برہان وانی آزادی کی آواز

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: مریم صدیقی، کراچی
جواں ہے عزم تو پھر ظلم کی بربادی باقی ہے
اندھیری رات ہے اب تک، ابھی آزادی باقی ہے
8 جولائی یومِ شہادت برہان مظفر وانی ایک بار پھر ہمارے دلوں، ہمارے ذہنوں میں برہان وانی کی، اس کی جدوجہد کی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے آن پہنچا ہے۔ کون ہے یہ برہان وانی؟ کوئی فلمسٹار، کوئی سیاست دان، کوئی غیر ملکی سفیر یا کوئی بیورو کریٹ؟ کون ہے یہ شخص جو مر کر بھی زندہ ہے، آخر ایسا کون سا کارنامہ سر انجام دیا ہے اس شخص نے کہ کشمیر کی عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، جس کی شہادت پر ہر آنکھ نم تھی، جس کے آخری سفر میں 6لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ کون ہستی ہے یہ جس نے مقبوضہ کشمیر کی قوم میں خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئی روح پھونک دی، ایک نیا عزم، جوش و جذبہ بیدار کیا۔ مظالم سہنے والی قوم یکدم احتجاج پر اتر آئی، مقبوضہ کشمیر کے باشندے آپے سے باہر ہوگئے۔

برہان وانی، مظفر احمد وانی کے گھر کا چشم و چراغ تھا، مظفر احمد وانی کا تعلق ترال کے شریف آباد گاؤں سے ہے جو مقامی ہائر اسیکنڈری اسکول کے پرنسپل ہیں، برہان کے والد اور والدہ دونوں شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ برہان کا بڑا بھائی خالد مظفر وانی جو پوسٹ گریجویشن کا طالب علم تھا کو فوج نے 14 اپریل 2015 ترال کے ایک علاقے میں جعلی مقابلے میں شہید کردیا تھا۔

2010 کے موسم گرما میں جب کشمیر کی وادیوں میں خون کی ہولی کھیلی جارہی تھی، جب معصوم و بے گناہ لوگوں کا خون پانی کی طرح بہایا جارہا تھا تو دسویں جماعت کے امتحانات سے چند ماہ قبل گھر سے فرار ہوکر برہان نے حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کرلی۔ 21سالہ برہان اپنے مسلمان بھائیوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف آواز بننا چاہتا تھا۔

ایک بہترین طالب علم نے صرف 15 سال کی عمر میں ہندوستانی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھالیے تھے، مقبوضہ کشمیر کو بھارتیوں کے تسلط سے آزاد کروانے کا خواب اب برہان وانی کا جنون بن چکا تھا۔ برہان وانی کے والد نے ہندوستان ٹائمز میں دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ صرف اس لیے عسکریت پسند نہیں بنا تھا کہ اس کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ اس نے اس لیے ہتھیار اٹھائے کہ اس نے ہندوستانی فوج کو دیگر لوگوں پر تشدد کرتے دیکھا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہندوستان سے آزادی حاصل کرنا صرف اس کا نصب العین نہیں تھا بلکہ یہ مجھ سمیت ہر کشمیری کا مطالبہ ہے۔

6دہائیوں سے جاری تحریک آزادی کشمیر کو ایک نئی جہت ایک نیا رخ دینے والا برہان وانی جس نے اپنی سمجھ بوجھ سے سوشل میڈیا کا سہارا لے کر بھارتی مظالم کو لوگوں تک پہنچایا، سوشل میڈیا پر ویڈیوز کے ذریعے لوگوں کو ہتھیار اٹھانے کی ترغیب دی، سوشل میڈیا پر کی گئی اپیل پر جنوبی کشمیر میں سینکڑوں نوجوان اس کی صف میں شامل ہوگئے۔ اس کے اس عمل نے کشمیری عوام کو نہ صرف متحرک کیا بلکہ نوجوان نسل کو ان مظالم کے خلاف ڈٹ جانے کا سبق بھی دیا۔ ان کا نصب العین بھارت اور بھارتی فوج کے تسلط سے کشمیر کو آزاد کروانا تھا۔

8جولائی 2016 جمعہ کی سہہ پہر برہان اور اس کے 2ساتھی ککرناگ سے متصل ایک گاؤں کی مقامی مسجد سے عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد جونہی باہر نکلے فوج اور پولیس نے ان کو محاصرے میں لے لیا، برہان مظفر وانی کی ہلاکت کی خبر پوری ریاست میں آگ کی طرح پھیل گئی جس کے جواب میں نوجوانوں کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔برہان کی نماز جنازہ پر فوج اور نوجوانوں میں تصادم ہوا، کشمیری نوجوانوں کی جانب سے فورسز پر پتھراؤ کیا گیا جب کہ فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
کشمیر کی آزادی اور بے جا تشدد کے خلاف آواز اٹھانے لے لیے ہر تھوڑے عرصے بعد کشمیر میں ایک نئی تحریک جنم لیتی ہے، ہر آنے والی نسل اپنے نوجوانوں کا خون کشمیر کی خون آشام واددیوں کی نظر کرتی ہے، لیکن برہان وانی کی تحریک آزادی کشمیر نے نوجوانوں کو ایک نئی راہ دکھائی۔ برہان کشمیر کے لوگوں کی آواز اور آزادی کی پہچان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وانی چلا گیا مگر پیغامِ آزادی لوگوں تک پہنچا گیا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1227 Articles with 501802 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Jul, 2018 Views: 219

Comments

آپ کی رائے