتایاگیا کہ ان کے پاس پانچ کروڑ روپے نقدموجودہیں جب کہ بینک اکاؤنٹ میں ایک کروڑ۸۳لاکھ روپے جمع ہیں۔تاہم ان کے پاس کوئی گاڑی نہیں۔ میڈیارپورٹ کے مطابق بلاول بھٹوزرداری کے پاس متحدہ عرب امارات کے دواقامے موجودہیں جب کہ کلفٹن کراچی میں بلاول ہاؤس کی ملکیت تیس لاکھ روپے بتائی گئی۔ان کے پاس دبئی میں ولازہیں جوایک انہیں بطورتحفہ ملاجب کہ ایک کے مالک ہیں۔اثاثہ جات کی تفصیلات میں بتایا گیا کہ بلاول بھٹوزرداری کے پاس ملک بھرمیں مجموعی طورپربیس، رہائشی، کمرشل اورزرعی پراپرٹیزہیں،جوبیشتران کے والدین، دادااوردیگرکی جانب سے تحفے میں دی گئی ہیں۔اس کے علاوہ بلاول بھٹوزرداری کے پاس ان کی والدہ کی طرف سے تفویض کردہ بارہ لاکھ روپے کے بانڈزہیں جب کہ زرداری گروپ اور پارک لین ای اسٹیٹ میں گیارہ لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔دبئی میں بائیس اوربرطانیہ میں ایک سرمایہ کاری کی گئی۔جوزیادہ تران کی والدہ نے تحفے میں دی ۔ان کے پاس تیس لاکھ روپے مالیت کااسلحہ جب کہ فرنیچراوردیگرروزمرہ کے استعمال کی چیزوں کی مالیت تیس لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔مریم نوازنے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی میں ظاہرکیا ہے کہ وہ پندرہ سوچھ کنال ایک مرلہ زرعی زمین کی مالک ہیں۔جس میں گزشتہ تین برسوں کے دوران پانچ سواڑتالیس کنال کااضافہ ہوا۔جب کہ مختلف کمپنیوں میں مریم نوازکے شیئربھی ہیں۔دستاویزات کے مطابق مریم نوازچوہدری شوگرملز، حدیبیہ پیپرملز،حدیبیہ انجینئرنگ لمیٹڈ، حمزہ اسپنگ ملزاورمحمدبخش ٹیکسٹائل ملزمیں شیئرہولڈرہیں۔دستاویزات میں بتایاگیا کہ مریم نوازنے فیملی کی زیرتعمیرفلوملزمیں ۴۳لاکھ ۲۶ ہزارروپے کی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔انہوں نے سوفٹ انرجی پرائیویٹ لمیٹڈکوسترلاکھ روپے قرض بھی دے رکھاہے۔دستاویزات کے مطابق مریم نوازکے پاس ساڑھے سترہ لاکھ روپے کے زیورات ہیں اورانہیں چارکروڑ بیانوے لاکھ ستترہزارروپے کے تحائف بھی ملے۔کاغذات نامزدگی فارم میں مریم نوازنے اپنے ھھائی حسن نواز کی دوکروڑنواسی لاکھ روپے کی مقروض ہونے کابھی بتایا ہے۔دستاویزات کے مطابق مریم نوازنے تین برسوں کے دوران ۴۶لاکھ روپے سے غیرملکی دورے بھی کیے۔میڈیارپورٹس کے مطابق عمران خان نے کاغذات نامزدگی میں ذرائع آمدن، زراعت ، تنخواہ اوربینک منافع ظاہرکیا ہے۔دستاویزات کے مطابق عمران خان ۸۶۱ایکڑزرعی زمین کے مالک ہیں۔جب کہ عمران خان نے غیرملکی دوروں کی تفصیل بھی کاغذات نامزدگی میں ظاہرکی ہے۔شہبازشریف نے کاغذات نامزدگی میں اپنے اثاثوں کی مالیت پندرہ کروڑایک بیوی نصرت شہبازکے اثاثوں کی مالیت بائیس کروڑروپے ظاہرکی۔