لکھ تو دوں مگر۔۔۔

(Faraz Tanvir, Lahore )
اسلام م و علیکم قارئین کرام بہت عرصہ ہوا قلم کا ساتھ چھوڑے راقم نے کافی عرصے سے کوئی کالم نہیں لکھا اگرچہ لکھنے کا دل بھی بہت ہے اور اب تو واقعی میں لکھ ہی دینا چاہیے مگر ذہن اس سمت آ نہیں پا رہا نامعلوم کیوں-

اب بھی ایک قاری بھائی کی فرمائش پر لکھنے کی کوشش تو کی ہے دیکھئے لکھ پاتے ہیں یا نہیں بات دراصل یہ ہے کہ لکھ تو دوں مگر جہاں تک کالم لکھنے کا تعلق ہے راقم کوئی پیشہ ور کالم نگار نہیں کہ باقاعدگی سے لکھنے کا عمل یا لکھنے کی مشق جاری رہے بلکہ پہلے بھی جو کچھ لکھا گیا اللہ کی کوئی خاص رحمت ہی ہوئی کہ یہ سب راقم کے قلم سے لکھا گیا چونکہ جہاں تک راقم کی ذاتی دلچسپی کا تعلق ہے تو پہلی ترجیح شاعری ہے جس کا عمل کبھی کبھار چھوڑ کر تقریباً باقاعدگی سے جاری رہتا ہے-

کالم کیسے لکھے گئے اس کی کہانی یہ ہے کہ آج سے تقریباً سات سال قبل ایک اچھے رفیق کی صحبت میسر آئی ان سے اکثر سنجیدہ موضوعات پر معاشرتی مسئلے مسائل پر انسانی عادات و اطوار رویوں اور فطرت پر اکثر بات چیت رہتی تھی کچھ سوال و جواب کا سلسلہ بھی چلتا رہتا تھا جن سوالوں کے جواب راقم سے بن نہ پڑے تھے وہ ذہن میں اکثر گردش کرتے رہتے تھے اب جبکہ ان محترم ہم عصر کی صحبت میسر نہیں ہے آج کل ان کا قیام پردیس میں ہے ان کی غیر موجودگی میں ان سے کی گئیں باتیں اور سوال جواب ذہن میں آتے رہے قلم خود بخود چلتا رہا اور تحریر وجود میں آتی رہی بس یہ ہے کہانی لکھنے کی-

اب بھی لکھ تو دوں گر خود سے لکھنے میں اور خودبخود لکھے جانے میں فرق ہوتا ہے جب ذہن میں خیالات تسلسل کے ساتھ آ رہے ہوں اور قسمت سے الفاظ بھی اسی تواتر سے ذہن میں وارد ہوتے رہیں تو قلم بھی اسی تواتر اور تسلسل سے چلتا رہتا ہے اب سمجھیں کہ کئی دن سے مندی ہے خود سے کچھ لکھنے کے لئے تنہائی ، سازگار ماحول اور وقت درکار ہے جس کا فی الوقت امکان نظر نہیں آ رہا-

جیسے ہی کوئی خیال مناسب الفاظ کے ساتھ ذہن میں گردش کرنا شروع ہوئے انشاءاللہ لکھنے کا یہ سلسلہ پھر سے چل نکلنے کی صورت بن جائے گی-
باقی جو اللہ کی رضا
دعاؤں میں یاد رکھئیے گا
ہمیشہ خوش رہیں
اللہ نگہبان
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 486 Print Article Print
About the Author: uzma ahmad

Read More Articles by uzma ahmad: 265 Articles with 241221 views »
Pakistani Muslim
.. View More

Reviews & Comments

فراز جی

Apne achi bat ki hia khud se likhe jane or likhway jane main bohat farq hota hai magar life mien bohat kuch hota hia to life us rah pe le jati hia k kuch likhne ka dil nehi chahta hia magar jab society asi rah par ja rehi ho jahan koi rukne or samjhane wala na ho to writer ko apni life se hut ker oron ka sochna chahiye oron ko khushi day ker he insan khsuh reh sakta hia ap ki har tehreer he kisi na kisi cheez se impress ho ker he to samne ati hia oron ka hamari life main bohat important role hota hia thanks god kisi ki waja se b ap likho likhna mat choro ap bohat relax feel kerin gay inshAllah
By: ZULFIQAR ALI BUKHARI, Bahwalpur on Jan, 16 2011
Reply Reply
0 Like
Language: