اِحتساب کا آسیب

(Muhammad Nasir Iqbal Khan, Lahore)

 ہرانسان کی'' ماں'' اس کا''جہاں'' ،اس کیلئے راحت'' جاں'' اورآفات وبلیات سے ''اماں'' ہوتی ہے۔ماں کااندازشفقت ایک بیش قیمت نعمت اوراس کاچہرہ عقیدت سے دیکھنابھی عبادت ہے ۔دنیا میں ماں کی فطری محبت اوردعاؤں کاکوئی متبادل نہیں۔زندگی کی تپتی دھوپ میں باپ کاوجود بھی شجرسایہ دار کی مانند ہوتا ہے ۔دعا ہے ہمار ے سروں پر باپ کاگھناسایہ بھی سدا سلامت اورہم سب کی ماں شادوآباد،شاداب اور شادماں رہے ،آمین۔اﷲ تعالیٰ ہرانسان کواپنے ماں باپ کی سچے دل سے قدراورصادق جذبوں کے ساتھ شب وروزان کی خدمت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ہم ہربیمار مسلم ماں باپ سمیت زخم زخم مادروطن کی تندرستی وسلامتی کیلئے دست دعادرازکرتے ہیں۔ہماری ماؤں کے ساتھ ساتھ بیمار مادروطن پاکستان اوراس کی آئی سی یومیں پڑی نیم مردہ معیشت کوبھی ہماری دعاؤں کی ضرورت ہے۔آج ان ہزاروں ماؤں کوبھی یادکرتے ہیں جو دوران ہجرت اپنے شیرخوار بچوں سمیت مادروطن پرقربان ہوگئیں۔ان پاکباز بیٹیوں کے درجات کی بلندی کیلئے دعاکریں جو پاک سرزمین کی طرف ہجرت کرتے ہوئے دشمنان وطن کی ہوس کانشانہ بن گئیں۔بابائے قوم محمدعلی جناح ؒکی ہمشیر اورمعتمدمشیر مادرملت فاطمہ جناح ؒ کاپروقاراورپرنورچہرہ یادکیجئے جو1965ء میں فوجی ڈکٹیٹر ایوب خان کے مدمقابل صدارتی الیکشن میں امیدوارتھیں اوراِس دوران غلام دستگیرخان جوپچھلی کئی دہائیوں سے مسلم لیگ (ن) کامرکزی رہنماہے،نے ایوبی آمریت کی حمایت اورسیاست کی آڑ میں مادرملت کے ساتھ انتہائی توہین آمیز سلوک کامظاہرہ کیا،وہ شرانگیز رویہ ناقابل فراموش اورناقابل معافی ہے۔اس غلام دستگیر خان کا سیاسی وارث خرم دستگیر خان نوازشریف اورشاہدخاقان عباسی دونوں کی کابینہ میں وفاقی وزیررہا ۔ بابائے قو م محمدعلی جناح ؒ ،شہید ملت خان لیاقت علی خان ؒ اور مادرملت فاطمہ جناح ؒ بھی نہ رہے مگرمادروطن زندہ سلامت ہے اوران شاء اﷲ قیامت تک قائم رہے گا ،مادروطن کے آگے ہماری اورہماری ماؤں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔اگرہم ،ہمارے ماں باپ اوربچے ہزاربارپیداہوں اورہم مادروطن کیلئے ہزاربارجام شہادت نوش کریں توبھی ہماری پاکستانیت کاحق ادانہیں ہوگا۔جس طرح غیرتمند بیٹے اپنی ماں کی عزت پرآنچ نہیں آنے دیتے اس طرح پاکستان کے غیورفرزند کسی کو مادروطن کی ناموس پر حملے کی اجازت نہیں دیں گے۔