جب کہ شہبازشریف کے بینک اکاؤنٹس میں مجموعی طورپرایک کروڑ چودہ لاکھ روپے موجودہیں۔دستاویزات کے مطابق شہبازشریف نے مری ہال روڈپرایک کنال نومرلے کے گھرکی قیمت ۴۳ ہزاراسی مقام پرایک بنگلہ نمبر۴۵سی کی قیمت ستائیس ہزارروپے ظاہرکی ہے۔انہوں نے شیخوپورہ میں اٹھاسی کنال زمین والدہ جب کہ لاہورمیں پانچ سو۸۶ کنال پرالگ الگ جائیدادیں والدہ کی طرف سے تحفہ ظاہرکی ہیں۔دستاویزات کے مطابق شہبازشریف نے لندن میں تین الگ الگ جائیدادوں کی مجموعی قیمت بارہ کروڑ اکسٹھ لاکھ روپے ظاہرکی۔اسی کے ساتھ انہوں نے حدیبیہ انجینئرنگ ملز، حمزہ سپننگ ملزاورحدیبیہ پیپرملزمیں شیئرزبھی ظاہرکیے۔ شہبازشریف نے کاغذات نامزدگی میں دوبیویاں نصرت شہبازاورتہمینہ درانی ظاہرکی ہیں۔دستاویزات کے مطابق نصرت شہبازاپنے شوہرسے زیادہ امیرہیں۔جن کے اثاثوں کی مالیت اسی تحریرمیں پہلے لکھی جاچکی ہے۔ مزیدتفصیل یوں ہے کہ نصرت شہبازکے ماڈل ٹاؤن میں دس کنال کے گھرکی مالیت بارہ کروڑستاسی لاکھ روپے جب کہ مری ڈونگاگلی میں سوانوکنال کے نشاط لاج کی مالیت پانچ کروڑ۸۷لاکھ روپے ہے۔نصرت شہبازقصورمیں آٹھ سونوکنال اراضی پرمشتمل ۹ جائیدادوں کے شیئرزکی مالک ہونے کے ساتھ ساتھ قصورمیں ان کی جائیدادوں کی مالیت چھبیس لاکھ روپے ظاہرکی گئی ہے۔شہبازشریف نے نصرت شہبازکے مختلف کمپنیوں میں ستاسی لاکھ روپے کے شیئرز،سترہ لاکھ روپے کی جیولری اورپانچ مختلف بینکوں میں اکاؤنٹس میں ایک کروڑ نواسی لاکھ کابیلنس ظاہرکیا۔ان کی دوسری اہلیہ تہمینہ درانی کے پہلی بیوی کے مقابلے میں کم اثاثے ہیں۔جن کی مجموعی مالیت ستاون لاکھ روپے بتائی گئی ۔دستاویزات کے مطابق تہمینہ درانی کے نام ڈی ایچ اے لاہورمیں دس مرلے کاگھرہے اورہری پورمیں ان کے نام چارجائیدادیں گفٹ ظاہرکی گئی ہیں۔تہمینہ درانی کے گوادرمیں چارکنال کے پلاٹ میں شیئرزاوران کاپانچ بینکوں میں مجموعی طورپرپانچ لاکھ روپے کابیلنس ہے۔اوروہ پانچ لاکھ روپے کی گاڑی کی بھی مالک ہیں۔دستاویزات کے مطابق تہمینہ درانی کے پاس پندرہ لاکھ روپے کے زیورات بھی ہیں۔حمزہ شہبازنے اپنے کاغذات نامزدگی میں ۳۴لاکھ سترہزارروپے بینک بیلنس ظاہرکیاجب کہ وہ ایک سوپچپن کنال اراضی کے مالک بھی ہیں ۔ دستاویزات کے مطابق حمزہ شہبازکے پاس سولہ لاکھ اٹھاسی ہزارروپے کے پرائزبانڈہیں اوروہ اکیس مختلف ملوں میں شیئرزہولڈربھی ہیں۔حمزہ شہبازکی دستاویزات میں بتایاگیا ہے کہ ان کے استعمال میں کوئی ذاتی گاڑی نہیں ۔انہوں نے دوبیویاں رابعہ اورمہرالنساء کاغذات نامزدگی میں بتائی ہیں۔خواجہ سعدرفیق نے کاغذات نامزدگی میں اثاثوں کی کل مالیت سترہ کروڑ چوراسی لاکھ روپے ظاہرکی ہے۔جب کہ انہوں نے لوہاری میں دووراثتی گھروں کی مالیت ایک لاکھ پچیس ہزارظاہرکی ہے۔دستاویزکے مطابق خواجہ سعدرفیق نے اپنے کزن سے دوکروڑچھیانوے لاکھ روپے قرض بھی لے رکھا ہے۔جب کہ انہوں نے ڈی ایچے فیز ٹو میں گھرکی مالیت چارکروڑبیاسی لاکھ موضع پھلروان میں سولہ کنال اراضی کی مالیت دوکروڑاٹھانوے لاکھ کے علاوہ ایک کروڑنوے لاکھ روپے نقد اور پرائز بانڈ ظاہر کیے۔سعدرفیق نے ایک کروڑپندرہ لاکھ روپے کے شیئرزبھی ظاہرکیے۔فاروق ستارمقروض نکلے ان کاذریعہ آمدنی صرف اسمبلی کی تنخواہ ہے۔ان کے نام پرکوئی گھر، فلیٹ یابنگلہ نہیں نہ ہی ان کاکوئی کاروبارہے نہ کہیں کوئی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔ان کی بیگم کے نام پرایک فلیٹ ہے جس کی قیمت صرف آٹھ لاکھ روپے ہے۔وہ دوبیگمات اوردوبیٹیوں کے واحدکفیل ہیں۔ان کے پاس نقدی آٹھ ہزارروپے اوربہن کے مقروض بھی ہیں۔شرجیل انعام میمن کروڑوں کے مالک نکلے ہیں۔شرجیل میمن دبئی میں پانچ کروڑروپے کے فلیٹ کے مالک ہیں۔دبئی میں ہی ۹ کروڑ نواسی لاکھ روپے کافلیٹ ان کی اہلیہ کے نام پربھی ہے۔وہ ڈی ایچ اے کراچی میں چوالیس لاکھ روپے مالیت کے بنگلے کے مالک ہیں۔انہوں نے ڈی ایچ اے اٹھائیس سٹریٹ پرستانوے لاکھ روپے کی جائیدادبھی ظاہر کی ہے۔وہ تھرپارکرمیں ایک کروڑپچاس لاکھ پچاس ہزارروپے مالیت کی جائیدادکے مالک اورانٹرنیشنل گلف گروپ میں ان کی اہلیہ تیس لاکھ روپے کی شراکت دارہیں۔شرجیل میمن کی اہلیہ کے اکاؤنٹس میں دوکروڑانتیس لاکھ اناسی ہزارروپے جب کہ فرنیچرکی مدمیں پچیس لاکھ روپے ظاہرکیے۔وہ تین کروڑپچانوے لاکھ سترہزارکی تین گاڑیوں کے مالک ہیں۔انہوں نے آٹھ کروڑسات لاکھ اکانوے ہزارتین سونواسی روپے نقدی اورپرائزبانڈبھی ظاہرکیے۔سال دوہزارسولہ تک زریعہ آمدن سے محروم جاویدہاشمی نے کروڑوں کے اثاثے ظاہرکردیئے ۴۳۴ کنال زرعی اراضی، دوکنال پرگھرسوتولہ سونا، پانچ پانچ لاکھ کے فرنیچراورزرعی آلات ،تین بینک اکاؤنٹس میں بیس لاکھ انتالیس روپے ،لینڈکروزرسمیت تین گاڑیاں ،زرعی شعبہ میں پچیس لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کاغذات نامزدگی میں ظاہرکی گئی ہے۔شاہ محمودقریشی نے اثاثوں کی مالیت اٹھائیس کروڑچھتیس لاکھ ۷۶ ہزارروپے ظاہرکیے ہیں ،یوسف رضاگیلانی پانچ کروڑ چوالیس لاکھ کی پراپرٹی ،ایک کروڑگیارہ لاکھ کی نقدی ۸۶ لاکھ کاگھراورایک کروڑسترہ لاکھ کی زرعی اراضی کے مالک ہیں۔گھرسے لے کرموٹرسائیکل تک جمشیددستی کے نام کچھ بھی نہیں ہے۔چوہدری نثارکے اثاثوں کی کل مالیت چھ کروڑپچیس لاکھ روپے سے زائدہے اوران کے پاس کوئی گاڑی نہیں ہے۔