ایک بار مُسکرا دو

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

قدرت کی تو ہر تخلیق لا جواب ہے مگر مسکراہٹ میں کیا بات ہے کیا راز پوشیدہ ہے اس میں کہ کوئ مسکرا دے تو بات بن جاتی ہے برسوں کا جھگڑا ختم ہو جاتا ہے اور صدقہ بھی ہے

طبی نقطہ نظر سے دیکھا جاے تو جب آپ نفرت کا اظہار کرتے ہیں تو 72 عضلات یعنی مسلز ٹینشن لیتے ہیں جبکہ مُسکراہٹ میں صرف دو اور صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں

بات ہو رہی تھی مسکراہٹ کی اور مسکراہٹ میں نزاکت بھی ہو تو بات چھواروں تک جا پہنچتی ہے اور مقصدِ حیات یہی طے پاتا ہے

ایک بار مسکرا دو

جو لکھی تو کسی اور نے ہو گی مگر میں منی بیگم کی غزل کہتا ہوں اور یہ وہ مسکراہٹ ہرگز نہیں کہ

وہ آے اور مسکرا کر چل دئیے

زندگی میں ایک مسکراہٹ میں آج تک نہیں بھول پایا
عجیب کشش تھی کہ اُس کے سامنے حسین سے حسین مسکراہٹیں ماند پڑ جاتی تھیں اور وہ کسی اور کی طرف دیکھ کر مسکراے تو برداشت نہیں ہوتا تھا ۔ میری زندگی اُسی مسکراہٹ کے گرد گھومنے لگی تھی۔وہ مسکراتا تو لگتا خُدا مسکرا دیا
آج وہ نہیں ہے مگر اس کی مسکراہٹ میرے ساتھ رہتی ہے۔
وہ باپ کی مسکراہٹ ہے

ربنااغفرلی ولوالدی

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 233 Articles with 90992 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Jun, 2018 Views: 230

Comments

آپ کی رائے