نوازشریف کی اہلیہ کلثوم نوازان دنوں لندن کے نجی کلینک میں زیرعلاج ہے ،ہم ہربیماروزخمی مسلمان کی تندرستی وعافیت اورمرحومین کی بلندی درجات کیلئے دُعاکرتے ہیں۔نوازشریف اوراس کی بیٹی نے اب تک سینکڑوں بار پاکستانیوں سے کلثوم نواز کیلئے دعاکی اپیل کی ہے ،مجھے تعجب ہے انہیں پاکستان کے نجی یاسرکاری طبی اداروں پراعتماد نہیں توپاکستانیوں کی دعاؤں پرکس طرح بھروسہ ہے ،انہوں نے ایک بار بھی برطانیہ کے گوروں کودعاؤں کیلئے نہیں کہا۔وہ برطانیہ جہاں ان کی خفیہ جائیدادیں ہیں جوبرطانوی اخبار نے آشکارکردیں اورشریف خاندان کی طرف سے ابھی تک اس خبرکی تردید نہیں آئی ۔شریف خاندان کا لاہورمیں نجی اتفاق ہسپتال جہاں عام پاکستانیوں کامہنگا علاج ہوتا ہے ،وہاں کلثوم نواز سمیت شریف خاندان کے افرادکبھی زیرعلاج نہیں رہے ۔شریف خاندان نے تین دہائیوں تک تخت لاہورپرراج کیا مگرعلاج کیلئے ہربار لندن کارخ کرتے ہیں۔جس وقت کلثوم نوازکی بیماری کی اطلاع منظرعام پرآئی اس دوران نواز شریف نے اپنی اہلیہ کولاہور سے این اے 125کے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے امیدوارنامزد کردیاتھا۔ کلثوم نوازنے نامزدگی کے بعداپنے حلقہ انتخاب کی بجائے بیماری کے سبب لندن کارخ کیا ۔وہ اپنے ووٹرز کی دہلیز پر گئے بغیر منتخب ہوگئی اورپھرقومی اسمبلی کی مدت ختم ہونے تک حلف بھی نہ لیا ۔ہمارے سرکاری دفاتر میں قاصد بھرتی ہونے کیلئے امیدوارکا میڈیکل کرایا جاتا ہے لیکن سینیٹ ،قومی یاصوبائی اسمبلی کے امیدوار اس قانون سے ماورا ہیں ۔ اسمبلیوں کے امیدوارجیل یاہسپتال میں ہوں توبھی وہ منتخب ہوسکتے ہیں۔شریف خاندان بیمارکلثوم نوازکی بجائے اپنے خاندان یا اپنی جماعت میں سے کسی دوسری شخصیت کوبھی امیدوارنامزدکرسکتا تھامگر ایسا نہیں کیا گیا اور ووٹرزکی شخصیت پرستی نے بیرون ملک ہوتے ہوئے بھی کلثوم نواز کی کامیابی پرمہرثبت کردی ۔