عاصمہ عالمگیرچارارب جب کہ ان کے شوہرارباب عالگیرتین ارب ،علیم خان اکانوے کروڑکے مالک ایک ارب کے مقرض ،خورشیدشاہ تین کروڑ،فریال تالپوربتیس کروڑ،ایازصادق چارکروڑ ،کیپٹن صفدرکروڑوں کی زرعی اراضی اورمرادعلی شاہ کے اثاثے اکیس کروڑ کے ہیں۔ تمام امیدواروں کے اثاثوں کی تفصیل لکھی جائے تواس کے لیے ایک ہزارصفحات پرمشتمل کتاب لکھنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے نمایاں امیدواروں کے اثاثوں کی تفصیل لکھ دی ہے۔سراج الحق کہتے ہیں کہ بلاول ہاؤ س تیس لاکھ روپے کاہے توہم اسے پچاس لاکھ میں خریدنے کوتیارہیں بھتیجے کوبیس لاکھ روپے کافائدہ ہوگا۔ایک قومی اخبارمیں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سیاست دانوں نے اربوں کروڑوں روپے کے اثاثے ظاہرکرنے کے باوجوداثاثے چھپائے بھی ہیں۔ایک طرف انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے اثاثوں کی تفصیلات پڑھ کرایسے لگتا ہے کہ دنیابھرکے امیرترین عوامی نمائندے صرف پاکستان میں ہی پائے جاتے ہیں۔برطانوی جریدے بلوم برگ نے لکھا ہے کہ پاکستان کوآئندہ مالی سال کے دوران ساڑھے ۹ارب ڈالرقرض لیناہوگا ۔ زرمبادلہ کے ذخائرتین سال کی کم ترین سطح پرآگئے ہیں۔عالمی بینک اورپاکستان میں توانائی وآبی منصوبوں کے لیے ۸۶ ارب روپے کے معاہدوں پردستخط ہوئے ہیں۔ایک خبرکے مطابق غربت کے باعث ملک بھرمیں چالیس لاکھ سے زائدبچے جبری مشقت پرمجبورہیں ۔پنجاب کوبائیس ارب روپے کے مالی خسارے کاسامناہے۔مارچ کے بعدمکمل منصوبوں کوادائیگی روک دی گئی ہے۔ایک قومی اخبار نے ان اثاثوں کے حوالے سے یوں خبرشائع کی ہے کہ الیکشن قریب آنے پرپراپرٹی سستی ہوگئی ؟ سوشل میڈیاصارفین نے سیاست دانوں کے محل خریدنے کی پیش کش کردی ۔بلاول ہاؤس تیس لاکھ کا، ماڈل ٹاؤن لاہورمیں بنگلے کی قیمت اڑتالیس لاکھ ،زرداری کاڈیفنس کابنگلہ ساڑھے آٹھ لاکھ کاظاہرکیاگیا۔عمران خان کاسوکنال پرمحل ایک کروڑ چودہ لاکھ ۱۷ہزار،شہبازشریف کے مری میں بنگلے کی قیمت صرف ستائیس ہزارنکلی۔زرداری نے دوہزارگزپرمشتمل بنگلے کی قیمت خریدبتائی ہے موجودہ قیمت نہیں۔شہبازشریف کی دونوں بیویوں کے اثاثوں میں بہت فرق ہے۔شہبازشریف کی ذمہ داری ہے کہ دونوں کے اثاثے برابرکریں۔عمران خان نے ذریعہ آمدنی بینک منافع بھی بتایا ہے ۔ جوکہ سودہے ، سودحرام ہے۔ اگروہ اسی آمدنی سے انتخابی مہم چلارہے ہیں توقارئین خودسوچ لیں کہ اس کی حمایت کرکے آپ کس طرح کے نظام کی حمایت کررہے ہیں۔جس لیڈرکی اپنی آمدنی سودہووہ ملک کی معیشت کوکس سمت لے جائے گا یہ بات سمجھ میں آجائے توبہت سوں کی آنکھیں کھل جائیں گی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 338 Articles with 154554 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Jun, 2018 Views: 498

Comments

آپ کی رائے