باران رحمت پر سیاست

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

جب ہر کوئی گرمی اور حبس کی شکایت کر رہا تھا تو موسلا دھار بارش ہوئی۔ کھیت کھلیان سر سبز و شاداب ہو گئے۔ سوکھے چشمے پھوٹ پڑے۔ طویل خشک سالی ، شدت کی گرمی سے پریشان لوگ جھوم اٹھے۔ یہ مون سون یا برسات کا موسم ہے۔ جولائی 1980میں لاہور میں 207ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ آج 2018کو یہ 38سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ 288ملی میٹر بارش برسی۔ ایک درجن سے زیادہ جانیں تلف ہوئیں۔ سیکڑوں لوگ زخمی ہوئے۔ یہ بارشیں محکمہ موسمیات کی پیشن گوئیوں کے عین مطابق برسیں۔ پاکستان اور کشمیر میں برسات کا یہی موسم ہے۔ جولائی کی برسات کے لئے پیشگی تیار اور الرٹ رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب 18گھنٹے مسلسل بارش برسے تو مزید ہوشیار رہنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کے لئے پیشگی حفاظتی اقدامات کرنا ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ بارں رحمت کسی کے لئے زحمت ثابت نہ ہو۔ ہم خشک سالی کی وجہ سے پانی کی کمی کا شکار ہیں۔ کراچی اور ملک کے دیگر علاقوں میں پینی کا پانی تک مشکل سے دستیاب ہوتا ہے۔ پانی کو محفوظ کرنے کے لئے یا اسے ذخیرہ کرنے کے لئے ڈیم نہیں بنائے گئے ہیں۔ منگلا اور تربیلا ڈیم پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے سوکھ رہے تھے۔ گزشتہ موسم سرما میں برفباری بھی کم ہوئی۔ پہاڑوں پر جہاں گلیشیئر دیکھے جا سکتے تھے، وہاں ننگے پہاڑ نظر آتے ہیں۔ دسمبر اورجنوری کی برفباری ہی جون جولائی جیسے مہینوں میں پانی کا وسیلہ بنتی ہے۔ گرمی میں برف پگلتی ہے اور میدانی علاقوں کی طرف پانی کا بہاؤ تیز ہوتا ہے۔ کبھی اسی وجہ سے سیلاب آتے ہیں۔ اب کئی دریا خشک ہو گئے ہیں۔ ایک بڑی وجہ بھارت کی جانب سے پاکستان آنے والا پانی روکنا ہے۔ دریائے راوی اس کی ایک مثال ہے۔ اس دریا میں لاہر کے قریب کبھی کشتیاں چلتی تھیں۔ آج لاہور میں بارش کے جمع پانی پر کشتیاں چلیں۔ بزرگوں کو ماضی کا دور یاد آ گیا۔ اس بارش پر سب نے خوب سیاست کی۔ پیرس کو وینس بننے کا ذمہ دار مسلم لیگ ن کو ٹھہرایا گیا۔ یہ درست ہے کہ لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہر یورپی شہروں جیسے بن چکے ہیں۔ کہیں نہ کہیں منصوبہ بندی کی کوتاہیاں ہیں۔ قدیم ندی نالے یا تو بھر دیئے گئے ہیں یا ان پر قبضے کئے گئے ہیں۔ پانی کے لئے راستے نہ ہوں تو یہ اپنا راستہ خود بناتا ہے۔ پانی چٹانوں کو توڑ دیتا ہے، زمین کا سینے چیر دیتا ہے۔ آج بھی اس نے ایسا ہی کیا۔ اس میں ہماری انجیئرنگ نظام کی ناکامی ہے۔ میاں شہباز شریف یا حسن عسکری رضوی اس کے ذمہ دار ہوں یا نہ ہوں، ان کی بصیرت خوب سامنے آئی ہے۔ عمران خان کی الزامات کی سیاست بھی خوب چمکی۔ دیگر نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ صاف کئے۔ جب کہ پشاور کا کھودا ہوا شہر بھی توجہ چاہتا ہے۔ اس میں جگہ جگہ پانی جمع ہو کر مواصلاتی نظام کو تباہ کر رہا ہے۔ کراچی میں بھی سیلابی ریلے نقصان کر چکے ہیں۔ کوئی وجوہات پر توجہ نہیں دیتا۔ ہمارے ہاں پولیتھین اور پلاسٹک کا بڑھتا ہوا استعمال زمین کو بنجر اور ندی نالوں کو بند کر رہا ہے۔ پابندی کے باوجود اس پر عمل در آمد نہ ہو سکا۔
 
ملک میں اس وقت الیکشن کا بخار پھیلا ہے۔ ہر کوئی سیاسی پوائینٹ سکور کر رہا ہے۔ سیاسی مد مقابل کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سروے جاری ہو رہے ہیں۔ کسی کی سیاسی مقبولیت کم اور کسی کی زیادہ دکھائی جاتی ہے۔ 25جولائی کو اس سب کا اختتام ہو گا۔ الل کرے خاتمہ بالخیر ہو۔ پانی اﷲ تعالیٰ کی نعمت ہے۔ جنگلات کی کٹائی کر کے وہاں بستیاں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ آزاد کشمیر حکومت نے جنگلات سے متعلقہ اکلاس شعبہ ختم کر دیا ہے۔ توقع ہے کہ اب جنگلات کی کٹائی رکے گی مگر جنگلوں کے قریب آبادیوں کو سستے دام ایندھن ، گیس، کیروسین تیل وغیر فراہم کیا جانا ضروری ہے۔ مزید شجرکاری کی مہم چلانے اور پودوں کی حفاظت بھی ضروری ہو گی۔ اگر ملک کا ہر شہری ایک پودا لگائے تو ملک بھر میں 20کروڑ درخت لگ سکتے ہیں۔ انسانوں نے ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ پولیتھین پر سختی سے پابندی نہ لاگئی گئی تو اس کا استعمال زمینوں کو بنجر اور ندی نالوں کو بند کرتا رہے گا۔ مزید یہ کہ پانی کی نکاسی کے لئے منصوبوں کے ساتھ پیش بندی کی جاتی ہے۔ ایسا ہو تو سڑکوں پر شگاف نہیں پڑتے اور زیر زمین اورین ٹرین سٹیشن تباہ نہیں ہوتے۔ بارشوں کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ڈیم تعمیر کئے جاتے ہیں۔ یہ پانی آبپاشی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ایک طرف مخلوق پانی کو ترس رہی ہے اور دوسری طرف پانی ضائع ہو رہا ہے۔ اس کو جمع نہیں کیا جاتا۔ چیف جسٹس صاحب نے ڈیم تعمیر کرنے کے احکامات دیئے ہیں۔ توقع ہے کہ وہ چھوٹے ڈیم تعمیر کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ قومی مفاد کے منصوبوں پر سیاست کی گئی۔ اس لئے یہ کبھی شروع نہ ہو سکے۔ اس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔ ایک طرف پانی سمندر میں گر رہا ہے اور دوسری طرف لاکھوں ایکڑ زمین بنجر ہے۔ انحصار بارانی زمین پر نہیں کیا جا سکتا۔ ہماری سیاست الزامات لگانے کے لئے مواقع کے تلاش میں رہتی ہے۔ سب متحد ہو کر پیشگی منصوبہ بندی نہیں کرتے۔ صرف کریڈٹ لینے کی لالچ یا دوسرے کی تذلیل کے لئے خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے لاہور بارش کے پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔ پانی جو اﷲ تعالیٰ کی نعمت ہے، اسے انسان نے زحمت میں بدل دیا ہے۔ یاد رہے لاہور فرانس کا پیرس اور اٹلی کا وینس نہیں بلکہ لاہور لاہور ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 589 Articles with 231088 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
11 Jul, 2018 Views: 255

Comments

آپ کی رائے