شریف خاندان نے خودکہا کلثوم نواز ہارٹ اٹیک کے نتیجہ میں وینٹی لیٹرپر ہے ۔جہاں ہارلے کلینک کے منجھے ہوئے ڈاکٹرزکلثوم نوازکی حالت زاربارے کچھ بتانے کیلئے تیارنہیں ہیں وہاں شریف خاندان بھی کلینک کے باہرموجودمیڈیاکے نمائندوں کوبھی سچائی تک رسائی نہیں دے رہا۔کلثوم نوازکی صحت کے بارے میں شدید بے یقینی ،بے چینی اور بدگمانی کے پیچھے شریف خاندان کااپناپراسرارکردارکارفرما ہے۔کلثوم نواز کی بیماری کے بارے میں ضرورت سے رازداری ایک سوالیہ نشان ہے ۔عدالتی مفروراسحق ڈار کی قابل رشک صحت دیکھتے ہوئے کلثوم نوازکی بیماری بارے شریف خاندان کادعویٰ بھی مشکوک ہوجاتا ہے۔لندن میں پاکستان کے میڈیا سے وابستہ افراد تودرکنارپاکستان سے خصوصی طورپرکلثوم نوازکی تیمارداری کیلئے لندن جانیوالے مسلم لیگ (ن) کی اہم شخصیات کوبھی مریضہ تک جانے کی اجازت نہیں ہے ۔کلثوم نواز کی عیادت کیلئے لاہور سمیت پاکستان کے دوسرے شہروں سے لندن جانیوالے سیاسی عمائدین اپنے اپنے مفلس ونادار رشتہ داروں ،ہمسائیوں،محلے داروں اورپارٹی کارکنوں میں کسی بیمار کی تیمارداری کرناگوارہ نہیں کرتے مگرہزاروں میل دورلندن جانا ان کے نزدیک کارثواب ہے۔جولندن جاسکتے ہیں وہ ضرورجائیں مگراپنے آس پاس بیماروں اوربیچاروں کی خوشی غمی کابھی خیال رکھیں۔اگرشریف خاندان کے افراد اوراسحق ڈار کلثوم نوازکی عیادت کرسکتے ہیں تومیڈیا کے نمائندوں کوبھی ایک بار اجازت دی جاسکتی ہے اس سے یقینا افواہوں کاگرم بازارفوری طورپرسردپڑجائے گاکیونکہ ان افواہوں میں پاکستان اورشریف خاندان دونوں کانقصان ہے۔جس وقت شریف خاندان کیلئے کلثوم نوازکی تصاویر پبلک کرناسیاسی طورپرمفیدتھا اس وقت وہ کرتے رہے ،اب قومی مفادکاتقاضا ہے تو کلثوم نواز کوچھپایاجارہاہے ۔نوازشریف اورمریم نوازکواستثنیٰ دینے والے احتساب عدالت کے جج کلثوم نواز کی بیماری بارے معلومات کی تصدیق کیلئے وہاں اپنے نمائندے بھجواسکتے ہیں کیونکہ ہزاروں پاکستانیوں کواپنے پیاروں کی بیماری کے باوجودروزانہ عدالتوں میں پیش ہوناپڑتا ہے اورہزاروں لوگ اپنے پیاروں کی علالت کے باوجود معمولی مقدمات میں پابندسلاسل ہیں۔پاناما پیپرز منظرعام پرآنے کے بعدمریم نوازنے اعلانیہ کہا تھاکہ لندن توکیا پاکستان میں بھی میرے نام کوئی جائیداد نہیں ہے ،پھر یہ جھوٹ اس وقت آشکارہوگیا جس وقت مریم نواز نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنی مختلف جائیدادوں کوظاہرکیا۔پاکستا ن کی سیاست جھوٹ سے شروع ہوکرجھوٹ پرختم ہوجاتی ہے۔سیاستدان اپنے سیاسی مفادات کیلئے کئی روپ دھارتے اورکئی داؤکھیلتے ہیں ۔نوازشریف کی نوازشات سے مستفیدہونیوالے قلم کارعطاء الحق قاسمی کے والد کاانتقال ہوگیا تواس نے نوازشریف کے انتظارمیں کئی گھنٹوں تک اپنے مرحوم والدکاجنازہ نہیں اٹھایاتھا اورسنا ہے نوازشریف پھر بھی نہیں آیاتھا۔پرویزی آمریت کے دوران شریف خاندان جدہ کے سرورپیلس میں اپنے بیسیوں باورچیوں سمیت جلاوطنی کے دن کاٹ رہا تھا ان دنوں میاں محمدشریف کا انتقال ہوگیا ،پرویز مشرف نے نوازشریف اورشہبازشریف کواپنے والد میاں محمدشریف کی تجہیزوتدفین کے سلسلہ میں تین دن کیلئے جدہ سے لاہورآنے کی اجازت دی مگر شریف برادران سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی نیت سے وطن واپس نہیں آئے تھے۔سیاست کے کئی روپ ہوتے ہیں مگراس کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔

کلثوم نوازکی بیماری کے سبب نوازشریف اورمریم نوازکے استثنیٰ اورلندن میں قیام کوکچھ سیاسی پنڈت ڈیل اورڈھیل قرار دے رہے ہیں مگر میں سمجھتاہوں اسٹیبلشمنٹ نے کسی مصلحت کے تحت سوجوتے کھائے ہیں مگرمسلم لیگ (ن) کوڈھیل دے کر اب سوپیازنہیں کھائے گی۔شیخوپورہ میں میاں جاویدلطیف کاڈنڈابردارشہریو ں نے تعاقب کیا،وہ جان بچا نے کیلئے بھاگ کھڑا ہوا ۔لگتا ہے عوام نے عقیدہ ختم نبوتؐ میں نقب لگانے اورغازی ممتازقادری شہید کوتختہ دارپرلٹکانے کی پاداش میں مسلم لیگ (ن ) کاناطقہ بند کرنے کافیصلہ کرلیا ،تاہم ہماری ریاست اورسیاست جنون اورخون کی متحمل نہیں ہوسکتی۔خونیں انتخاب سے بے رحم احتساب ہزارگنابہتر ہے۔شہبازشریف کااپنے بڑے بھائی سے مختلف بیانیہ اب کسی کام نہیں آئے گا، اس نے بہت دیرکردی ۔مسلم لیگ (ن)پراب بھی نوازشریف کی گرفت ہے،چودھری نثارکو حالیہ انکار سے شہباز کی پارٹی میں حیثیت آشکارہوگئی۔ پانی کمپنی میں بدعنوانی کے تحت 5جولائی کو نیب میں شہبازشریف کی طلبی ہے اوروہ کراچی کوپانی کی فراہمی کامژداسنارہاہے ۔جس انسان نے وزیراعلیٰ پنجاب ہوتے ہوئے پانچ برسوں میں لاہورکوپانی نہیں دیا،و ہ تین برسوں میں کراچی کوکہاں سے پانی دے گا۔شہبازشریف نے لاہورکوپیرس بنایانہ کراچی کوبناسکتا ہے کیونکہ شعبدہ بازی سے ریاستی شعبہ جات میں بہتری نہیں آسکتی ۔ملک میں آہوں اورافواہوں کادوردورہ ہے ،سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ورثاانصاف کی دہائی دے رہے ہیں۔امیدواروں نے اپنے اپنے حلفیہ بیان میں دھڑلے سے جھوٹ بتایا،اس کے باوجود انتخابات میں عجلت ناقابل فہم ہے۔احتساب بھی ابھی تک منطقی انجام کونہیں پہنچا،25جولائی اب زیادہ دورنہیں مگرملک میں انتخابات کاماحول نہیں بنا۔الیکشن بروقت ہو ں یانہ ہوں اس باراحتساب کسی آسیب کی طرح پوری طاقت سے بدعنوانوں کی گردنوں کودبوچ لے گا۔ انقلاب کادوسرانام احتساب ہے ،چوروں کے بے رحم احتساب کیلئے بے داغ عمران خان موزوں شخص ہے ،اس کیلئے کپتان کو ہیوی مینڈیٹ کے ساتھ وزیراعظم بنایاجاسکتا ہے ۔ پرویز مشرف نے بڑے منصب کیلئے پارٹی عہدہ چھوڑا ، موصوف کاصدرمملکت منتخب ہوناخارج ازامکان نہیں۔پرویز مشرف اورعمران خان دونوں بدعنوانی میں ملوث نہیں رہے لہٰذاء وہ چوروں سے'' وصولی ''کرسکتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Nasir Iqbal Khan

Read More Articles by Muhammad Nasir Iqbal Khan: 173 Articles with 82488 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Jun, 2018 Views: 515

Comments

آپ کی رائے